حقیقی کی کراچی میں واپسی

میں ایم کیو ایم کو نہ تو تولنے کی کوشش میں ہوں اور نا ہی اسکا Absolute یا Comparative تجزیہ کرنا چاہتا ہوں میرا سوال ایک ہے کہ کیا آج بھی کراچی میں سیکٹر بھتہ خوری نہیں کرتے ۔ کیا آج بھی لوگوں سے پروٹیکشن منی نہیں لی جاتی ۔ اور کیا آج کے کراچی میں ایسا واقعہ نہیں ہوا کہ ناظم کو سیکٹر آفس میں الٹا لٹکا کر مارا گیا اور کیونکہ دور ایسا تھا کہ کوئی بول نہیں سکتا تھا لہذا یہ واقع منظر عام پر نہیں آسکا ۔ ہوسکتا ہے میری یہ معلومات غلط ہوں مگر ان معلومات کا منبع ایک نہیں کئی ایسے افراد ہیں جو کراچی سے باقاعدگی سے دوبئی کا دورہ کرتے رہتے ہیں اور ان میں سے اکثر نے تو یہاں پراپرٹیز تک خرید رکھی ہیں ۔

یہ تو وہ ہے جو بقول اپکے شاید منظر پر ہے۔۔۔۔

اور جو منظر پر نہیں ہے اس کا بیان کیا بانی پاکستان اکر کریں گے۔۔۔۔

زرداری کا کل اور اج۔۔۔۔ لاکھوں فیصد کا فرق ہے۔۔۔۔ وہ بھتہ خوری نہیں کرتا ہے سر ۔۔۔۔ وہ پیار سے لیتا ہے۔۔۔ فرق صرف پیار سے لینے کا ہے ۔۔۔

نواز شریف اور شہباز شریف ۔۔۔ ان کا کل اور اج ۔۔۔ لگ بھگ اتنا ہی فرق ہے ۔۔۔ مگر کوئی زبان نہیں کھولتا ان کے خلاف۔۔۔

پیر صاحب پاگارا۔۔۔۔ لینڈ مافیا کا سرغنہ۔۔۔۔ پاکستان کا سب سے بڑا مدمعاش۔۔۔ کتنا محترم ہے۔۔۔ حال ہی میں اسکا پوتا ملیر کینٹ چھاونی سے بمعہ جدید ترین اسلحہ گرفتار ہوا۔۔۔ جس کی ویڈیو فلم بھی جاری کی گئی۔۔۔ اپ کہیں گے ہم نے نہیں دیکھی۔۔ اگلے دن پیر صاحب نے فرمایا ہم نے تو اسے اق کر دیا تھا۔۔۔۔ یہ پیر صاحب پاگارا کو ہر حکومت بھتہ کس چکر میں دیتی ہے۔۔۔ جب کہ یہ تو ڈاکووں کا سردار ہے۔۔۔۔ اور کراچی کے بیشتر پلاٹ پر جو قیمتی ہیں اس کے غنڈے تعینات ہیں۔۔۔ کوئی ہے جو خالی کروا سکے۔۔۔

جس پلاٹ کی قیمت ایک کروڑ ہے اس پر قبضہ ہوجاتا ہے اور وہی پلاٹ قابض‌پارٹی 25 فیصد پر خریدتی ہے بمعہ قبضہ۔۔۔ بیشتر لینڈ مافیا کا تعلق پ پ پ سے ۔۔۔ یا پاگارا گروپ سے ہے۔۔۔۔

ہالا کی مخدوم فیملی۔۔۔ میظر پر معزز ہے ۔۔۔ ان کی جائیداد کا حساب کتاب لگانے والے 31 افسران موت کے منہ میں چلے گئے ہیں اور باقی خاموش ہیں ۔۔۔ ان کی امدنی کا سورس کوئی نہیں پوچھتا ہے۔۔۔

مرتضی بھٹو ۔۔۔ اج شہید کہلاتے ہیں۔۔۔ ایک ان ڈیوٹی افسر ۔۔۔ میجر مرتضی امجد کو دوران سفر جامشورو کے پل سے بہتے پانی میں بھینک دیتا ہے اور دور ہے بے نظیر بھٹو کا۔۔۔ اس کو کیا کہیں گے۔۔ کیوں پورا پاکستان خاموش تھا ۔۔۔ ایک غنڈے کو شہید کا لقب دیا گیا۔۔۔۔

شیخ رشید کے انٹرنیشنل اور نیشنل کوٹھوں کی امدنی پر پرسنٹیج کا تذکرہ کیوں نہیں فرماتے ہیں۔۔۔ انہیں بھی معزز گردانا جاتا ہے۔۔۔ واہ جی

کرپشن کے سابقہ بادشاہ ۔۔۔ چوہدری برادران کا تزکرہ کسی نے اب تک نہیں کیا ۔۔۔ یہ جو اک وبا چلی تھی مرغیوں میں "برڈ فلو" کی اس کو کیس نے مارکیٹ میں پھیلایا تھا ۔۔۔ اور اس کا فل بینیفٹ کس کو ملا تھا۔۔۔۔ یاد رہے چوہدری شجاعت پولٹری کی صنعت کا بے تاج بادشاہ ہے۔۔۔

یارو کب تک کانی انکھ سے حقایق دیکھیں گے تو اس پاس کا منظر نہیں ائے وہ نظر ائے گا جو اپ دیکھنا چاہتے ہیں ۔۔ وہ نظر نہیں ائے گا جو حق ہے۔۔ ;)
 

قیصرانی

لائبریرین
یہ پوسٹ ہمارے رکن Fahim کی طرف سے ہے

میں نے اس تھریڈ کو پورا نہیں پڑھا صرف پہلا صفحہ اور دوسرے صفحے کی چند پوسٹس پڑھیں ہیں۔
ویسے تو میں سیاست جیسے موضوع سے دور ہی رہتا ہوں لیکن اب لکھے بغیر دل کو سکون نہیں آئے گا۔

پہلی بات یہ کہ مجھے نہ ایم کیو ایم سے دلچسپی ہے نہ مشرف سے اور نہ ہی کسی اور جماعت سے۔
میں صرف حقائق پر مبنی بات کروں گا۔

