محمد وارث

لائبریرین
یہ مصرع اِس طرح بھی نظر آیا ہے:
میانِ موسی و او فرق ماه تا ماهی‌ست
زبانی لحاظ سے تو "ز" کا حامل متن زیادہ بہتر محسوس ہو رہا ہے، لیکن کیا عَروضی لحاظ سے دونوں ہی متن وزن میں ہیں؟ محمد وارث
کیا زبانی لحاظ سے فرق اضافت کے ساتھ درست ہے یعنی فرقِ ماہ تا ماھی ست؟
 

حسان خان

لائبریرین
(رباعی)
خوش آن که دمی با تو کنم سیرِ چمن
من پُر کنم از اشک و تو از گُل دامن
ما را نبُوَد رقیب در پیرامن
من باشم و تو باشی و تو باشی و من

(محمد فضولی بغدادی)
خوشا وہ [وقت] کہ [جب] میں کسی لمحہ تمہارے ساتھ سیرِ چمن کروں۔۔۔ میں [اپنا] دامن اشک سے پُر کروں اور تم [اپنا] دامن گُل سے۔۔۔۔ ہمارے اطراف میں اور اِرد گِرد رقیب نہ ہو۔۔۔ [صِرف] میں ہوؤں اور تم ہوؤ، اور تم ہوؤ اور میں ہوؤں!
 

الف نظامی

لائبریرین
کس به کس نیست آشنا گویی
رسمِ مِهر از دیارِ من برخاست
(میر تقی میر)

کوئی شخص کسی شخص کے ساتھ آشنا نہیں ہے۔۔۔ گویا رسمِ محبّت میرے دِیار سے اُٹھ گئی [ہے]۔
کیا میر تقی میر نے بھی فارسی میں شاعری فرمائی ہے؟
 

حسان خان

لائبریرین
قفقازی آذربائجان کے مشہور تُرکی شاعر «سیّد عظیم شیروانی» کی ایک فارسی بیت:
عارفِ بغداد را سیّد نظیره گُفته‌ای
تو کُجا و او کُجا شرمی کن از اشعارِ خود

(سیّد عظیم شیروانی)
اے «سیّد»! تم نے بغداد کے عارِف [کی غزل] کا نظیرہ کہا ہے (یعنی اُن کی تقلبد کرتے ہوئے اُن کی زمین میں غزل کہی ہے)۔۔۔۔ تم کہاں اور وہ کہاں؟ اپنے اشعار پر ذرا شرم کرو!
× «عارفِ بغداد» سے احتمالاً جنابِ «محمد فُضولی بغدادی» مُراد ہیں۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
قفقازی آذربائجان کے مشہور تُرکی شاعر «سیّد عظیم شیروانی» کی ایک فارسی بیت:
نایبِ خاقانی‌ام اندر دیارِ او بلی
ذرّهٔ خورشید را باشد به خورشید اِنتِساب

(سیّد عظیم شیروانی)
میں «خاقانی شروانی» کے دِیار میں اُن کا نائب ہوں۔۔۔ ہاں! ذرّۂ خورشید کی نِسبت خورشید کے ساتھ ہوتی ہے۔
× دونوں شاعروں کا تعلق شہرِ «شیروان» سے تھا۔
 
آخری تدوین:

محمد وارث

لائبریرین
رُباعی از شیخ ابوسعید ابوالخیر

اے دوست طوافِ خانہ ات می خواہم
بوسیدنِ آستانہ ات می خواہم
بے منتِ خلق توشۂ ایں رہ را
می خواہم و از خزانہ ات می خواہم


اے دوست، میں تیرے گھر کا طواف کرنا چاہتا ہوں، اور تیرے آستانے کو چُومنا چاہتا ہوں۔ اور اِس سفر کا سامان لوگوں کا احسان اُٹھائے بغیر چاہتا ہوں، اور یہ زادِ راہ خاص تیرے خزانوں میں سے چاہتا ہوں۔
 

الف نظامی

لائبریرین
رُباعی از شیخ ابوسعید ابوالخیر
اے دوست طوافِ خانہ ات می خواہم
بوسیدنِ آستانہ ات می خواہم
بے منتِ خلق توشۂ ایں رہ را
می خواہم و از خزانہ ات می خواہم

اے دوست، میں تیرے گھر کا طواف کرنا چاہتا ہوں، اور تیرے آستانے کو چُومنا چاہتا ہوں۔ اور اِس سفر کا سامان لوگوں کا احسان اُٹھائے بغیر چاہتا ہوں، اور یہ زادِ راہ خاص تیرے خزانوں میں سے چاہتا ہوں۔

بے منتِ خلق کی ترکیب پر مشتمل ایک اور رباعی

یا رب بہ محمد و علی و زہرا
یا رب بہ حسین و حسن و آلِ عبا
کز لطف برآ حاجتم در دو سرا
بے منتِ خلق یا علی الا علیٰ

اے رب! محمد ﷺ جنابِ علی المرتضیٰؑ جنابِ سیّدہ کائنات فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا کے طفیل
اے رب! جنابِ حسین و حسن علیہ السلام اور آلِ عبا چادرِ پنجتنِ پاک کے صدقے میں
اپنے لطف و کرم سے میری ، دونوں جہانوں کی ضرورتیں پوری کر دے!
مخلوق کی محتاجی کے بغیر ، اےاُونچوں سے اُونچے
 

