حسان خان

لائبریرین
پادشاہِ سلطنتِ تیموریۂ ہند «‌نصیرالدین محمد هُمایون» سے منسوب ایک فارسی رُباعی:
(رُباعی)
هر دم ز فراقِ تو ملالی‌ست مرا
هر روز ز هجرانِ تو سالی‌ست مرا
حالی‌ست به غُربتم که نتْوان گُفتن
سُبحان‌الله، غریب حالی‌ست مرا

(‌نصیرالدین محمد هُمایون)
تمہارے فراق کے باعث مجھ کو ہر لمحہ اِک ملال [رہتا] ہے۔۔۔ تمہارے ہجر کے باعث ہر روز میرے لیے [طوالت میں] ایک سال [کے برابر] ہے۔۔۔ غریب‌الوطنی میں میرا اِک ایسا حال ہے کہ کہا نہیں جا سکتا۔۔۔ سُبحان اللہ! میرا اِک عجیب و غریب حال ہے!

مأخذ
 

حسان خان

لائبریرین
بانیِ سلطنتِ تیموریۂ ہند «ظہیرالدین محمد بابُر» کے پِسر «هِندال میرزا» سے منسوب ایک فارسی بیت:
سروِ قدِ تو مایلِ اهلِ نیاز نیست
نازی‌ست در سرِ تو که در سروِ ناز نیست

(هِندال میرزا)
[اے محبوب!] تمہارا سروِ قد اہلِ نیاز کی جانب مائل نہیں ہے۔۔۔۔ تمہارے سر میں اِک ایسا ناز ہے کہ جو [حتّیٰ] سروِ ناز میں [بھی] نہیں ہے۔
× سرْوِ ناز = تازہ اُگا ہوا درختِ سرْوْ؛ یا پھر وہ سرْوْ جس کی شاخیں ہر جانب مائل ہوں

مأخذ
 
آخری تدوین:

محمد وارث

لائبریرین
تو آبِ خضرے و من تشنہ ایں کنایت بس
چہ حاجت است کہ دیگر سخن دراز کنم


اہلی شیرازی

تُو آبِ حیات ہے اور میں پیاسا، (قصہ مختصر) یہ کنایہ، یہ رمز، یہ اشارہ ہی کافی ہے (اور اسی سے سب کچھ سمجھ جا)، مجھے دوسری لمبی لمبی باتیں کرنے کی کیا ضرورت ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
ز جانم یک رمَق مانده‌ست و تیغش آرزو دارم
به قتلِ من، دریغ، آن نامُسلمان دیر می‌آید
(عبدالرحمٰن جامی)

میری جان [میں] سے [فقط] ایک رمَق باقی بچی ہے، اور مجھ کو اُس کی تیغ کی آرزو ہے۔۔۔ افسوس! میرے قتل کے لیے وہ نامُسلمان [محبوب] دیر آ رہا ہے۔۔۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
(مصرع)
دوست کُدام؟ آن‌که بُوَد پرده‌دار
(نظامی گنجوی)

[حقیقی] دوست کون ہے؟ وہ کہ جو پردہ‌پوشی کرنے والا ہو۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
گر سر کنم مُصیبتی از شاهِ کربلا
ترسم شرر به عرش زند آهِ کربلا

(ادیب‌الممالک امیری فراهانی)
اگر میں شاہِ کربلا کی مُصیبت ذرا سی بیان کرنا شروع کروں تو مجھ کو خوف ہے کہ کربلا کی آہ عرش کو آتش لگا دے گی۔
 

حسان خان

لائبریرین
چِسان من ننالم ز هجران که نالد
زمین از فراق، آسمان از جُدایی

(هاتف اصفهانی)
ہجراں کے باعث مَیں کیسے نالہ نہ کروں؟ کہ زمین و آسمان [بھی] فراق و جُدائی کے سبب نالہ کرتے ہیں۔
 

حسان خان

لائبریرین
به من فرشته کُجا می‌رسد ز رفعتِ قدر
حریمِ درگهٔ پیرِ مُغان مقامِ من است

(محمد فضولی بغدادی)
رفعتِ قدر و منزلت کے لحاظ سے فرشتہ مجھ تک کہاں پہنچے گا؟۔۔۔۔ [کیونکہ] پِیرِ مُغاں کی درگاہ کی حریم میرا مقام [و مسکن] ہے۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
«جعفر بیگ» کی مدح میں کہے گئے قصیدے سے ایک بیت:
ذاتِ او در صددِ حِفظِ بقایِ قانون
دارد آن رُتبه که در شرع امامِ اعظم

(محمد فضولی بغدادی)
بقائے قانون کی حفاظت کے قصد کے لحاظ سے اُس کی ذات وہ رُتبہ رکھتی ہے جو رُتبہ شریعت میں امامِ اعظم ابوحنیفہ کا ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
جنابِ «محمد فُضولی بغدادی» کے ایک فارسی قصیدے سے دو ابیات:
ز بهرِ آن که هر کس فرق سازد نیک را از بد
نصیحت‌نامه‌ای آمد ز ایزد نام: فُرقانش
ولی تا خلق داند رُتبهٔ درد از دوا برتر
دبیرِ حِکمت از حَرفِ الم بِنْوِشت عُنوانش

