تحریری مقابلہ: نتائج اور نیا موضوع

ماوراء

محفلین
السلام علیکم،

١٩ نومبر سے محفل پر ایک تحریری مقابلہ شروع کیا گیا تھا۔ جس کا موضوع تھا۔“میڈیا کے آجکل کے نوجوان پر کیا منفی اثرات پڑ رہے ہیں؟ اور ایسی صورتِ حال میں ہماری کیا ذمہ داری بنتی ہے؟ “ جس میں ہمارے نو ساتھیوں نے شرکت کی۔ اور کچھ ارکان نے ڈیڈ لائن کے بعد بھی مضمون پوسٹ کیے لیکن تب ووٹنگ کا آغاز ہو چکا تھا۔ جس کی وجہ سے انہیں مقابلے میں شریک نہیں کیا جا سکا۔ امید ہے کہ نئے موضوع پر بھی ان کی تحاریر پڑھنے کو ملیں گی۔
جیسا کہ کہا گیا تھا کہ تحریری مقابلے کا فیصلہ عام رائے شماری اور پینل کے فیصلے سے کیا جائے گا اور ان نتائج میں عام رائے شماری کا بیس فیصد اور پینل کا اسی فیصد کردار ہو گا۔ پینل میں نبیل بھائی، محمد وارث، ابنِ سعید، سیدہ شگفتہ اور ماوراء شامل تھے۔

اس طرح نتائج کچھ یوں رہے۔

نمبر شمار|شرکاء|عام رائے شماری (5 نمبر)|پینل (16 نمبر)|مجموعی نمبرات
1|ابو شامل|2.13|2.00|4.13
2|تعبیر|0.15|3.00|3.15
3|حجاب|0.22|2.50|2.72
4|سارہ پاکستان|1.47|2.50|3.97
5|طلحہ|0.00|0.00|0.00
6|عمران حسینی|0.00|0.00|0.00
7|عندلیب|0.96|6.00|6.96
8|فہیم|0.07|0.00|0.07
9|گرو جی|0.00|0.00|0.00

اس طرح پہلے نمبر پر عندلیب رہیں، دوسرے نمبر پر ابو شامل، تیسرے نمبر پر سارہ پاکستان، چوتھے نمبر پر تعبیر اور پانچویں نمبر پر حجاب۔

عندلیب
1stks2.gif

ابوشامل
2ndhp2.gif

سارہ پاکستان
3rdjc9.gif


آپ تمام حصہ لینے والوں کی تحاریر یہاں پڑھ سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ اس سارے سلسلے میں سعود بھیا کی رہنمائی کے لیے شکرگزار ہوں۔ امید ہے آئندہ بھی رہنمائی کرتے رہیں گے۔ اس کے علاوہ مقابلے میں تمام حصہ لینے والوں کا اور ووٹ دینے والوں کا بھی بہت شکریہ۔


اب آتے ہیں اگلے موضوع کی طرف۔

"مروجہ جہیز ایک لعنت"
معاشرے میں جہیز دینے یا مانگنے کا رواج شروع سے ہی رہا ہے، اور اسے معاشرے کے لیے ایک لعنت قرار دے دیا گیا ہے۔ تو آئیں ۔۔۔ اس موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔ آپ اپنے مضمون میں درج ذیل باتوں کا احاطہ کر سکتے ہیں۔

- وہ کیا وجوہات ہیں کہ معاشرے میں جہیز ایک لعنت کی شکل اختیار کر گیا ہے۔
- بڑھ چڑھ کر اس کی خانہ پری یعنی دکھاوا یا رسم و رواج کے تئیں عدم احتجاج
- جہیز کی مانگ یعنی لالچ
- بیٹی کو جائداد میں حصہ نہ دینا جو کہ جہیز لئے اور دیے جانے کا سب سے بڑا محرک ہے۔ نیز طلاق یا دوسری غیر موزوں حالات میں بیٹی کو بھابھیوں اور بھائیوں کے دروازے پر لا پٹختا ہے جو کہ اس کا جائز حق غصب کرنے کے بعد بھی اس پر احسان جتاتے ہیں۔
- جہیز جیسے اخراجات کے بعد بارات وغیرہ پر بےجا اخراجات یعنی مزید مسائل
- مزید جہیز کی شرعی حیثیت یا مذہب اس بارے میں کیا کہتا ہے؟
-آخر میں آپ کی تجاویز : جہیز سے چھٹکارا کیسے پایا جا سکتا ہے یا نہیں پایا جا سکتا تو کیوں نہیں؟

