حسان خان

لائبریرین
محمد فضولی بغدادی کا ایک 'تُرکی' مصرع، جو بیک وقت فارسی بھی ہے:
(مصرع)
یا رب، مسافرِ رهِ صحرایِ مِحنتم
(محمد فضولی بغدادی)
یا رب! میں صحرائے رنج و مُصیبت کی راہ کا مسافر ہوں۔

Ya Rəb, müsafiri-rəhi-səhrayi-möhnətəm

مأخوذ از: حدیقة السُعَداء
 

محمد وارث

لائبریرین
باز گُلہائے نو از دردِ کہن یادم داد
غنچہ ہا بر جگرم زخم چو پیکاں آورد


امیر خسرو

پھر سے، نئے پھولوں نے مجھے پرانے درد یاد دلا دیئے اور غنچوں نے میرے جگر پر تیروں کی نوکوں کی طرح زخم لگا دیئے۔
 
سائل ومحروم تقدیر حق است
حاکم و محکوم تقدیر حق است

جز خدا کس خالق تقدیر نیست
چارہ تقدیر از تدبیر نیست !

سائل اور محروم ہونا تو اللہ کی تقدیر ہے اور حاکم یا محکوم ہونا بھی اللہ کی تقدیر ہے
اللہ کے سوا تقدیر کا کوئ اور خالق نہیں ہے اور تقدیر کا علاج تدبیر سے ممکن نہیں ہے
علامہ اقبال
 

حسان خان

لائبریرین
دلِ مردِ طامِع بُوَد پُر ز درد
به گِردِ طمع تا توانی مگرد

(فردوسی طوسی)
شخصِ حریص کا دل درد سے پُر ہوتا ہے۔۔۔ جب تک تمہارے لیے مُمکن ہو، حِرص کے گِرد مت گھومو۔
 

حسان خان

لائبریرین
هر آن دوست، کز بهرِ سود و زیان
بُوَد دوست، دُشمن شود بی‌گمان

(ابوشکور بلخی)
ہر وہ دوست، کہ جو فائدہ و زیاں کی خاطر دوست ہو، بلاشُبہہ [ایک روز] دشمن ہو جاتا ہے۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
دو چیز اندُه از دل به بیرون برد
رُخِ دوست و آوازِ مردِ خِرد

(ابوشکور بلخی)
دو چیزیں غم کو دل سے بیرون لے جاتی ہیں: دوست کا چہرہ اور مردِ عاقل کی آواز۔
 

حسان خان

لائبریرین
هر دل که در او نیست تولّای محمد
در حشر بری است ز اِعطای محمد

(کریمی مراغه‌ای)
جس بھی دل میں حضرتِ محمد کی محبّت و دوستی نہیں ہے، وہ حشر میں حضرتِ محمد کی عطا و بخشش سے دور رہے گا۔
 

حسان خان

لائبریرین
سنائی غزنوی ایک نعتیہ بیت میں کہتے ہیں:
از دورِ آدم تا به ما از انبیا تا اولیا
نی بر زمین نی بر سما نامد چو تو یک محترم

(سنایی غزنوی)
آدم کے زمانے سے لے کر ہمارے [زمانے] تک، انبیاء و اولیاء کے درمیان، نہ زمین پر اور نہ آسمان پر، آپ جیسا کوئی مُحترم نہیں آیا۔
 

حسان خان

لائبریرین
سنائی غزنوی ایک نعتیہ بیت میں کہتے ہیں:
ای چرخ را رِفعت ز تو ای مُلک را دولت ز تو
ای خُلد را نعمت ز تو قلب است بی‌نامت دِرم

(سنایی غزنوی)
اے کہ چرخ کو رفعت آپ سے ہے، اے کہ مُلک کو دولت و اقبال آپ سے ہے، اے کہ خُلد کو نعمت آپ سے ہے۔۔۔ آپ کے نام کے بغیر [سکّۂ] درہم ناخالص ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
(مصرع)
‌نُطقِ من آبِ تازیان بُرده به نُکتهٔ دری
(خاقانی شروانی)
میرا نُطق و گُفتار [لطیف و باریک] فارسی نُکتوں کے ذریعے عربوں کی آب و تاب و آبرو لے گیا ہے۔
× عرب اور شعرِ عرب اپنی بلاغت کے لیے مشہور رہے ہیں۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
(قطعه)
تکلُّف میانِ دو آزاده‌مرد
بُوَد ناپسندیده و سخت خام
بیا تا تکلُّف به یک سو نِهیم
نه از تو رکوع و نه از من قیام
به سُنّت کنیم اقتدا زین سِپس
سلامٌ علیکم، علیک السّلام!