پہلی بات
وہ لوگ جو سکون سے باہر کے ملکوں میں بیٹھے ہیں۔ صبح اٹھتے ہیں سکون سے ناشتہ کرکے گھر سے نکتے ہیں۔ اور شام میں پھر گھر بیوی اور بچوں کو دینے کے وقت اور سکون کی زندگی۔
میرے مطابق ان لوگوں کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ کراچی کے بارے میں اپنی عقل کو لڑائیں۔
ایسے لوگوں کو کیا اور کوئی کام نہیں کہ بس نیوز میں کراچی کے حالات سنے اور اپنی فضول سوچ کے گھوڑے دوڑاتے ہوئے جو چاہا لکھ دیا۔

دوسرے وہ لوگ جو کراچی کے باہر کے ہیں۔ مجھے معلوم ہے کہ انھیں مشرف سے کیوں بیر ہے۔

خیر وہ بعد میں

پہلی بات یہ کہ اگر آپ تھوڑا پیچھے جائaیں یعنی نواز بلکہ پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں تو کراچی میں کیا تھا۔
تم کہتے ہو کہ اس وقت روٹی 2 روپے کی تھی۔ اب 5 کی ہے۔ تو تم کیا سمجھتے ہو کہ اگر ابھی تک پیپلز پارٹی کی حکومت ہوتی تو ابھی تک روٹی 2 روپے کی ہی ہوتی۔
اور میں کہتا ہوں کہ اس زمانے میں کسی عام انسان کی زندگی ایسی تھی کہ صبح جو شخص گھر سے کام پر جانے کے لیے نکتا تھا اس کا معلوم نہیں ہوتا تھا کہ وہ شام میں واپس بھی آئے گا یا نہیں
وجہ صرف یہی تھی کہ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی ایک دوسرے کی مخالف تھیں اور نہ صرف پولیس بلکہ حقیقی دونوں سے لڑرہی تھی۔
کتنے ہی معصوم لوگوں کو جن بچاروں کا کسی سے کچھ لینا دینا ہی نہیں تھا اس کو پولیس نے ایم کیو ایم کا کارکن بولتے ہوئے موت کی نیند سلادیا۔
ہاں اس دور میں پنچاب میں بڑا سکون تھا۔ کیوں کے وہاں ایم کیو ایم یا حقیقی جیسا کوئی معاملہ نہیں تھا۔
اور ہمارے پنچابی بھائی ہم لوگوں کو یعنی کراچی والوں کو غنڈے بدمعاش کے طور پر یاد کرتے تھے۔
مشرف کے آنے کے بعد یہ ہوا کہ کراچی میں ایم کیو ایم حکومت کے ساتھ شریک ہوگئی تو پنچاب والوں کو شاید یہ بات اچھی نہ لگی ہو۔
اب جب میں آج کے کراچی کا موازنہ پھچلے کراچی سے کرتا ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ آج کے کراچی میں پھر بھی بہتری ہے۔
اور یہ بات میں کہہ رہا ہوں جو کہ خود کراچی میں رہتا ہے۔
رہا آپ لوگوں کا یہ نعرہ کہ مہنگائی۔

تو میرے عقل مند دوستوں میں آپ کو دعوت دیتا ہوں ذرا ایک سروے تو دوڑائیں کہ کتنے لوگ پاکستان میں بھوک سے مرتے ہیں۔
یہاں کراچی میں تو میں دیکھتا ہوں کہ ایک متوسط طبقے کا فرد مہنگائی کا بولتا تو ہے۔لیکن پھر بھی روز اچھا کھاتا ہے۔ ہر مہنے شاپنگ بھی کرتا ہے۔
آج اگر بائیک پاس ہے تو کار کی جستجو ہوتی ہے۔
مہنگائی پاکستان کی تاریخ کی وہ چیز ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ اوپر گئی ہے۔ اس میں کسی کو کچھ نہیں کہا جاسکتا۔
ورنہ کہنے کو میں یہ بھی کہہ سکتا تھا۔ کہ ایوب خان کے دور میں تو روٹی 1 آنے کی تھی وغیرہ وغیرہ۔
رہی ٹریفک کی بات تو آج ایک عام آدمی کے پاس بھی کار ہے۔ یعنی وہ کار افورڈ کرسکتا ہے۔
ہر دن نہ جانے کتنی نئی گاڑیا روڈ پر آتی ہیں۔
اور میں گارنٹی سے یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ اگر انڈر پاس اور نئے روڈ تعمیر نہیں ہوئے ہوتے تو کیا سچوئیشن ہوتی یہ سوچ کر ہی گھبراہٹ ہوتی ہے۔
خود ایک مثال لیاقت آباد ڈاکخانے کی چورنگی، ناگن چورنگی اور نہ جانے کتنی چورنگیوں کو چھوٹا کیا جانا ہے۔
اب جو روڈ بنے ہیں وہ ایسے بنے ہیں کہ روڈ لگتے ہیں نہ کہ گلیاں

اور بھی بہت سے مثالیں ہیں جو میں دے سکتا ہوں۔
ابھی بس یہ مشورہ ہے کہ جب تک کسی چیز کا پریکٹیکل نہ ہو اس پر اپنی قابلیت جھاڑنا ٹھیک نہیں
 

زیک

مسافر
وہ لوگ جو سکون سے باہر کے ملکوں میں بیٹھے ہیں۔ صبح اٹھتے ہیں سکون سے ناشتہ کرکے گھر سے نکتے ہیں۔ اور شام میں پھر گھر بیوی اور بچوں کو دینے کے وقت اور سکون کی زندگی۔
میرے مطابق ان لوگوں کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ کراچی کے بارے میں اپنی عقل کو لڑائیں۔
ایسے لوگوں کو کیا اور کوئی کام نہیں کہ بس نیوز میں کراچی کے حالات سنے اور اپنی فضول سوچ کے گھوڑے دوڑاتے ہوئے جو چاہا لکھ دیا۔

بالکل صحیح۔ آپ بھی مزے کریں ہم تو کر ہی رہے ہیں۔ :rolleyes:
 

نبیل

تکنیکی معاون
بالکل ٹھیک کہا ہے فہیم نے، باہر والے بے وقوف 12 مئی 2007 اور اس سال کے 9 اپریل کے واقعات کی کسی سستے سے اخبار میں خبر پڑھ کر اپنی سوچ کے گھوڑے دوڑانا شروع کر دیتے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ اپنی سکون کی زندگی آرام سے گزاریں اور لندن کی ٹیلی فون کالوں کے ریموٹ کنٹرول سے کراچی اور حیدرآباد کو کنٹرول ہونے دیں۔ اور پاکستان میں چند لوگ بیچارے بھوک اور افلاس کے مارے خودکشی کر لیتے ہیں تو کیا ہوا، آخر اتنی نئی فاسٹ فوڈ چینز کھل رہی ہیں جہاں لوگوں کا رش لگا ہوتا ہے۔ یہ باہر والے کم عقل ہیں جو اپنے ملک میں آٹے کے لیے لگی ہوئی لمبی لائنیں دیکھ کر خوامخواہ ہی پریشان ہو جاتے ہیں۔

