روزہء ہجرِ تو از پائے بیانداخت مرا
کے شود با رطبِ وصلِ تو افطار کنم؟

(نامعلوم)
تیرے ہجر کے روزے نے مجهے پاؤں کے بل گرادیا۔ یہ موقع کب آئے کہ تیرے خرمائے وصل سے افطار کروں؟
 
بَہَر علمے کہ داری اعترافے کن بَنادانی
کہ دانا چون شود مغرور مے خوانند نادانَش
(فضولی بغدادی)

جو علم بھی تو رکھتا ہے، اس میں اپنی نادانی کا اعتراف کر، کہ دانا جب مغرور ہوتا ہے تو وہ نادان پکارا جاتا ہے۔
 
مزن ارہ پئے ترتیبِ تخت اے حاکمِ ظالم
بہ نخلے کز پئے نفعِ تو پروردست دہقانش
(فضولی بغدادی)

اس درخت پر ترتیبِ تخت کے لئے آرہ مت مار اے ظالم حاکم کہ جس کی پرورش دہقان نے تیرے نفع کے لئے کی ہے۔
 
آخری تدوین:

سید عاطف علی

لائبریرین
بازآ کہ در ف‍راق تو چشم امیدوار
چون گوش ِروزه دار، بر الله اکبر است
سعدی
اب لوٹ آئو کہ یہ امید وار آنکھیں تمھاری راہ میں
ایسے منتظر ہیں کہ جیسے روزےدار کے کان اذان کے لیے
 
آخری تدوین:
چو دیدی چرخ را گج رو بہ نفعِ اُو مشو مائل
چو باشد میزبان قاتل نباید گشت مہمانش
(فضولی بغدادی)

جب تو نے آسمان کو کج رو دیکھا، اس کے فائدے پر مائل مت ہو، زیراکہ جب میزبان قاتل ہوجائے تو پھر اس کا مہمان نہیں بننا چاہیے۔
 
مے بُرَد ناز و عتاب و شیوہ و رفتارِ تو
عقل از سر، صبر از دل، جان ز تن، طاقت ز جان
(فضولی بغدادی)

تیرا ناز و عتاب اور شیوہ و رفتار سر سے عقل، دل سے صبر، تن سے جان اور جان سے طاقت لے جاتے ہیں۔

جان بر آمد لیک در جسم و سرِ چشم و دلم
غم ہمان،سودا ہمان،گریہ ہمان،حسرت ہمان
(فضولی بغدادی)

جان نکل گئی لیکن جسم اور چشم و دل میں وہی غم، وہی عشق، وہی گریہ اور وہی حسرت ہے۔
 
این قوتِ حسن است کہ دلھائے اسیران
زلف تو برون می کشد از چاہِ ذقنھا


یہ حسن کی قوت ہے کہ اسیروں کے دل تیری زلف زنخدانوں کے کنوؤں سے باہر کھینچتی ہے۔

عرفی شیرازی
 

حسان خان

لائبریرین
خداوندا پس از من حالِ این وادی چه خواهد بود
پس از مجنون ندید آباد کس اقلیمِ صحرا را
(میرزا مظهر جانِ جانان)

اے خداوند! میرے بعد اِس وادی کا حال کیا ہو گا؟۔۔۔ مجنوں کے بعد کسی نے اِقلیمِ صحرا کو آباد نہیں دیکھا۔
 

حسان خان

لائبریرین
مشو قانع به صوت و حرف، کسبِ فیضِ معنی کن
که داود از نبوت می‌کند دعوی نه ز الحانش
(محمد فضولی بغدادی)

صرف آواز و حرف پر قناعت مت کرو، بلکہ معنی کا فیض بھی کسب کرو؛ کہ داؤد (ع) نے دعویٰ نبوت سے کیا تھا نہ کہ اپنی دل نشین آواز سے۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
اگر پیوسته پُر باشد ز مَی پیمانهٔ رندی
ز شیخی بِه که با معبودِ خود سست است پیمانش
(محمد فضولی بغدادی)

اگر کسی رند کا پیمانہ شراب سے ہمیشہ پُر ہو تو یہ اُس شیخ سے بہتر ہے جس کا اپنے معبود کے ساتھ پیمان سست ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
فراغی نیست اهلِ حرص را زیرا اگر شخصی
شهِ ایران شود البته باید ملکِ تورانش
(محمد فضولی بغدادی)

