خواب

سارا

محفلین
کیا کیا نہ خواب ہجر کے موسم میں کھو گئے
ہم جاگتے تھے مگر بخت سو گئے

کیا دکھ تھا کون جان سکے گا نگارِ شب
جو میرے اور تیرے دوپٹے بگھو گئے۔۔
 

شمشاد

لائبریرین
زندگی اک خواب ہے اور خواب بھی بھولاہوا
اور میں اس خواب کی بگڑی ہوئی تعبیر ہوں
(سرور)
 

عیشل

محفلین
زرد موسم کے اُجاڑ لمحوں میں
ہم رو پڑے یونہی ہنستے ہنستے
یارب اب تو کوئی تعبیر بخش دے
کہ تھک گئیں آنکھیں خواب بنُتے بنُتے
 

شمشاد

لائبریرین
یاد بھی خواب ہوئی، یاد وہ آتے کیوں ہیں؟
روز و شب اک نیا افسانہ سناتے کیوں ہیں؟
(سرور)
 

شمشاد

لائبریرین
ادھر الماریوں میں چند اوراق پریشاں ہیں
مرے یہ باقیماندہ خواب میری جان لے جانا
(اعتبار ساجد)
 

پاکستانی

محفلین
خواب سودا گری کرتے ہیں
ہر اک تعبیر کی قیمت وصول کرتے ہیں
صحرائے بے آب میں
آبلہ پا سفر پہ مجبور کرتے ہیں
تھوڑی خوشیاں دے کر
بہت سا رنجور کرتے ہیں
کسی تعبیر کی صورت
ساعتوں میں ڈھل جاتے ہیں
کبھی صدیوں کی مسافتیں نذر کرتے ہیں
روشنی کا سراب دے کر
تاریکیاں ہمسفر کرتے ہیں
خواب عذاب ہیں
نا تمام خواہشوں کی کتاب ہیں
کہیں خار تو کہیں گلاب ہیں
دل ِ بے خبر کو آشنائے درد کرتے ہیں
کچھ اس ادا سے دلبری کرتے ہیں
زخم دے کر چارہ گری کرتے ہیں
خواب سودا گری کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
 
Top