مضامین لکھنے کے بعد اس فورم میں پوسٹ کریں۔ مضمون بھیجنے کی آخری تاریخ 20 جنوری 2009 ہے۔ آپ کے پاس دس دن ہیں۔ اس کے بعد ووٹنگ اور پینل کے فیصلے کے بعد بہترین مضامین کا فیصلہ کیا جائے گا۔

یاد رکھیں:
- موضوع پر لکھتے ہوئے اپنے مہذب ہونے کا ثبوت دیں اور مضامین پر غیر ضروری بحث سے احتراز کریں۔
- موضوع پر لکھتے ہوئے صرف کسی ایک ملک یا معاشرے پر زور نہ دیں۔
- موضوع کے مطابق لکھیں۔ اگر آپ ایک چھوٹے سے مضمون میں بات کو سمجھا سکتے/سکتی ہیں تو ایک مختصر مضمون بھی کافی ہو گا۔
- بہت لمبی گفتگو سے احتراز کریں، تاکہ دوسروں کے لیے اکتا دینے والا موضوع نہ ہو جائے۔ اور لوگ ووٹ دیتے وقت آسانی سے پڑھ سکیں۔
 

نبیل

تکنیکی معاون
عندلیب کو بہت مبارک ہو کہ وہ سب سے زیادہ "نمبرات" لے کر مقابلے میں اول آئی ہیں۔ باقی دوستوں کے مضامین بھی نہایت عمدہ تھے اور ان میں بہترین کا انتخاب کرنا واقعی کافی مشکل تھا۔ ماوراء کا بھی شکریہ کہ انہوں نے اتنا اچھا سلسلہ شروع کیا اور اسے بخوبی تکمیل تک پہنچایا۔ میں امید کرتا ہوں کہ تمام دوست اگلے موضوع پر بھی اسی طرح اچھے مضامین پوسٹ کریں گے۔
 

بلال

محفلین
میری طرف سے عندلیب، ابو شامل اور سارہ پاکستان کو بہت بہت مبارک ہو۔۔۔ یوں ہی لکھتے رہیں اور ہمیں اچھی اچھی تحاریر سے نوازتے رہیں۔
اللہ تعالٰی آپ سب کو خوش رکھے۔۔۔آمین
ویسے نئے موضوع کی تحریر پوسٹ کہاں کرنی ہیں اور کیا دوسرا رائے شماری سے پہلے اسے پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟
 

arifkarim

معطل
مبارک ہو عندلیب۔ زور قلم جاری رکھو۔ انعقادی ٹیم سے ایک گزارش ہے کہ پوائنٹس کا فیصلہ اگر 50،50 رکھا جاتا تو بھی اچھا تھا۔ یعنی پوائنٹس 50 فیصد عام ووٹنگ اور باقی 50 فیصد پینل کے اراکین سے لئے جاتے۔ خیر 80-20 کا تناسب بھی ٹھیک ہے۔
 

ماوراء

محفلین
ویسے نئے موضوع کی تحریر پوسٹ کہاں کرنی ہیں اور کیا دوسرا رائے شماری سے پہلے اسے پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟
عارف نے لنک دیا ہے، اور پہلی پوسٹ میں بھی دیا ہے۔ مضامین کے ادرات میں آپ پوسٹ کر کے وہاں اپنے مضمون میں تدوین کر سکتے ہیں۔ اور منتظم کی منظوری کے بعد دکھائی دے گا۔ (اگر میں صحیح کہہ رہی ہوں تو۔)
اس کے علاوہ آخری تاریخ کو سب کے مضامین "آپ کی تحریریں" فورم میں منتقل کر دئیے جائیں اور ووٹنگ کا سلسلہ شروع ہو گا۔
 

محمد وارث

لائبریرین
میری طرف سے بھی اس مقابلے میں حصہ لینے والے سب اراکین اور بالخصوص، عندلیب ابوشامل اور سارہ پاکستان کو بہت مبارک ہو!

