لالہ رخ

محفلین
حوا کی بیٹی !!! اگر مظالم کا شکار ہوتی ہے تو اپنی وجہ سے ہی اور حیرت انگیز طور پر میں ان تمام واقعات میں عورت کو ہی ظالم سمجھتی ہوں۔ عزت اور احترام رشتوں کا برقرار رہنا چاہیئے اور میں تو یہ کہتی رہ گئی پچھلے دس سال سے کبھی گھر والوں کو تو کبھی دوستوں کو کہ خدارا صنف کی تفریق کے بغیر رشتوں کا احترام کریں ایسا کریں گے تو ہی معاشرہ تسلسل میں آئے گا۔ عورت ہی حوا کی بیٹی کو یہ سکھاتی ہے کہ '' اب اپنے ابو سے بات نہ کرنا'' اچھا چلو آئندہ احتیاط کرو اور اب بھائی آئے تو یہ ذکر نہ چھیڑناوغیرہ وغیرہ لیکن یہی عورت حوا کی بیٹٰی کی بات کو سمجھے اور آدم کے بیٹے کو خود سمجھائے تو معاملات کیسے نہ سلجھیں گے ۔ ایک عورت ''آدم کے بیٹے'' کو بھڑکا کر خاندان بھر میں آگ لگا سکتی ہے ، برسوں کی محبتوں ، محنتوں کو لمحوں میں غارت کر سکتی ہے، تاج و تخت بدل سکتی ہے تو معاشرے میں سوچ میں تبدیلی بھی لاسکتی ہے۔ یہ جو ہمارے معاشرے میں یہ جو ''مرادنگی'' '' غیرت'' نام کی چیزیں ہیں نا یہ بنائیں تو یقینا مرد نے ہی اپنے آپ کو سپیرئر بتانے کے لیے ہیں اور ان قبولیت کی مہر ثبت کرنے والی بھی عورتیں ۔ باقی میں آکر لکھتی ہوں ابھی ذرا کلاس سے ہو آؤں ۔
 
حوا کی بیٹی !!! اگر مظالم کا شکار ہوتی ہے تو اپنی وجہ سے ہی اور حیرت انگیز طور پر میں ان تمام واقعات میں عورت کو ہی ظالم سمجھتی ہوں۔ عزت اور احترام رشتوں کا برقرار رہنا چاہیئے اور میں تو یہ کہتی رہ گئی پچھلے دس سال سے کبھی گھر والوں کو تو کبھی دوستوں کو کہ خدارا صنف کی تفریق کے بغیر رشتوں کا احترام کریں ایسا کریں گے تو ہی معاشرہ تسلسل میں آئے گا۔ عورت ہی حوا کی بیٹی کو یہ سکھاتی ہے کہ '' اب اپنے ابو سے بات نہ کرنا'' اچھا چلو آئندہ احتیاط کرو اور اب بھائی آئے تو یہ ذکر نہ چھیڑناوغیرہ وغیرہ لیکن یہی عورت حوا کی بیٹٰی کی بات کو سمجھے اور آدم کے بیٹے کو خود سمجھائے تو معاملات کیسے نہ سلجھیں گے ۔ ایک عورت ''آدم کے بیٹے'' کو بھڑکا کر خاندان بھر میں آگ لگا سکتی ہے ، برسوں کی محبتوں ، محنتوں کو لمحوں میں غارت کر سکتی ہے، تاج و تخت بدل سکتی ہے تو معاشرے میں سوچ میں تبدیلی بھی لاسکتی ہے۔ یہ جو ہمارے معاشرے میں یہ جو ''مرادنگی'' '' غیرت'' نام کی چیزیں ہیں نا یہ بنائیں تو یقینا مرد نے ہی اپنے آپ کو سپیرئر بتانے کے لیے ہیں اور ان قبولیت کی مہر ثبت کرنے والی بھی عورتیں ۔ باقی میں آکر لکھتی ہوں ابھی ذرا کلاس سے ہو آؤں ۔
کیا بات لکھ دی ہے
 
