تقطیع میں 'ی' اور 'ے' کا اسقاط

راحیل فاروق نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اپریل 13, 2016

  1. راحیل فاروق

    راحیل فاروق محفلین

    مراسلے:
    1,323
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Psychedelic
    قبلہ شاکرالقادری صاحب نے حال ہی میں نعتیہ دوہے لکھوانے کے لیے ایک لڑی کھولی ہے۔ اس میں کچھ عروضی معاملات زیرِ بحث آئے اور یوں آئے کہ نعتیہ دوہے لکھنے کی بات کہیں دور رہ گئی۔ میں ان گفتگوؤں کو بلا اجازت یہاں نقل کر رہا ہوں۔ امید ہے اچھی نیت پر محمول کر کے برا نہیں مانا جائے گا۔ مزید اچھی بات ہو گی کہ آئندہ بھی اس نوعیت کی بحثوں کے لیے فی الفور الگ دھاگے بنا لیے جائیں۔
    ---

    بھائی، اس علمی استفسار کا جواب سیدھا سا ہے۔
    عروض کی بابت یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس کی بنیاد الفاظ کے تلفظ پر ہے، ہجا پر نہیں۔ لفظ جس طرح بولے جاتے ہیں اس سے طے ہوتا ہے کہ کس لفظ کی بابت کیا رویہ اختیار کیا جائے گا۔ جس طرح لکھے جاتے ہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ دو قسم کی مثالیں آپ لوگوں کے ہاں زیرِ بحث ہیں:
    اول:
    کھائے، آئے، پائے۔۔۔
    غور فرمائیے کہ (جیسا کہ ظہیراحمدظہیر بھائی نے بھی اشارہ فرمایا ہے) ان میں دراصل ے نہیں گرائی جا سکتی۔ ہمزہ البتہ ساقط ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں انھیں یوں لکھنا چاہیے (اور خوش سواد کاتبین انھیں ایسے موقعوں پر یونہی لکھتے آئے ہیں)۔
    کھاے، آے، پاے۔۔۔
    نکتہ یہ ہے کہ یہ تلفظ اہلِ زبان کے ہاں ممکن ہے۔ اور اسی تلفظ کو فاع پر قیاس کیا جاتا ہے۔
    یائے تحتانی یا چھوٹی 'ی' کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔
    کھائی، آئی، پائی۔۔۔
    ان میں بھی دراصل 'ی' کبھی ساقط نہیں ہوتی۔ ہمزہ بوقتِ ضرورت اوپر والی مثال کی طرح گرا دیا جاتا ہے۔ لیکن اس صورت میں روایت یوں مختلف رہی ہے کہ انھیں کھای، آی، پای وغیرہ کی بجائے کھائی، آئی، پائی ہی لکھا جاتا ہے۔ تلفظ ان کا بھی اسی طرح ہوتا ہے کہ کھا، آ، پا وغیرہ پورے بولے جاتے ہیں اور ئی کو یائے ساکن قیاس کر کے بولا جاتا ہے۔
    تکرار کی معذرت، مگر اہم ترین نکتہ یہی ہے کہ یہ تلفظ اہلِ زبان کے ہاں ممکن ہے۔ اس طرح بولا جا سکتا ہے۔ تکنیکی زبان میں ہم کہیں گے کہ کھائے، آئے، پائے وغیرہ میں 'ے' کا اشباع یعنی کھینچ کر ادا کرنا بھی ممکن ہے اور اس کے برعکس بھی۔ اسی لیے ہردو تلفظ کے ساتھ شعر بھی موزوں کیے جا سکتے ہیں۔
    چائے، ہائے، وائے جیسے بعض الفاظ کی بابت تو ٹھیٹھ عروضی اصرار کرتے ہیں کہ ان کی 'ئے' کا اشباع نہ کیا جائے اور انھیں فعلن کی بجائے ہمیشہ فاع کے وزن پر باندھا جائے۔
    کچھ اسی قسم کے معاملات بھاؤ، تاؤ، گاؤں، پاؤں اور آؤ، جاؤ، پاؤ جیسے الفاظ کے ساتھ بھی ہیں۔
    عالی، جالی، تالی وغیرہ جیسے الفاظ کا المیہ کچھ اور ہے۔ مصرع کے درمیان میں ان کی 'ی' گرائی جا سکتی ہے اور اردو کا تلفظ اس کی اجازت دیتا ہے۔
    مثلاً
    روضے کی جالی تھام کے روتے رہیں گے ہم (مؤلف)
    مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن
    اس میں جالی کو جالِ (لام کی زیر کے ساتھ) قیاس کر لیا گیا ہے۔ اس طرح بولا جا سکتا ہے اور بولا جاتا ہے۔ ہم عام بول چال میں بھی جالی کی 'ی' کا اشباع بعض دفعہ نہیں کرتے بلکہ اس کو نہایت مختصر بولتے ہیں۔ لیکن یہ تبھی ہوتا ہے جب جالی کا لفظ ہمارے جملے کے درمیان آئے۔ اسی تلفظ کا فائدہ ہم نے یہاں اٹھایا ہے اور 'ی' گرا کر لام کو زیر کے ساتھ بولتے ہوئے اگلے لفظ سے ملا دیا ہے۔
    اب بات یہ ہے کہ ایسا صرف جملے یا مصرعے کے درمیان میں ہو سکتا ہے۔ مصرعے کے آخر میں ممکن نہیں کہ آپ جالی کا لفظ لائیں اور لام کو ساکن باندھ سکیں۔ یعنی جالی کو جال کے وزن پر قیاس کر لیں۔ مثلاً
    روئیں گے ہم تھام کر روضے کی جالی (مؤلف)
    فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن
    کیا اس مصرعے کو بولتے ہوئے آپ جالی کو 'جال' ادا کر سکتے ہیں؟ کوشش کر کے دیکھیے۔
    اگر ہاں تو یہ مصرع 'فاعلاتن فاعلاتن فاعلان' کے وزن پر آ جائے گا۔ اگر نہیں، اور یقیناً اردو کا فصیح تلفظ اس کی اجازت نہیں دیتا، تو آپ کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ جالی، عالی، تالی وغیرہ الفاظ مصرعے کے آخر میں آ جائیں تو ہم ان سے 'امتیازی سلوک' کرنے پر مجبور ہیں۔
    یہی معاملے بڑی 'ے' والے الفاظ مثلاً جالے، تالے، نالے وغیرہم کے ساتھ ہے۔
     