ماوراء کا شکریہ اس سلسلے کو کامیاب بنانے اور آگے بڑھانے کیلیئے!
 

ظفری

لائبریرین
عندلیب بہن کو بہت بہت مبارک ہو ۔
اسکے ساتھ سعود اور سارہ پاکستان بھی مبارک باد قبول کریں کہ وہ بھی اس دوڑ میں آخر تک ثابت قدم رہے ۔ یعنی اول ، دوم اور سوئم کی گیند ان تینوں کے ہی کورٹ میں پھدکتی رہی ۔ ;)
 
ماوراء بٹیا کے بیانات میں تھوڑی سی تبدیلی کی جرات کروں گا۔

عام رائے شماری اور پینل کے نمبرات کا تناسب 20 اور 80 فیصد کے بجائے 25 اور 75 فیصد کے قریب ہے یعنی 5 نمبرات عام رائے شماری کے اور 16 پینل کے۔ نیز پینل کے ارکان میں میں شامل نہیں‌تھا۔
 
تمام شرکاء مبارکباد کے مستحق ہیں۔ اور ظفری بھائی کے پیغام مین تبدیلی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ابو شامل کے بجائے میرا نام لکھ دیا ہے۔
 

شمشاد

لائبریرین
یہ بہت ہی اچھا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ اور اس کے شرکاء یقیناً مبارک باد کے مستحق ہیں۔
میری طرف سے جیتنے والے اراکین کو خصوصی اور اس مقابلے میں حصہ لینے والوں کو عمومی مبارک باد۔
 

مغزل

محفلین
السلام علیکم،

١٩ نومبر سے محفل پر ایک تحریری مقابلہ شروع کیا گیا تھا۔ جس کا موضوع تھا۔“میڈیا کے آجکل کے نوجوان پر کیا منفی اثرات پڑ رہے ہیں؟ اور ایسی صورتِ حال میں ہماری کیا ذمہ داری بنتی ہے؟ “ جس میں ہمارے نو ساتھیوں نے شرکت کی۔ اور کچھ ارکان نے ڈیڈ لائن کے بعد بھی مضمون پوسٹ کیے لیکن تب ووٹنگ کا آغاز ہو چکا تھا۔ جس کی وجہ سے انہیں مقابلے میں شریک نہیں کیا جا سکا۔ امید ہے کہ نئے موضوع پر بھی ان کی تحاریر پڑھنے کو ملیں گی۔
جیسا کہ کہا گیا تھا کہ تحریری مقابلے کا فیصلہ عام رائے شماری اور پینل کے فیصلے سے کیا جائے گا اور ان نتائج میں عام رائے شماری کا بیس فیصد اور پینل کا اسی فیصد کردار ہو گا۔ پینل میں نبیل بھائی، محمد وارث، ابنِ سعید، سیدہ شگفتہ اور ماوراء شامل تھے۔

اس طرح نتائج کچھ یوں رہے۔

نمبر شمار|شرکاء|عام رائے شماری (5 نمبر)|پینل (16 نمبر)|مجموعی نمبرات
1|ابو شامل|2.13|2.00|4.13
2|تعبیر|0.15|3.00|3.15
3|حجاب|0.22|2.50|2.72
4|سارہ پاکستان|1.47|2.50|3.97
5|طلحہ|0.00|0.00|0.00
6|عمران حسینی|0.00|0.00|0.00
7|عندلیب|0.96|6.00|6.96
8|فہیم|0.07|0.00|0.07
9|گرو جی|0.00|0.00|0.00

