1. اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں فراخدلانہ تعاون پر احباب کا بے حد شکریہ نیز ہدف کی تکمیل پر مبارکباد۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    $500.00
    اعلان ختم کریں

"دسمبر" کے حوالے سے کوئی شعر ۔ ۔ ۔ ۔

امیداورمحبت نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 10, 2007

  1. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    فکر نہ کریں۔ یہی حال رہا تو دسمبر شاید اگلے سال کے آغاز تک نہیں جائے گا کہیں بھی
     
    • زبردست زبردست × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  2. محسن وقار علی

    محسن وقار علی محفلین

    مراسلے:
    12,013
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    دسمبر اور یادیں

    کسی سر سبز وادی میں
    کسی خوش رنگ جگنو کو
    کبھی اُڑتے ہوئے دیکھوں

    “مجھے تم یاد آتے ہو“

    خوابوں میں، سوالوں میں
    محبّت کے حوالوں میں
    تمہیں آواز دیتی ہوں
    تمہیں واپس بلاتی ہوں
    یوں خود کو آزماتی ہوں
    کوئی جب نظم لکھتی ہوں
    اُسے عنوان دیتی ہوں

    “مجھے تم یاد آتے ہو“

    کبھی باہر نکلتی ہوں
    کسی رستے پہ چلتی ہوں
    کہیں دو دوستوں کو کھلکھلاتے،
    مسکراتے دیکھہ لیتی ہوں
    کسی کو گنگناتے دیکھہ لیتی ہوں
    تو پھر ۔ ۔ ۔
    میری رفاقت کے اوّل و آخر

    “مجھے تم یاد آتے ہو“

    دسمبر میں جو موسم کا مزہ لینے کو جی چاہے
    کوئی پیاری سہیلی فون پر بولے
    بڑا ہی مست موسم ہے
    چلو باہر نکلتے ہیں
    چلو بوندوں سے کھیلیں گے
    چلو بارش میں بھیگیں گے
    تو اُس لمحے
    تمہاری یاد ہولے سے
    کوئی سرگوشی کرتی ہے
    یہ پلکیں بھیگ جاتی ہیں
    دو آنسو ٹوٹ گرتے ہیں
    میں آنکھوں کو جھکاتی ہوں
    بظاہر مسکراتی ہوں
    فقط اتنا ہی کہتی ہوں
    مجھے کتنا ستاتے ہو

    مجھے تم یاد آتے ہو
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. محسن وقار علی

    محسن وقار علی محفلین

    مراسلے:
    12,013
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    چاندنی دسمبر کی


    رات اُس نے پوچھا تھا
    تم کو کیسی لگتی ہے
    چاندنی دسمبر کی
    میں نے کہنا چاہا تھا
    سال و ماہ کے بارے میں
    گفتگو کے کیا معنی ؟
    چاہے کوئی منظر ہو
    دشت ہو، سمندر ہو
    جون ہو، دسمبر ہو
    دھڑکنوں کا ہر نغمہ
    منظروں پہ بھاری ہے
    ساتھہ جب تمہارا ہو
    دل کو اک سہارا ہو
    ایسا لگتا ہے جیسے
    اک نشہ سا طاری ہو
    لیکن اُس کی قربت میں
    کچھہ نہیں کہا میں نے
    تکتی رہ گئی مجھہ کو
    چاندنی دسمبر کی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. محسن وقار علی

    محسن وقار علی محفلین

    مراسلے:
    12,013
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Buzzed
    دسمبر میں چلے آؤ۔ ۔ ۔