(انوری ابیوَردی)
دو نجیب و بزرگوار و آزاد مردوں کے درمیان تکلُّف سخت ناپسندیدہ و خام چیز ہے۔۔۔۔ آؤ کہ ہم تکلُّف کو ایک جانب رکھ دیں۔۔۔ نہ تم [میرے لیے] رکوع کرو اور نہ میں [تمہارے لیے] قیام کروں۔۔۔ [آؤ] اِس کے بعد سے ہم [فقط] سُنّت کی پیروی کریں: [یعنی] سلامٌ علیکم، علیک السّلام!
 

حسان خان

لائبریرین
سر‌به‌سر وادیِ مِحنت‌دیر و غم مُلکِ وجود
بیر فراغت یئری یۏخ شهرِ فنادان غیری

(محمد فضولی بغدادی)
مُلکِ ہستی و وجود سرتاسر وادیِ رنج و غم ہے۔۔۔ شہرِ فنا کے بجز کوئی جائے فراغت موجود نہیں ہے۔

جمہوریۂ آذربائجان کے لاطینی رسم الخط میں:
Sərbəsər vadiyi-möhnətdirü qəm mülki-vücud,
Bir fərağət yeri yox şəhri-fənadan qeyri.


تُرکیہ کے لاطینی رسم الخط میں:
Ser-be-ser vâdi-i mihnettir ü gam mülk-i vücûd
Bir ferâgat yeri yok şehr-i fenâdan gayrı
پُر ز درد است و الم دایرهٔ مُلکِ وجود
منزلِ راحت و آرام فضولی عدم است

(محمد فضولی بغدادی)
مُلکِ ہستی و وجود کا دائرہ درد و الم سے پُر ہے۔۔۔ اے فضولی! راحت و آرام کی منزل عدم ہے۔
 

محمد وارث

لائبریرین
گرچہ عمرِ خامۂ من در سیہ مستی گذشت
عالمے را ہوشیار از جلوۂ مستانہ ساخت


صائب تبریزی

اگرچہ میرے قلم کی ساری عمر سیاہ مستی میں گزری لیکن اپنے جلوۂ مستانہ سے اُس نے ایک عالم کو ہوشیار بنا دیا۔
 
خواهی که شوی در هنر استادِ زمانه
در مکتبِ دل عشق بیاموز و دگر هیچ
(ملک الشعرای بهار )

اگر تو خواہاں ہے کہ ہنر میں استادِ زمانہ بنے تو دل کے مکتب میں(فقط) عشق کو سیکھ اور باقی سب ہیچ ہے
 

حسان خان

لائبریرین
خواهی که شوی در هنر استادِ زمانه
در مکتبِ دل عشق بیاموز و دگر هیچ
(ملک الشعرای بهار )

اگر تو خواہاں ہے کہ ہنر میں استادِ زمانہ بنے تو دل کے مکتب میں(فقط) عشق کو سیکھ اور باقی سب ہیچ ہے
مکتبِ دل میں‌ [فقط] عشق سیکھو اور دیگر کچھ نہیں۔
 

حسان خان

لائبریرین
خواهی که شوی در هنر استادِ زمانه
در مکتبِ دل عشق بیاموز و دگر هیچ
(ملک الشعرای بهار )

اگر تو خواہاں ہے کہ ہنر میں استادِ زمانہ بنے تو دل کے مکتب میں(فقط) عشق کو سیکھ اور باقی سب ہیچ ہے
گنجور پر بیت کا یہ متن نظر آیا ہے:
خواهی که شوی باخبر از کشف و کرامات
مردانگی و عشق بیاموز و دگر هیچ
(ملِک‌الشُعَرایِ بهار)

اگر تم کشف و کرامات سے باخبر ہونا چاہو تو مردانگی و عشق سیکھو اور دیگر کچھ نہیں۔
× 'مردانگی' یہاں 'بزرگواری' کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔
 
آخری تدوین:
گنجور پر بیت کا یہ متن نظر آیا ہے:
خواهی که شوی باخبر از کشف و کرامات
مردانگی و عشق بیاموز و دگر هیچ
(ملِک‌ُالشُعَرایِ بهار)

اگر تم کشف و کرامات سے باخبر ہونا چاہو تو مردانگی و عشق سیکھو اور دیگر کچھ نہیں۔

ادبیاتِ ایرانِ نو از احمد طاہر فاروقی میں یہ بیت میرے تحریر کردہ طرز پر لکھی ہے
 
Top