اس طرح پہلے نمبر پر عندلیب رہیں، دوسرے نمبر پر ابو شامل، تیسرے نمبر پر سارہ پاکستان، چوتھے نمبر پر تعبیر اور پانچویں نمبر پر حجاب۔

عندلیب
1stks2.gif

ابوشامل
2ndhp2.gif

سارہ پاکستان
3rdjc9.gif


آپ تمام حصہ لینے والوں کی تحاریر یہاں پڑھ سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ اس سارے سلسلے میں سعود بھیا کی رہنمائی کے لیے شکرگزار ہوں۔ امید ہے آئندہ بھی رہنمائی کرتے رہیں گے۔ اس کے علاوہ مقابلے میں تمام حصہ لینے والوں کا اور ووٹ دینے والوں کا بھی بہت شکریہ۔


اب آتے ہیں اگلے موضوع کی طرف۔

"جہیز ایک لعنت"
معاشرے میں جہیز دینے یا مانگنے کا رواج شروع سے ہی رہا ہے، اور اسے معاشرے کے لیے ایک لعنت قرار دے دیا گیا ہے۔ تو آئیں ۔۔۔ اس موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔ آپ اپنے مضمون میں درج ذیل باتوں کا احاطہ کر سکتے ہیں۔

- وہ کیا وجوہات ہیں کہ معاشرے میں جہیز ایک لعنت کی شکل اختیار کر گیا ہے۔
- بڑھ چڑھ کر اس کی خانہ پری یعنی دکھاوا یا رسم و رواج کے تئیں عدم احتجاج
- جہیز کی مانگ یعنی لالچ
- بیٹی کو جائداد میں حصہ نہ دینا جو کہ جہیز لئے اور دیے جانے کا سب سے بڑا محرک ہے۔ نیز طلاق یا دوسری غیر موزوں حالات میں بیٹی کو بھابھیوں اور بھائیوں کے دروازے پر لا پٹختا ہے جو کہ اس کا جائز حق غصب کرنے کے بعد بھی اس پر احسان جتاتے ہیں۔
- جہیز جیسے اخراجات کے بعد بارات وغیرہ پر بےجا اخراجات یعنی مزید مسائل
- مزید جہیز کی شرعی حیثیت یا مذہب اس بارے میں کیا کہتا ہے؟
-آخر میں آپ کی تجاویز : جہیز سے چھٹکارا کیسے پایا جا سکتا ہے یا نہیں پایا جا سکتا تو کیوں نہیں؟

مضامین لکھنے کے بعد اس فورم میں پوسٹ کریں۔ مضمون بھیجنے کی آخری تاریخ 11 جنوری 2009 ہے۔ آپ کے پاس دس دن ہیں۔ اس کے بعد ووٹنگ اور پینل کے فیصلے کے بعد بہترین مضامین کا فیصلہ کیا جائے گا۔

یاد رکھیں:
- موضوع پر لکھتے ہوئے صرف کسی ایک ملک یا معاشرے پر زور نہ دیں۔
- موضوع کے مطابق لکھیں۔ اگر آپ ایک چھوٹے سے مضمون میں بات کو سمجھا سکتے/سکتی ہیں تو ایک مختصر مضمون بھی کافی ہو گا۔
- بہت لمبی گفتگو سے احتراز کریں، تاکہ دوسروں کے لیے اکتا دینے والا موضوع نہ ہو جائے۔ اور لوگ ووٹ دیتے وقت آسانی سے پڑھ سکیں۔

بہت شکریہ ماورا جی ۔
عندلیب ، ابو شامل اور سارہ پاکستان کو دلی مبارکباد۔

"جہیز ایک لعنت"
کی ضمن میں عرض ہے کہ جہیز سرکار علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی بیٹی کو دیا تھا۔ سو اب آپ خود سوچ لیں یہ عنوان کیسا ہے ۔
تکی بے تکی باتیں‌کر جاتا ہوں ۔۔ مجھے معاف کیجئے گا۔
 