    • زبردست زبردست × 5
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • متفق متفق × 2
  2. فرحان عباس

    فرحان عباس محفلین

    مراسلے:
    300
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    بہت اچھا کیا
     
  3. ابن رضا

    ابن رضا لائبریرین

    مراسلے:
    4,258
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    ہاں جی دانش بھائی کام چلے گا یا کسی وڈے ڈاکٹر کو بلایا جائے.:ROFLMAO:

    تفنن برطرف.

    عمدہ وضاحت پیش کرنے کا شکریہ راحیل صاحب
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. ابن رضا

    ابن رضا لائبریرین

    مراسلے:
    4,258
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    ویسے بھی فاع تسبیغ کا نتیجہ ہے جس کے لیے وتد موقوف شرط ہے یعنی آخری ہجہ کوتاہ ہو سبب خفیف کا آخری ہجہ گرا کر نہ کوتاہ بنایا جائے
     
    آخری تدوین: ‏اپریل 14, 2016
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  5. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,914
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    میں ایک چھوٹی سی گزارش کر دوں کہ عربی عروض کو جب فارسی اور پھر اردو میں لیا گیا اور جو متحرک اور ساکن پر مبنی ہے تو اس سے اردو میں "گھمبیر" مسائل پیدا ہو گئے اور متحرک ساکن کا نظام اردو عروض میں ایک گورکھ دھندہ ہے جس کو ترک کیا جانا چاہیے۔ ایک مثال دیکھیے، بحر ہے

    فاعلاتن مفاعلن فعلن

    اس میں فاعلاتن کی عین متحرک ہے، اس وزن پر غالب کا ایک موزوں مصرع دیکھیے (چونکہ مجھے یہ بہت پسند ہے تو لکھ رہا ہوں ورنہ لاکھوں مل جائیں گے اس طرح کے)

    ع - درد ہو دل میں تو دوا کیجے

    کیا کوئی دوست بتا سکتا ہے کہ فاعلاتن کی متحرک عین کے مقابل درد کی ساکن دال کیسے آ گئی اور درست قرار پائی؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  6. راحیل فاروق

