خواب

عیشل

محفلین
اُسے کہنا پلکوں پہ نہ ٹانکے خواب کی جھالر
سمندر کے کنارے گھر بنا کر کچھ نہیں ملتا
یہ اچھا ہے کہ آپس کے بھرم نہ ٹوٹنے پائیں
کبھی کبھی دوستوں کو آزما کے کچھ نہیں ملتا
 

تیشہ

محفلین
تعبیر ہو جسکی اچھی سی ،کوئی ایسا خواب نہیں دیکھا
کوئی ٹہنی سبز نہیں پائی ،کوئی شوخ گلاب نہیں دیکھا

ایسا ہے کہ تنہا پھرنے کا کچھ اتنا زیادہ شوق نہیں
تیرے بعد سو ' ان آنکھوں نے کبھی جشن ِ مہتاب نہیں دیکھا

ہم ہجر زدہ سودائی تھے ، جلتے رہے اپنے شعلوں میں
اچھا ہے کہ توُ محفوظ رہا ، تونےُ یہ عذاب نہیں دیکھا

بس اتنا ہوا ہم تشنہ دہن لوٹ آئے بھرے دریاؤں سے
کوئی اور فریب نہیں کھایا ،کوئی اور سراب نہیں دیکھا

ہم سا جو شکستہ قلب ملا ،اُسے دل سے لگا کر چُوم لیا
اس سے بہتر اس سے بڑھکر کوئی کار ِثواب نہیں دیکھا
 

شمشاد

لائبریرین
یہ جو سرگشتہ سے پھرتے ہیں کتابوں والے
ان سے مت مل کہ انہیں روگ ہیں خوابوں والے
(فراز)
 

شمشاد

لائبریرین
تعبیر ہو جسکی اچھی سی ،کوئی ایسا خواب نہیں دیکھا
کوئی ٹہنی سبز نہیں پائی ،کوئی شوخ گلاب نہیں دیکھا
 

شمشاد

لائبریرین
اک خواب کا عالم تھا کہ وہ عرصہ ہستی
ہم یاد بھی رکھتے وہ کہانی ہی کہاں تھی
(نزھت عباسی)
 

تیشہ

محفلین
تعبیر ہو جسکی اچھی سی ،کوئی ایسا خواب نہیں دیکھا
کوئی ٹہنی سبز نہیں پائی ،کوئی شوخ گلاب نہیں دیکھا

ایسا ہے کہ تنہا پھرنے کا کچھ اتنا زیادہ شوق نہیں
تیرے بعد سو ' ان آنکھوں نے کبھی جشن ِ مہتاب نہیں دیکھا

ہم ہجر زدہ سودائی تھے ، جلتے رہے اپنے شعلوں میں
اچھا ہے کہ توُ محفوظ رہا ، تونےُ یہ عذاب نہیں دیکھا

بس اتنا ہوا ہم تشنہ دہن لوٹ آئے بھرے دریاؤں سے
کوئی اور فریب نہیں کھایا ،کوئی اور سراب نہیں دیکھا

ہم سا جو شکستہ قلب ملا ،اُسے دل سے لگا کر چُوم لیا
اس سے بہتر اس سے بڑھکر کوئی کار ِثواب نہیں دیکھا
 

شمشاد

لائبریرین
وہ بھی غبارِ خواب تھا، ہم بھی غبارِ خواب تھے
وہ بھی کہیں بکھر گیا، ہم بھی کہیں بکھرگئے
(عدیم ہاشمی)
 

شمشاد

لائبریرین
یہ کیا بات ہوئی، اتنی لمبی شاعری لکھ دیتی ہیں، اور شاعر کا نام، ایک دو الفاظ، نہیں لکھے جاتے۔
 

شمشاد

لائبریرین
روشن روشن لمحوں کو ہم بھی گنتے ہیں
خوابوں کی تعبیروں کو ہم بھی لکھتے ہیں
(نزھت عباسی)
 
Top