جرمنی، سکول فائرنگ گیارہ ہلاک

arifkarim

معطل
جرمنی کی پولیس کا کہنا ہے کہ جرمنی کے جنوبی مغرب علاقے میں واقع ایک سکول میں فائرنگ کے واقعہ میں گیارہ افراد طالب علم ہلاک ہوگئے ہیں۔
یہ واقعہ ایلبرٹویل سکینڈری سکول میں پیش آیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور نے سیاہ رنگ کے کپڑے پہن رکھے تھے اور کارروائی کے بعد علاقے سے فرار ہوگیا۔

جرمن پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور کی تلاش جاری ہے اور اسے پکڑنے کے لیے ہوا میں ہیلی کاپٹر چکر لگا رہے ہیں۔حملہ آور کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اسی سکول کا سابق طالب علم ہے۔ حملہ آور کے زندہ بچ جانے کے بارے میں متضاد اطلاعات ہیں۔

جرمنی کی وزارت داخلہ کی ترجمان نے کہا: 'ہمیں خدشہ ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد دس یا اس سے زیادہ ہے۔ اور ہلاک ہونے والے ہیں۔‘

ایک مقامی اخبار سٹرٹگارڈ نیوز کے چیف رپورٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ حملے کی جگہ انتہائی افراتفری کا عالم ہے۔ ’یہ بہت ہی خطرناک منظر ہے۔۔۔ والدین رو رہے ہیں، طالب علم رو رہے ہیں، اور بہت ساری پولیس وہاں موجود ہے اور کسی کو کچھ معلوم نہیں کہ یہاں کیا ہوا ہے۔‘

پولیس اہلکار نے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں کبھی ایسا منظر نہیں دیکھا۔

عینی شاہدین نے کہا ہے کہ سکول پر حملے کے بعد طالب علموں نے کھڑکیوں سے چھلانگیں لگائیں۔ اس سکول میں ایک ہزار طالب علم ہیں۔

(بی بی سی اردو سے ماخوز)
نبیل بھائی آپ جرمنی میں رہتے ہیں، اس قسم کے واقعات کی کیا وجوہات ہوتی ہیں۔ یاد رہے کہ یہ جرمنی کا پہلا واقعہ نہیں ہے!
 

نبیل

تکنیکی معاون
اتفاق کی بات ہے کہ مجھے یہ خبر گھر آنے کے بعد ہی پتا چلی ہے۔ آفس میں اس کی اطلاع نہیں پہنچی تھی۔ جرمنی میں یہ واقعی اس نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ مائیکل مور کی فلم باؤلنگ فار کولمبائن میں امریکہ پر طنز کیا گیا تھا کہ دیکھو جرمنی جیسے ممالک میں اس طرح کے واقعات کبھی نہیں ہوتے، اور اسی کے بعد اس طرح کے واقعات رونما ہونے شروع ہو گئے ہیں۔

اس طرح کے واقعات کے طرح طرح کے تجزیے سامنے آئیں گے اور نفسیات دان ہمیشہ کی طرح رٹی رٹائی باتیں کریں گے کہ ایسا پر تشدد ویڈیو گیمز کی وجہ سے ہے وغیرہ۔ اس طرح کے تمام واقعات میں بعد میں پتا چلتا ہے کہ اس طرح کے لڑکے تنہائی کا شکار رہتے ہیں اور انہیں دوسروں کے مقابلے میں احساس کمتری محسوس ہوتا ہے وغیرہ۔۔

میں تو صرف یہی دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالی ہمارے ملک کو اس قسم کے واقعات سے محفوظ رکھے۔
 

arifkarim

معطل
اس طرح کے تمام واقعات میں بعد میں پتا چلتا ہے کہ اس طرح کے لڑکے تنہائی کا شکار رہتے ہیں اور انہیں دوسروں کے مقابلے میں احساس کمتری محسوس ہوتا ہے وغیرہ۔۔

بہت خوب، کافی اچھا تجزیہ کیا ہے آپنے۔ اس نوجوان لڑکے نے زیادہ فائر لڑکیوں پر ہی کئے ہیں۔ اور بعد میں‌اسکے دوستوں سے پتا لگا کہ پورے اسکول میں وہ واحد تھا جسکی کوئی گرل فرینڈ نہ ہو۔ بہر حال اپنے ماضی کا بدلہ جونیئر اسٹوڈنٹس سے لینا حد درجہ غیر فطری فعل ہے۔:(
میں نے جرمنی فون کر کے اپنی ایک عزیز فیملی جو Stutttgart میں ہی مقیم ہے ، سے حال دریافت کیا ہے۔ وہاں کے حالات اب کچھ بہتر ہیں۔ البتہ علی الصبح تو کر فیو نافذ تھا۔
 