    راحیل فاروق محفلین

    مراسلے:
    1,323
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Psychedelic
    وارث بھائی، میں تو فقط یہی عرض کر سکتا ہوں کہ اعتبار تلفظ اور لہجے کا ہے۔ باقی تمام معاملات ثانوی ہیں۔ زبان کی اصل گفتگو ہے۔ تحریر اور مطالعہ بعد کی چیزیں ہیں۔
    اس اصول کا انطباق آپ کے دیے گئے مصرعے پر بھی کیا جا سکتا ہے۔ جب ہم یہ مصرع زبان سے ادا کرتے ہیں تو 'درد' کی دالِ ساکن اگلے لفظ سے مل کر کچھ اس طرح ادا ہوتی ہے کہ مصرع کا اتار چڑھاؤ من حیث المجموع بحر کے مطابق ہو جاتا ہے۔
    بہرحال، آپ نے درست طرف توجہ دلائی ہے اور اس معاملے میں میں آپ کا ہمنوا ہوں۔ ہماری اب تک کی باتیں زیادہ تر قیاسی اور خود تردیدی ہیں جن پر جی چاہے تو اعتبار کیا جا سکتا ہے اور نہ چاہے تو مکرا جا سکتا ہے۔ عروض اور پنگل وغیرہ کو ٹھوس اور منطقی بنیادوں پر اردوانے کی شدید ضرورت موجود ہے۔ اور یہ کام حسبِ سابق و حسبِ دستور انفرادی طور پر نہ ہو تو بہتر ہے۔ بلکہ کچھ ماہرینِ لسانیات، ادبیات و شعریات مل بیٹھ کر اور تدبر و تفکر کے بعد ایک ضابطہ تشکیل فرمائیں جو ہماری زبان اور ہمارے اپنے مزاجوں سے لگا کھاتا ہو تو یہ تاریخ ساز کام ہو گا۔ یہ تصور کر کے ہی مجھے بہت لطف آتا ہے کہ اردو کا ایک اپنا، خالص عروض وجود میں آ جائے جو ہمیں شعر کہنے میں ان الجھنوں اور بدآہنگیوں سے بچا لے جو بدیسی نظاموں کی اتباع کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہیں۔
    پنگل اور خلیل کا عروض تو اس سلسلے میں رہنما ثابت ہوں گے ہی۔ مگر انگریزی عروض کے زیر و بم سے بھی اگر ماہرین کو مناسب لگے تو استفادہ کیا جانا چاہیے۔ مجھے ان کے سلیبل سسٹم میں ہمیشہ متاثر کیا ہے۔ اور اردو الفاظ کے تلفظ میں زور دینے اور نہ دینے کا بعینہ وہی قاعدہ ملتا بھی ہے گو ہم نے اسے وزن کی بنیاد نہیں بنایا۔
    اگر آپ 1،2 والے نظام کو اس کی جگہ دینا چاہتے ہیں تو البتہ میں آپ کے ساتھ نہیں ہوں! :)
    ویسے یہ بات بھی بعید از قیاس نہیں ہے کہ میں نے اس مراسلے میں 'سوال گندم، جواب چنا' والی صورتِ حال پیدا کر دی ہو۔ اگر ایسا ہے تو اللہ کی مرضی!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • متفق متفق × 1
  7. سلمان دانش جی

