جوتے نامہ

جوتے نامہ
مہتاب قدر

ہائے یہ کس گمان میں لکھا
وہ بھی اردو زبان میں لکھا
ہم کو کیا ہوگیا زمانے دیکھ
ہم نےجوتوںکی شان میں لکھا
جوتے پیروں کے بھی محافظ ہیں
جوتے چہروں کے بھی محافظ ہیں
جوتے جب تک نہ آئیں ہاتھوں میں
جوتے بچوں کے بھی محافظ ہیں
کتنے ذی احتشام کھاتے ہیں
صدر عالی مقام کھاتے ہیں
کچھ تو کھاتے، کبھی کبھی ہیں انہیں
اور کچھ صبح و شام کھاتے ہیں

کتنے ارماں کچلتے ہیں جوتے
پاوںسے بھی پھسلتے ہیں جوتے
بند کمروں میں پہلے چلتے تھے
اب تک میداں میںچلتے ہیں جوتے
جب بھی جوتوں میں دال بٹتی ہے
غیرت آدمی پھڑکتی ہے
دل میں اک آگ سی سلگتی ہے
اور مخالف پہ جا برستی ہے
پھر تو چلتے ہیں ہر طرف جوتے
کتنے ہوتے ہیں برطرف جوتے
جمع ہوتے ہیں روڈ پر اکثر
کرنے ہڑتال صف بہ صف جوتے

جوتے کانٹوں سے بھی حفاظت ہیں
جوتے غصے کی بھی علامت ہیں
جوتے پیروں میں ہو ں تو رحمت ہیں
ورنہ جوتے بھی یہ قیامت ہیں
جوتے اظہار غیرت اقوام
جوتے عزت کو کرتے ہیں نیلام
جوتے عظمت کی کھا گئے تاریخ
جوتے اپنی بنا گئے تاریخ

الاماں !! الحفیظ!! جوتوںسے
تو بچانا پلیز جوتوں سے
 

طالوت

محفلین
بہت خوب ۔۔ (تکنیکی پوسٹ مارٹم تو ماہرین کریں گے) مہتاب قدر ۔۔ یہ صا حب کون ہیں ؟
وسلام
 
یہ تحریر مہتاب قدر صاحب کی ہی ہے میرے جاننے والے ہیں اور ایک بہت اچھے شاعر بھی ہیں آج کل سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ انہوں نے آج ہی مجھے آن لائن اردو ڈاٹ کام کے لئے ارسال کی تھی ماین نع آپ لوگوں کی خدمت میں بھی پیش کر دی ہے اپنی آرا ضرور دیجیئے گا
 

جیا راؤ

محفلین
واہ واہ۔۔۔ بہت ہی خوب۔۔۔ !!!
بہت ہی عمدہ !


ہم نے کل یہ شعر پڑھا ایک جگہ۔۔


چچا کے مداحوں سے معذرت کیساتھ۔۔۔ :):)

جوتے کھانے کے تم ہی استاد نہیں ہو 'ارباب'
کہتے ہیں زمانے میں کوئی 'بش' بھی ہے
:blush::blush:
 
تین شعر اور ہیں

ہے غضب کا خمار جوتوں کا
وار کر ، بار بار جوتوں کا
جان من سن ! ابھی تو باقی ہے
سامنا بیشمار جوتوں کا
ایسے گھٹیا کے سر پہ کیوں مارا
کیوں گھٹایا وقار جوتوں کا
 
Top