حسان خان

لائبریرین
بوستانِ سعدی کے ابتدائی سات اشعار:
به نامِ خدایی که جان آفرید
سخن گفتن اندر زبان آفرید
خداوندِ بخشندهٔ دست‌گیر
کریمِ خطابخشِ پوزش‌پذیر
عزیزی که هر کز درش سر بتافت
به هر در که شد هیچ عزت نیافت
سرِ پادشاهانِ گردن‌فراز
به درگاهِ او بر زمینِ نیاز
نه گردن‌کَشان را بگیرد به فور
نه عُذرآوران را براند به جور
وگر خشم گیرد به کردارِ زشت
چو بازآمدی ماجَریٰ درنوشت
دو کونش یکی قطره در بحرِ علم
گنه بیند و پرده پوشد به حلم
(سعدی شیرازی)

ترجمہ:
اُس خدا کے نام سے جس نے جان خلق کی
زبان کے اندر بولنے کی قوت خلق کی
عطا کرنے والا اور دست گیری کرنے والا خداوند
کریم، خطا بخشنے والا اور معذرت قبول کرنے والا
وہ بزرگوار و قوی کہ جس نے بھی اُس کے در سے سر موڑا
وہ جس در پر بھی گیا، کوئی عزت نہ پائی
گردن فراز بادشاہوں کے سر
اُس کی درگاہ میں زمینِ نیاز پر ہیں
نہ وہ گردن کشوں کو فوراً پکڑتا ہے
نہ عذر لانے والوں کو بہ ستم دور بھگاتا ہے
اور اگر وہ بدنما کردار پر خشمگین ہوتا ہے
جب تم پلٹ جاؤ تو گذرا ہوا ماجرا تہہ کر دیتا ہے (یعنی عفو کر دیتا ہے)
کونین اُس کے بحرِ علم کا ایک قطرہ ہیں
وہ گناہ دیکھتا ہے اور حلم کے ساتھ پردہ پوشی کرتا ہے
 
آخری تدوین:

سید عاطف علی

لائبریرین
در بن چاہے ہمی بودم زبوں
در ہمی عالم نمی گنجم کنوں
مولانا
میں ہی کبھی ایک کنویں کی گہرائی میں خوار تھا ۔
اب میں اس عالم میں ہی نہیں سما پاتا۔
 

حسان خان

لائبریرین
سعدیا مردِ نکونام نمیرد هرگز
مرده آن است که نامش به نکویی نبرند
(سعدی شیرازی)

اے سعدی! نیک نام شخص ہرگز نہیں مرتا؛ مردہ تو وہ ہے جس کا نام نیکی کے ساتھ نہ لیا جائے۔
 

طالب سحر

محفلین
رہ بنردم بہ تمیزِعدم وہستیءخویش
ایں دو آئینہ بہم سخت مقابل بستند

میرزا عبدالقادر بیدل دهلوی

فرقِ ہستی و عدم کو نہ میں سمجھا
تو نے ان آئینوں کو سخت مقابل باندھا

ظہیر احمد صدیقی
 

حسان خان

لائبریرین
رہ بنردم بہ تمیزِعدم وہستیءخویش
ره نبُردم به تمیزِ عدم و هستیِ خویش :)
در ہمی عالم نمی گنجم کنوں
در همه عالم نمی‌گنجم کنون :)
فرقِ ہستی و عدم کو نہ میں سمجھا
برادر، اس مصرعے میں شاید کوئی لفظ کتابت سے محروم رہ گیا ہے، کیونکہ یہ مصرع مجھے بے وزن محسوس ہو رہا ہے۔
 
آخری تدوین:

طالب سحر

محفلین
جناب حسان خان، میرے سابقہ مراسلہ میں غلطیوں کی نشاندہی کرنے کا شکریہ - میری ناہلی یا کسی فننی خرابی کی وجہ سے میں مذکورہ مراسلہ تدوین کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا ہوں- مزید برآں ، اس مراسلے میں ربط بھی شامل نہیں کر پایا -

تدوین کے بعد:

ره نبردم به تمیز عدم و هستی خویش
این دو آیینه به هم سخت مقابل بستند

میرزا عبدالقادر بیدل دهلوی

فرقِ ہستی و عدم کو نہ میں سمجھا یارب
تو نے ان آئینوں کو سخت مقابل باندھا

ظہیر احمد صدیقی
 
آخری تدوین:

عظیم خواجہ

محفلین
معذرت کے ساتھ مغل صاحب لیکن فرخ بھائی (سخنور) نے عرفی کا یہ مشہور اور خوبصورت شعر بالکل صحیح تحریر فرمایا ہے۔