امجد میانداد بھائی کی بات درست ہے
اس سلسلے میں خواتین کو بچپن سے ہی اعتماد دینے کی ضرورت ہے۔
جس طرح ہمارے معاشرے میں ایسے کسی سانحے کے وقت الزام عورت پر ہی ڈال دیا جاتا ہے یہاں تک کہ اپنی "جھوٹی عزت" کی خاطر اس کی جان بھی لے لی جاتی ہے۔ایسے معاشرتی رویوں کے درمیان خواتین سے اس بات کی توقع رکھنا کہ وہ اپنے گھر والوں کو خود پر ہونے والے کسی ظلم کے بارے میں فوراَ بتائیں،خام خیالی ہے۔
80 فیصد سے ذائد خواتین کبھی اپنی زبان نہیں کھولا کرتیں(کم از کم اپنے مردوں کے سامنے تو)
اور کیسے کریں؟؟
انہیں اپنی جان کا خطرہ جو ہوتا ہے۔
بالکل ٹھیک کہا محسن بھائی آپ نے،
میں اسی موضوع پر ایک پانچ روزہ ٹریننگ لے رہا ہوں اس میں جو اعداد و شمار دیکھے تو حیران رہ گیا کہ بچوں کے ساتھ زیادتی میں سب سے زیادہ وہ کیس رپورٹ ہوئے ہیں جن میں مجرم انتہائی قابلِ اعتبار شخصیت یا محرم رشتہ دار تھا۔
میں انشاءاللہ محفل میں بہت جلد ٹریننگ کا مواد بھی شریک کروں گا۔
 
حوا کی بیٹی !!! اگر مظالم کا شکار ہوتی ہے تو اپنی وجہ سے ہی اور حیرت انگیز طور پر میں ان تمام واقعات میں عورت کو ہی ظالم سمجھتی ہوں۔ عزت اور احترام رشتوں کا برقرار رہنا چاہیئے اور میں تو یہ کہتی رہ گئی پچھلے دس سال سے کبھی گھر والوں کو تو کبھی دوستوں کو کہ خدارا صنف کی تفریق کے بغیر رشتوں کا احترام کریں ایسا کریں گے تو ہی معاشرہ تسلسل میں آئے گا۔ عورت ہی حوا کی بیٹی کو یہ سکھاتی ہے کہ '' اب اپنے ابو سے بات نہ کرنا'' اچھا چلو آئندہ احتیاط کرو اور اب بھائی آئے تو یہ ذکر نہ چھیڑناوغیرہ وغیرہ لیکن یہی عورت حوا کی بیٹٰی کی بات کو سمجھے اور آدم کے بیٹے کو خود سمجھائے تو معاملات کیسے نہ سلجھیں گے ۔ ایک عورت ''آدم کے بیٹے'' کو بھڑکا کر خاندان بھر میں آگ لگا سکتی ہے ، برسوں کی محبتوں ، محنتوں کو لمحوں میں غارت کر سکتی ہے، تاج و تخت بدل سکتی ہے تو معاشرے میں سوچ میں تبدیلی بھی لاسکتی ہے۔ یہ جو ہمارے معاشرے میں یہ جو ''مرادنگی'' '' غیرت'' نام کی چیزیں ہیں نا یہ بنائیں تو یقینا مرد نے ہی اپنے آپ کو سپیرئر بتانے کے لیے ہیں اور ان قبولیت کی مہر ثبت کرنے والی بھی عورتیں ۔ باقی میں آکر لکھتی ہوں ابھی ذرا کلاس سے ہو آؤں ۔
بالکل ٹھیک کہا اقلیما :)، ضرورت مناسب تربیت کی ہے سبھی متعلقین کی چاہے ہو عورت ہو یا مرد کے بچوں کے سلسلے میں ذمہ داری کیسے ادا کی جائے حقیقی معنوں میں ان کو اس قابل کیسے بنایا جائے کہ وہ اپنی پریشانیوں اور اپنے ساتھ پیش آنے والے ناروا سلوک کا بارے میں والدین کو اعتماد سے بتا سکیں۔
 

