1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $453.00
    اعلان ختم کریں

خواب

پاکستانی نے 'اشعار اور گانوں کے کھیل' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جون 12, 2007

  1. پاکستانی

    پاکستانی محفلین

    مراسلے:
    4,529
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    خوابوں کو باتيں کرنے دو

    آنکھوں ميں جو خواب ہيں ان کو باتيں کرنے دو
    ہونٹوں سے وہ لفظ کہو جو کاجل کہتا ہے
    موسم جو سنديسہ لايا اس کو پڑھ تو لو
    سن تو لو وہ راز جو پياسا ساحل کہتا ہے
    آتي جاتي لہروں سے کيا پوچھ رہي ہے ريت؟
    بادل کي دہليز پہ تارے کيونکر بيٹھے ہيں
    جھرنوں نے اس گيت کا مکھڑا کيسے ياد کيا
    جس کے ہر اک بول ميں ہم تم باتيں کرتے ہيں

    راہ گزر کا، موسم کا، ناں بارش کا محتاج
    وہ دريا جو ہر اک دل کے اندر رہتا ہے
    کھا جاتا ہے ہر اک شعلے وقت کا آتش دان
    بس اک نقش محبت ہے جو باقي رہتا ہے

    آنکھوں ميں جو خواب ہيں ان کو باتيں کرنے دو
    ہونٹوں سے وہ لفظ کہو جو کاجل کہتا ہے ​
     
  2. پاکستانی

    پاکستانی محفلین

    مراسلے:
    4,529
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    وہ جس کی دید میں لاکھوں مسرتیں پنہاں
    وہ حسن جس کی تمنا میں جنتیں پنہاں
    ہزار فتنے تہِ پائے ناز، خاک نشیں
    ہر اک نگاہِ خمارِ شباب سے رنگیں
    شباب جس سے تخیّل پہ بجلیاں برسیں
    وقار، جس کی رفاقت کو شوخیاں ترسیں
    ادائے لغزشِ پا پر قیامتیں قرباں
    بیاضِ رخ پہ سحر کی صباحتیں قرباں
    سیاہ زلفوں میں وارفتہ نکہتوں کا ہجوم
    طویل راتوں کی خوابیدہ راحتوں کا ہجوم
    وہ آنکھ جس کے بناؤ پہ خالق اِترائے
    زبانِ شعر کی تعریف کرتے شرم آئے
    وہ ہونٹ فیض سے جن کے بہارِ لالہ فروش
    بہشت و کوثر و تسنیم و سلسبیل بدوش
    گداز جسم ، قبا جس پہ سج کے ناز کرے
    دراز قد جسے سروِ سہی نماز کرے
    غرض وہ حسن جو محتاجِ وصف و نام نہیں
    وہ حسن جس کا تصور بشر کا کام نہیں
    کسی زمانے میں اس رہگزر سے گزرا تھا
    بصد غرور و تجمّل، ادھر سے گزرا تھا
    اور اب یہ راہگزر بھی ہے دلفریب و حسیں
    ہے اس کی خاک میں کیف ِ شراب و شعر مکیں
    ہوا میں شوخئ رفتار کی ادائیں ہیں
    فضا میں نرمئ گفتار کی صدائیں ہیں
    غرض وہ حسن اب اس رہ کا جزوِ منظر ہے
    نیازِ عشق کو اک سجدہ گہ میسر ہے​
     
  3. ماوراء

    ماوراء محفلین

    مراسلے:
    16,399
    بہت خوب پاکستانی بھائی۔



    میں نے برسات میں جلتے ہوئے گھر دیکھا ہے
    ہے کوئی خواب کی تعبیر بتانے والا​
     
  4. ماوراء

    ماوراء محفلین

    مراسلے:
    16,399


    میں نے مدت سے کوئی خواب دیکھا نہیں
    ہاتھ رکھ دے میری آنکھوں میں کہ نیند آ جائے۔​
     
  5. ماوراء

    ماوراء محفلین

    مراسلے:
    16,399
    سزا یہ دی ہے کہ آنکھوں سے چھین لیں نیندیں
    قصور یہ تھا کہ جینے کے خواب دیکھے تھے​
     
  6. ماوراء

    ماوراء محفلین

    مراسلے:
    16,399



    ایک خواب ہے یہ پیاس بھی، دریا بھی خواب ہے
    ہے تو بھی خواب تیری تمنا بھی خواب ہے
    وہ منزلیں بھی خواب ہیں، آنکھیں ہیں جن سے دور
    ہاں یہ سفر بھی خواب ہے، رستہ بھی خواب ہے۔​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. ماوراء

    ماوراء محفلین

    مراسلے:
    16,399
    ہوش آیا تو سبھی خواب تھے ریزہ ریزہ
    جیسے اُڑتے ہوئے اوراقِ پریشاں جاناں ​
     