    سلمان دانش جی معطل

    مراسلے:
    398
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    قبلہ وارث صاحب!! میں نے اسی بحر کے بارے آپ ہی کا ایک مضمون ایک خوبصورت بحر - بحر خفیف پڑھا ہے۔ قبلہ ہم متحرک اور ساکن کی ٹرمینالوجی میں نہیں پڑتے، یہ آپ جیسے عالم فاضل لوگوں کی سمجھ کی باتیں ہیں۔ ہم لوگ وہی جانتے ہیں جیسا آپ اور دیگر اساتذہ کے بلاگوں میں لکھا ہے ۔ یعنی فاعلاتن کا ہندسوں میں وزن 2۔1۔2۔2 ہے۔ اور ع کا وزن 1 یا سنگل حرفی ہے۔ اس کے مطابق درد کو در2 +د1 سمجھتے یا باندھتے ہیں۔ ہم نکمے لوگ تو اس ع کو ساکن اور یہاں فٹ ہونے والی دال کو یک حرفی یا ساکن سمجھ رہے تھے۔ لہذا اب آپ جو سوال پوچھ رہے ہیں وہ غالبا مجھ یا مجھ جیسے کئی دوسرے لوگوں کی فہم سے بالاتر ہے۔ میری گزارش ہے کہ ہمیں عروضی اصطلاحات سے فری سیدھے الفاظ میں بتا دیجئے۔ میرا خیال ہے کہ عروض کے علم کو مشکل اور مسلہء گھمبیر بنانے میں سب سے متنازعہ کردار ان عروضیوں کا ہے جنہوں نے بحور اور اوزان کے علم میں بیحد ثقیل ٹرمینالوجیاں شامل کر کے اس قدر مشکل بنا دیا ہے کہ نیا بندہ اس مکتبِ عروض میں داخل ہوتے ہی اسے بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔ آپ کا سمجھانے کا طریق سمجھ عام بندے کی سمجھ سے باہر سقیلیات سے لیس عروضی سکالروں جیسا نہیں بلکہ آسان اور عام فہم ہے۔ آپ سے درخواست ہے کہ آپ ایسی ادبی پوسٹوں پر روزانہ دس منٹ بھی دے دیا کریں تو علم کے تشنہ مجھ جیسے کئی لوگوں کو فائدہ پہنچے گا۔​
     
    آخری تدوین: ‏اپریل 13, 2016
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • متفق متفق × 1
  8. شاکرالقادری

    شاکرالقادری لائبریرین

    مراسلے:
    2,696
    موڈ:
    Cheerful
    واہ مجھے پہلے ہی علم تھا کہ نعتیہ دوہوں کی تخلیق کی بجائے بات کہیں اور جائے گی سو خاموش رہنا ہی بھلا جانا
     
    • غمناک غمناک × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,914
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    جی درد کی دال ساکن اگلے لفظ سے مل کر کچھ بنتی ہو یا نہ بنتی ہو، عروضی اس کو اپنے مطلب کے مطابق ڈھال لیتے ہیں۔

    یہ عروض کا مسئلہ ہے اور بڑا مسئلہ ہے، اس کو فقط اس طرح حل نہیں کیا جا سکتا تھا، سو اس کا حل یہ نکالا گیا کہ ساکن اور متحرک کی تعریف ہی بدل دی۔ عروضیوں کے نزدیک (بحوالہ بحر الفصاحت) ساکن حرف وہ ہے جو متحرک سے متصل ہو اور متحرک وہ ہے جو ساکن سے متصل ہے۔ عجب گورکھ دھندہ ہے لیکن اس تعریف کی رُو سے

    چونکہ درد کی دوسری دال رے ساکن سے متصل ہے سو عروضی تعریف کے مطابق دوسری دال ساکن نہیں ہے بلکہ متحرک قرار پائی اور اسی لیے فاعلاتن کی عین متحرک کے مقابل درست قرار پائی۔

    شکریہ مجھے بتانے کے لیے کہ آپ میرے ساتھ نہیں ہیں :) لیکن میرے سوال کی وجہ کچھ اور طرف تھی "غالب کی طرف داری نہیں" :)

    عروض کے مسائل، متحرک ساکن والے، اور وہ مسئلہ جو آپ نے سرنامے میں لکھا ہے، ہمارا عروضی نظام، بغیر گھمائے پھرائے اور بغیر دُور کی کوڑیاں لائے، حل کرنے سے قاصر ہے۔ آپ کسی بچے کو کیسے سمجھا سکتے ہیں کہ جو لفظ بظاہر ساکن نظر آتا ہے وہ ساکن نہیں متحرک ہے، جو متحرک نظر آتا ہے وہ متحرک نہیں ہے ساکن ہے، یے کو ساقط نہیں کیا ہمزہ کو کیا ہے، ایک حرف نہیں بڑھایا بلکہ عمل تسبیغ کیا ہے۔ اس پیچیدہ طریقے سے ایک عام سا دو جمع دو چار ہونے والا نظام، چیستان بن جاتا ہے۔