لالہ رخ

محفلین
بالکل ٹھیک کہا اقلیما :)، ضرورت مناسب تربیت کی ہے سبھی متعلقین کی چاہے ہو عورت ہو یا مرد کے بچوں کے سلسلے میں ذمہ داری کیسے ادا کی جائے حقیقی معنوں میں ان کو اس قابل کیسے بنایا جائے کہ وہ اپنی پریشانیوں اور اپنے ساتھ پیش آنے والے ناروا سلوک کا بارے میں والدین کو اعتماد سے بتا سکیں۔
اقلیما!!! یہ کون ہے؟ کیا ہے؟ کہاں ہے؟ ذرا اس پر بھی روشنی ڈالیں ۔ کیوں کہ مجھے اس کا مطلب بھی نہیں پتا۔
 
اقلیما!!! یہ کون ہے؟ کیا ہے؟ کہاں ہے؟ ذرا اس پر بھی روشنی ڈالیں ۔ کیوں کہ مجھے اس کا مطلب بھی نہیں پتا۔
حضرت آدم اور حوا کی بیٹی، آبیل اور قابیل کی بہن جس کی وجہ سے پھر قتل ہوا اس کا نام "اقلیما" یا "Luluwa" تھا۔
 

خرم شہزاد خرم

لائبریرین
میں نے اس مسئلے کا حل یہ نکالا ہے کہ پہلے بہنوں کے ساتھ دوستی کر لی، پھر بیگم کے ساتھ اور اب بیٹی کے ساتھ بھی دوستی کر رہا ہوں۔ آپ کی کچھ باتوں سے اختلاف ہے۔ مثلا دوست بنا لیں۔ میں یہ چاہتا ہوں کہ بہنوں کو اور بیٹیوں کو اتنی محبت اور عزت دوں، اتنی اہمیت دو کہ وہ باہر کسی سے نا ہمدردی حاصل کرنا چاہیں اور نا ہی باہر کسی کو دوست بنانے کی کوشش کریں۔ ہمارے ہاں لڑکیوں کو موبائل رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔ لیکن میری کوئی بھی بہن کسی بھی وقت مجھ سے میرا موبائل لے لیتی ہے اور میں اس کو منع نہیں کرتا ہوں۔ ہمارے ہاں نیٹ کا استعمال بھی غلط سمجھا جاتا ہے۔ لیکن میں اپنی بہنوں کو نیٹ کے استعمال کا طریقہ بتا رہا ہوں۔ میرا طریقہ کار یہ ہے کہ پہلے میں ان کی اچھی تربیت پر توجہ دیتا ہوں۔ پھر ان کو اچھا اور بُرا دیکھا دیتا ہوں اور پھر ان پر چھوڑ دیتا ہوں کہ وہ کیا منتخب کرتی ہیں۔ اچھے کے فائدے اور بُرے کے نقصان بھی بتا دیتا ہوں۔ آج الحمداللہ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میری بہنیں اور میری بیگم میرے ساتھ ہر اس مسئلہ پر بات کر لیتی ہیں جو عام طور پر نہیں کر سکتی
 
