ابن انشا جب عمر کی نقدی ختم ہوئی - ابن انشا

حجاب نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 21, 2006

  1. حجاب

    حجاب محفلین

    مراسلے:
    3,433
    اب عمر کی نقدی ختم ہوئی
    اب ہم کو ادھار کی حاجت ہے
    ہے کوئی جو ساھو کار بنے
    ہے کوئی جو دیون ہار بنے
    کچھ سال مہینے لوگو
    پر سود بیاج کے دن لوگو
    ہاں اپنی جان کے خزانے سے
    ہاں عمر کے توشہ خانے سے
    کیا کوئی بھی ساھو کار نہیں
    کیا کوئی بھی دیون ہار نہیں
    جب نام ادھار کا آیا ہے
    کیوں سب نے سر کو جھکایا ہے
    کچھ کام ہمیں بھی نپٹانے ہیں
    جنھیں جاننے والے جانیں ہیں
    کچھ پیار دلار کے دھندے ہیں
    کچھ جگ کے دوسرے دھندے ہیں
    ہم مانگتے نہیں ہزار برس
    دس پانچ برس دو چار برس
    ہاں سود بیاج بھی دے لیں گے
    ہاں اور خراج بھی دے لیں گے
    آسان بنے دشوار بنے
    پر کوئی تو دیون ہار بنے
    تم کون تمہارا نام ہے کیا
    کچھ ہم سے تم کو کام ہے کیا
    کیوں اس مجمعے میں آئی ہو
    کچھ مانگتی ہو کچھ لائی ہو
    یا کاروبار کی باتیں ہیں
    یہ نقد ادھار کی باتیں ہیں
    ہم بیٹھے ہیں کشکول لئے
    سب عمر کی نقدی ختم کئے
    گر شعر کے رشتے آئی ہو
    تب سمجھو جلد جدائی ہو
    اب گیت گیا سنگیت گیا
    ہاں شعر کا موسم بیت گیا
    اب پت جھڑ آئی پات گریں
    کچھ صبح گریں کچھ رات گریں
    یہ اپنے یار پرانے ہیں
    اک عمر سے ہم کو جانیں ہیں
    ان سب کے پاس ہے مال بہت
    ہاں عمر کے ماہ و سال بہت
    ان سب نے ہم کو بلایا ہے
    اور جھولی کو پھیلایا ہے
    تم جاؤ ان سے بات کریں ہم
    تم سے نہ ملاقات کریں
    کیا بانجھ برس کیا اپنی عمر کے پانچ برس
    تم جان کی تھیلی لائی ہو کیا پاگل ہو
    جب عمر کا آخر آتا ہے ہر دن صدیاں بن جاتا ہے
    جینے کی ہوس ہی نرالی ہے ، ہے کون جو اس سے خالی ہے
    کیا موت سے پہلے مرنا ہے تم کو تو بہت کچھ کرنا ہے
    پھر تم ہو ہماری کون بھلا ہاں تم سے ہمارا رشتہ کیا
    کیا سود بیاج کا لالچ ہے کسی اور اخراج کا لالچ ہے
    تم سوہنی ہو من موہنی ہو تم جا کر پوری عمر جیو
    یہ پانچ برس یہ چار برس چِھن جائیں تو لگیں ہزار برس
    سب دوست گئے سب یار گئے تھے جتنے ساھو کار گئے
    بس یہ اک ناری بیٹھی ہے یہ کون ہے کیا ہے کیسی ہے
    ہاں عمر ہمیں درکار بھی ہے ہاں جینے سے ہمیں پیار بھی ہے
    جب مانگیں جیون کی گھڑیاں گستاخ انکھیاں کتھے جا لڑیاں
    ہم قرض تمہارا لوٹا دیں گے کچھ اور بھی گھڑیاں لا دیں گے
    جو ساعتِ ماہ و سال نہیں وہ گھڑیاں جن کو زوال نہیں
    جو اپنے جی میں اتار لیا لو ہم نے تم سے ادھار لیا( ابنِ انشاء )
    ٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪٪
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 7
    • زبردست زبردست × 3
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  2. ڈاکٹر عباس