یہ شعر پطرس بخاری کے مضمون "کتے" میں موجود ہے، میں نے نہ صرف اسے چھپی ہوئی کتاب سے دیکھا ہے بلکہ یہ نیٹ پر بھی موجود ہے ملاحظہ کریں یہ ربط۔

http://www.patrasbokhari.com/mazameen03


اسکے علاوہ ایک فارسی سائٹ پر بھی یہ شعر ایسے ہی ہے ملاحظہ کریں یہ ربط

http://www.kabulpress.org/my/spip.php?article115



اس نا چیز کا عرفی شیرازی پر ایک مضمون بھی اس محفل پر موجود ہے جس میں بھی یہ شعر موجود ہے۔

بہرحال صحیح شعر کچھ یوں ہے

عرفی تو میندیش ز غوغائے رقیباں
آوازِ سگاں کم نہ کند رزقِ گدا را


والسلام

۔
واہ واہ واہ۔ کیا اچھا اور نایاب شعر ہے۔ یہ شعر والد صاب نے چار سال کی عمر میں مجھے یاد کرا دیا تھا کیوںکہ میرا گھر میں پکارنے کانام عرفی ہے۔ کہتے تھے پتہ ہونا چاہیے کہ یہ نام کہاں سے آیا ہے۔ اللہ میرے والد صاحب کی مغفرت فرمائے۔
 

حسان خان

لائبریرین
مُطرِبا، مجلسِ اُنس است، غزل خوان و سُرود
چند گویی که چنین رفت و چنان خواهد شد؟
(حافظ شیرازی)

اے مطرب، مجلسِ اُنس و الفت ہے، غزل اور نغمہ گاؤ۔۔۔ کب تک کہو گے کہ ایسا ہو گیا اور ویسا ہو جائے گا؟
 

حسان خان

لائبریرین
آتش از خانهٔ همسایهٔ درویش مخواه
کآنچه بر روزنِ او می‌گذرد، دودِ دل است
(سعدی شیرازی)

درویش ہمسائے کے گھر سے آگ مت طلب کرو کیونکہ جو اُس کے روزن پر گذر رہا ہے، دل کا دھواں ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
شاهین، گر از نظیرِ تو جوید کسی نشان
باید درونِ بیضهٔ عنقا سراغ کرد
(شاهین کولابی)

اے شاہین! اگر کوئی تمہاری نظیر کا نشان ڈھونڈ رہا ہے تو اُسے عنقا کے انڈے کے اندر جستجو کرنی چاہیے۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
اندیشه سرنگون شد، سعیِ خرد جنون شد
دل هم تپید و خون شد تا فهمِ راز کردم
(بیدل دهلوی)

جب میں نے راز سمجھ لیا تو فکر سرنگوں ہو گئی، خرد کی سعی جنوں ہو گئی، اور دل بھی تڑپ کر خوں ہو گیا۔
 

محمد وارث

لائبریرین
گہر بگوشِ تو می گوید از صدف بیزار
کہ بے وطن بتو بودن بہ از وطن بے تو


شاہ فقیراللہ آفرین لاہوری

تیرے کان میں موتی، صدف (اپنے گھر) سے بیزاری کا اظہار کرتا ہے کیونکہ تیرے ساتھ بے وطن ہونا، تیرے بغیر وطن میں رہنے سے بہت بہتر ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
آسوده‌ام درین دشت از فیضِ نارسایی
گر دست کوتهی کرد، پایی دراز کردم
(بیدل دهلوی)

میں اِس دشت میں نارسائی کے فیض سے آسودہ ہوں؛ اگر دست نے کوتاہی کی تو میں نے ایک پاؤں دراز کر دیا۔
 
آخری تدوین:

فرید

محفلین
'بستود' تو ڈھونڈے سے نہیں ملتا :)

میرے خیال میں یہ فارسی ترکیب کے مطابق 'بست و بند' کا مخفف ہے، جس کا مطلب باندھنا، بنانا وغیرہ ہے، فارسی میں ایسے کئی مخفف استعمال ہوتے ہیں، مفہوم کے حساب سے تو ایسا ہی لگ رہا ہے واللہ اَعلَمُ بالصّواب۔
"بستود" ستودن بمعنی تعریف کرنا سے مشتق نہیں ہے؟
 

حسان خان

لائبریرین
"بستود" ستودن بمعنی تعریف کرنا سے مشتق نہیں ہے؟
آپ درست فرما رہے ہیں۔
'ستودن' ستائش کرنے کو کہتے ہیں، جبکہ 'ستود' اس مصدر سے مشتق ماضیِ مطلق کا صیغۂ واحد غائب ہے یعنی 'اُس نے ستائش کی'۔
'بستود' در حقیقت 'ستود' ہی ہے جس کے شروع میں بائے تزئینی کا اضافہ کیا گیا ہے۔
 

محمد وارث

لائبریرین
یک پہلو و صد خنجر، یک سینہ و صد پیکاں
در مقتلِ مظلوماں، ایں است نشانِ ما


قتیل لاہوری

ایک پہلو اور سو خنجر، ایک سینہ اور سو سو تیر، مظلوموں کے مقتل میں بس یہی ہمارا نشان ہے۔
 
Top