حسان خان

لائبریرین
نیستی معراجِ مردانِ خداست
نیست معراجِ حقیقت غیر از این

(وحدت کرمانشاهی)
نیستی و نابودی، مردانِ خدا کی معراج ہے۔۔۔ اس کے بجز کوئی معراجِ حقیقت نہیں ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
دست زن بر دامنِ دیوانگی
دور کن از خویش عقلِ دوربین

(وحدت کرمانشاهی)
دیوانگی کا دامن پکڑو اور عقلِ دُور بین [و دُور اندیش] کو خود سے دُور کر دو۔
 

حسان خان

لائبریرین
عاشق آن باشد که نشْناسد ز هم
جنگ و صُلح و لُطف و قهر و مِهر و کین

(وحدت کرمانشاهی)
عاشق وہ ہے کہ جو جنگ و صُلح، لُطف و قہر، اور محبّت و کینہ کے درمیان فرق نہ کرے۔
 

حسان خان

لائبریرین
حضرتِ حُسین بن علی کے سوگ میں کہی گئی ایک بیت:
تکیه‌گاهش بود از دوشِ رسولِ هاشمی
آن سری کز تیغِ بیدادِ یزید از تن جداست

(صائب تبریزی)
جو سر یزید کی تیغِ سِتم کے باعث تن سے جدا ہے، اُس کی تکیہ گاہ رسولِ ہاشمی کا شانہ تھا۔
 

حسان خان

لائبریرین
محبت گر زمینِ کربلا را شبنمی ریزد
دلِ پُرداغ می‌رویاند از خاکِ شهیدانش

(نفعی ارضرومی)
اگر محبّت زمینِ کربلا پر شبنم افشاں کرے تو اُس کے شہیدوں کی خاک سے دلِ پُرداغ اُگائے گی۔
 

حسان خان

لائبریرین
کمانِ بابِلیان دیدم و طِرازی تیر
که برکشیده شود بَابْروانِ تو مانَد

(دقیقی طوسی)
میں نے بابِلیوں کی کمان اور طِرازی تیر دیکھا
کہ [جب وہ] کھینچے جائیں تو تمہارے ابروؤں سے مشابہت رکھتے ہیں

× بابِل، طِراز = دو شہروں کے نام کہ ظاہراً جہاں کے کمان اور تیر مشہور تھے
 

حسان خان

لائبریرین
حمدیہ بیت:
هر که نه گویایِ تو خاموش بِه
هر چه نه یادِ تو فراموش بِه

(نظامی گنجوی)
جو بھی شخص تمہاری بات نہ کرتا ہو، اُس کا خاموش ہونا بہتر ہے۔۔۔ جو بھی چیز تمہاری یاد نہ ہو، اُس کا فراموش ہونا بہتر ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
ز اشکم سنگ می‌گردد ولیکن
نمی‌گردد دلت یا رب چه سنگ است

(خواجو کرمانی)
میرے اشک سے سنگ [کی حالت] مُتغیِّر ہو جاتی ہے لیکن تمہارا دل مُتغیِّر نہیں ہوتا۔۔۔ خدا کی پناہ! یہ کیسا سنگ ہے!
 

یاز

محفلین
زاہد غرور داشت سلامت نبرد راہ
رند از رہِ نیاز بدار السلام رفت
(حافظ شیرازی)

زاہد کو تکبر تھا، سلامتی سے راستہ طے نہ کر سکا۔ رند اپنی عاجزی سے جنت میں پہنچ گیا۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
مستم کن آن چنان که ندانم ز بی‌خودی
در عرصهٔ خیال که آمد، کُدام رفت

(حافظ شیرازی)
[اے ساقی!] مجھے اِس طرح مست کر دو کہ میں بے خودی کے باعث یہ نہ جان پاؤں کہ [میرے] میدانِ خیال میں کون آیا اور کون گیا۔
 

یاز

محفلین
ساقی بیار بادہ کہ ماہِ صیام رفت
دردہ قدح کہ موسمِ ناموس و نام رفت
(حافظ شیرازی)


اے ساقی! جام لا کہ روزوں کا مہینہ گیا۔ پیالہ دے کہ نام و ناموس کا مہینہ گیا۔
 

حسان خان

لائبریرین
مشو نومید از دُشنامِ دل‌دار
که بعدِ رنجِ روزه روزِ عیدی‌ست

(مولانا جلال‌الدین رومی)
دِلدار کی دُشنام سے نااُمید مت ہو۔۔۔ کیونکہ روزے کی زحمت و مشقّت کے بعد ایک روزِ عید [ہوتا] ہے۔
× دُشنام = گالی
 
