تیرے یعقوب نے پائی ہے دوا تیرے ساتھ

ربیع م

محفلین
ایک عرصہ اس محفلِ شعر و سُخن اور شعراء کی صحبت میں گُزارنے کے بعد آخر ہمارے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہو ہی گیا۔ کچھ عرصہ سے عروض کا مطالعہ کر رہا تھا اور اب شاعر کا جُوٹھا کھانے کے بعد ایک غزل (محسن نقوی کی زمین کے لگ بھگ) بالآخر اُبل پڑی۔ ملاحظہ فرمائیے:

دِل کے آنگن میں نیا پھول کِھلا تیرے ساتھ
خوب مہکی ہے سرِ دشت فضا تیرے ساتھ

تیری زلفوں کی سیاہی سے کِیا ہے تحریر
صفحۂ ہستی پہ ہر حرف نیا تیرے ساتھ

تیرے دَم سے ہی ہوئی ہیں مِری آنکھیں روشن
تیرے یعقوب نے پائی ہے دوا تیرے ساتھ

تجھ سے پہلے مرے اشعار تھے آوارہ گرد
میرے شعروں کو ملا معنٰی جُدا تیرے ساتھ

جس کے گھیرے میں ہُوا کرتی ہے برساتِ نُور
ہم نے اوڑھی ہے وہ خوش رنگ رِدا تیرے ساتھ

چاند چہرے کو تِرے تکتے ہوئے کیا مانگوں؟
میری ہر تشنگی دی اُس نے مِٹا تیرے ساتھ​
 
مدیر کی آخری تدوین:

اے خان

محفلین
ایک رات کا ہے یہ کمال.
واہ بھائی واہ بہت خوب بھائی
راحیل فاروق بھائی نے کیا کھلایا تھا بھائی
 
آپ کے اس رنگ کی تو ہمیں خبر ہی نہ تھی۔ کتنا پوپلا سا منہ بنا کے آپ نے فرمایا تھا کہ عروض پڑھ کے بھول بھال گئے ہیں آپ۔ فریبی، دغا باز!
دِل کے آنگن میں نیا پھول کِھلا تیرے ساتھ
خوب مہکی ہے سرِ دشت فضا تیرے ساتھ
بہت اچھا شعر ہے، بھائی۔ پسند آیا۔
تیری زلفوں کی سیاہی سے کِیا ہے تحریر
صفحۂ ہستی پہ ہر حرف نیا تیرے ساتھ
مصرعِ ثانی میں ہستی کی یائے تحتانی تقطیع میں ساقط ہو رہی ہے۔ فارسی اور عربی الفاظ میں یہ ناروا ہے اور تراکیب میں اس قسم کا سقوط تو اور بھی قبیح ہے۔ اس کی بجائے صفحۂِ ہست یا زیست وغیرہ کیا جا سکتا ہے۔
تیرے دَم سے ہی ہوئی ہیں مِری آنکھیں روشن
تیرے یعقوب نے پائی ہے دوا تیرے ساتھ
عمدہ۔ ماشاءاللہ!
مصرعِ ثانی میں نحوی اعتبار سے بھی اصلاح کی گنجائش ہے اور تنافر سے بھی چھٹکارا پایا جا سکتا ہے۔
تیرے ہی دم سے ہوئی ہیں مری آنکھیں روشن​
تجھ سے پہلے مرے اشعار تھے آوارہ گرد
میرے شعروں کو ملا معنٰی جُدا تیرے ساتھ
پہلے مصرع کی بنت پر الگ سے داد قبول فرمائیے۔ دوسرے مصرع میں معنیٰ کی الف مقصورہ ہو یا معنی کے تلفظ کی صورت میں یائے تحتانی، دونوں کا اسقاط جائز نہیں۔ میں اس پر پہلے بھی گفتگو کر چکا ہوں:
اس سلسلے میں ایک قاعدہ یاد رکھیے۔ فارسی یا عربی الاصل الفاظ کا ایک بھی حرف آپ نہیں گرا سکتے سوائے دو صورتوں کے:
۱۔ اگر ان کے آخر میں ہائے مختفی ہو۔ مثلاً فارسی کے الفاظ راستہ، دیدہ، خفتہ، سادہ وغیرہ اور عربی کے الفاظ عمدہ، مدینہ، وغیرہ، حملہ، وغیرہ کے آخر میں آنے والی ہائے ہوز گرانی جائز ہے۔
۲۔ اگر اس لفظ کے بعد الف سے شروع ہونے والا لفظ آ جائے۔ مثلاً:
خلل پذیر بود ہر بنا کہ می بینی
بجز بنائے محبت کہ خالی از خلل ست​
حافظؔ کے اس شعر کے مصرعِ ثانی میں خالی عربی لفظ ہے جس کی یائے تحتانی بظاہر تقطیع میں گر گئی ہے۔
بجز بنا = مفاعلن
ئِ محبت = فعلاتن
کخالِیَز = مفاعلن
خَلَلَست = فَعِلان
مگر درحقیقت یہ گری نہیں ہے بلکہ، جیسا کہ تقطیع سے ظاہر ہے، اگلے الف سے مل گئی ہے۔ اسی لیے اس الف کو الفِ وصل کہتے ہیں۔ ی حرفِ علت تھی۔ اس کی دوسری مثال حروفِ صحیح سے دیکھیے تو اصول واضح ہو جائے گا:
حالِ دل نہیں معلوم لیکن اس قدر یعنی
ہم نے بارہا ڈھونڈا، تم نے بارہا پایا​
غالبؔ کے اس شعر کے مصرعِ اولیٰ کی تقطیع ملاحظہ ہو:
حالِ دل = فاعلن
نہیں معلوم = مفاعیلان
لیکِنِس = فاعلن
قدر یعنی = مفاعیلن
اس میں لیکن، جو عربی الاصل لفظ ہے، کا نون "اس" کی الفِ وصل کے ساتھ مل گیا ہے۔
مندرجہ بالا صورتوں کے علاوہ اگر آپ عربی یا فارسی اصل کے الفاظ کا کوئی بھی حرف گراتے ہیں تو ظلم ہے۔
---
جس کے گھیرے میں ہُوا کرتی ہے برساتِ نُور
ہم نے اوڑھی ہے وہ خوش رنگ رِدا تیرے ساتھ
برساتِ نور غلط ترکیب ہے۔ برسات ہندی الاصل لفظ ہے اور نور عربی۔ فارسی اضافت سے دونوں کو جوڑنا خطا ہے۔
آپ عربی لغت پر عبور رکھتے ہیں۔ ردا کی تحقیق کر لیجیے۔ مجھے اس میں نسوانیت جھلکتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔
چاند چہرے کو تِرے تکتے ہوئے کیا مانگوں؟
میری ہر تشنگی دی اُس نے مِٹا تیرے ساتھ
اچھا شعر ہے۔ مگر ردیف بے معنیٰ ہو کر رہ گئی ہے۔ یہ عیب ہے۔
---
من حیث المجموع بہت اچھا لگا۔ چونکے بھی اور لطف بھی اٹھایا۔ اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ!
 

