حساب غرق ہوا، آفتاب غرق ہوا ۔ از فرخ منظور

محمداحمد

لائبریرین
سبحان اللہ فرخ بھائی!

بہت اچھی غزل ہے اور جیسا کہ سب نے کہا مقطع بہت اعلٰی ہے۔ داد قبول کیجے۔

تاخیر سے حاضری کی معذرت!
 

فرخ منظور

لائبریرین
ویسے آپ نے کیا سوچ کر یہ مطلع لکھا تھا، میرا مطلب ہے کوئی تو خاص خیال ہوگا ذہن میں یہ لکھتے سمے:)

حضور آپ تو استاد آدمی ہیں اور میں ایک طفلِ مکتب۔ کیوں ہماری خاک اڑانا منظور ہے۔ :) ویسے آپ اگر بحور سے آزاد شاعری کو شاعری سمجھتے ہیں تو میرا شعر تو بہت معمولی چیز ہے۔ :)
 

فرخ منظور

لائبریرین
سبحان اللہ فرخ بھائی!

بہت اچھی غزل ہے اور جیسا کہ سب نے کہا مقطع بہت اعلٰی ہے۔ داد قبول کیجے۔

تاخیر سے حاضری کی معذرت!

بہت شکریہ احمد بھائی۔ لیکن مجھے بھرتی کی شاعری قبول نہیں۔ اس لئے اگر صرف مقطع اچھا ہے تو باقی اشعار بھی بدلنے پڑیں گے۔
 

حضور آپ تو استاد آدمی ہیں اور میں ایک طفلِ مکتب۔ کیوں ہماری خاک اڑانا منظور ہے۔ :) ویسے آپ اگر بحور سے آزاد شاعری کو شاعری سمجھتے ہیں تو میرا شعر تو بہت معمولی چیز ہے۔ :)
حضرت میں خیال کی بابت دریافت کررہا تھا۔آپکا خیال جاننا چاہتا تھا مطلع کے پسِ پردہ۔
قافیہ ،ردیف اور بحر کی کس کو پرواہ ہے:)
 

مغزل

محفلین
شکریہ مغل صاحب، اعجاز صاحب اور محمود صاحب۔ غزل کا مطلع اور دوسرا شعر بدلنے کی ضرورت ہے۔ جیسے ہی کچھ فرصت ملتی ہے ان اشعار کو دوبارہ دیکھتا ہوں۔
محبت حضور، بہ سرو چشم

ارے واہ! بہت خوب! خوبصورت مگر مطلع سمجھ میں نہیں آیا کہ کس چیز کا حساب غرق ہوا؟

مجھے یہ شعر زیادہ پسند آیا


رفاقتوں کے مہ و سال بن گئے لمحہ
وہ ایک لمحہ بھی بن کر حباب غرق ہوا

ارے جیہ بٹیا بھی آئی ہیں ۔ سلامت رہیں
 
حساب غرق ہوا، آفتاب غرق ہوا
وہ چاند نکلا تو اپنا شتاب غرق ہوا

نصابِ عشق سے نخچیر سازی سیکھے تھے
ملے ہیں تم سے تو سارا نصاب غرق ہوا

بیاں کریں نہ کریں اس سے ماجرائے عشق
ادھیڑ بُن میں ہمارا شباب غرق ہوا

رفاقتوں کے مہ و سال بن گئے لمحہ
وہ ایک لمحہ بھی بن کر حباب غرق ہوا

عبث ہے ڈھونڈنا امواجِ بحرِ عشق میں اب
وہ جس کا نام تھا فرّخ، جناب غرق ہوا

(فرخ منظور)

اوہو ۔ انت ہے انت ۔۔۔۔
بہت خوب
 

محمداحمد

لائبریرین
شکریہ آصف صاحب۔ میرے خیال میں باقی اشعار نکال کر مقطع کو ہی رہنے دیتا ہوں۔ :)

فرخ بھائی !

اگر مقطع باقی اشعار کی نسبت زیادہ خوبصورت ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ باقی اشعار بھرتی کے ہیں کیونکہ اشعار کے معاملے میں آپ اس قدر selective ہیں کہ بھرتی کے اشعار کو آپ کی غزل میں یوں بھی جگہ میسر نہیں آتی۔ میری ناقص رائے میں بھی باقی اشعار بھی اچھے ہیں۔ پھر اساتذہ کے ہاں بھی کچھ شعر بہت عمدہ اور کچھ نسبتاً کم ہوتے ہیں یعنی :

جو ذرہ جس جگہ ہیں وہیں آفتاب ہے​
 

فرخ منظور

لائبریرین
فرخ بھائی !

اگر مقطع باقی اشعار کی نسبت زیادہ خوبصورت ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ باقی اشعار بھرتی کے ہیں کیونکہ اشعار کے معاملے میں آپ اس قدر selective ہیں کہ بھرتی کے اشعار کو آپ کی غزل میں یوں بھی جگہ میسر نہیں آتی۔ میری ناقص رائے میں بھی باقی اشعار بھی اچھے ہیں۔ پھر اساتذہ کے ہاں بھی کچھ شعر بہت عمدہ اور کچھ نسبتاً کم ہوتے ہیں یعنی :

جو ذرہ جس جگہ ہیں وہیں آفتاب ہے​

شکریہ احمد بھائی۔ آپ کہتے ہیں تو ٹھیک ہی کہتے ہوں گے۔ :) لیکن مطلع اور دوسرا شعر بدلنے کی ضرورت میں اب بھی محسوس کرتا ہوں۔
 
Top