    قبل اس کے۔ ۔ ۔
    دسمبر کی ہواؤں سے رگوں میں خون کی گردش ٹھہر جائے
    جسم بے جان ہو جائے
    تمہاری منتظر پلکیں جھپک جائیں
    بسا جو خواب آنکھوں میں ہے وہ ارمان ہوجائے
    برسوں کی ریاضت سے
    جو دل کا گھر بنا ہے پھر سے وہ مکان ہو جائے
    تمہارے نام کی تسبیح بھلادیں دھڑکنیں میری
    یہ دل نادان ہو جائے
    تیری چاہت کی خوشبو سے بسا آنگن جو دل کا ہے
    وہ پھر ویران ہوجائے
    قریب المرگ ہونے کا کوئی سامان ہوجائے
    قبل اس کے۔ ۔ ۔
    دسمبر کی یہ ننھی دھوپ کی کرنیں
    شراروں کی طرح بن کر، میرا دامن جلا ڈالیں
    بہت ممکن ہے
    پھر دل بھی برف کی مانند پگھل جائے
    ممکن پھر بھی یہ ہے جاناں۔ ۔ ۔
    کہ تیری یاد بھی کہیں آہ بن کر نکل جائے
    موسمِ دل بدل جائے ۔ ۔ ۔
    یا پہلے کی طرح اب پھر دسمبر ہی نہ ڈھل جائے
    !قبل اس کے۔ ۔ ۔
    دسمبر اور ہم تیری راہوں میں بیٹھے تم کو یہ آواز دیتے ہیں
    کہ تم ملنے چلے آؤ
    دسمبر میں چلے آؤ
     
  5. ماہی کا میر

    ماہی کا میر محفلین

    مراسلے:
    1
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Where
    آخری چند دن دسمبر کےہر برس ہی گراں گزرتے ہیںخواہشوں کے نگار خانے میںکیسے کیسے گماں گزرتے ہیںرفتگاں کےبکھرتے سالوں کیایک محفل سی دل میں سجتی ہےفون کی ڈائری کے صفحوں سےکتنے نمبر پکارتے ہیں مجھےجن سے مربوط بے نوا گھنٹیاب فقط میرے دل میں بجتی ہےکس قدر پیارے پیارے ناموں پررینگتی بدنما لکیریں سیمیری آنکھوں میں پھیل جاتی ہیںدوریاں دائرے بناتی ہیںدھیان کی سیڑھیوں میں کیا کیا عکسمشعلیں درد کی جلاتے ہیںایسے کاغذ پہ پھیل جاتے ہیںحادثے کے مقام پر جیسےخون کے سوکھے نشانوں پرچاک کی لائنیں لگاتے ہیںہر دسمبر کے آخری دن میںہر برس کی طرح اب بھیڈائری ایک سوال کرتی ہےکیا خبر اس برس کے آخر تکمیرے ان بے چراغ صفحوں سےکتنے ہی نام کٹ گئے ہونگےکتنے نمبر بکھر کے رستوں میںگرد ماضی سے اٹ گئے ہونگےخاک کی ڈھیریوں کے دامن میںکتنے طوفان سمٹ گئے ہونگےہردسمبر میں سوچتا ہوں میںایک دن اس طرح بھی ہونا ہےرنگ کو روشنی میں کھونا ہےاپنے اپنے گھروں میں رکھی ہوئیڈائری ،دوست دیکھتے ہونگےان کی آنکھوں کے خاکدانوں میںایک صحرا سا پھیلتا ہوگااور کچھ بے نشاں صفحوں سےنام میرا بھیکٹ گیا ہوگا
     
  6. دانیال ابرهیم

    دانیال ابرهیم محفلین

    مراسلے:
    2
    یادوں کی شال اوڑھ کر آواره گردیاں۔۔
    کاٹی هیں هم نے یوں بھی دسمبر کی سردیاں۔۔
     