اور بھی کئی مثالیں ہیں میرے پاس لیکن صرف پریکٹیکل والوں کے لیے قابلیت جھاڑنا جائز رہ گیا ہے۔
 

غازی عثمان

محفلین
خبر یہ ہے کہ نئی ڈیمو کریٹک حکومت کراچی میں حقیقی کو واپس لا رہی ہے۔
لنک http://www.thenews.com.pk/top_story_detail.asp?Id=14107

مزید خبر یہ ہے کہ عوام کی پسندیدہ جمہوری پارٹی اُن عہدے داروں کو بھی کراچی واپس لا رہی ہے کہ جو کہ پچھلے دور میں ایم کیو ایم کا بینڈ بجانے میں مشہور رہے ہیں اور اہل کراچی ان سے کانپتے ہیں۔

آپ لوگوں کیا اس سلسلے میں آراء؟؟؟

سابقہ ڈکٹیٹر حکومت نے حقیقی کو نکالا تھا ایسے کہ اس کا مرکزی دفتر تک گرا دیا گیا تھا، اور کارکنان کا قتل عام کیا گیا تھا، قیادت جیل بھیجی گئی تھی۔
دوران حراست ایم کیو ایم حقیقی 2 حصوں میں تقسیم ہوگئی تھی 1 حکومتی حمایت یافتہ جس کی سربراہی عامر خان کررہے ہیں۔ 2 سابقہ یعنی آفاق احمد گروپ۔ کچھ روز قبل جب " نئی ڈیموکریٹک حکومت " نے حلف نہیں اٹھایا تھا اور جرنل مشرف اور ان کی نگراں حکومت اقتدار میں تھی لیکن انتخابات ہو چکے تھے توا اس وقت ایم کیو ایم حقیقی نے دبارہ کام شروع کرنے کا سوچا۔

یاد رہے کہ ایک قومی اور ایک صوبائی نشست رکھنے والی ایم کیو ایم حقیقی کو پولیس رینجرز اور ایم کیو ایم الطاف کہ اعلی تربیت یافتہ دہشتگردوں کہ زریعے شہر سے کھدیڑ دیا گیا تھا اور ان کی کچھ فیمیلیز پنجاب شفٹ ہو گئی تھیں۔

انتخابی نتائج دیکھ کر ایم کیو ایم حقیقی آفاق گروپ نے کام دوبارہ شروح کرنے کا پروگرام بنایا، کیونکہ ایم کیو ایم کے اہم دہشتگرد انتخابات کے بعد روپیش ہوچکے تھے، حقیقی نے کراچی میں ایک پریس کانفرنس کی جو کہ گلستان جوہر نامی علاقے میں کی گئی جہاں سے واپسی آتے ہونے صحافیوں کو مارا پیٹا گیا، موبائل ، کیمرے اور دیگر تیکنیکی آلات چھین لیئے گئے اور پریس کانفرینس کی روداد شائع کر نے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔

ایم کیو ایم نے اپنے علاقوں میں مسلح گشت شروع کر دیا اسکے باوجود کچھ جگہوں پر بشمول شاہراہ فیصل حقیقی کی وال چاکنگ کردی گئی۔

بعد ازاں حقیقی کی خواتین نے پریس کلب کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں متحدہ قومی موومنٹ کی خواتین نے بھی شرکت کی گرچہ ان کی تشدد پر مبنی تھی ، الطاف گروپ کی خواتین اور مردوں نے حقیقی کی خواتین کو تشدد کا نشانہ بنایہ ، یہ مسلح افراد حقیقی کہ مظاہرے سے کئی گھنٹے قبل پریس کلب کی ناکہ بندی کرکہ بیٹھے ہوے تھے اور شام دیر تک وہاں موجود رپے لیکن کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ انہوں نے حقیقی کہ خواتیں کو بدترین تشدد کا نشانہ بناہا اور چھ مرد کارکنان کو اغوا کر کہ لے گئے جن کہ لاشیں اگلے دن مل گئیں

اس کے بعد سے آجتک حقیقی نے کوئی ایکٹیوٹی نہیں کی ہے،
 

غازی عثمان

محفلین
میں یہ چیز پہلے بھی عرض کر چکی ہوں، مگر یاد دھانی کے لیے ایک بار پھر۔

میری رائے میں یہ اُن تمام حضرات کے منہ پر طمانچہ ہے جو صدر مشرف کو آمر کہتے کہتے تھکتے نہ تھے اور انہیں یہ بھی دعوی تھا کہ فوجی صرف گولی و بندوق کی زبان سمجھتا ہے اور ہر مسئلے کو اسی کے بل بوتے پر حل کرتا ہے۔

کبھی بھی کسی کی بھی ذاتی رائے کیسی کہ منہ پر تماچہ نہیں ہو سکتی یہ بات ٹیکنیکلی غلط ہے۔

کیسی کہ منہ پر تماچہ اس وقت ہوتا ہے جب کوئی کیسی چیز کی مخالف کرے مگر وہی چیز اس کہ سامنے ہی حقیقت پوجائے
 

ساجداقبال

محفلین
وہ لوگ جو سکون سے باہر کے ملکوں میں بیٹھے ہیں۔ صبح اٹھتے ہیں سکون سے ناشتہ کرکے گھر سے نکتے ہیں۔ اور شام میں پھر گھر بیوی اور بچوں کو دینے کے وقت اور سکون کی زندگی۔
چلیں نبیل، قیصرانی، زیک، مہوش، زینب اور دیگر ”باہرین“ یہاں سے بوریا بستر سمیٹیں۔ پریکٹیکل لوگوں کو کچھ کرنے دیں۔ اور یہ اعزاز صرف ہمیں حاصل ہے کہ ہم پاکستان میں رہتے ہیں۔ :cool:
 

مہوش علی

لائبریرین
حقیقی سیاسی جماعت نہیں ہے اور متحدہ سیاسی جماعت ہے۔۔۔ فرق سمجھانے کا شکریہ۔۔۔ یہ مجھے آج ہی پتا چلا۔ :)

