حسان خان

لائبریرین
نوا را تلخ تر می زن چو ذوقِ نغمہ کم یابی
حدی را تیز تر می خواں چو محمل را گراں بینی

ترجمہ- اگر ذوقِ نغمہ کم ہوگیا ہے تو اپنی نوا کر تلخ تر کر دے، اگر اونٹ پر بوجھ زیادہ ہو تو حدی خواں اپنی لے اور تیز کر دیتے ہیں۔

اس شعر کا ایک جگہ ترجمہ تحریر کرنا ہے۔
محمد وارث بھائی اس کا ترجمہ کنفرم کرنے کے لیے گوگل کیا تو آپ کے اس مراسلے تک آپہنچا۔ (آپ کا شکریہ) یہاں میں اپنی ایک الجھن دور کرنا چاہتا ہوں کہ"حدی را تیز تر می خواں" تو جملہ امر ہے اور صیغہ مخاطب ہے، جبکہ اس کا ترجمہ آپ نے "حدی خواں اپنی لے اور تیز کر دیتے ہیں۔" سے کیا ہے جو کہ مضارع ہے اور صیغہ غائب ہے۔ نیز شعر میں حدی کو "تیز خواندن" کا امر ہے جبکہ آپ کے ترجمہ میں حدی خواں کی "خبر" معلوم ہوتی ہے۔ ایسی تبدیلی کن قواعد کی بنا پر ہے؟
یہ صرف ایک طالب علمانہ الجھن ہے۔:)
آپ کی بات درست ہے انصاری صاحب، میرے ترجمے میں واقعی کافی مسائل ہیں، اور یہ ترجمہ شاید اس وقت کا ہے جب صرف ذوق و شوق ہی سے ترجمہ کر دیا کرتا تھا۔ :)
محمد وارث بھائی، آپ کے اِس ترجمے نے بھی ایک نیا 'صائبانہ' مضمون پیدا کر دیا ہے۔ یعنی مصرعِ دوم میں مصرعِ اول کی عینی مثال، جو صائب تبریزی اور اُن کے مُتّبِعین کا اُسلوب ہے۔ :)
 

حسان خان

لائبریرین
چراغِ اهلِ عشق از کُلبهٔ من می‌شود روشن
نشیند ذرّه گر بر رَوزنم پروانه می‌خیزد

(نظیری نیشابوری)
عُشّاق کا چراغِ (دل) میرے (ہی سینے کی) کوٹھری سے روشن ہوتا ہے (چنانچہ) میرے رَوزن (دل) پر ایک ذرّۂ خاک بھی اگر بیٹھتا ہے تو پروانہ بن کر اُٹھتا ہے (یعنی میرا خانۂ دل جلوہ ہائے دوست سے ایسا روشن ہے کہ سب جگہ روشنی یہاں سے پہونچتی ہے)۔
اشارہ: نشیند اور می‌خیزد میں صنعتِ طِباق ہے۔

(مترجم و شارح: پروفیسر محبوب الٰہی)
 

حسان خان

لائبریرین
نه از جمالِ تو قطعِ نظر توان کردن
نه جز خیالِ تو فکرِ دگر توان کردن

(فُروغی بسطامی)
نہ تمہارے جمال سے قطعِ نظر کیا جا سکتا ہے، [اور] نہ تمہارے خیال کے بجز کوئی دیگر فکر کی جا سکتی ہے۔
 

محمد وارث

لائبریرین
کُجا بہ صُحبتِ پاکاں رسی کہ دیدۂ تو
بسانِ شبنمِ گُل اشکبار باید و نیست


رھی مُعیری

تُو بھلا کیسے بھی پاک اور نیک (پُھول جیسے) لوگوں کی صُحبت حاصل کر پائے گا کہ (اِس کے لیے) تیری آنکھیں شبنم کی طرح اشکبار ہونی چاہئیں لیکن نہیں ہیں۔
 

حسان خان

لائبریرین
عُثمانی سلطنت کے معروف تُرکی سرا شاعر 'نفْعی' اپنی ایک فارسی بیت میں حافظِ شیرازی کی سِتائش میں کہتے ہیں:
بِنازم طبعِ حافظ را که طبعِ او دلِ عشق است
سراپا گُفت و گویِ حالِ رندان است دیوانش