    ڈاکٹر عباس محفلین

    مراسلے:
    1,936
    انشاء جی کی شہکار نظم شیئر کرنے کا شکریہ۔
     
  3. محب علوی

    محب علوی لائبریرین

    مراسلے:
    12,179
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    بہت خوب حجاب ، عمدہ نظم پوسٹ کی ہے۔
     
  4. سیدہ شگفتہ

    سیدہ شگفتہ لائبریرین

    مراسلے:
    29,439
    حجاب ، کیا شاندار و عمدہ انتخاب !

    ایک تو میں‌پہلے ہی اداس ہوں آپ نے مزید ۔۔۔ :)
     
  5. اجنبی

    اجنبی محفلین

    مراسلے:
    826
    یہ اداسی کیوں؟ روح پیاسی کیوں؟
    لگ رہی تُو ، آج ماسی کیوں ؟
    چلنے والا گِرے ، چارہ گر نہ ملے
    اولے جو پڑے ، چارہ پھر کیوں ملے

    (بونگے اشعار :? )
     
  6. نوید ملک

    نوید ملک محفلین

    مراسلے:
    1,957
    بہت خوب حجاب
     
  7. قمر

    قمر محفلین

    مراسلے:
    107
    بہت اچھی نظم ہے
    بونگے بھا ئی بھی :lol:
     
  8. عمر سیف

    عمر سیف محفلین

    مراسلے:
    36,701
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Where
    اب عمر کی نقدی ختم ہوئی۔۔۔۔۔۔

    خوب بہت خوب۔
     
  9. حجاب

    حجاب محفلین

    مراسلے:
    3,433
    پسند کرنے پر آپ سب کا شکریہ۔
     
  10. اجنبی

    اجنبی محفلین

    مراسلے:
    826
    قمر صاحب ۔ مجھ سے سر ٹکرانا آپ کے حق میں اچھا نہیں ہوگا :twisted: میں نے ہیلمٹ پہنا ہوا ہے 8)
     
  11. حجاب

    حجاب محفلین

    مراسلے:
    3,433
    قمر نے آپ کو کب لکھا ہے ،آپ کیا بونگے ہیں ۔ :p
     
  12. اجنبی

    اجنبی محفلین

    مراسلے:
    826
    تو میں نے کب کہا ہے کہ قمر نے یہ میرے لیے لکھا ہے ۔ وہ تو میں نے ویسے ہی پیشگی اطلاع کر دی ہے اخلاقی طور پر ۔
     
  13. حجاب

    حجاب محفلین

    مراسلے:
    3,433
    اوکے۔
     
  14. اجنبی

    اجنبی محفلین

    مراسلے:
    826
    اچھا جواب دیا ہے ۔ میرا بس چلے تو میں اس لفظ “اوکے“ کو دنیا سے ناپید کر دوں ۔
     
  15. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    205,224
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    جب عمر کی نقدی ختم ہوئی

    جب عمر کی نقدی ختم ہوئی

    اب عمر کی نقدی ختم ہوئی
    اب ہم کو ادھار کی حاجت ہے
    ہے کوئی جو ساہو کار بنے
    ہے کوئی جو دیون ہار بنے
    کچھ سال، مہینے، دن لوگو
    پر سود بیاج کے بِن لوگو
    ہاں ا پنی جاں کے خزانے سے
    ہاں عمر کے توشہ خانے سے
    کیا کوئی بھی ساہوکار نہیں
    کیا کوئی بھی دیون ہار نہیں
    جب نام ادھر کا آیا کیوں
    سب نے سر کو جھکایا ہے
    کچھ کام ہمیں نپٹانے ہیں
    جنہیں جاننے والے جانے ہیں
    کچھ پیار ولار کے دھندے ہیں
    کچھ جگ کے دوسرے پھندے ہیں