(محمد فضولی بغدادی)
خُدا کی جانب سے «فُرقان» نامی ایک نصیحت‌نامہ آیا تاکہ ہر شخص نیک و بد کے درمیان فرق کر سکے۔۔۔ لیکن دبیرِ حِکمت (خُدائے حکیم) نے اُس کا عُنوان حَرفِ «الم» سے لِکھا تاکہ مُردم درد کے رُتبے کو دوا سے برتر جانیں۔
× «الَم» درد و رنج کو کہتے ہیں، لیکن بیتِ ہٰذا میں «الم» سے «الف لام میم» کی جانب اشارہ ہے، جس سے سورۂ بقرہ کا آغاز ہوا ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
قفقازی آذربائجان کے مشہور تُرکی شاعر جنابِ «سیّد عظیم شیروانی» کا ایک فارسی قِطعہ:
سیّدا برچین بساطِ شعر کاندر روزگار
جستجو‌ها کرده‌ام کس طالبِ اشعار نیست
هفت بَیتم بهتر است از هفت گنجِ خُسروی
با چُنین گنجینه‌ها بازم یکی دینار نیست

(سیّد عظیم شیروانی)
اے سیّد! بِساطِ شاعری کو لپیٹ لو کیونکہ مَیں جُستجوئیں کر چکا ہوں، زمانے میں کوئی شخص طالبِ اشعار نہیں ہے۔۔۔ میری سات ابیات، سات پادشاہی خزانوں سے بہتر ہیں۔۔۔ [لیکن] اِیسے خزانوں کے باجود بھی میرے پاس ایک بھی دینار نہیں ہے۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
تا شدم خادمِ درگاهِ بُتِ باده‌فُروش
به امیرانِ دو عالَم همه فرمان بِدِهم

(روح‌الله خُمینی)
جب سے میں بُتِ بادہ‌فروش کی درگاہ کا خادم ہوا [ہوں]، میں دو عالَم کے تمام فرماں‌رواؤں کو فرمان دیتا ہوں (یعنی اُن پر فرماں‌روائی کرتا ہوں)۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
آن دم که روح را تنِ خاکی قرین نبود
جُز داغِ بندگیِ تواَم بر جبین نبود
(شیخ احمد جام ژنده‌پیل)

اُس وقت کہ جب رُوح [ہنوز] تنِ خاکی کے نزدیک نہ ہوئی تھی، [تب بھی] میری جبین پر تمہاری بندگی کے داغ کے بجُز کچھ نہ تھا۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
رُخِ زیبا پِسَران قِبلهٔ اهلِ نظر است
هر که باور نکند نیست مُسلمان ای شیخ

(محمد فضولی بغدادی)
زیبا لڑکوں کا چہرہ اہلِ نظر کا قِبلہ ہے۔۔۔ اے شیخ! جو بھی شخص [اِس چیز کا] باور و یقین نہ کرے، وہ مُسلمان نہیں ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
جنابِ «محمد فُضولی بغدادی» کی مثنوی «ساقی‌نامه» سے دو ابیات:
بِیا ساقی آن راحت‌افزایِ روح
که طوفانِ غم راست کشتیِ نوح
به من دِه که از غم نجاتم دِهد
نجات از همه مُشکِلاتم دِهد

(محمد فضولی بغدادی)
اے ساقی! آؤ وہ راحت‌افزائے رُوح [لے آؤ]، کہ جو طوفانِ غم کے لیے کشتیِ نُوح ہے۔۔۔ مجھ کو دو، تاکہ وہ مجھ کو غم سے اور تمام مُشکِلات سے نجات دے دے۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
نعتیہ بیت:
میانِ موسی و او فرقِ ماه تا ماهی‌ست
کُجا شِکستنِ ماه و کجا بُریدنِ یم

(محمد فضولی بغدادی)
اُن کے اور موسیٰ کے درمیان ماہ سے ماہی تک (یعنی آسمان سے زمین تک) کا فرق ہے۔۔۔ کہاں ماہ کو شق کرنا، اور کہاں دریا کو دونیم کرنا؟
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین

حسان خان

لائبریرین
سوادِ دیده را مُشکِل توان برداشت از لعلش
ندارد راهِ رستن چون مگَس در انگبین اُفتد

(محمد فضولی بغدادی)
چشم کی پُتلی کو (یعنی نظر کو) اُس کے لعل جیسے لب سے اُٹھا پانا (دُور کر پانا) مُشکِل ہے۔۔۔ جب مگَس (مکھی) شہد میں گِر جائے تو اُس کے پاس خلاصی و نجات کی راہ نہیں ہوتی (یعنی پھر وہ پرواز نہیں کر پاتی۔)
 

محمد وارث

لائبریرین
یہ مصرع اِس طرح بھی نظر آیا ہے:
میانِ موسی و او فرق ماه تا ماهی‌ست
زبانی لحاظ سے تو "ز" کا حامل متن زیادہ بہتر محسوس ہو رہا ہے، لیکن کیا عَروضی لحاظ سے دونوں ہی متن وزن میں ہیں؟ محمد وارث
خان صاحب، ز سے مصرع خارج از بحر ہو جاتا ہے سو، ز کے بغیر مصرع عروضی طور پر درست ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
چو من نبوده کسی را ز عشق بدنامی
همیشه خُطبهٔ این سلطنت به نامِ من است

(محمد فضولی بغدادی)
کسی بھی شخص کو عشق کے باعث مجھ جیسی بدنامی نہیں ہوئی ہے۔۔۔ اِس سلطنت کا خُطبہ ہمیشہ میرے نام پر [ادا ہوتا] ہے۔

× گُذشتہ ادوار میں نمازِ جُمعہ کا خُطبہ شاہِ سلطنت کے نام پر دیا جاتا ہے۔ یہاں اُسی جانب اشارہ ہے۔
 
Top