    ہمیں اس کو سادہ کرنے اور اس کے "ورکنگ نالج" کی طرف دھیان دینا چاہیے، 1، 2 کے نظام کو چھوڑ دیجیے، 0، 1 کا لے لیجیے، - = لے لیجیے، کچھ کر لیں، لیکن اس سے مسئلے حل ہوتے ہیں۔
    فاعلاتن 2 1 2 2 ہے تو "درد ہو دل" بھی 2 1 2 2 ہے، فاعلاتن کی عین اگر 1 ہے تو درد کی دال بھی 1 ہے، مسئلہ ختم۔ ہر مصرعے کے آخر میں تسبیغ کی اجازت ہے تو اس کیوں نہ کہہ دیں کہ ہر مصرعے کے آخر میں ایک 1 بڑھانے کی اجازت ہے، تسبیغ کی تعریف اور اس کا پیچیدہ طریقہ سب خلاص۔ و علی ہذا القیاس۔
     
    • متفق متفق × 3
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  10. شکیب

    شکیب محفلین

    مراسلے:
    1,833
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Breezy
    اب اچھا ہوگا کہ سارا نزلہ اسی لڑی پر گرایا جائے اور دوہے والی لڑی کو پاک صاف کر دیا جائے۔
     
    • متفق متفق × 1
  11. شکیب

    شکیب محفلین

    مراسلے:
    1,833
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Breezy
    تقریبا ہر وہ بات جو میں کہنا چاہتا تھا، ظہیراحمدظہیر بھائی نے کہہ دی ہے۔
    اتنا ضرور کہوں گا کہ اگر سوالی کی ی گرانا صحیح بھی قرار پائے تو سوالِ (ل مکسر) کے ساتھ بے حد بھدا لگے گا۔ بھدا سے مراد یہ جمالیاتی لحاظ سے (کم از کم میرے نزدیک) ناقابل قبول ہوگا۔
    اللہ ہم سب کو صحیح فہم عطا فرمائے۔
     
    • متفق متفق × 2
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  12. سلمان دانش جی

    سلمان دانش جی معطل

    مراسلے:
    398
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    واہ قبلہ وارث صاحب۔میں آپ کے موقف کی مکمل تائید کرتا ہوں ۔یہی سیدھی بات میرے استادَ گرامی بھی کہتے ہیں۔ لیکن اگر آپ کی یہ بات مان لی جائے تو پھر اکثریت کی سمجھ میں نہ آنے والی عربی فارسی اورسنسکرتی اصطلاحات سے لیس اُن اساتذہ ٗ عروض کا گورکھ دھندہٗ استادیت اور عالمانہ رعب کیسے چلے گا۔ جنہوں نے عروض کو عام بندے کیلیے پتھر کے زمانے میں بولی جانے والی ڈائنوسارسی زبان جیسا مشکل بنا دیا ہے۔ جس دن عروضی بزرگوں نے متحرک ساکن اور وتد شدد چھوڑ کر ایک اور دو کی آسان گنتی گننی شروع کر دی، مجھ جیسے اناڑیوں اور مبتدیوں کے کلیجے سوا لکھ واری ٹھنڈ پڑ جائے گی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  13. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    3,746
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    راحیل فاروق بھائی ، اردو عروض کے کچھ پہلو لاکھ نزاعی صحیح لیکن قواعدِ تقطیع ان میں سے ایک نہیں ہے ۔ کل ملا کر تقطیع کے کوئی چالیس کے قریب اصول ہیں جن پر ہر خاص وعام کا اجماع رہا ہے ۔ میر سے لیکر آج تک کے تمام شعرا انہی اصولوں کو برتتے آئے ہیں ۔ موزونیت ِ شعر کا معیار یہی تقطیع کے اصول رہے ہیں ۔ کہیں ایک آدھ جگہ کسی استاد نے کسی اصول سے معمولی سا انحراف کیا بھی ہو تو وہ شاذ ہے اور وہ حجت نہیں ۔ تقطیع ملفوظی ہوتی ہے اور مکتوبی نہیں ، کچھ حرف کو گرایا جاسکتا ہے اور کچھ کو نہیں .کہاں گرایا جاسکتا ہے اور کہاں نہیں - یہ سب اصول طے شدہ اور مستند ہیں اور عروض کی چھوٹی بڑی ، قدیم و جدید تمام کتب میں واضح طور پر لکھے ہوئے ہیں ۔ ہم سب دن رات انہیں اپنی شاعری میں برت رہے ہیں ۔ شاعری سیکھنے والا سنجیدہ طالب ِ فن سب سے پہلے تقطیع کے انہی اصولوں کو سیکھتا ہے کیونکہ ان اصولوں کو اپنائے بغیر شعر کی صحیح قرات یا پڑھنت ہی ممکن نہیں ہوتی ۔ بحر کی نزاکتیں تو بہت بعد کی باتیں ہیں ۔