راہبر برادر،
ایم کیو ایم کی اس وقت قومی اسمبلی میں پچیس اور سندھ کی صوبائی اسمبلی میں اکاون سیٹیں ہیں۔
ایم کیو ایم کے امیدوار ڈیڑھ ڈیڑھ لاکھ کی ریکارڈ لیڈ کے ساتھ اپنے حلقوں میں جیتے ہیں اور متحدہ کا مجموعی ووٹ بینک کئی لاکھ ووٹرز پر مشتمل ہے۔

مگر میرے محسوسات یہ ہیں کہ لوگ ابھی تک اپنی نفرتوں میں متحدہ کو ماننے سے منکر ہیں۔

متحدہ کے مقابلے میں حقیقی صرف اور صرف ایجنسیز کی پیداوار ہے اور ایجنسیز کا مقصد حقیقی کا سیاست کروانا نہیں بلکہ اس پردے کے پیچھے اپنے ریاستی دھشت گرد کاروائیاں کرنا ہے۔
 
حقیقی چاہے ایجنسیز کی پیداوار ہے، چاہے اس کا مقصد کچھ بھی ہے، لیکن اس میں انسان ہی ہیں اور شاید سبھی پاکستانی بھی ہیں۔ بحیثیت انسان اور بحیثیت پاکستانی ان کے بھی کچھ حقوق ہوں گے یا ایجنسیوں کا آلہ کار بننے کی وجہ سے وہ بھی ضبط ہوگئے؟
مجھے متحدہ سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔ بارہا مجھے ایسا خیال آتا ہے کہ خود مجھے بھی اس میں شمولیت اختیار کرلینی چاہئے لیکن حقائق کا سامنا کریں تو پتا چلے گا کہ سب کچھ اتنا صاف ستھرا نہیں ہے جتنا کچھ لوگ سمجھتے ہیں۔
متحدہ کی مخالفت سے یہ مطلب نکالنا بھی مناسب نہیں کہ دوسری کسی سیاسی جماعت کی حمایت کررہا ہوں۔ جو غلط کام ہیں تو وہ غلط ہیں چاہے کسی بھی سیاسی جماعت کے ہوں۔
حقیقی کے کارکنان نے جو جرائم کیے ہیں، ان کی سزا بھلے دی جائے انہیں لیکن کیا یہ انصاف ہے کہ ایک طرف ان کی قیادت اور کارکنان کو گرفتار رکھا جائے، ان کے مرکز بیت الحمزہ کو منہدم کردیا جائے اور دوسری طرف ان ہی کے جیسے جرائم کرنے والی جماعت ایم۔کیو۔ایم کو مکمل سپورٹ کیا جائے؟
اگر سزا دلوانی ہے تو دونوں کو دلوانی چاہئے اور اگر آزادی دینی ہے تو دونوں کے لیے ہونی چاہئے۔
 

مہوش علی

لائبریرین
دوران حراست ایم کیو ایم حقیقی 2 حصوں میں تقسیم ہوگئی تھی 1 حکومتی حمایت یافتہ جس کی سربراہی عامر خان کررہے ہیں۔ 2 سابقہ یعنی آفاق احمد گروپ۔ کچھ روز قبل جب " نئی ڈیموکریٹک حکومت " نے حلف نہیں اٹھایا تھا اور جرنل مشرف اور ان کی نگراں حکومت اقتدار میں تھی لیکن انتخابات ہو چکے تھے توا اس وقت ایم کیو ایم حقیقی نے دبارہ کام شروع کرنے کا سوچا۔

غازی عثمان صاحب،
یا تو آپ بہت بھولے ہیں، یا پھر جان بوجھ کر ڈس انفارمیشن پھیلا رہے ہیں کہ آفاق احمد ایجنسیز کا حمایت یافتہ نہیں۔
آفاق احمد صدر مشرف سے پہلے بھی ایجنسیز کی انگلیوں پر قتل وغارت کا کھیل کھیلتا رہا ہے اور آج بھی آپکی جمہوری حکومت کی ایجنسیز اسے اپنے مضموم مقاصد کے استعمال کے لیے تیار کر رہی ہیں۔ نیوز اخبار کی خبر میں نے اپنی سب سے پہلی پوسٹ میں ذکر کی تھی جسے شاید آپ شاید جان بوجھ کر نظر انداز کر گئے تاکہ اپنی قیاسی تھیوری کو سہارا دے سکیں کہ آفاق احمد ایجنسیر کا آدمی نہیں ہے۔

The sources said the government has decided to release Afaq Ahmed and Amir Khan of the Haqiqi group. They said the Sindh government has decided to review the cases instituted against the two top Haqiqi leaders and they would be exenorated in the cases where their involvement could not be proved.​

آپ کی موجودہ سول جمہوری حکومت نہ صرف پھر سے آفاق احمد کی پشت پر ہے، بلکہ اسکو سہارا دینے کے لیے بیک وقت وہ سڈل اور دیگر پرانے چھٹے ہوئے جرائم پیشہ افسران کو لگاتار کراچی میں اکھٹا کر رہی ہے۔
//////////////////////////

آپ نے مزید لکھا ہے:

یاد رہے کہ ایک قومی اور ایک صوبائی نشست رکھنے والی ایم کیو ایم حقیقی کو پولیس رینجرز اور ایم کیو ایم الطاف کہ اعلی تربیت یافتہ دہشتگردوں کہ زریعے شہر سے کھدیڑ دیا گیا تھا​

بھائی جی، یا تو آپ خود بھولے ہیں یا ہمیں بے وقوف بنا رہے ہیں۔ ایک طرف تو متحدہ جو قومی اسمبلی کی پچیس اور صوبائی اسمبلی کی اکاون سیٹیں حاصل کرتی ہے اسے آپ بادل نخواستہ بھی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔
جبکہ پولیس و رینجرز بھی آپ کو صرف حقیقی کے واقعے میں نظر آتے ہیں۔
مگر اُس وقت آپ کو پولیس و رینجرز اور دیگر ایجنسیز ہرگز ہرگز نظر نہیں آتیں جب وہ دھشت گردی کے زور پر زبردستی حقیقی کو منظر عام پر لاتے ہیں اور اسی زبردستی و دہشت گردی سے الیکشن میں دھاندلی کروا کر حقیقی کو قومی و صوبائی اسمبلی کی صرف ایک نشست پر کامیاب کرواتے ہیں۔
تو بھائی جی، کیا آپ بتانا پسند کریں گے کہ اس "یکطرفہ" اندھے پن کی وجہ کیا ہے؟
////////////////////////////////////////////