    ہم مانگتے نہیں ہزا ر برس
    دس پانچ برس دو چار برس
    ہاں، سود بیاج بھی دے لیں گے
    ہاں اور خراج بھی دے لیں گے
    آسان بنے، دشوار بنے
    پر کوئی تو دیون ہار بنے
    تم کون ہو تمہارا نام کیا ہے
    کچھ ہم سے تم کو کام کیا ہے
    کیوں اس مجمع میں آئی ہو
    کچھ مانگتی ہو؟ کچھ لاتی ہو
    یہ کاروبار کی باتیں ہیں
    یہ نقد ادھار کی باتیں ہیں
    ہم بیٹھے ہیں کشکول لیے
    سب عمر کی نقدی ختم کیے
    گر شعر کے رشتے آئی ہو
    تب سمجھو جلد جدائی ہو
    اب گیت گیا سنگیت گیا
    ہاں شعر کا موسم بیت گیا
    اب پت جھڑ آئی پات گریں
    کچھ صبح گریں، کچھ را ت گریں
    یہ ا پنے یار پرانے ہیں
    اک عمر سے ہم کو جانے ہیں
    ان سب کے پاس ہے مال بہت
    ہاں عمر کے ماہ و سال بہت
    ان سب کو ہم نے بلایا ہے
    اور جھولی کو پھیلایا ہے
    تم جاؤ ان سے بات کریں
    ہم تم سے نا ملاقات کریں
    کیا پانچ برس ؟
    کیا عمر اپنی کے پانچ برس ؟
    تم جا ن کی تھیلی لائی ہو ؟
    کیا پاگل ہو؟ سودائی ہو ؟
    جب عمر کا آخر آتا ہے
    ہر دن صدیاں بن جاتا ہے
    جینے کی ہوس ہی نرالی ہے
    ہے کون جو اس سے خالی ہے
    کیا موت سے پہلے مرنا

    تم کو تو بہت کچھ کرنا ہے
    پھر تم ہو ہماری کون بھلا
    ہاں تم سے ہمارا رشتہ کیا ہے
    کیا سود بیاج کا لالچ ہے ؟
    کسی اور خرا ج کا لالچ ہے ؟
    تم سوہنی ہو ، من موہنی ہو ؛
    تم جا کر پوری عمر جیو
    یہ پانچ برس، یہ چار برس
    چھن جائیں تو لگیں ہزار برس
    سب دوست گئے سب یار گئے
    تھے جتنے ساہوکار، گئے
    بس ایک یہ ناری بیٹھی ہے
    یہ کون ہے ؟ کیا ہے ؟ کیسی ہے ؟
    ہاں عمر ہمیں درکار بھی ہے ؟
    ہاں جینے سے ہمیں پیار بھی ہے
    جب مانگیں جیون کی گھڑیاں
    گستاخ آنکھوں کت جا لڑیاں
    ہم قرض تمہیں لوٹا دیں گے
    کچھ اور بھی گھڑیاں لا دیں گے
    جو ساعت و ماہ و سال نہیں
    وہ گھڑیاں جن کو زوال نہیں
    لو اپنے جی میں اتار لیا
    لو ہم نے تم کو ادھار لیا
    (ابن انشاء)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • زبردست زبردست × 3
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  16. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    بہت کمال کا لکھا ہے ابن انشاء نے۔ اتنی روانی اور اتنی سلیس زبان میں‌ نے کسی اور شاعر میں نہیں پائی
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • متفق متفق × 1
  17. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,564
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    لا جواب نظم ہے شمشاد صاحب، پوسٹ کرنے کیلیے بہت شکریہ آپ کا۔

    یہ نظم شاید انشا نے بسترِ مرگ پہ کہی تھی، اتھاہ سچائی ہے اس میں۔
     
    • متفق متفق × 3
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  18. عمر سیف

    عمر سیف محفلین

    مراسلے:
    36,701
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Where
  19. فرحت کیانی

    فرحت کیانی لائبریرین

    مراسلے:
    10,998
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    واہ انشاء جی :)
    شیئر کرنے کا بہت شکریہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  20. قمر

    قمر محفلین

    مراسلے:
    107
    زبردست
     

اس صفحے کی تشہیر