حقیقت۔۔۔ لیکن ذرا ہٹ کے

عباس اعوان

محفلین
ہمارے کلچر میں گورے رنگ کو ہی معیار سمجھ لیا گیا ہے
ورنہ جو کشش کالے لوگوں میں ہے وہ گورے لوگوں میں کہاں عام زبان میں بولا جائے تو تیکھے نین نقش کے مالک ہوتے ہیں
نقوش کا تیکھا ہونا یا نہ ہونا، رنگت سے ماورا ہے۔
 

صائمہ شاہ

محفلین
یہ کلچرل فالٹ بھی تو میڈیا کی دین ہے۔۔۔۔ اب ہر وقت رنگ گورا کرنے والی کریموں کے اشتہار آئیں گے تو عوام کیا کرے گی۔۔۔۔
یہ بات میڈیا کے کھاتے میں نہیں ڈالی جا سکتی یہ ہماری قومی کمزوری ہے :)
ہر پاکستانی ماں اپنے بیٹے کے لئے چاند جیسی دلہن چاہتی ہے جس کی رنگت دودھ جیسی ہو ۔
ہر ادیب ، افسانہ نگار حسن کو چاند سے تشبیہہ دیتا ہے تو بیچارہ میڈیا تو وہی دکھائے گا جو قوم دیکھنا چاہتی ہے ۔
 

ناصر رانا

محفلین
یہ بات میڈیا کے کھاتے میں نہیں ڈالی جا سکتی یہ ہماری قومی کمزوری ہے :)
ہر پاکستانی ماں اپنے بیٹے کے لئے چاند جیسی دلہن چاہتی ہے جس کی رنگت دودھ جیسی ہو ۔
ہر ادیب ، افسانہ نگار حسن کو چاند سے تشبیہہ دیتا ہے تو بیچارہ میڈیا تو وہی دکھائے گا جو قوم دیکھنا چاہتی ہے ۔
صرف پاکستانیوں کو ہی کیوں مورد الزام ٹھراتی ہیں۔
انسان خود بنیادی طور پر حسن پرست ہے۔ خوبصورتی کا دلدادہ ہے۔ ہر وہ چیز جو دیکھنے میں بھلی لگے اس میں کشش محسوس کرتا ہے۔
نسل پرستی یا گوروں کالوں کا جھگڑا کوئی پاکستانی تھوڑا ہی ہے۔
 

صائمہ شاہ

محفلین
صرف پاکستانیوں کو ہی کیوں مورد الزام ٹھراتی ہیں۔
انسان خود بنیادی طور پر حسن پرست ہے۔ خوبصورتی کا دلدادہ ہے۔ ہر وہ چیز جو دیکھنے میں بھلی لگے اس میں کشش محسوس کرتا ہے۔
نسل پرستی یا گوروں کالوں کا جھگڑا کوئی پاکستانی تھوڑا ہی ہے۔
میں پاکستانی ہوں تو اپنی ہی بات کروں گی دوسری قوموں کو دیکھنے سے پہلے اپنی طرف دیکھنا ضروری ہے ۔ ویسے آپ کی اطلاع کے لیے اس رویے میں شدت ہمارے ہاں زیادہ ہے باقیوں کی نسبت اور وجہ وہی ذہنی اور معاشرتی تربیت ۔
 

نور وجدان

لائبریرین
چلیں افریقیوں سے یاد آیا کہ ہمارے سر ہمیں بتاتے تھے افریقہ ان کا جانا ہوا اور وہاں سے حسن کی تعریف جو انہیں سنے کو ملی وہ ایشیاء کی ثقافت سے بالکل ہٹ کے ہیں ۔ وہاں کی صنف نازک جس کا ناک چپٹا ہو ، ہونٹ موٹے ہوں اور آنکھیں آم کی کاش کی طرح ہوں ۔۔۔حسین ترین عورت سمجھی جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔خوبصورتی دیکھنے والے کی نگاہ میں ہوتی ہے ۔۔۔۔ ہم نے معیار بنا لیے تفریق کے ۔۔۔۔۔۔ورنہ سچا رنگ انسان ہونے کا ہے ، باقی سب بناوٹ اور تصنع ہے
 

عباس اعوان

محفلین
چلیں افریقیوں سے یاد آیا کہ ہمارے سر ہمیں بتاتے تھے افریقہ ان کا جانا ہوا اور وہاں سے حسن کی تعریف جو انہیں سنے کو ملی وہ ایشیاء کی ثقافت سے بالکل ہٹ کے ہیں ۔ وہاں کی صنف نازک جس کا ناک چپٹا ہو ، ہونٹ موٹے ہوں اور آنکھیں آم کی کاش کی طرح ہوں ۔۔۔حسین ترین عورت سمجھی جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔خوبصورتی دیکھنے والے کی نگاہ میں ہوتی ہے ۔۔۔۔ ہم نے معیار بنا لیے تفریق کے ۔۔۔۔۔۔ورنہ سچا رنگ انسان ہونے کا ہے ، باقی سب بناوٹ اور تصنع ہے
آپ کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ پاکستانیوں کا معیارِ حسن افریقیوں سے مختلف ہے تو پھر دونوں اپنی اپنی جگہ ٹھیک ہیں۔
 

باباجی

محفلین
یہ بات میڈیا کے کھاتے میں نہیں ڈالی جا سکتی یہ ہماری قومی کمزوری ہے :)
ہر پاکستانی ماں اپنے بیٹے کے لئے چاند جیسی دلہن چاہتی ہے جس کی رنگت دودھ جیسی ہو ۔
ہر ادیب ، افسانہ نگار حسن کو چاند سے تشبیہہ دیتا ہے تو بیچارہ میڈیا تو وہی دکھائے گا جو قوم دیکھنا چاہتی ہے ۔
اس میڈیا کی وجہ سے ہمارے جیسے کالے ایویں ای احساس کمتری کا شکار رہتے ہیں
اور موبائل کیمرہ بیوٹی موڈ پہ سیٹ کرکے تصاویر لیتے ہیں
:confused:
 

arifkarim

معطل
دنیا بھر کےسائنسدان پریشان ہیں کہ پاکستانی قوم موٹر سائیکل ھلا کر ٹینکی میں پیٹرول کی مقدار کااندازہ کیسےلگالیتی ہے....:p
ٹینکی گھمانے سے اسکے وزن کا اندازہ ہو جاتا ہے جو کہ پٹرول کی مقدار میں کمی یا زیادتی کو واضح کر دیتا ہے

ایک اور حقیقت:-
ہم سب ہومو(سیپینز) ہیں۔
:smug:
زیک arifkarim
آپ شاید مکسڈ اسپیسز ہیں :)
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
یہ بات میڈیا کے کھاتے میں نہیں ڈالی جا سکتی یہ ہماری قومی کمزوری ہے :)
ہر پاکستانی ماں اپنے بیٹے کے لئے چاند جیسی دلہن چاہتی ہے جس کی رنگت دودھ جیسی ہو ۔
ہر ادیب ، افسانہ نگار حسن کو چاند سے تشبیہہ دیتا ہے تو بیچارہ میڈیا تو وہی دکھائے گا جو قوم دیکھنا چاہتی ہے ۔
کیا چاند گورا ہوتا ہے؟ ہو سکتا ہے وہ گول منہ والی دلہن ڈھوندتی ہوں۔۔۔۔ افسانہ نگار نے تو ایک بار کہہ دیا تھا کہ رقص اعضاء کی شاعری ہے۔ اور یہ معصوم قوم آج بھی اس کے اس مقولے کو دل و جاں سے تسلیم کرتی ہے۔۔۔۔۔
 
Top