(نفعی ارضرومی)
حافظ کی طبعِ [شاعری] پر آفریں! کہ اُن کی طبع عشق کا دل ہے۔۔۔ اُن کا دیوان کُل کا کُل رِندوں کے حال کی گفتگو ہے۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
ما به این دَه روزه عُمر از زندگی سیر آمدیم
خضر چون تن داد، حیرانم، به عُمرِ جاودان؟

(صائب تبریزی)
ہم تو اِس دس روزہ عُمر ہی میں زندگی سے سیر ہو گئے۔۔۔ میں حیران ہوں کہ خِضر کیسے عُمرِ جاوداں کے لیے راضی ہو گیا؟
 
آخری تدوین:

محمد وارث

لائبریرین
ہزار دستہ گُل از گُلشنِ جہاں بُردند
ہنوز ایں چمن از رنگ و بُو نشد خالی


چندر بھان برہمن

اِس دُنیا کے گُلشن سے وہ (کارکنانِ قضا و قدر) بے شمار گُل دستے چُن چُن کر لے گئے، لیکن ابھی تک یہ چمن رنگ و بُو (گُلہائے رنگ رنگ) سے خالی نہیں ہوا۔
 

حسان خان

لائبریرین
لعنِ یزید تلخیِ حُرمت ز مَی بَرَد
بر رُویِ ما عبث درِ میخانه بسته‌اند

(صائب تبریزی)
یزید پر لعنت شراب سے حُرمت کی تلخی لے جاتی ہے۔۔۔ ہمارے چہرے پر میخانے کے در کو عبث بند کیا گیا ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
شِکستگی نرسد خامهٔ تُرا صائب!
که سُرخ کرد ز گُفتار رُویِ ایران را

(صائب تبریزی)
اے صائب! [خدا کرے کہ] تمہارے خامے کو شِکستگی نہ پہنچے کہ اُس/جس نے گُفتار سے ایران کو سُرخ رُو [و سرفراز] کر دیا [ہے]!

× صائب تبریزی کے مقبرے کی دیوار کی تصویر میں مصرعِ اول کا متن یہ نظر آیا ہے:
شِکستگی نرسد خاطرِ تُرا صائب!
اے صائب! [خدا کرے کہ] تمہارے قلب و ذہن کو شِکستگی نہ پہنچے۔۔۔
 

حسان خان

لائبریرین
عُثمانی شاعر محمود عبدالباقی 'باقی' کی ایک تُرکی غزل کا مطلع، جو بیک وقت تُرکی بھی ہے اور فارسی بھی:
سینه مجروحِ غمِ غُربت و افگارِ فراق
دل اسیرِ المِ هجر و گرفتارِ فراق

(محمود عبدالباقی 'باقی')
[میرا] سینہ غمِ بے چارگی و غریب الوطنی سے مجروح اور فراق سے زخمی ہے۔۔۔۔ [میرا] دل المِ ہجر کا اسیر اور فراق میں مُبتلا ہے۔

Sîne mecrûh-ı gam-ı gürbet ü efgâr-ı firâk
Dil esîr-i elem-i hecr ü giriftâr-ı firâk
 

حسان خان

لائبریرین
گیرد غم اگر دامنم اندیشه ندارم
جز باده‌پرستی به جهان پیشه ندارم

(نفعی ارضرومی)
اگر غم میرا دامن پکڑ لے تو مجھے فِکر نہیں ہے۔۔۔ میں جہان میں بادہ پرستی کے بجز [کوئی] پیشہ و عادت نہیں رکھتا۔
 

حسان خان

لائبریرین
من رندِ تهی‌دستِ سبُک‌بارِ جهانم
گر باده بِیابم چه کنم شیشه ندارم

(نفعی ارضرومی)
میں دُنیا کا تہی دست و سبُک بار رِند ہوں۔۔۔ اگر مجھ کو بادہ مِل جائے تو میں کیا کروں؟ [کہ] میرے پاس شیشہ نہیں ہے۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
فرهادم و در کندنِ کُهسارِ معانی
جز ناخنِ اندیشهٔ دل تیشه ندارم