حسان خان

لائبریرین
عُثمانی سلطنت کے ایک شاعر کی ایک فارسی رُباعی:
(رباعی)
حیوانم اگر سُخن به مردُم گویم
مردُم نیَم از پَیِ سُتوران پویم
ای خِضر مرا ز نوعِ انسان مشُمُر
گر قطره‌ای از چشمهٔ حیوان جویم
(یئنی‌شهرلی عَونی بیگ)

میں حیوان ہوں اگر میں مردُم کے ساتھ گفتگو کروں!۔۔۔ میں انسان نہیں ہوں [اگر] مَیں چَوپایوں کے تعاقُب میں بھاگ دوڑ کروں!۔۔۔ اے خِضر! مجھ کو نوعِ بشر میں سے مت شُمار کرنا اگر میں چشمۂ آبِ حیات سے اِک قطرہ [بھی] تلاش کروں!
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
چمن خوش است و هوا دل‌کش است و مَی بی‌غش
کُنون به‌جُز دلِ خوش هیچ درنمی‌باید

(حافظ شیرازی)
چمن خوب ہے، اور آب و ہوا دل‌کش ہے، اور شراب بے آلائش ہے۔۔۔ اب بجُز دلِ خوش و آسودہ کسی بھی [دیگر] چیز کی ضرورت و احتیاج نہیں ہے۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
«شاه شُجاع» کی مدح میں کہی گئی بیت:
ای در رُخِ تو پیدا انوارِ پادشاهی
در فِکرتِ تو پنهان صد حکمتِ اِلٰهی
(حافظ شیرازی)

اے کہ تمہارے چہرے میں انوارِ پادشاہی ظاہر ہیں، [اور] تمہاری فکر میں صد حِکمتِ اِلٰہی پِنہاں ہیں!
 
اقبالؒ (زبورِ عجم)

ترا نادان امید غمگساریہا ز افرنگ است
دل شاہین نسوزد بہر آن مرغی کہ در چنگ است

(اے بے وقوف انسان! (یہاں مسلمانانِ ہند کو مُخاطب کیا جا رہا ہے) تجھے اگر انگریز سے غم گُساری اور رحم کی امید ہے تو تُو بہت ہی بے وقوف انسان ہے۔ شاہین کے پنجوں میں اگر مُرغی کا بچہ آجائے تو اس کی چُوں چُوں چیں چیں (آہ و فغاں) سے اس کے دل میں ذرا بھی رحم نہیں آتا اور وہ اسے چیر پھاڑ کر کھا جاتا ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
من خواستارِ جامِ مَی از دستِ دل‌برم
این راز با که گویم و این غم کُجا بَرَم؟

(روح‌الله خُمینی)
میں اپنے دل‌بر کے دست سے جامِ مے کا خواہش‌مند ہوں۔۔۔ یہ راز مَیں کس سے کہوں اور یہ غم مَیں کہاں لے جاؤں؟
 

حسان خان

لائبریرین
جوابِ تلخ به نقد از لبِ تُرُش‌رُویان
هزار بار بِه از قندِ انتظارآمیز

(صائب تبریزی)
تُرش‌رُو [محبوبوں] کے لب سے نقد [مِلنے والا] جوابِ تلخ اُس قند سے ہزار بار بہتر ہے جو انتظار کے ساتھ مخلوط ہو (یعنی جس کے لیے انتظار کرنا پڑے)۔
× تُرْش = کھٹا؛ تُرْش‌رُو = بدمزاج، بدخُو
 

حسان خان

لائبریرین
تا به کَی در هجر نالم عُمر بر پایان رسید
ای صبا از من به یارم دررَسان پیغام را

(قُمری دربندی)
میں کب تک ہجر میں نالہ کروں؟۔۔۔ میری عُمر اختتام پر پہنچ گئی [ہے]۔۔۔۔ اے صبا! میری جانب سے یار کو پیغام پہنچا دو!
 

حسان خان

لائبریرین
حمدیہ بیت:
دارد ز موجِ آتشِ نمرودیان چه باک
آسوده‌خاطِری که بُوَد در امانِ تو

(محمد حنیفه‌نژاد «حنیف»)
جو آسودہ‌خاطِر [شخص] تمہاری امان میں ہو، اُس کو نمرودیوں کی آتش کی مَوج سے کیا باک و خوف؟
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
به هر جفا که کُند چشمِ تو رِضا دادم
که از خُصومتِ تُرکان جهان خراب شود

(امیر خُسرَو دهلوی)
تمہاری [تُرکوں جیسی جفاکار] چشم جو بھی جفا کرے، میں نے رِضامندی کے ساتھ تسلیم کر لیا۔۔۔ کیونکہ تُرکوں کے [ساتھ] دُشمنی [کرنے] سے دُنیا خراب و ویران ہو جاتی ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
غزل‌سراییِ تأثیر در سماع آورد
کلیم و مولوی و خُسرَو و نظیری را

(تأثیر تبریزی)
«تأثیر» کی غزل سرائی کلیم کاشانی، مولوی رُومی، امیر خُسرَو اور نظیری نیشابوری کو [حالتِ] سماع میں لے آئی۔
 
Top