مغل بھیا کم از کم مجھے اطلاع نہیں تھی کہ ہمارا ایک طبقہ اسے جہیز کہہ کر اس کے لئے جواز وہاں سے لاتا ہے۔ مین تو اب تک یہی جانتا تھا کہ اس مسئلہ پر اجماع امت ہے۔

خیر مین اس موضوع پر آپ سے ذاتی پیغامات کے ذریعہ گفتگو کرنا چاہوں گا۔ ورنہ اوپن فورم میں تو بات کا بتنگڑ بن کر رہ جائے گا۔
 

عندلیب

محفلین
آپ تمام کا بہت بہت شکریہ۔ مجھے تو امید نہیں تھی کہ اول انعام یافتہ قرار دیا جائے گا۔پینل کے معزز اراکین اور محترم ووٹرز کا بھی بہت بہت شکریہ۔
ابوشامل بھائی اور سارہ بہن کو بھی میری طرف سے خصوصی مبارکباد قبول ہو۔ مقابلے میں حصہ لینے والے تمام اراکین بھی مبارکباد کے مستحق ہیں۔

جہاں تک نئے مقابلے کے عنوان کا مسئلہ ہے تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دئے گئے جہیز کی بات تو ایک ایک مسلمان کو معلوم ہے۔
جس جہیز کا مقابلے کے عنوان میں ذکر کیا گیا وہ غالباً دورِ حاضر میں رائج اعتدال کی راہ سے کوسوں دور ہٹے جہیز کی طرف اشارہ ہے۔
لہذا عنوان میں ذرا سی تبدیلی کر کے "مروجہ جہیز- ایک لعنت" کر دیا جائے تو بہتر ہوگا شائد۔
 

آبی ٹوکول

محفلین
جہاں تک نئے مقابلے کے عنوان کا مسئلہ ہے تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دئے گئے جہیز کی بات تو ایک ایک مسلمان کو معلوم ہے۔
جس جہیز کا مقابلے کے عنوان میں ذکر کیا گیا وہ غالباً دورِ حاضر میں رائج اعتدال کی راہ سے کوسوں دور ہٹے جہیز کی طرف اشارہ ہے۔
لہذا عنوان میں ذرا سی تبدیلی کر کے "مروجہ جہیز- ایک لعنت" کر دیا جائے تو بہتر ہوگا شائد۔
السلام علیکم پہلے تو میں مقابلہ میں حصہ لینے والے تمام اراکین کو مبارکباد دوں گا کہ جن کہ توسط سے ہمیں اتنے مفید کلمات پڑھنے کو ملے اور اسکے بعد کامیاب قرار پانے والے تمام اراکین کو میری خصوصی مبارکباد قبول ہو اور آخر میں عندلیب بہن نے جو تجویز دی ہے نئے موضوع کہ عنوان کہ اعتبار سے اسکی بھرپور تائید کرتا ہوں ۔ ۔
 

مغزل

محفلین
بہت شکریہ آبی بھیا اور عندلیب بہنا ۔ سدا سلامت رہیں ۔
(ورنہ سعود بھائی کے مراسلے سے میں تو سمجھا تھا کہ اب شروع ہوئی کہ تب شروع ہوئی مذہبی بحث)
 

محمد وارث

لائبریرین
بہت شکریہ آبی بھیا اور عندلیب بہنا ۔ سدا سلامت رہیں ۔
(ورنہ سعود بھائی کے مراسلے سے میں تو سمجھا تھا کہ اب شروع ہوئی کہ تب شروع ہوئی مذہبی بحث)

وہ تو اپنے سعود صاحب اپنی روایتی خدا ترسی سے کام لے گئے وگرنہ آپکے تو اس مراسلے سے بھی یہی لگتا ہے کہ آپ توپ و تفنگ سے لیس، کمر بستہ، مع لشکر، کسی بھی میدان میں، چومکھی کیلیے ہمہ وقت تیار بیٹھے ہیں۔ ;)
 
Top