آخری تدوین:

لاریب مرزا

محفلین
زاہد غرور داشت سلامت نبرد راہ
رند از رہِ نیاز بدار السلام رفت
(حافظ شیرازی)

زاہد کو تکبر تھا، سلامتی سے راستہ طے نہ کر سکا۔ رند اپنی عاجزی سے جنت میں پہنچ گیا۔
واہ!! خوب!!
اس شعر کا ترجمہ آپ نے خود کیا ہے یاز بھائی؟؟
 

حسان خان

لائبریرین
قرنِ ہجدہم کے قفقازی آذربائجانی شاعر مُلّا پناہ واقف اپنی ایک نظم کے ایک بند میں فرماتے ہیں:
من سنین وصفینی، ای ماهِ کرم،
حافظ‌دن، جامی‌دن آرتېق سؤیله‌رم،

حقّ بیلیر که، سنی نئجه ایسته‌رم،
آی بی‌وفا، قدیر‌بیلمز، بری باخ!

(مُلّا پناہ واقف)
[اے محبوب!] اے ماہِ کَرم! میں تمہارے وصف، حافظ اور جامی سے بیشتر بیان کرتا ہوں (یعنی حافظ و جامی بھی تمہاری توصیف اُس طرح نہیں کر سکتے جس طرح میں کرتا ہوں)۔۔۔ حق تعالیٰ جانتا ہے کہ میں تمہیں کس طرح چاہتا اور آرزو کرتا ہوں۔۔۔ اے بے وفا! اے قدر ناشناس! اِس طرف نگاہ کرو!

Mən sənin vəsfini, еy mahi-kərəm,
Hafizdən, Camidən artıq söylərəm,
Haqq bilir ki, səni nеcə istərəm,
Ay bivəfa, qədirbilməz, bəri bax!


× مندرجۂ بالا بند گیارہ ہِجوں کے ہِجائی وزن میں ہے۔
قفقازی آذربائجانی شاعر مُلّا پناہ واقف کے مندرجۂ بالا تُرکی بند کا منظوم فارسی ترجمہ:
در ادایِ وصفِ رُویت ای بُتِ سیمین‌بدن!
بیش‌تر از حافظ و جامی دِهم دادِ سُخن
حق بُوَد شاهد که خواهانم تو را از جان و تن
قدْرنشْناس، ای نگارِ بی‌وفا! بر من نِگر!

(احمد شفایی)
اے بُتِ سیمیں بدن! میں تمہارے چہرے کا وصف بیان کرنے میں حافظ و جامی سے زیادہ خوبی و فراوانی کے ساتھ سُخن گوئی کرتا ہوں۔۔۔ حق تعالیٰ شاہد ہے کہ میں جان و تن سے تمہارا آرزومند ہوں۔۔۔ اے قدر ناشناس! اے نگارِ بے وفا! مجھ پر نگاہ کرو!
 

حسان خان

لائبریرین
خطین غُبارې قویاشې اگرچه یاشوردې
گؤزۆمی خیره قېلور یۆزینین صفاسې هنوز

(صائب تبریزی)
اگرچہ [تمہارے/اُس کے] خط کے غُبار نے [تمہارے/اُس کے] خورشیدِ [چہرہ] کو پِنہاں کر دیا، [لیکن] میری چشم کو تمہارے/اُس کے چہرے کی صفا و پاکیزگی ہنوز خِیرہ کرتی ہے۔

Xətin ğübarı quyaşı əgərçi yaşurdı,
Gözümi xirə qılur yüzinin səfası hənuz.
صائب تبریزی کی مندرجۂ بالا تُرکی بیت کا منظوم فارسی ترجمہ:
غُبارِ خطِّ تو خورشید را اگرچه گرفت
به چشم خیره‌ام امّا بدان صفا تا حال

(حُسین محمدزاده صدیق)
اگرچہ تمہارے خط کے غُبار نے [تمہارے] خورشیدِ [چہرہ] کو پِنہاں کر دیا، [لیکن] میری چشم تا حال اُس صفا و پاکیزگی سے خِیرہ و حیران ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
در یادِ منی حاجتِ باغ و چمنم نیست
جایی که تو باشی خبر از خویشتنم نیست

(محمدرِضا شفیعی کدْکَنی)
تم میری یاد میں ہو، مجھے باغ و چمن کی حاجت نہیں ہے۔۔۔ جس جگہ تم ہوؤ، وہاں مجھے خود کی خبر نہیں ہوتی۔
 
Top