    نوآموزوں سے تو کوئی شکوہ نہیں کہ سیکھنے کا یہ دور سبھی پر آتا ہے ۔ہاں ان کی طرف سے چیختا چلاتا ہوا یہ اعتراض کہ یہ اصول کس کتاب میں لکھے ہیں اورکس نے بنائے ہیں نسبتاً غیر سنجیدگی پر دلالت کرتا ہے ۔ لیکن میرا اصل شکوہ تو یہ ہے کہ سنجیدہ شعری حلقوں میں بھی جب اس بات پر طویل بحث ہونے لگے کہ آیا مصرع کے آخر سے ی گرائی جاسکتی ہے یا نہیں ۔ اور اگر درمیان سے گرائی جاسکتی ہے تو آخر سے کیوں نہیں ؟ کیا مصرع کو ایک متحرک حرف پر ختم کیا جا سکتا ہےیا نہیں ؟؟ تو پھر شاعری کے مستقبل پر نثری نظم میں فاتحہ پڑھ لینی چاہئے۔ بھائی تقطیع کی یہ بحث تو محض دو جملوں میں نبٹ جانی چاہیئے ۔ ان سوالات کے جواب کے لئے اصولِ تقطیع کا ایک حوالہ کافی ہونا چاہئے ۔ یعنی اگر کوئی شخص یہ پوچھے کہ الف کواگر درمیانِ مصرع سے گرایا جاسکتا ہے تو مصرع کے شروع سے کیوں نہیں اور اس کے جواب میں گول مول انداز اختیار کیا جائے تو اس سے مزید تشکیک اور ابہام ہی پیدا ہوگا ۔ آخر ایسے سوالوں کا جواب دیتے وقت اتنا دفاعی انداز اختیار کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ ایسے بنیادی سوالوں پر اپنی ذاتی رائے دینے کی ضرورت سرے سے پیدا ہی نہیں ہوتی ۔ ایسےبنیادی سوالوں کا تو دو ٹوک اور صاف صاف معروضی جواب اصولِ تقطیع میں موجود ہے اور وہی جواب دینا بھی چاہیئے کہ بھئی ایسا کرنا جائز نہیں ۔ یہ اصول ہے اور سب کے لئے ہے ۔ میر و غالب بھی اس سے مستثنی نہیں ۔ بات ختم ۔ اب کوئی ان اصولوں کو مانے یا نہ مانے یہ جواب دینے والے کا مسئلہ نہیں ۔ اگر آپ گاڑی چلاتے ہیں تو ٹریفک کے قوانین کی پابندی آپ پر لازم ہوجاتی ہے خواہ آپ ان قوانین کو پسند کریں یا نہ کریں ۔ موزوں شعر کہنا ہے تو اصولِ تقطیع سے مفر ممکن نہیں خواہ آپ انہیں پسند کریں یا نہ کریں ۔ ورنہ نثری نظم کا راستہ کھلا ہے ۔ آخر اتنے سارے لوگ لکھ ہی رہے ہیں ۔

    راحیل بھائی ، میری رائے میں عروض اتنی مشکل بالکل بھی نہیں ہے جتنی بنادی گئی ہے ۔ کچھ نزاعی مسائل کس علم میں نہیں ہوتے؟ عروض میں بھی ہیں ۔ لیکن ان تمام مسائل کے باوجود اردو شعری ادب کی تخلیق جاری و ساری ہے اور اردو شاعری کو دنیا کی کسی بھی شاعری کے مقابل فخر سے رکھا جاسکتا ہے ۔ ہم اپنی سہل پسندی کے سبب اگر ان اصولوں سے چھٹکارے کی بات کریں تو یہ ایک الگ مسئلہ ہے ۔
    اس بات سے مین صدفیصد متفق ہوں کہ عروض کی تسہیل ضروری ہے ۔ دور ازکار اصطلاحات سے چھٹکارا بھی ضروری ہے ۔ لیکن یہ ایک الگ موضوع ہے جو تفصیل طلب ہے ۔ بشرطِ فرصت اس پر عنقریب کچھ لکھنے کا ارادہ ہے ۔
    راحیل بھائی ، اتنی عمدگی سے تقطیع کے اس اصول کو بیان کرنے کیلئے داد و تحسین آپ کا حق ہے ۔ آپ کا قلم بہت طاقتور ہے ۔ اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ !!!