الف عین

لائبریرین
عزیزی راحیل فاروق تو کہہ ہی چکے ہیں۔ میں صرف یہ کہوں گا کہ یہاں ’ہر حر‘ بھی تنافر پیدا کر رہا ہے
صفحۂ ہستی پہ ہر حرف نیا تیرے ساتھ
اس کے بجائے ’اک‘ استعمال کیا جائے تو معنوی طور پر بھی بہتر ہو جاتا ہے۔
صفحۂ (ہستی) پہ اک حرف نیا تیرے ساتھ
 

ربیع م

محفلین
آپ کے اس رنگ کی تو ہمیں خبر ہی نہ تھی۔ کتنا پوپلا سا منہ بنا کے آپ نے فرمایا تھا کہ عروض پڑھ کے بھول بھال گئے ہیں آپ۔ فریبی، دغا باز!

بہت اچھا شعر ہے، بھائی۔ پسند آیا۔

مصرعِ ثانی میں ہستی کی یائے تحتانی تقطیع میں ساقط ہو رہی ہے۔ فارسی اور عربی الفاظ میں یہ ناروا ہے اور تراکیب میں اس قسم کا سقوط تو اور بھی قبیح ہے۔ اس کی بجائے صفحۂِ ہست یا زیست وغیرہ کیا جا سکتا ہے۔

عمدہ۔ ماشاءاللہ!
مصرعِ ثانی میں نحوی اعتبار سے بھی اصلاح کی گنجائش ہے اور تنافر سے بھی چھٹکارا پایا جا سکتا ہے۔
تیرے ہی دم سے ہوئی ہیں مری آنکھیں روشن​

پہلے مصرع کی بنت پر الگ سے داد قبول فرمائیے۔ دوسرے مصرع میں معنیٰ کی الف مقصورہ ہو یا معنی کے تلفظ کی صورت میں یائے تحتانی، دونوں کا اسقاط جائز نہیں۔ میں اس پر پہلے بھی گفتگو کر چکا ہوں:

---

برساتِ نور غلط ترکیب ہے۔ برسات ہندی الاصل لفظ ہے اور نور عربی۔ فارسی اضافت سے دونوں کو جوڑنا خطا ہے۔
آپ عربی لغت پر عبور رکھتے ہیں۔ ردا کی تحقیق کر لیجیے۔ مجھے اس میں نسوانیت جھلکتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔

اچھا شعر ہے۔ مگر ردیف بے معنیٰ ہو کر رہ گئی ہے۔ یہ عیب ہے۔
---
من حیث المجموع بہت اچھا لگا۔ چونکے بھی اور لطف بھی اٹھایا۔ اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ!
عزیزی راحیل فاروق تو کہہ ہی چکے ہیں۔ میں صرف یہ کہوں گا کہ یہاں ’ہر حر‘ بھی تنافر پیدا کر رہا ہے
صفحۂ ہستی پہ ہر حرف نیا تیرے ساتھ
اس کے بجائے ’اک‘ استعمال کیا جائے تو معنوی طور پر بھی بہتر ہو جاتا ہے۔
صفحۂ (ہستی) پہ اک حرف نیا تیرے ساتھ

دِل کے آنگن میں نیا پھول کِھلا تیرے ساتھ
خُوب مہکی ہے سرِ دشت فِضا تیرے ساتھ

تیری زُلفوں کی سیاہی سے کِیا ہے تحریر
صفحۂ ہست پہ ہر لفظ نیا تیرے ساتھ

تیرے ہی دَم سے ہوئی ہیں مِری آنکھیں روشن
تیرے یعقوب نے پائی ہے دوا تیرے ساتھ

تُجھ سے پہلے مرے اشعار تھے آوارہ گرد
میرے شعروں کو مِلا رستہ جُدا تیرے ساتھ

چاند چہرے کو تِرے تکتے ہوئے کیا مانگوں ؟
خُوب پوری ہوئی ہر ایک دُعا تیرے ساتھ
 
مدیر کی آخری تدوین:
دِل کے آنگن میں نیا پھول کِھلا تیرے ساتھ
خُوب مہکی ہے سرِ دشت فِضا تیرے ساتھ

تیری زُلفوں کی سیاہی سے کِیا ہے تحریر
صفحۂ ہست پہ ہر لفظ نیا تیرے ساتھ

تیرے ہی دَم سے ہوئی ہیں مِری آنکھیں روشن
تیرے یعقوب نے پائی ہے دوا تیرے ساتھ

تُجھ سے پہلے مرے اشعار تھے آوارہ گرد
سُخن میرے کو مِلا رستہ جُدا تیرے ساتھ

چاند چہرے کو تِرے تکتے ہوئے کیا مانگوں ؟
خُوب پوری ہوئی ہر ایک دُعا تیرے ساتھ
خوب۔
سخن کو آپ نے فاع کے وزن پر باندھا ہے جبکہ اس کا حقیقی وزن فعل ہے۔
 
چاند چہرے کو تِرے تکتے ہوئے کیا مانگوں ؟
خُوب پوری ہوئی ہر ایک دُعا تیرے ساتھ
ہم تو سمجھے تھے طبیعت کی شعریت جاگی ہے۔ اب احساس ہو رہا ہے کہ عشقِ مجازی کا پنڈورا باکس کھول بیٹھے ہیں۔ :laugh::laugh::laugh:
بہت اچھا شعر ہے۔ بہت ہی اچھا۔ :lovestruck::lovestruck::lovestruck:
آپ نے اصلاح کا فحوا سمجھنے میں جتنی پھرتی دکھائی ہے واللہ یقین نہیں آتا۔ غزل کا ڈھنگ ہی بدل گیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کسی اور سے لکھوا لائے ہیں۔ :rollingonthefloor::rollingonthefloor::rollingonthefloor:
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
واہ واہ!! بہت خوب ! بھئی بدرالفاتح صاحب آپ نے تو کمال کردیا ! یقین کیجئے آپ کے تو پاؤں نظر آرہے ہیں!
آپ اتنے دن ناحق صبرکے پیمانے کو بھرتے رہے ۔ یہ تو ظلم کیا ۔ بھئی انٹر نیٹ کے اس دور میں تو لوگ ایک شعر بلکہ ایک مصرع کہہ کربھی شائع کرنے میں تاخیر نہین کرتے ۔ ماشااللہ اس صبر اور احتیاط سے آ پ کا اچھا ذوق اور ظرف ظاہر ہوتا ہے ۔
ویسے اگر آپ میری ذاتی رائے پوچھیں تو ایک لحاظ سےیہ آپ نے بہت اچھا کیا کہ خاموشی سے مشقِ سخن کرتے رہے اور سیکھتے رہے ۔ اب آپ کی ترقی کا گراف ان شاء اللہ جلد اوپر جائے گا ۔