اہلِ حرص کے لیے کوئی فراغت و آسودگی نہیں ہے، کیونکہ اگر کوئی شخص ایران کا شاہ ہو جائے تو اُسے یقیناً مُلکِ توران (بھی) چاہیے ہوتا ہے۔
 

محمد وارث

لائبریرین
جفا مکن کہ مکافاتِ گریۂ بلبل
اماں نداد کہ گُل خندہ را تمام کند


کلیم کاشانی

جفا مت کر کہ بلبل کے گریے کے بدلے نے پُھول کو اتنی مہلت بھی نہ دی کہ اپنی ہنسی کو تمام کر لیتا۔
 
نخواہم عمرِ فانی را تویی عمرِ عزیزِ من
نخواہم جانِ پر غم را تویی جانم بہ جانِ تو

سماعِ گوشِ من نامت سماعِ ہوشِ من جامت
عمارت کن مرا آخر کہ ویرانم بہ جانِ تو

میں عمرِ فانی نہیں چاہتا تو ہی میری عمر عزیز ہے۔ میں پرغم جان نہیں چاہتا تیری جان کی قسم تو ہی میری جان ہے۔
میرے کان جو آواز سنتے ہیں وہ تیرا نام ہے میرا ہوش جو سنتا ہے وہ تیرا جام ہے۔ آخر مجھے عمارت کر کہ تیری جان کی قسم میں ویران ہوں۔


مولوی
 

حسان خان

لائبریرین
چُنان بِنْهُفته ضَعفِ تن مرا، لُطفِ بدن او را
که رفته عُمرها، نی او مرا دیده نه من او را

(محمد فضولی بغدادی)
مجھ کو ضَعفِ تن نے اور اُس کو لطفِ بدن نے اِس طرح پوشیدہ کر دیا ہے کہ عُمریں گذر گئیں، نہ اُس نے مجھ کو دیکھا ہے اور نہ میں نے اُس کو۔
 
آخری تدوین:
مفلسِ عشق ندارد ہوسِ منصب و جاہ
خاکِ این راہ بِہ از مملکتِ روئے زمین

(کمال خجندی)
مفلسِ عشق ہوسِ منصب و جاہ نہیں رکھتا۔اس (عشق کی) راہ کی خاک روئے زمین کی مملکت سے بہتر ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
باد روشن به تماشای رخت چشمِ کمال
این دعا را ز همه خلقِ جهان باد آمین!
(کمال خُجندی)

تمہارے چہرے کے نظارے سے کمال کی چشم روشن ہو! اِس دعا پر تمام خلقِ جہاں کی جانب سے آمین ہو!
 

حسان خان

لائبریرین
جان بر آمد لیک در جسم و سرِ چشم و دلم
غم ہمان،سودا ہمان،گریہ ہمان،حسرت ہمان
(فضولی بغدادی)
تصحیح: جان برآمد لیک در جسم و سر و چشم و دلم۔۔۔
اِس شعر میں صنعتِ لفّ و نشر کا استعمال ہوا ہے اور دونوں مصرعوں میں چار چار چیزوں کو بالترتیب ایک دوسرے کے مقابل رکھا گیا ہے، اِس لیے 'سر' اور 'چشم' کے درمیان اضافت کی بجائے واوِ عطف آنا چاہیے۔ دیوانِ فارسیِ فضولی کے نسخۂ ہٰذا میں 'سر و چشم' ہی استعمال ہوا ہے۔
 

محمد وارث

لائبریرین
عرفی دلِ آباد بہ یک جو نخرد عشق
من ہم دلِ ویراں بہ دو عالم نفروشم


عرفی شیرازی

عرفی، عشق آباد دل کو ایک جو کے بدلے میں (مفت) بھی نہیں خریدتا، میں بھی اپنا ویران دل دو عالم کے بدلے میں نہیں بیچتا۔
 

حسان خان

لائبریرین
تا من بدیدم رویِ تو ای ماه و شمعِ روشنم
هر جا نشینم خُرّمم هر جا روم در گلشنم
(مولانا جلال‌الدین بلخی رومی)

اے میرے ماہ و شمعِ روشن! جب سے میں نے تمہارا چہرہ دیکھ لیا، میں جس جگہ بھی بیٹھوں شادمان ہوں اور جس جگہ بھی جاؤں گلشن میں ہوں۔
 
Top