آپ نے مزید لکھا ہے:

انتخابی نتائج دیکھ کر ایم کیو ایم حقیقی آفاق گروپ نے کام دوبارہ شروح کرنے کا پروگرام بنایا، کیونکہ ایم کیو ایم کے اہم دہشتگرد انتخابات کے بعد روپیش ہوچکے تھے، حقیقی نے کراچی میں ایک پریس کانفرنس کی جو کہ گلستان جوہر نامی علاقے میں کی گئی جہاں سے واپسی آتے ہونے صحافیوں کو مارا پیٹا گیا، موبائل ، کیمرے اور دیگر تیکنیکی آلات چھین لیئے گئے اور پریس کانفرینس کی روداد شائع کر نے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔

ایم کیو ایم نے اپنے علاقوں میں مسلح گشت شروع کر دیا اسکے باوجود کچھ جگہوں پر بشمول شاہراہ فیصل حقیقی کی وال چاکنگ کردی گئی۔

بعد ازاں حقیقی کی خواتین نے پریس کلب کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں متحدہ قومی موومنٹ کی خواتین نے بھی شرکت کی گرچہ ان کی تشدد پر مبنی تھی ، الطاف گروپ کی خواتین اور مردوں نے حقیقی کی خواتین کو تشدد کا نشانہ بنایہ ، یہ مسلح افراد حقیقی کہ مظاہرے سے کئی گھنٹے قبل پریس کلب کی ناکہ بندی کرکہ بیٹھے ہوے تھے اور شام دیر تک وہاں موجود رپے لیکن کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ انہوں نے حقیقی کہ خواتیں کو بدترین تشدد کا نشانہ بناہا اور چھ مرد کارکنان کو اغوا کر کہ لے گئے جن کہ لاشیں اگلے دن مل گئیں

اس کے بعد سے آجتک حقیقی نے کوئی ایکٹیوٹی نہیں کی ہے،


آفاق احمد اور نئی سول جمہوری حکومت سے غلطی یہ ہوئی کہ انہوں نے اپنی کاروائیاں شروع کرنے میں بہت جلدی کر دی۔ ابھی ان کی گرفت کراچی میں اتنی مضبوط نہیں ہوئی تھی کہ پولیس و رینجرز و دیگر حکومتی ایجنسیز آفاق احمد کی کاروائیوں کو تحفظ فراہم کر پاتیں۔
بہرحال اب نئی سول حکومت سوچ سمجھ کر قدم اٹھا رہی ہے اور عامر و آفاق کو رہا کرنا، اور انکی مدد کے لیے سڈل و دیگر ظالمین کی کراچی میں مرحلہ وار تعیناتی ہو رہی ہے اور جلد ہی آفاق احمد کی حقیقی کے نقاب کے پیچھے یہ درندے پھر سے قتل و غارت کا بازار گرم کر دیں گے اور پھر آپ کو حقیقی کی کوئی ایکٹیویٹی نہ ہونے کا کوئی غم نہ رہے گا۔

جہاں تک متحدہ کی بات ہے تو وہ بذات خود مسلح ہے اور میں اسکی ہمیشہ مذمت کرتی آئی ہوں۔ انہوں نے اگر حقیقی پر حملہ کیا ہے تو میں اسکی اتنی ہی مذمت کرتی ہوں جتنا کہ آپ میں سے کوئی کر سکتا ہے۔ ایسی کاروائیوں کی پر امن پاکستان میں کوئی جگہ نہیں۔۔۔۔۔۔۔ مگر،

مگر جب آپ اس بات سے اندھے ہو جائیں کہ حقیقی کے نقاب کے پیچھے ماضی میں کتنے ہزار لوگوں کا قتل عام آپکی سول حکومت کے ایجنسیز نے ماورائے قانون کیا، اور آپ کے پھوٹے منہ سے بھی اس ظلم پر مذمت کا ایک لفظ نہیں نکلا، ۔۔۔۔۔۔۔ بلکہ پھوٹے منہ سے اُس وقت مذمت نہ ہوئی، اور آج جب پھر حکومتی ایجنسیز سڈل و حقیقی کا ڈرامہ دہرا رہی ہے تو آج پھر پھوٹے منہ اسکی مذمت نہیں ہو رہی۔۔۔۔۔۔۔۔ تو میں سمجھ سکتی ہوں کہ آج متحدہ نے حقیقی پر کیوں حملہ کیا ہے۔

دیکھئیے، متحدہ کی سوچ میرے سامنے ہے کہ وہ ماضی میں ہونے والے قتل وغارت کے اُس ڈرامے کو نہیں بھولے جو سول حکومتی ایجنسیز نے حقیقی کے نام پر انکے ساتھ کھیلا تھا۔ تو پھر وہ کس طرح آنکھیں بند کیے اسی ڈرامے کو پھر ایک بار کراچی میں منظم ہوتا ہوا دیکھ سکتے ہیں جبکہ انہیں علم ہے کہ بقیہ پاکستان میں آپ جیسے حضرات کی اکثریت ہے جو پھر حقیقی و سڈل کے اس ڈرامے پر کسی قسم کی احتجاجی آواز اٹھانے کی بجائے پھر سے دل میں تالیاں بجاتے پھریں گے۔

////////////////////////////////////

تو بات یہ ہے کہ جب تک آپ لوگ سڈل و حقیقی کا ڈرامہ نئی سول حکومت کی طرف سے دہرانے پر احتجاج نہیں کرتے، اُس وقت تک کراچی میں یہی قتل عام ہوتا رہے گا۔ چاہے یہ قتل عام حقیقی کے نام کے پیچھے سول حکومتی ایجنسیز کریں یا پھر جوابا متحدہ کے مسلح انتہا پسند۔

میں نے یہ لڑی شروع کی تھی تو یہ سوالات پوچھے تھے:

۔ آپ کی یہ سول جمہوری حکومت کی طرف سے اس سڈل اور دیگر جرائم پیشہ افسران کو کراچی میں "آج" تعینات ہی کیوں کیا جا رہا ہے؟

۔ سوچئیے اور جواب دیجئیے کہ کیا واقعی کراچی میں آج وہی نوے کی دھائی والا خراب ماحول ہے جہاں ہر طرف خون ہی خون پھیلا ہوا ہے اور اسے سمیٹنے کے لیے سڈل جیسے آدمی اور اس کے دیگر پرانے ساتھیوں کو چن چن کر پھر سے کراچی میں تعینات کر دیا جائے؟