جلا ہے زہرِ خموشی میں ایک عمر خیال
بنا اصیل تو کھولی ہے پھر زباں ہم نے

بہت بہت داد و تحسین آپ کے لئے ۔ اللہ تعالیٰ آپ کو سلامت رکھے ۔ شاد و آباد رکھے ۔
 

ربیع م

محفلین
شکریہ استاد محترم!
آپ کے اس رنگ کی تو ہمیں خبر ہی نہ تھی۔ کتنا پوپلا سا منہ بنا کے آپ نے فرمایا تھا کہ عروض پڑھ کے بھول بھال گئے ہیں آپ۔ فریبی، دغا باز!
واللہ بھول چکے تھے بس نجانے کیسے یہ شوق دوبارہ جاگا!!!
عزیزی راحیل فاروق تو کہہ ہی چکے ہیں۔ میں صرف یہ کہوں گا کہ یہاں ’ہر حر‘ بھی تنافر پیدا کر رہا ہے
صفحۂ ہستی پہ ہر حرف نیا تیرے ساتھ
اس کے بجائے ’اک‘ استعمال کیا جائے تو معنوی طور پر بھی بہتر ہو جاتا ہے۔
صفحۂ (ہستی) پہ اک حرف نیا تیرے ساتھ
رہنمائی کیلئے شکرگزار ہوں استاذی الکریم
واہ واہ!! بہت خوب ! بھئی بدرالفاتح صاحب آپ نے تو کمال کردیا ! یقین کیجئے آپ کے تو پاؤں نظر آرہے ہیں!
آپ اتنے دن ناحق صبرکے پیمانے کو بھرتے رہے ۔ یہ تو ظلم کیا ۔ بھئی انٹر نیٹ کے اس دور میں تو لوگ ایک شعر بلکہ ایک مصرع کہہ کربھی شائع کرنے میں تاخیر نہین کرتے ۔ ماشااللہ اس صبر اور احتیاط سے آ پ کا اچھا ذوق اور ظرف ظاہر ہوتا ہے ۔
ویسے اگر آپ میری ذاتی رائے پوچھیں تو ایک لحاظ سےیہ آپ نے بہت اچھا کیا کہ خاموشی سے مشقِ سخن کرتے رہے اور سیکھتے رہے ۔ اب آپ کی ترقی کا گراف ان شاء اللہ جلد اوپر جائے گا ۔

جلا ہے زہرِ خموشی میں ایک عمر خیال
بنا اصیل تو کھولی ہے پھر زباں ہم نے

بہت بہت داد و تحسین آپ کے لئے ۔ اللہ تعالیٰ آپ کو سلامت رکھے ۔ شاد و آباد رکھے ۔
آپ کے الفاظ اور حوصلہ افزائی نے ایک نئی روح پھونک دی ہے ، لیکن دعا ہے کہ یہ اثر اب تادیر قائم رہے !
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
ہا ہاہاہاہاہاہ!!!!! تابش بھائی بد ذوقی ہی سہی لیکن اس بات پر تو مجھے خود اپنا یہ شعر یاد آگیا اور اب اسے آپ کی نذر کرنا ہی پڑے گا کہ:
دل پہ مت لینا کہ لوگوں کی تو باتیں یوں ہیں
جیسے اُڑتے ہوئے کچھ تیر نشانے دھونڈیں

اجی حضور آپ جیسے باذوق اور محبتی لوگ ایک شعر بھی عنایت فرمائیں تو لوگ اسے آپ کی محبتوں کا نذرانہ سمجھ کر قبول کرتے ہیں اور حوصلہ افزائی میں کسر نہیں اٹھا رکھتے ۔ روئے سخن تو اُن جغادری حضرات کی طرف تھا کہ جو دعویٰ شاعری رکھتے ہیں اور اپنے ہر لکھے کا چھپنا نہ صرف فرض سمجھتے ہیں بلکہ اسے پتھر پر لکیر بھی سمجھتے ہیں ۔
اس لئے اب آپ فوراً ہونٹوں کو unzip کر لیجئے۔ :D
 
Top