جدید فارسی اور ترکی میں تلفظ

سید عاطف علی

لائبریرین
اماراتی لہجے کی ایک اور حیران کن مثال جو کم از کم میرے لیے حیران کن تھی وہ یہ تھی کہ اگر دو اماراتی خواتین ایک دوسرے سے حال پوچھیں تو "کیفک" کو چیفچ" کہتی ہیں
جی ہاں یہ بھی ایک نمونہ ہے میرا بھی ایک دوست مجھ سے کبھی کبھی ایسے ہی پوچھتا تھا چیف حالک ؟
 

فاتح

لائبریرین
جی ہاں یہ بھی ایک نمونہ ہے میرا بھی ایک دوست مجھ سے کبھی کبھی ایسے ہی پوچھتا تھا چیف حالک ؟
یاد کرنے کی کوشش کریں، وہ دوست لڑکی یا خاتون ہو گی ;)
کیوں کہ میں نے کبھی کسی مرد کو چیف کہتے نہیں سنا، اسے زنانہ تلفظ کہا جاتا تھا۔
 

سید عاطف علی

لائبریرین
میری رائے میں آن۔
اگر یہاں شائع ہونے والی قدیم فارسی کتابوں کو دیکھا جائے تو وہاں بھی یہ نون کے اعلان کے ساتھ ہی لکھا جاتا رہا ہے۔
شعر کی قرائت کے وقت وزن کے لحاظ سے آسانی سے کہیں بھی نون کے اعلان کو ساقط کر کے غنہ میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
یاد رہے کہ ایران میں 'ق' کو 'غ' کی مانند تلفظ کیا جاتا ہے، لیکن لکھتے وقت الفاظ کا معیاری املا ہی استعمال ہوتا ہے۔ اگر ایرانی اپنے قاف والے الفاظ کو غین کی طرح لکھنے لگ جائیں تو ایران سے باہر کے افراد کو تحریر پڑھنے میں بہت دشواری پیش آئے گی۔
افغانستان، ایران اور تاجکستان کے طرزہائے تلفظ میں جتنا بھی فرق ہو، وہ فارسی رسم الخط میں لکھتے وقت ایک ہی طرزِ کتابت کو استعمال میں لاتے ہیں۔ اس لیے اگرچہ ہمارے لہجے میں نون غنہ شامل ہے، تاہم ہمیں بھی فارسی کی کتابت میں معیاری رسم الخط کی پیروی کرنی چاہیے۔
مجھے کچھ ایسا یاد پڑتا ہے کہ اردو کی قدرے قدیم املا میں نون غنہ بھی نقطے کے ساتھ ہی لکھا جاتا تھا ۔ کیاخیال ہے ؟
اردو میں بھی شاید یہ شعری ضرورت کے تحت حذف ہو کر املا میں رائج ہوا ہو ۔ واللہ اعلم
 

حسان خان

لائبریرین
مجھے کچھ ایسا یاد پڑتا ہے کہ اردو کی قدرے قدیم املا میں نون غنہ بھی نقطے کے ساتھ ہی لکھا جاتا تھا ۔ کیاخیال ہے ؟
جی، میں نے بھی قدیم اردو کتابوں میں ایسا ہی دیکھا ہے۔ وجہ شاید یہ ہے کہ چونکہ ہمارا رسم الخط فارسی رسم الخط پر مبنی ہے، اس لیے شروع میں نون غنہ کے لیے کوئی الگ علامت نہ تھی۔ اسی طرح یائے مجہول (ے) بھی بعد کے زمانے میں رائج ہوا ہے۔
 

سید عاطف علی

لائبریرین
یاد کرنے کی کوشش کریں، وہ دوست لڑکی یا خاتون ہو گی ;)
کیوں کہ میں نے کبھی کسی مرد کو چیف کہتے نہیں سنا، اسے زنانہ تلفظ کہا جاتا تھا۔
وہ تویقیناََ ایک سعودی مرد تھا ۔ البتہ یہ لہجہ شاید اتنا مشہور نہیں ۔ کئی اور بھی لہجے ہیں جو غیر مقبول ہیں ۔ ایک سعودی دوست نے یہ بھی بتایا تھا کہ ایک قبیلے والے کاف کو سین کہتے ہیں ۔یعنی مثلاََ ۔ کبدۃ (کلیجی) کو سبدۃ ۔ ۔
 

فاتح

لائبریرین
اس کے بارے میں میں پہلے بھی ایک مرتبہ بتا چکا ہوں۔ جرمنی کے مشہور شاعر گوئٹے کے نام اصل جرمن تلفظ گُوتے ہے، جس کو عرب بھائی جُوتے پڑھتے ہیں۔ :)
یہ تو تمام عربی لوگ ہی گ کو ج سے تبدیل کرتے ہیں جیسا کہ "برگر کنگ" کو "برجر کنج" (جسے دیکھ کر خواہ مخواہ کنج کے آخر میں بھی ایک ر لگانے کو جی چاہتا ہے :laughing:) لیکن مصری اس کے بالکل برعکس کرتے ہیں کہ وہ ج کی آواز کو گ سے بدل دیتے ہیں۔
 
آخری تدوین:
یہ تو تمام عربی لوگ ہی گ کو ج سے تبدیل کرتے ہیں جیسا کہ "برگر کنگ" کو "برجر کنج" (جسے دیکھ کر خواہ مخواہ کنج کے آخر میں بھی ایک ر لگانے کو جی چاہتا ہے :laughing:) لیکن مصری اس کے بالکل برعکس کرتے ہیں کہ وہ ج کی آواز کو گ سے بدل دیتے ہیں۔

مصری ہر کا م الٹا کرتےہیں
 

حسان خان

لائبریرین
حج کے دوران تو بلا امتیاز جنس کئی ایرانیوں کو لبیچ اللہمہ لبیچ اور ’اللہ اچبر‘ سنا تھا۔
یہ آذربائجانی ترکوں کا شیوہ ہے۔
آذربائجانی تُرک، بالخصوص ایرانی آذربائجانی تُرک،عموماًکاف کو چے جبکہ گاف کو جیم کی طرح تلفظ کرتے ہیں۔
مشرقی اناطولیہ کے تُرکی لہجوں میں بھی لوگ کاف کو چے کی طرح تلفظ کرتے ہیں۔
تہران کی گفتاری فارسی زبان میں کاف، کاف ہی رہتا ہےاور ایرانی برقی ذرائعِ ابلاغ پر تہرانی گفتاری فارسی ہی کا غلبہ ہے۔
 
آخری تدوین:
Top