میں نے اس مسئلے کا حل یہ نکالا ہے کہ پہلے بہنوں کے ساتھ دوستی کر لی، پھر بیگم کے ساتھ اور اب بیٹی کے ساتھ بھی دوستی کر رہا ہوں۔ آپ کی کچھ باتوں سے اختلاف ہے۔ مثلا دوست بنا لیں۔ میں یہ چاہتا ہوں کہ بہنوں کو اور بیٹیوں کو اتنی محبت اور عزت دوں، اتنی اہمیت دو کہ وہ باہر کسی سے نا ہمدردی حاصل کرنا چاہیں اور نا ہی باہر کسی کو دوست بنانے کی کوشش کریں۔ ہمارے ہاں لڑکیوں کو موبائل رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔ لیکن میری کوئی بھی بہن کسی بھی وقت مجھ سے میرا موبائل لے لیتی ہے اور میں اس کو منع نہیں کرتا ہوں۔ ہمارے ہاں نیٹ کا استعمال بھی غلط سمجھا جاتا ہے۔ لیکن میں اپنی بہنوں کو نیٹ کے استعمال کا طریقہ بتا رہا ہوں۔ میرا طریقہ کار یہ ہے کہ پہلے میں ان کی اچھی تربیت پر توجہ دیتا ہوں۔ پھر ان کو اچھا اور بُرا دیکھا دیتا ہوں اور پھر ان پر چھوڑ دیتا ہوں کہ وہ کیا منتخب کرتی ہیں۔ اچھے کے فائدے اور بُرے کے نقصان بھی بتا دیتا ہوں۔ آج الحمداللہ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میری بہنیں اور میری بیگم میرے ساتھ ہر اس مسئلہ پر بات کر لیتی ہیں جو عام طور پر نہیں کر سکتی
میں آپ سے پوری طرح متفق ہوں بھائی جان۔ لیکن انہی باتوں کے ساتھ ساتھ اسکول، کالج اور یونیورسٹیز کے کلاس میٹ گروپس، سٹڈی گروپس اور فرینڈ گروپس کے ٹرینڈ کو یکسر نظر انداز کرنا درست نہ ہو گا۔ ہمارے ذہن میں یہ بات ہونی چاہئے کہ ایک تو بات چیت والے ہم جماعت اور ہم گروپس وغیرہ ہم سے چھپے نہ ہوں اور پھر ان کی اپنے طور پہ تسلی بھی ضروری ہے۔ اور یہ اپنی بیٹی یا بہن کو پوری طرح اعتماد میں لینے کے بعد ہی ہو سکتا ہے، جہاں پر آپ "ہمارے ہاں ایسا نہیں ہوتا" یا "یہ غلط ہے"،"ممکن نہیں" وغیرہ کہیں گے وہاں سے اعتماد کی جگہ رازداری گھسنا شروع ہو جائے گی۔
 

