احمد مشتاق تھا مجھ سے ہم کلام مگر دیکھنے میں تھا ۔۔۔۔ احمد مشتاق

نوید صادق

محفلین
غزل

تھا مجھ سے ہم کلام مگر دیکھنے میں تھا
جانے وہ کس خیال میں تھا، کس سمے میں تھا

کیسے مکاں اجاڑ ہوا، کس سے پوچھتے
چولھے میں روشنی تھی نہ پانی گھڑے میں تھا

تا صبح برگ و شاخ و شجر جھومتے رہے
کل شب بلا کا سوز ہمارے گلے میں تھا

نیندوں میں پھر رہا ہوں اسے ڈھونڈتا ہوا
شامل جو ایک خواب مرے رتجگے میں تھا

(احمد مشتاق)
 

الف عین

لائبریرین
غزل تو اچھی ہے لیکن یہ تعجب ہوا کہ احمد مشتاق بھی ’سمے‘ کا غلط تلفظ باندھتے ہیں۔ یہ سمَے درست ہے۔ بر وزن مَے
 

mohsin ali razvi

محفلین
تھا مجھ سے ہم کلام مگر دیکھنے میں تھا
جانے وہ کس خیال میں تھا، کس سمے میں تھا

روی سخن با من ونگاه در تلاش
روی سخن با من ونگاه در تلاش

جسمش روبرو روحش هزار جای

از عامل خواجه
 
مدیر کی آخری تدوین:
Top