۔ اور کیا سڈل اور اسکے ساتھیوں کی اس بلاوجہ تعیناتی سے کراچی میں پھر نفرتیں جنم نہیں لیں گی؟

۔ اور کیا حقیقی کو حکومتی ایجنسیز کی سپورٹ سے جب آپ ایم کیو ایم کے کارکنوں پر حملے کروا کر مروائیں گے تو کیا اس سے واقعی کراچی میں امن و امان کا گہوارہ بن جائے گا؟

اس بات کا فیصلہ آپ لوگوں کو خود کرنا ہے کہ کیا واقعی آج اس بات کی ضرورت تھی کہ نوے کی اس پرانی اسٹیبلشمنٹ کہ جس سے اہل کراچی کو سخت نفرت ہے اُسے دوبارہ بلاوجہ کراچی میں تعینات کر دیا جائے اور حقیقی کو حکومتی ایجنسیز کی سپورٹ سے ایم کیو ایم کے قتل و غارت کا لائسنس دے دیا جائے؟

یا پھر۔۔۔۔۔۔۔

یا پھر صدر پرویز مشرف کی بہترین پالیسیز پر عمل کیا جائے کہ جس کی بدولت کراچی میں پچھلے آٹھ سالوں میں مسلسل ترقی ہوتی رہی اور انہوں نے ایک گولی چلائے بغیر متحدہ کو پچھلے آٹھ سالوں میں مسلسل مثبت کردار ادا کرنے میں مدد دی۔
 

مہوش علی

لائبریرین
اصلی پوسٹ بذریعہ مہوش علی
میں یہ چیز پہلے بھی عرض کر چکی ہوں، مگر یاد دھانی کے لیے ایک بار پھر۔

میری رائے میں یہ اُن تمام حضرات کے منہ پر طمانچہ ہے جو صدر مشرف کو آمر کہتے کہتے تھکتے نہ تھے اور انہیں یہ بھی دعوی تھا کہ فوجی صرف گولی و بندوق کی زبان سمجھتا ہے اور ہر مسئلے کو اسی کے بل بوتے پر حل کرتا ہے۔
کبھی بھی کسی کی بھی ذاتی رائے کیسی کہ منہ پر تماچہ نہیں ہو سکتی یہ بات ٹیکنیکلی غلط ہے۔

کیسی کہ منہ پر تماچہ اس وقت ہوتا ہے جب کوئی کیسی چیز کی مخالف کرے مگر وہی چیز اس کہ سامنے ہی حقیقت پوجائے


غازی عثمان صاحب،

آپ کو آرگومنٹ انتہائی لغو ہے کہ یہ صرف اور صرف "میری ذاتی رائے" ہے۔

یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ فوجی صدر مشرف نے بندوق کی ایک گولی چلائے بغیر کراچی میں پچھلے آٹھ سال میں امن و امان قائم رکھا ہے جبکہ پچھلی دو سول حکومتیں اپنے چار ادوار میں کراچی میں صرف قتل و غارت کو جاری رکھے ہوئے تھیں۔

اور اگر کوئی شخص اس حقیقت کو آج جھٹلا رہا ہے اور ذاتی رائے کا نام دینا چاہتا ہے تو وہ سب سے پہلے اپنی عقل کو طمانچہ مار کر ماوف کرنا چاہ رہا ہے۔ تو جو شخص گونگا و اندھا بننا چاہے تو معذرت کے ساتھ کہ ایسوں کو میں ایک مرتبہ حقیقت حال بیان کر کے پھر اُن کے حال پر چھوڑ دیتی ہوں کہ بس اب اللہ ہی انہیں ہدایت دینے والا باقی رہ جاتا ہے۔
 
غازی عثمان صاحب،

آپ کو آرگومنٹ انتہائی لغو ہے کہ یہ صرف اور صرف "میری ذاتی رائے" ہے۔

یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ فوجی صدر مشرف نے بندوق کی ایک گولی چلائے بغیر کراچی میں پچھلے آٹھ سال میں امن و امان قائم رکھا ہے جبکہ پچھلی دو سول حکومتیں اپنے چار ادوار میں کراچی میں صرف قتل و غارت کو جاری رکھے ہوئے تھیں۔

اور اگر کوئی شخص اس حقیقت کو آج جھٹلا رہا ہے اور ذاتی رائے کا نام دینا چاہتا ہے تو وہ سب سے پہلے اپنی عقل کو طمانچہ مار کر ماوف کرنا چاہ رہا ہے۔ تو جو شخص گونگا و اندھا بننا چاہے تو معذرت کے ساتھ کہ ایسوں کو میں ایک مرتبہ حقیقت حال بیان کر کے پھر اُن کے حال پر چھوڑ دیتی ہوں کہ بس اب اللہ ہی انہیں ہدایت دینے والا باقی رہ جاتا ہے۔
معافی چاہتاہوں مگر چونکہ اپ کو کراچی کے حالات سے واقفیت نہیں‌لہذا اپ کی معلومات سے اخذ نتیجہ درست نہیں۔
کون کہتا کہ کراچی میں‌ مشرف کے دور میں‌گولیاں‌ نہیں چل رہی تھیں۔ دیکھیے سنی تحریک کے لاتعداد کارکن قتل ہوئے صرف اس وجہ سے کہ وہ ایم کیو ایم کے لیے ایک تھریٹ تھے۔ ان کی پوری قیادت کو بم دھماکے کے نذر کردیا گیا۔
کراچی میں ہر جگہ سنی تحریک کے لوگوں‌کا قتل ہوا ہے۔ پھر ایک اور ماورائے عدالت قتل جوکراچی میں‌ہوئے (مشرف کے دور میں) وہ پولیس والوں‌کے قتل تھے جو متحدہ کے خلاف اپریشن میں‌ایکٹو تھے۔ پھر 12 مئ کے قتل کس کے کھاتے میں ڈالیں‌گی؟ مشرف کے دور میں‌ کراچی میں‌قتل رکے نہیں۔ اسی تواتر سے جاری رہے جیسے پہلے تھے۔ اس مرتبہ بھی نشانہ زیادہ تر کراچی کے نوجوان تھے مگر اب نشانہ ایم کیو ایم کے مخالفین تھے۔
 