  7. فیصل عظیم فیصل

    فیصل عظیم فیصل محفلین

    مراسلے:
    3,623
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    آخری چند دن دسمبر کے
    ہر برس ہی گراں گزرتے ہیں
    خواہشوں کے نگار خانے میں
    کیسے کیسے گماں گزرتے ہیں
    رفتگاں کےبکھرتے سالوں کی
    ایک محفل سی دل میں سجتی ہے
    فون کی ڈائری کے صفحوں سے
    کتنے نمبر پکارتے ہیں مجھے
    جن سے مربوط بے نوا گھنٹی
    اب فقط میرے دل میں بجتی ہے
    کس قدر پیارے پیارے ناموں پر
    رینگتی بدنما لکیریں سی
    میری آنکھوں میں پھیل جاتی ہیں
    دوریاں دائرے بناتی ہیں
    دھیان کی سیڑھیوں میں کیا کیا عکس
    مشعلیں درد کی جلاتے ہیں
    ایسے کاغذ پہ پھیل جاتے ہیں
    حادثے کے مقام پر جیسے
    خون کے سوکھے نشانوں پر
    چاک کی لائنیں لگاتے ہیں
    ہر دسمبر کے آخری دن میں
    ہر برس کی طرح اب بھی
    ڈائری ایک سوال کرتی ہے
    کیا خبر اس برس کے آخر تک
    میرے ان بے چراغ صفحوں سے
    کتنے ہی نام کٹ گئے ہونگے
    کتنے نمبر بکھر کے رستوں میں
    گرد ماضی سے اٹ گئے ہونگے
    خاک کی ڈھیریوں کے دامن میں
    کتنے طوفان سمٹ گئے ہونگے
    ہردسمبر میں سوچتا ہوں میں
    ایک دن اس طرح بھی ہونا ہے
    رنگ کو روشنی میں کھونا ہے
    اپنے اپنے گھروں میں رکھی ہوئی
    ڈائری ،دوست دیکھتے ہونگے
    ان کی آنکھوں کے خاکدانوں میں
    ایک صحرا سا پھیلتا ہوگا
    اور کچھ بے نشاں صفحوں سے
    نام میرا بھی کٹ گیا ہوگا

    براہ کرم جان لیجئے کہ یہ تحریر نہ میری ہے نہ اس پر کوئی دعویٰ ہے البتہ اقتباس والے صاحب سے گذارش ہے کہ اردو نثری تحریر کا حلیہ درست کر کے لکھا کریں۔ اچھی کاوش بھی برباد ہو جاتی ہے اگر تحریر میں خیال نہ رکھا جائے تو

    گذارش کافی لیٹ ہو گئی ہے
     
    آخری تدوین: ‏دسمبر 3, 2018
  8. فیصل عظیم فیصل

    فیصل عظیم فیصل محفلین

    مراسلے:
    3,623
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    مرے سارے لحاف اور ان کے تکیوں کی گواہی ہے
    دسمبر تو ، کہ اک سفاک ، ظالم، غم بھرا ، موسم
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    8,779
  10. بلال رضا

    بلال رضا محفلین

    مراسلے:
    4
    دسمبر "پر میرا تین برس پہلے" لکھا گیا سب سے بہترین شعر

    جولائی، اگست، ستمبر
    اکتوبر، نومبر، دسمبر!
     
    • پر مزاح پر مزاح × 4
  11. فہد اشرف

    فہد اشرف محفلین

    مراسلے:
    6,542
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Relaxed
     
  12. عبدالرحمن آزاد

    عبدالرحمن آزاد محفلین

    مراسلے:
    273
    بس ﺍﮎ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ ﺳﺐ ﮐﺎ ﺩﺭﺩ ﺩﺳﻤﺒﺮ ﺗﮭﺎ
    ﺑﺮﻑ ﮐﮯ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﺍﮎ ﺍﮎ ﻓﺮﺩ ﺩﺳﻤﺒﺮ ﺗﮭﺎ
    ﭘﭽﮭﻠﮯ ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﺁﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺣﯿﺮﺕ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﺗﯿﻨﻮﮞ ﺗﮭﮯ
    ﺍﮎ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﺍﮎ ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﮎ ﺑﮯﺩﺭﺩ ﺩﺳﻤﺒﺮ ﺗﮭﺎ
    ﺍﭘﻨﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﮨﻤﺖ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﻗﺴﻤﺖ ﺗﮭﯽ
    ﮬﺎﺗﮫ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﻧﯿﻠﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﯿﻼ ﺫﺭﺩ ﺩﺳﻤﺒﺮ ﺗﮭﺎ
    ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﭘﺮ ﺗﮭﺎ ﺳﮑﺘﮧ ﻃﺎﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺳﮩﻤﯽ ﺳﮩﻤﯽ ﺗﮭﯽ
    ﺧﻮﻓﺰﺩﮦ ﺗﮭﺎ ﮔﻠﺸﻦ ﺳﺎﺭﺍ ﺍﻭﺭ ﺩﮨﺸﺖ ﮔﺮﺩ ﺩﺳﻤﺒﺮ ﺗﮭﺎ
    ﯾﮧ ﺟﻮ ﺗﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮫ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﯽ ﯾﮧ ﺟﻮ ﺗﯿﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺳﺮﺩﯼ
    ﺍﺗﻨﺎ ﮨﻤﯿﮟ ﺑﺘﺎﺅ ﺗﻢ ، ﮐﯿﺎ ﮨﻤﺪﺭﺩ ﺩﺳﻤﺒﺮ ﺗﮭﺎ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  13. سحرش سحر