زین

لائبریرین
یہاں تو روز کا معمول بن گیا ہے قتل و غارت گری

گزشتہ دو ہفتوں کے دوران 15 کے قریب لاشیں خود دیکھی ہیں۔
 

arifkarim

معطل
یہاں تو روز کا معمول بن گیا ہے قتل و غارت گری

گزشتہ دو ہفتوں کے دوران 15 کے قریب لاشیں خود دیکھی ہیں۔

پاکستان میں‌تو جنگل کا قانون ہے۔ جرمنی جیسی سخت قانون پسند قوم میں اس قسم کے واقعات کا تواتر کے ساتھ رونما ہونا خطرے کی گھنٹی ہے۔
 

طالوت

محفلین
جرمنی میں یہ واقعی اس نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ مائیکل مور کی فلم باؤلنگ فار کولمبائن میں امریکہ پر طنز کیا گیا تھا کہ دیکھو جرمنی جیسے ممالک میں اس طرح کے واقعات کبھی نہیں ہوتے، اور اسی کے بعد اس طرح کے واقعات رونما ہونے شروع ہو گئے ہیں۔
یہ نقطہ بھی قابل غور ہے ، اگر یار لوگ ہر چیز امریکہ پر ڈالانے کا الزام نہ دیں تو ۔۔ تاہم یہ بھی ممکن ہے امریکہ میں ہونے والے واقعات سے متاثر ہو کر قاتلین نے یہ حرکت کی ہو ۔۔
جرمنی میں کچھ سال بیشتر آدم خوری کا واقعہ بھی رونما ہو چکا ہے ۔۔
وسلام
 

arifkarim

معطل
یورپ کسی بھی لحاظ سے تہذیب پسند نہیں ہے۔ بس دنیا کو مرعوب کرنے کیلئے شیخیاں مارتے ہیں!
 

طالوت

محفلین
تہذیب اور قانون کی حکمرانی دو مختلف چیزیں ہیں ۔۔ وہاں قانون کی حکمرانی ہے ۔۔
وسلام
 

علی ذاکر

محفلین
اگر قانان کی حکمرانی ہوتی تو کالے اس طرح سرعام لوگوں کو لوٹتے نہ پھرتے جتنی چوری اور ڈکیتی کی وارداتیں ایک دن میں یورپ میں‌ہوتی ہیں‌اتنی ہمارے ہان نہیں ہوتیں لیکن پھر بھی ہم لوگ ہی شدت پسند کھلائے جائیں‌گے ہماری مثال تو ایسی ہے یعنی،
بد سے بدنام برا!
ماسلام
 

نبیل

تکنیکی معاون
اگر قانان کی حکمرانی ہوتی تو کالے اس طرح سرعام لوگوں کو لوٹتے نہ پھرتے جتنی چوری اور ڈکیتی کی وارداتیں ایک دن میں یورپ میں‌ہوتی ہیں‌اتنی ہمارے ہان نہیں ہوتیں لیکن پھر بھی ہم لوگ ہی شدت پسند کھلائے جائیں‌گے ہماری مثال تو ایسی ہے یعنی،
بد سے بدنام برا!
ماسلام
آپ کو شاید کسی نے یورپ کے بارے میں غلط معلومات فراہم کی ہیں۔ جرائم کی یہ صورتحال امریکہ میں ضرور ہے لیکن یورپ میں حالات کافی بہتر ہیں، اگرچہ ہر ملک اور ہر علاقے کی امن و امان کی صورتحال فرق ہے۔
 

arifkarim

معطل
بالکل۔ یہ بات تو تہہ ہے کہ معاشرتی برائیوں کی وجہ سے اس قسم کے واقعات پیش آتے ہیں۔
 

زیک

مسافر
اگر قانان کی حکمرانی ہوتی تو کالے اس طرح سرعام لوگوں کو لوٹتے نہ پھرتے جتنی چوری اور ڈکیتی کی وارداتیں ایک دن میں یورپ میں‌ہوتی ہیں‌اتنی ہمارے ہان نہیں ہوتیں لیکن پھر بھی ہم لوگ ہی شدت پسند کھلائے جائیں‌گے ہماری مثال تو ایسی ہے یعنی،
بد سے بدنام برا!
ماسلام

پہلی بات تو یہ کہ یہ آپ کی تان کالوں پر کیوں ٹوٹی؟ یہ کیسی بات کی آپ نے؟

دوسرے جرائم کا اندازہ لگانا مختلف ملکوں میں کافی مشکل کام ہے۔ ایک تو کیا کام کس قسم کا جرم شمار کیا جاتا ہے اس کا قانون مختلف ہوتا ہے۔ دوسرے کہیں جرائم کو رپورٹ بہتر کیا جاتا ہے اور کہیں نہیں۔ اعداد و شمار اکٹھے کرنا ایک علیحدہ مسئلہ ہے۔ بین الممالک تجزیے میں اکثر صرف قتل کے اعداد و شمار کا تقابل کیا جاتا ہے کہ ترقی‌یافتہ ممالک میں یہ صحیح رپورٹ ہوتا ہے۔
 

علی ذاکر

محفلین
میرے بھائ ہوتے ہیں لندن میں انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ چوری ڈکیتی کی وارداتوں میں زیادہ تر کالے ہی سامنے آتے ہیں!
ماسلام
 
Top