مہوش علی

لائبریرین
معافی چاہتاہوں مگر چونکہ اپ کو کراچی کے حالات سے واقفیت نہیں‌لہذا اپ کی معلومات سے اخذ نتیجہ درست نہیں۔
کون کہتا کہ کراچی میں‌ مشرف کے دور میں‌گولیاں‌ نہیں چل رہی تھیں۔ دیکھیے سنی تحریک کے لاتعداد کارکن قتل ہوئے صرف اس وجہ سے کہ وہ ایم کیو ایم کے لیے ایک تھریٹ تھے۔ ان کی پوری قیادت کو بم دھماکے کے نذر کردیا گیا۔
کراچی میں ہر جگہ سنی تحریک کے لوگوں‌کا قتل ہوا ہے۔ پھر ایک اور ماورائے عدالت قتل جوکراچی میں‌ہوئے (مشرف کے دور میں) وہ پولیس والوں‌کے قتل تھے جو متحدہ کے خلاف اپریشن میں‌ایکٹو تھے۔ پھر 12 مئ کے قتل کس کے کھاتے میں ڈالیں‌گی؟ مشرف کے دور میں‌ کراچی میں‌قتل رکے نہیں۔ اسی تواتر سے جاری رہے جیسے پہلے تھے۔ اس مرتبہ بھی نشانہ زیادہ تر کراچی کے نوجوان تھے مگر اب نشانہ ایم کیو ایم کے مخالفین تھے۔


ہمت بھائی، میرا خیال تھا کہ سانحہ نشتر پارک ایک خود کش حملہ تھا۔ کیا سانحہ نشتر پارک پر کہیں کوئی اچھی رپورٹ پڑھنے کو مل سکتی ہے؟ ویسے ایم کیو ایم سنی تحریک سے کیسے ٹکرا گئی؟ کیا متحدہ سے قبل کراچی میں سنی تحریک نورانی صاحب کی قومی اسمبلی میں کچھ سیٹیں تھیں؟ میرا تو خیال ہے کہ متحدہ سے قبل کراچی میں شاید پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی سیٹیں جیتتے تھے۔
 

مہوش علی

لائبریرین
سنی تحریک اور ایم کیو ایم کا اینٹ‌ کتے کا بیر ہے ۔ یہ خبر جرمنی نہیں پہنچی؟


جہانزیب بھائی، مجھے علم تو ہے کہ متحدہ اور سنی تحریک میں اچھے تعلقات نہیں، مگر اسکی تفصیلی سٹڈی کرنے کا مجھے موقع نہیں مل سکا ہے اور بہت سے سوالات تشنہ ہیں۔

ویسے سنی تحریک کیا واقعی کراچی میں اتنی مضبوط ہے کہ متحدہ کے مقابل آ سکے؟ کیونکہ کراچی کے علاوہ لاہور اور بقیہ پاکستان میں شاید سنی تحریک اتنی مضبوط نہیں ہے کہ قومی و صوبائی اسمبلیوں میں سیٹیں جیت سکے۔

میرے خیال میں راہبر برادر کا سنی تحریک سے کافی تعلق ہو گا کہ وہ اس تحریک کے متعلق ہمیں مزید معلومات فراہم کر سکیں۔

والسلام

پی ایس: میں اپنا سوال پھر دہرانا چاہتی ہوں۔۔۔۔ کیا سانحہ نشتر پارک خود کش حملے کا نتیجہ تھا یا پھر کسی نے چاروں طرف سے گھیر کر فائرنگ کی تھی؟ کیونکہ اگر یہ خود کش بم حملہ تھا تو پھر اسکا الزام متحدہ پر ڈالنا ناانصافی ہو گی بلکہ ہمیں اسکی وجوہات میں انتہا پسند لشکر جھنگوی جیسی تنظیموں کا ہاتھ دیکھنا چاہیے جن کے نزدیک شیعہ کے ساتھ ساتھ سنی تحریک والے بھی مشرک بدعتی کافر ہیں اور ملک کے دیگر حصوں میں ان کے درمیان پہلے بھی جان لیوا Clashes ہو چکے ہیں۔
 

damsel

معطل
مہوش میں نے وہ کہا جو میں نے خود دیکھا۔برتا اور بھگتا میں نے اپنی ساری زندگی کراچی میں ہی گزاری ہے تو کیسے نہیں اپنے شہر کا مزاج پہچانتی ہوں گی؟؟؟آپ حق الیقین کی بات کرتی ہیں اور میں عین الیقین کی بات کر رہی ہوں۔
وقت کے ساتھ ساتھ آبادی ، مہنگائی وغیرہ بڑھتے ہیں میں یہ بات جانتی اور سمجھتی ہوں لیکن خیر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں بات کرنا فضول ہے 100 لوگ اور 100 باتیں۔ یونس رضا صاحب نے ایک بات خوب کہی اس لیے اس دھاگے سے اجازت چاہوں گی کیونکہ لگتا نہیں کہ یہاں کوئی قائل ہونے آیا ہے۔ یہاں سب اپنا اپنا نظریہ بیان کررہے ہیں اور دوسرے کا مسترد تو پھر فائدہ کچھ بھی کہنے کا؟
 

مہوش علی

لائبریرین
مہوش میں نے وہ کہا جو میں نے خود دیکھا۔برتا اور بھگتا میں نے اپنی ساری زندگی کراچی میں ہی گزاری ہے تو کیسے نہیں اپنے شہر کا مزاج پہچانتی ہوں گی؟؟؟آپ حق الیقین کی بات کرتی ہیں اور میں عین الیقین کی بات کر رہی ہوں۔
وقت کے ساتھ ساتھ آبادی ، مہنگائی وغیرہ بڑھتے ہیں میں یہ بات جانتی اور سمجھتی ہوں لیکن خیر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں بات کرنا فضول ہے 100 لوگ اور 100 باتیں۔ یونس رضا صاحب نے ایک بات خوب کہی اس لیے اس دھاگے سے اجازت چاہوں گی کیونکہ لگتا نہیں کہ یہاں کوئی قائل ہونے آیا ہے۔ یہاں سب اپنا اپنا نظریہ بیان کررہے ہیں اور دوسرے کا مسترد تو پھر فائدہ کچھ بھی کہنے کا؟