(نفعی ارضرومی)
میں فرہاد ہوں، اور معانی کا کوہسار کھودنے میں میرے پاس دل کے ناخُنِ فکر کے بجز [کوئی] تیشہ نہیں ہے۔
 

سید عاطف علی

لائبریرین
بہ حرم چو سجدہ کردم ز حرم ندا برآمد
کہ مرا خراب کر دی ، تو بسجدۂ ریائی
عراقی۔(شاید)
جب میں نے حرم میں سجدہ کیا تو آواز آئی ۔
کہ تو نے مجھے ریائی سجدے سے آلودہ کر دیا۔
 

حسان خان

لائبریرین
نفعیِ سُخن‌پرورِ شمشیر‌زبانم
از دشمنیِ نُه فلک اندیشه ندارم

(نفعی ارضرومی)
میں 'نفعیِ' سُخن پروَر و شمشیر زباں ہوں۔۔۔ مجھے نو آسمانوں کی دُشمنی کی فکر و پروا نہیں ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
بُویِ خون می‌آید از فریادِ دردآلودِ من
چون غُباری کز زمینِ کربلا گردد بلند

(صائب تبریزی)
میری درد آلود فریاد سے بُوئے خُون آتی ہے۔۔۔ اُس غبار کی طرح کہ جو زمینِ کربلا سے بُلند ہوتا ہو۔
 

حسان خان

لائبریرین
عُثمانی سلطنت کے معروف تُرکی سرا شاعر 'نفْعی' اپنی ایک فارسی بیت میں حافظِ شیرازی کی سِتائش میں کہتے ہیں:
بِنازم طبعِ حافظ را که طبعِ او دلِ عشق است
سراپا گُفت و گویِ حالِ رندان است دیوانش

(نفعی ارضرومی)
حافظ کی طبعِ [شاعری] پر آفریں! کہ اُن کی طبع عشق کا دل ہے۔۔۔ اُن کا دیوان کُل کا کُل رِندوں کے حال کی گفتگو ہے۔
عُثمانی سلطنت کے معروف تُرکی سرا شاعر 'نفْعی' اپنی ایک فارسی بیت میں حافظِ شیرازی کی سِتائش میں کہتے ہیں:
مگو حافظ که او هم از ندیمانِ خداوند است
دلِ او ساقیِ عشق است و عقل از مَی‌پرستانش

(نفعی ارضرومی)
[حافظ کو فقط] حافظ مت کہو کہ/بلکہ وہ بھی خُداوند تعالیٰ کے ندیموں اور مُصاحِبوں میں سے ہیں۔۔۔ اُن کا دل ساقیِ عشق ہے، اور اُن کی عقل مَے پرستوں [کے زُمرے] میں سے ہے۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
عُثمانی سلطنت کے معروف تُرکی سرا شاعر 'نفْعی' اپنی ایک فارسی بیت میں فارسی شاعر انوَری ابیوَردی کی سِتائش میں کہتے ہیں:
جهان می‌خندد از شوخیِ طبعِ انوری الحق
چه شوخی‌ها کند از بهرِ یارانِ سُخن‌دانش

(نفعی ارضرومی)
بے شک! انوری کی شوخیِ طبع سے جہان خندہ کرتا ہے۔۔۔ وہ اپنے یارانِ سُخن داں کے لیے کیسی شوخیاں کرتا ہے!
 
آخری تدوین:

محمد وارث

لائبریرین
نہادم پا بہ راہِ عشق آفتہاست پیش و پس
ببینم تا چہ آید بر منِ ناشاد یا قسمت


قتیل لاہوری

راہِ عشق میں قدم رکھ لیا ہے اور آگے پیچھے بس آفتیں ہی آفتیں ہیں، دیکھتے ہیں کہ مجھ ناشاد پر اب کیا گزرتی ہے، یا قسمت۔
 

حسان خان

لائبریرین
حُسنِ تو همیشه در فُزون باد
رُویت همه ساله لاله‌گون باد

(حافظ شیرازی)
[خدا کرے کہ] تمہارے حُسن میں ہمیشہ اضافہ ہوتا رہے [اور] تمہارا چہرہ تمام سال لالہ گُوں رہے!
 
Top