  8. ماوراء

    ماوراء محفلین

    مراسلے:
    16,399


    نیند کا یہ وعدہ تھا مجھ سے
    تیرے خواب دکھائے گی مجھ کو​
     
  9. ماوراء

    ماوراء محفلین

    مراسلے:
    16,399


    خواب کہہ کر حقیقتوں کو ہم
    خود کو غم سے نجات دیتے ہیں۔​
     
  10. ماوراء

    ماوراء محفلین

    مراسلے:
    16,399



    وعدہ اتنا ہی کرو جتنا نبھا سکتے ہو
    خواب پورا جو نہ ہو وہ نہ دکھانا مجھ کو​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  11. ماوراء

    ماوراء محفلین

    مراسلے:
    16,399
    خواب سودا گری کرتے ہیں
    ہر اک تعبیر کی قیمت وصول کرتے ہیں
    صحرائے بے آب میں
    آبلہ پا سفر پہ مجبور کرتے ہیں
    تھوڑی خوشیاں دے کر
    بہت سا رنجور کرتے ہیں
    کسی تعبیر کی صورت
    ساعتوں میں ڈھل جاتے ہیں
    کبھی صدیوں کی مسافتیں نذر کرتے ہیں
    روشنی کا سراب دے کر
    تاریکیاں ہمسفر کرتے ہیں
    خواب عذاب ہیں
    نا تمام خواہشوں کی کتاب ہیں
    کہیں خار تو کہیں گلاب ہیں
    دل ِ بے خبر کو آشنائے درد کرتے ہیں
    کچھ اس ادا سے دلبری کرتے ہیں
    زخم دے کر چارہ گری کرتے ہیں
    خواب سودا گری کرتے ہیں​
     
  12. ماوراء

    ماوراء محفلین

    مراسلے:
    16,399
    آنکھوں میں آنکھوں میں یہ جو سپنے ہیں
    اپنے ہیں یہی تو یاروں اپنے ہیں
    ہونا ہے جو ہوتا رہے یہ آس کے ٹوٹے نہیں
    روٹھے کوئی بھی، آنکھوں سے خواب یہ روٹھے نہیں
    آنکھوں میں آنکھوں میں یہ جو سپنے ہیں
    اپنے ہیں یہی تو یاروں اپنے ہیں

    دیکھے جو وہ سمجھے خوابوں کی زباں
    خوابوں سی حقیقت ہے کوئی کہاں
    دھن میں اپنی دھن میں چلتے ہی رہو
    دے گی زندگی یہ جو بھی تم کہو
    دیکھو نہ پھولوں سے کھل گئی ساری زمیں
    میری راہیں تو آگے ہیں آسماں سے بھی کہیں
    آنکھوں میں آنکھوں میں یہ جو سپنے ہیں
    اپنے ہیں یہی تو یاروں اپنے ہیں

    تو نے چاہتوں سے دیکھا تھا کبھی
    بہکا بہکا سا ہے دل یہ آج بھی
    بانہوں کے سہارے لے کے چل مجھے
    صدیوں سے ہے پیارے ایسے پل مجھے
    ہولے ہولے دے پیار کے لمحے یہ آتے رہیں
    بھیگی بھیگی سی باتوں میں ہم یوں ہی گاتے رہیں
    آنکھوں میں آنکھوں میں یہ جو سپنے ہیں
    اپنے ہیں یہی تو یاروں اپنے ہیں
    ہونا ہے جو ہوتا رہے یہ آس کے ٹوٹے نہیں
    روٹھے کوئی بھی، آنکھوں سے خواب یہ روٹھے نہیں​
     
  13. پاکستانی

    پاکستانی محفلین

    مراسلے:
    4,529
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    شکریہ ماوراء







    میری آنکھیں رکھ لو مجھے کچھ خواب دے دو
    جس میں تمہاری جھلک ہو ایسی شراب دے دو
    چلو چھوڑو ساری باتیں ایک بات مان جاو
    میری ساری عمر لے لو بس اک پل کا ساتھ دے دو​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  14. پاکستانی

    پاکستانی محفلین

    مراسلے:
    4,529
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    گر ٹوٹے ہوئے ٹکڑے مرے خواب کے لے آنا
    تو آنکھوں کے لئے قطرے آب کے لے آنا

    بہار میں تم جاتے ہو باغ سے کانٹے لاتے ہو
    اب کے یاد رہے تو پھول گلاب کے لے آنا

    ماضی کے جھروکوں سے جب لوٹ کر تم آؤ تو
    میرے کھوئے ہوئے دن شباب کے لے آنا

    لوگ کچھ ایسے بھی لانا طوفان جو بن کر چھا جائیں
    مارے ہوئے تم ورنہ سیلاب کے لے آنا