     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  14. راحیل فاروق

    راحیل فاروق محفلین

    مراسلے:
    1,323
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Psychedelic
    بہت بہت شکریہ، بھائی۔
    ظہیر بھائی کی وقیع آرا کے بعد دو باتیں کم از کم مجھ پر روزِ روشن کی طرح عیاں ہو گئی ہیں۔
    ایک تو یہ کہ مجھ جیسے لوگوں کے لیے ان کا وجود نعمتِ غیرمترقبہ سے کم نہیں۔ ہمیں ان سے تمتع کی ضرورت ہے، اس سے پہلے کہ مشرقی علوم کا یہ دریا جس کا رخ وقت نے مغرب کی طرف موڑ دیا ہے، امریکہ کے میدانوں میں بکھر کر پایاب ہو جائے۔
    دوسری بات یہ کہ مجھ میں اور میرے شفیق برادرِ بزرگ میں مزاج کی ایک بڑی خلیج موجود ہے۔ بھائی غالباً روایت کو درایت پر ترجیح دیتے ہیں اور اکابرینِ سلف کی باتوں کو اس احترام اور عقیدت کا سزاوار گردانتے ہیں جس کا متحمل مجھ جیسا بدعتی اور متشکک نہیں ہو سکتا۔ میری طبیعت ہنوز تفہیم کو تسلیم پر فائق رکھتی ہے اور حکم ماننے سے تب تک گریز کرتی ہے جب تک اس کی مصلحت واضح نہ ہو جائے۔
    ٹریفک کے قوانین کی پابندی واقعی سڑک پر نکلتے ہی لازم ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر آپ ان قوانین کی مصلحت اور فوائد کو کسی حد تک سمجھ جائیں تو یہ پابندی سہل بھی ہو جاتی ہے۔ بلکہ کہنا چاہیے کہ پابندی معلوم ہی نہیں ہوتی اور آپ کی اپنی بقا اور خیر اس سے مشروط ہونے کا علم آپ کو خود ابھارنے لگتا ہے کہ آپ بغیر سزا کے خوف کے اپنی منشا پر ایسا ہی کریں جیسا قانون کا تقاضا ہے۔ آخر اپنا فائدہ کون نہیں چاہتا؟
    یہ تو عام باتیں ہیں۔ ہم جیسے خرد پرستوں نے تو مذہب کو بھی نہیں بخشا۔ لیکن یہ مذہبی احکامات پر ایسے تابڑ توڑ حملے ہی تھے جن کے باعث علمِ کلام وجود میں آیا۔ متکلمین نے دین کے اعتقادات اور شعائر میں چھپے ہوئے فائدے اور خوبیاں نکال نکال کر دکھانی شروع کیں۔ اس سے جہاں ہمارے سینوں کی آگ ٹھنڈی پڑ گئی وہاں اور بہت سوں کو بھی فائدہ پہنچا۔ جناب ابراہیمّ نے بھی تو اپنے رب سے یہ کہہ کر حجت طلب کی تھی کہ میں مانتا ضرور ہوں مگر اطمینانِ قلب کے لیے مجھے اس سے بڑھ کر چاہیے۔
    ہر سچا علم ایک افادہ رکھتا ہے۔ اور عالم تب تک محض مبلغ ہوتا ہے جب تک وہ اس افادے سے آگاہ نہیں ہوتا۔ میں عروض کا مبلغ نہیں بننا چاہتا۔ بلکہ مجھے یقین ہے کہ اس کا ہر اصول کسی نہ کسی فائدے اور مصلحت کے تحت مرتب کیا گیا ہے۔ اس فائدے کو معلوم کرنا چاہیے تاکہ میرے دل کو اطمینان اور یقین کو استحکام حاصل ہو۔ ورنہ زبردستی کی حکم رانی جلد مجھے عروض سے متنفر کر دے گی۔
    کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ظہیر بھائی جو قدم علمائے عروض کی اتباع میں اٹھاتے ہیں، میں کوشش کرتا ہوں کہ وہی قدم اپنی عقل اور یقین کی روشنی میں اٹھاؤں۔ اصول ظہیر بھائی خوب جانتے ہیں:
    اسی اصول کے تحت میں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ تقطیع کا زیرِ بحث رویہ اپنانے میں فائدے سے زیادہ نقصان ہے۔ کیونکہ جائز و ناجائز کا حکم لگانے سے نوجوانوں کی سرکش عقل قابو میں نہیں آتی۔
    ایک نئی بات بھی مجھے معلوم ہوئی ہے۔
    میری بدقسمتی کہ میں نے عروض پر بحر الفصاحت کے علاوہ کوئی اور مستند کتاب غور سے نہیں پڑھی۔ میں بیتاب ہوں کہ بھائی ان اصولوں کو مفصل طور پر بیان فرمائیں۔ مجھے یقین ہے کہ ان اصولوں کی مصلحت اور مفاد بھی تدبر و تامل سے معلوم کیا جا سکے گا۔ پھر جب ان مصالح و مفادات کی روشنی میں اصولوں پر بات کی جائے گی تو ان کی پیروی پابندی نہین بلکہ عین اقتضائے فطرت معلوم ہو گی۔
    یہ بہت اچھی بات ہو گی۔ مجھے یقین ہے کہ آپ تسہیل میں وہ خطا نہیں کھائیں گے جو اکثر معاصر عروضیوں نے کھائی ہے۔
    اگر آپ جائزہ لیں تو عروض پر آج کل چھپنے والی کتابوں میں آسانی کے نام پر بہت سی اصطلاحات سے پیچھا تو چھڑا لیا گیا ہے مگر ان اصطلاحات کے ترک سے مہارتِ تامہ کے خواہش مندوں کے لیے مسائل بھی پیدا ہوئے ہیں۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ علما نے عموماً جو اصطلاحات مقرر کی ہیں وہ بامقصد ہیں اور اس لیے رائج ہوئی ہیں کہ ان کے بغیر فنِ عروض کی نزاکتوں اور باریکیوں کا ابلاغ ممکن نہیں۔ مثال کے طور پر حروفِ قافیہ کی جو قسمیں مقرر کی گئی ہیں اور ان کے نام رکھے گئے ہیں، وہ مبتدی کے لیے تو یقیناً تکلیفِ مالایطاق ہیں لیکن جویندگانِ کمال کے لیے بڑی نعمت ہیں۔ اگر اصطلاحات محکم نہ ہوتیں تو سیکھنے کا عمل لازماً ابہام یا پھر طوالت کا شکار ہو جاتا اور نزاعات بھی اس سے کہیں زیادہ ہوتے جتنے کہ اب ہیں۔
    میری خواہش پوچھیے تو وہ اصل میں صرف اس قدر ہے کہ اردو کا ایک اپنا نظامِ عروض ہونا چاہیے جو عربی، فارسی، ہندی اور انگریزی وغیرہ زبانوں سے مناسب طور پر استفادہ کرتے ہوئے تشکیل دیا جائے۔ یہ نظام ان مسائل سے صرفِ نظر کرے جن کا اردو سے تعلق نہیں اور ان مسائل کے بہتر حل پیش کرے جو اردو شعرا کو پیش آ سکتے ہیں۔ میں مکرر کہوں گا کہ یہ کوشش مشاورت کی فضا میں ہو تو بہتر ہے۔ مل کر کیے جانے والے کام میں زیادہ سے زیادہ مسائل، زیادہ سے زیادہ تفہیمات و تعبیرات، زیادہ سے زیادہ حل اور زیادہ سے زیادہ سہولتیں سامنے آئیں گی۔ اگر مشترکہ کوشش بوجوہ ناممکن بھی ہو تو اچھی بات یہ ہو گی کہ فردِ واحد کے کام کو محاکمے کے لیے دیانت دار اور مخلص علما کے سپرد ایک دفعہ ضرور کیا جائے۔ لیکن اردو اور اہلِ اردو کے موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے شاید میرے لیے اپنی اس خواہش کو خواب کہنا زیادہ مناسب ہو گا! :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1

اس صفحے کی تشہیر