ڈئیر سسٹر،
آبادی و مہنگائی اور مشرف حکومت کی دیگر تمام کی تمام مشکلات و غلطیاں و برائیاں ایک طرف۔۔۔ ۔۔۔۔۔ مگر میرا اصل سوال تھا کہ نئی سول حکومت کا حقیقی اور سڈل جیسے لوگوں کو "آج" بلاوجہ کراچی میں تعینات کر کے ماحول میں نفرتیں پھیلانے کے پیچھے کیا فائدہ پنہاں ہے؟

دیکھیں میں آپ کو ہمیشہ چیزوں کو مطلق Absolute معنوں میں نہ لینے کا مشورہ دوں گی، بلکہ آپ کو ہر چیز Comparitive بنیادوں پر لینا ہو گی۔ مثلا کبھی آپ کے پاس چوائس آئے گی:

۔ صحیح اور غلط میں سے کوئی ایک چیز چوائس کریں ۔۔۔۔۔ اور لازمی طور پر یہاں چوائس ہو گی "صحیح"

۔ میں کبھی کبھا چوائس یوں آئے گی کہ "غلط" اور "بہت غلط" میں چوائس کریں۔۔۔۔۔۔ اور یہاں پر آپ کو غلط کو ہی چوائس کرنا پڑ جائے گا۔


نئی سول حکومت کی حقیقی اور سڈل والی چوائس یہی "بہت غلط" والی چوائس ہے۔

اگر آج آپ اور میں اور بقیہ پاکستان مل کر حقیقی و سڈل کے اس ڈرامے کے آغاز پر احتجاج نہیں کرتا تو پھر کل کو کراچی پھر "بہت غلط" والی چوائس کے ساتھ جل رہا ہو گا۔

اپنی قسمتوں کا فیصلہ آج ہمیں کرنا ہے۔

والسلام۔

پی ایس: کراچی و متحدہ پر گفتگو کرتے ہوئے آپ سے کہیں زیادہ غمگین و اداس میں ہوتی ہوں۔ نہ صرف آپ جیسے میرے جاننے والے تمام تر احباب متحدہ کے خلاف ہیں بلکہ میری اپنی پوری کی پوری فیملی الف تا ے متحدہ کے ایسے ہی خلاف ہے جیسا کہ لاہور میں رہنے والی کوئی اور فیملی۔ مگر مجھے پھر بھی اپنے اوپر یقین ہے کہ اہل کراچی اور بقیہ پاکستان دونوں ہی اچھے لوگ ہیں اور یہ نفرتیں صرف غلط فہمیوں کی وجہ سے ہیں اور ان غلط فہمیوں کا ازالہ بہت ضروری ہے۔ غلطیاں دونوں اطراف سے ہیں اور ظلم بھی دونوں اطراف سے ہیں، مگر آخر میں دونوں کو ایک دوسرے کو گلے لگانا ہو گا اور فقط یہی مسائل کا حل ہے۔
 
میرے خیال میں راہبر برادر کا سنی تحریک سے کافی تعلق ہو گا کہ وہ اس تحریک کے متعلق ہمیں مزید معلومات فراہم کر سکیں۔

اللہ معافی۔۔۔ یہ کیسے کیسے شکوک و شبہات کا اظہار کیا جارہا ہے ہم پر؟ ہم واضح الفاظ میں اس بات کا اعلان کرنا مناسب سمجھتے ہیں کہ ہمارا واقعی کسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ :)
ہاں، اتنا ضرور جانتا ہوں کہ سنی تحریک کے قیام کا مقصد سیاست نہیں تھا۔ اس کے بانی محمد سلیم قادری مرحوم نے یہ تنظیم مذہبی نوعیت کی بنائی تھی لیکن ان کو قاتلہ حملہ میں شہید کیے جانے کے بعد یہ تحریک کچھ اپنے راستہ سے ہٹ گئے۔ اس کے بانی کے علاوہ باقی تمام لوگ مجھے سلجھے ہوئے نہیں لگے۔ باقی قیادت کو نشتر پارک میں ختم کردیا گیا۔
اس تحریک نے راستہ تبدیل کرتے ہوئے سیاست میں زور آزمائی شروع کی اور یہ مجھے پیپلز پارٹی کی حلیف جماعت کے طور پر نظر آئی ہے۔ یہ تفصیل صرف اس لیے جانتا ہوں کیونکہ ہر تحریک کے بارے میں ہی تھوڑی بہت معلومات ہے۔ اس سے آپ یہ نہ اخذ کیجئے گا کہ میرا سنی تحریک کے ساتھ کوئی لینا دینا ہے۔ :grin:
 

مہوش علی

لائبریرین
شکریہ راہبر برادر۔ فی الحال اتنی معلومات ہی کافی ہیں۔
مگر مزید میں آپ کے تاثرات سانحہ نشتر پارک میں ہونے والے خود کش حملے کے بارے میں جاننا چاہوں گی کہ بقیہ پاکستان میں لوگ سو فیصدی یقین کے ساتھ متحدہ پر الزام لگا رہے ہیں کہ وہی سانحہ نشتر پارک کی ذمہ دار ہے۔

/////////////////////////

سانحہ نشتر پارک کی طرح سانحہ نو اپریل کے متعلق بھی بقیہ پاکستان کا الزام ہے کہ صرف اور صرف متحدہ ان چھ افراد کو جلائے جانے کی ذمہ دار ہے۔

جواب میں اے آر وائی کے میر صاحب نے ایم کیو ایم کے ایک صاحب کا انٹرویو لیا ہے جس میں انہوں نے ان چھ میں سے پانچ افراد کی مکمل فہرست مہیا کی ہے کہ اُنکا تعلق ایم کیو ایم سے ہے۔ اور ساتھ میں انہوں نے وکلاء تحریک کو چیلنج کیا ہے کہ اب وہ اپنا بیان سچ ثابت کرنے کے لیے اپنی فہرست پیش کریں کہ یہ جلنے والے چھ وکلاء اُن کے حامی تھے۔

[ame]http://ca.youtube.com/watch?v=xlzoJkNMYnU[/ame]

ویسے مجھے یہ میر صاحب بھلے آدمی لگتے ہیں جو کہ تعصب سے بہت حد تک آزاد ہیں اور اس لیے حقائق کو غیر جانبدارانہ طریقے سے لوگوں تک پہنچاتے ہیں۔ انکے مقابلے میں حامد میر اور ڈاکٹر شاہد مسعود وغیرہ کا اپنا ایجنڈا ہے اور یہ لوگ غیر جانبدار ہو کر حقائق لوگوں تک نہیں پہنچاتے ہیں۔
 
Top