1. اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں فراخدلانہ تعاون پر احباب کا بے حد شکریہ نیز ہدف کی تکمیل پر مبارکباد۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    $500.00
    اعلان ختم کریں

آتش خواجہ حیدرعلی آتش ::::: ہوتا ہے سوزِ عِشق سے جل جل کے دِل تمام ::::: Khuwaja Haidar Ali Aatish

طارق شاہ نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 13, 2015

  1. طارق شاہ

    طارق شاہ محفلین

    مراسلے:
    10,616
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    غزلِ
    خواجہ حیدرعلی آتش

    ہوتا ہے سوزِ عِشق سے جل جل کے دِل تمام
    کرتی ہے رُوح، مرحلۂ آب و گِل تمام

    حقا کے عِشق رکھتے ہیں تجھ سے حَسینِ دہر
    دَم بھرتے ہیں تِرا بُتِ چین و چگِل تمام

    ٹپکاتے زخمِ ہجر پر اے ترک ، کیا کریں
    خالی ہیں تیل سے تِرے، چہرے کے تِل تمام

    دیکھا ہے جب تجھے عرق آ آ گیا ہے یار
    غیرت سے ہوگئے ہیں حَسِیں مُنفعِل تمام

    عشق بُتاں کا روگ نہ اے دِل لگا مجھے
    تُھکوا کے خُون کرتا ہے آزارِ سِل تمام

    قُدسی بھی کُشتہ ہیں تِری شمشِیرِ ناز کے
    مارے پڑے ہیں مُتّصِل و مُنفعِل تمام

    دردِ فِراقِ یار سے ، کہتا ہے بند بند !
    اعضا ہمارے ہو گئے ہیں مُضمحِل تمام

    ساری عدالت اُلفتِ صادِق کی ہے گواہ
    مُہروں سے ہے لِپی ہُوئی اپنی سجِل تمام

    کرتے ہیں غیر یار سے میرا بیانِ حال
    اُلفت سے ہوگئے ہیں موافق مُخِل تمام

    تیرِ نِگاہ ناز کا رہتا ہے سامنا
    چَھلنی ہُوا ہے سِینہ، مُشبّک ہے دِل تمام

    ہوتا ہے پردہ فاش، کلامِ دروغ کا
    وعدے کا دِن سمجھ لے وہ، پیماں گسِل، تمام

    خلوت میں ساتھ یار کے جانا نہ تھا تمھیں
    اربابِ انجُمن ہُوئے آتش خجِل تمام

    خواجہ حیدرعلی آتش
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2

اس صفحے کی تشہیر