    میرے سپنوں کو کوئی گر مول نہ تم دے سکو
    کچھ دہکتے ہوئے انگارے جواب کے لے آنا

    ساحر کے لئے کم ہے دل کی حسد لاؤ جو
    سورج کی تپش داغ ماہتاب کے لے آنا​
     
  15. پاکستانی

    پاکستانی محفلین

    مراسلے:
    4,529
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    میں اور میرے خواب و خیال اُلجھے ہوئے ہیں
    دن تو دن میرے ماہ و سال اُلجھے ہوئے ہیں
    مدتوں سے اس نے لی نہیں خبر میری
    اب کے شاید میرے پُرساں حال اُلجھے ہوئے ہیں
    حقیقت بھی لگنے لگی ہے اب خواب سی
    تخیل میں یوں صنم کے وصال الُجھے ہوئے ہیں
    کچے دھاگے کی مانند ہے عشق رسیما بھی
    چاہتوں کے میرے یوں جال اُلجھے ہوئے ہیں
    یہی بات پریشان کن ہے میرے لئے
    ان دنوں قسمت کے ستارے بے مثال اُلجھے ہوئے ہیں
    اُلجھتے سے بنتے ہیں تو کبھی بگڑتے ہیں معاملے
    دل ناداں صنم میرے با کمال اُلجھے ہوئے ہیں
    میری حالت سے کبھی یہ محسوس کرو جاناں
    تیرے لمسِ انگلیوں کی خاطر میرے بال اُلجھے ہوئے ہیں
    وہ جھوٹا ہے یا زمانے کو جھٹلائیں ناہی
    اس بات پر میرے پیش احوال اُلجھے ہوئے ہیں​
     
  16. پاکستانی

    پاکستانی محفلین

    مراسلے:
    4,529
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    تیرے خوابوں کا سلسلہ چلتا ہے ساتھ ساتھ
    شمع کی مانند دل جلتا ہے ساتھ ساتھ
    مانا کرب میں گذرتی ہیں ہجر کی راتیں
    پھر اس کرب سے چاند نکلتا ہے ساتھ ساتھ
    روز و شب تیری یادیں آتی ہیں اس طرح
    تیرے ہر خیال میں دل پگھلتا ہے ساتھ ساتھ
    مجھے لگتا ہے بارھا اے میرے دل
    میرے رونے پر سورج پگھلتا ہے ساتھ ساتھ
    بے سبب پوچھ بیٹھا وہ چاہت کی انتہا
    جس کی آہ پر میرا دل نکلتا ہے ساتھ ساتھ
    یہ حقیقت ہے یا فریب کوئی ناہید
    خواب میں بھی وہ چلتا ہے ساتھ ساتھ​
     
  17. پاکستانی

    پاکستانی محفلین

    مراسلے:
    4,529
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    بہار آئی تو جیسے اک بار۔۔۔۔

    بہار آئی تو جیسے اک بار

    لوٹ آئے ہیں پھر ادم سے

    وہ خواب سارے، شباب سارے

    جو تیرے ہونٹوں پہ مر مٹے تھے

    جومٹ کر ہر با ر پھر جیئے تھے

    نکھر گئے ہیں گلاب سارے

    جو تیری یادوں سے مشکبو ہیں

    جوتیرے عُشاق کا لہو ہیں

    ابل پڑے ہیں عذاب سارے

    ملالِ احوالِ دوستاں بھی

    خُمارِ آغوشِ مہوِشاں بھی

    غُبارِ خاطر کے باب سارے

    تیرے ہمارے

    سوال سارے، جواب سارے

    بہار آئی تو کھل گئے ہیں

    نئے سرے سے حساب سارے​
     
  18. پاکستانی

    پاکستانی محفلین

    مراسلے:
    4,529
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    زندگی حقیقت ہے کے خواب لکھنا چا ہتی ہوں
    زندگی حقیقت ہے کے خواب لکھنا چا ہتی ہوں
    جو ہیں آگہی کے عذاب لکھنا چا ہتی ہوں
    میرے رب نے جو ک مجھ پے عنایات
    زمانے سے ہیں جو دل میں شکایات لکھنا چا ہتی ہوں
    دل میں جو موجزن ہیں جذ بے نایاب
    دل میں نہاں ہیں محبت کی حکایات لکھنا چاہتی ہوں
    میری آنکھوں میں جو بستے ہیں سپنے بن کر
    میری نظروں کے ہیں جو سراب لکھنا چاہتی ہوں
    دل میں آباد رہتی ہے محفل میرے اپنوں کی
    محبت میں جو بجتا ہے رباب لکھنا چا ہتی ہوں
    ہر دکھ درد ہر جذبے کو محسوس کر کے
    کویٴ زرہ ہو کے آفتاب لکھنا چاہتی ہوں
    زندگی کے سفر میں ہر موڑ پر کہانی ہے نییٴ
    دیکھا ہے جو زندگی میں اس پہ کتاب لکھنا چا ہتی ہوں
     
  19. ماوراء

    ماوراء محفلین

    مراسلے:
    16,399
    :best:
     
  20. پاکستانی

    پاکستانی محفلین

    مراسلے:
    4,529
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    لمحہ لمحہ دم بہ دم
    بس فنا ہونے کا غم

    ہے خوشی بھی اس جگہ
    اے مری خوئے الم

    کیا وہاں ہے بھی کوئی
    اے رہِ ملک عدم

    رونق اصنام سے
    خم ہوئے غم کے علم

    یہ حقیقت ہے منیر
    خواب میں رہتے ہیں ہم

    منیر نیازی
     

اس صفحے کی تشہیر