    سحرش سحر محفلین

    مراسلے:
    235
    جھنڈا:
    Pakistan
    (سچے عاشقوں سے معذرت کے ساتھ)
    کلامِ دسمبر کی ایسی کی تیسی
    اور اس کے سخن ور کی ایسی کی تیسی

    دوبارہ یہ چخ چخ اگر میں نے سن لی
    تو قندِ مکرر کی ایسی کی تیسی

    اسی ماہ محبوبہ بھاگی سبھی کی
    تمھارے مقدر کی ایسی کی تیسی

    محرم میں کرنا جو کرنا ہے ماتم
    محرم سے باہر کی ایسی کی تیسی

    ق

    دعا ہے بدل جائے محور زمیں کا
    اس اب والے محور کی ایسی کی تیسی

    ہر اک سال راحیلؔ اپریل دو ہوں
    دسمبر کے چکر کے ایسی کی تیسی

    راحیلؔ فاروق
    ۷ دسمبر ۲۰۱۶ء
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  14. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    12,305
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    ذرا تھوڑا سا اوپر دیکھیں تو اسی صفحہ پہ فہد اشرف نے یہی نظم شریک کی ہے۔:)
     
    • متفق متفق × 1
  15. سحرش سحر

    سحرش سحر محفلین

    مراسلے:
    235
    جھنڈا:
    Pakistan
  16. فیصل عظیم فیصل

    فیصل عظیم فیصل محفلین

    مراسلے:
    3,623
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    بارشیں دسمبر کی، اس طرح سے حاوی ہیں
    جس طرح سے تم میری زندگی پہ حاوی ہو
     
  17. اکمل زیدی

    اکمل زیدی محفلین

    مراسلے:
    3,978
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Question
    تیری یاد نہ اس بار آوارہ گردی
    اس بار دسمبر نہ ہوئ سردی
     
  18. فیصل عظیم فیصل

    فیصل عظیم فیصل محفلین

    مراسلے:
    3,623
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    دیکھنا دسمبر ہو تو آپ چلے آئیے
    سرد سرد موسم ہے دل کے سرد خانے کا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  19. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    24,012
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    مرا بوسیدہ گیزر ٹھیک کرنے
    مرے گھر میں پلمبر آ گیا ہے
    اسے کہنا دسمبر آ گیا ہے

    بنا ہے میرے گھر گاجر کا حلوہ
    یہ سن کر پورا ٹبّر آ گیا ہے
    اسے کہنا دسمبر آ گیا ہے
     
    • پر مزاح پر مزاح × 3
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  20. اکمل زیدی

    اکمل زیدی محفلین

    مراسلے:
    3,978
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Question
    آپ جب پائے کا وعدہ فرمائینگے
    ہم دسمبر کیا کبھی بھی چلے آئنگے

    دسمبر کیا کبھی کا بھی رکھ لیں ۔ ۔ ۔ :rolleyes:
    محفلینِ کراچی - دوسری ملاقات-( بخیر انجام پذیر) 24 نومبر ،بروز ہفتہ، 2018
     

اس صفحے کی تشہیر