خرم شہزاد خرم

لائبریرین
میں آپ سے پوری طرح متفق ہوں بھائی جان۔ لیکن انہی باتوں کے ساتھ ساتھ اسکول، کالج اور یونیورسٹیز کے کلاس میٹ گروپس، سٹڈی گروپس اور فرینڈ گروپس کے ٹرینڈ کو یکسر نظر انداز کرنا درست نہ ہو گا۔ ہمارے ذہن میں یہ بات ہونی چاہئے کہ ایک تو بات چیت والے ہم جماعت اور ہم گروپس وغیرہ ہم سے چھپے نہ ہوں اور پھر ان کی اپنے طور پہ تسلی بھی ضروری ہے۔ اور یہ اپنی بیٹی یا بہن کو پوری طرح اعتماد میں لینے کے بعد ہی ہو سکتا ہے، جہاں پر آپ "ہمارے ہاں ایسا نہیں ہوتا" یا "یہ غلط ہے"،"ممکن نہیں" وغیرہ کہیں گے وہاں سے اعتماد کی جگہ رازداری گھسنا شروع ہو جائے گی۔
آپ کو جو ٹھیک لگتا ہے آپ اس کو ٹھیک سمجھتے ہیں اور جو مجھے ٹھیک لگتا ہے میں اس کو ٹھیک سمجھتا ہوں۔ ہاں میں اس بات کو مانتا ہوں کہ میری بہن یا میری بیٹی کی جب شادی ہو تو اس شادی میں ان کی مرضی شامل ہو چاہے پسند کی ہی ہو۔ لیکن میں کبھی برداشت نہیں کروں گا کہ میری بہن یا میری بیٹی مجھے یہ کہہ کے میں اس لڑکے کے ساتھ شادی کرنا چاہتی ہوں۔ کیونکہ اس بات کے لیے بہن یا ماں کو اعتماد میں لیا جانا چاہے اور ان کی مدد سے بات کرنی چاہے۔
ہمارے ہاں تعلیم کوایجوکیشن تو ہوتی ہے لیکن کالج میں خواتین کے کالج کو ہی اہمیت دی جاتی ہے نا کہ کو ایجوکیشن والے کالج وغیرہ میں۔ میرے نزدیک اعتماد یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کویہ تعلیم دیں کے ایسا کرنا درست ہے اور ایسا کرنا غلط ہے۔ اور ہم ان کو یہ اختیار دیتے ہیں کہ آپ جو منتخب کرو گے ہم وہی کریں گے اور ہماری تربیت ایسی ہو کہ ہمارے بچے اسی کو منتخب کریں جو ہم درست مانتے ہیں۔ یہاں ایک مثال دوں گا۔
تعلیمی میدان میں ہم کہتے ہیں ہمارا بچہ ڈاکٹر بنے لیکن اس کی ڈاکٹر بنے میں کوئی دلچسپی نہیں۔ اور ہم کہتے ہیں میری بچپن کی خواہش تھی کہ میرا بچہ ڈاکٹر بنے لیکن اس نے میری خواہش پوری نہیں کی۔ پھر کیا ہوتا ہے جب بچہ اپنے والدین کی جزباتی باتیں سنتا ہے تو ڈاکٹر بننے کی تیاری کرتا ہے اور پھر کیا ہوتا ہے۔ نا وہ ڈاکٹر بنتا ہے اور نا ہی وہ کچھ بنتا ہے جو وہ خود بننا چاہتا ہے۔ میرا طریقہ تعلیم کچھ مختلف ہے۔
اب میری خواہش یہ ہے کہ میری بیٹی ادیب بھی بنے اور کمپیوٹر فیلڈ میں ارفع کریم کی طرح نام بھی کمائے۔ اب میں نے جو مستقبل کی حکمت عملی بنائی ہے وہ کچھ یوں ہے۔ ابھی سے کہانیاں اور کمپیوٹر میں بچوں کے لیے سافٹ وئیر انسٹال کر دیے ہیں۔ جب خود پڑھتا ہوں تو بیٹی کو بھی ساتھ بٹھاتا ہوں تھوڑا سا اونچی آواز میں پڑھتا ہوں تاکہ اس تک آواز جائے۔ پھر جب کمپیوٹر پر کام کرتا ہوں تو اس کو گود میں لیے لیتا ہوں۔ جو کام کرتا ہوں اس کو ساتھ بتاتا ہوں یہ ایسے کرتے ہیں یہ ایسے کرتے ہیں۔ کمپیوٹر پر اے بی سی کے سافٹ وئیر ہیں جو بٹن دبائیں گے وہی آواز نکلے گی پھر وہ کی بورڈ پر ہاتھ مارتی ہے اور اے بی سی کی آواز آتی ہے۔
اب جب یہ پڑھنے لکھنے کے قابل ہو جائے گی تو انشاءاللہ میں اس سے روز کی ڈائری لکھواں گا اور کمپیوٹر پر ہوم ورک کروایا کروں گا۔ اس طرح اس کی پسند وہی ہو جائے گی جو میری ہو گی اور وہ انشاءاللہ وہی بنے گی جو میں اس کو بنانا چاہوں گا۔ یعنی ادیب اور کمپیوٹر انجینئر۔

جہاں تک اعتماد اور تربیت کی بات ہے تو جیسے ہم پہلی اینٹ لگائیں گے دیوار بھی ایسی ہی بنے گی اس لیے ہمیں شروع سے ہی تیاری کرنی ہوگی تاکہ جس چیز کو ہم درست کہیں ہماری اولاد بھی اس کو درست ہی مانیں۔ لیکن اس کو یہ بھی اعتماد دیا جائے کہ اگر ہم غلط کہہ رہے ہیں تو پھر اس انداز سے ہمیں سمجھائیں جس انداز سے ہم نے اس کو سمجھایا ہے نا کہ وہ نافرمانی پر اتر آئے

اور یاد رہے میری بیٹی ابھی 8 ماہ اور کچھ مہینے کی ہے
 
آپ کو جو ٹھیک لگتا ہے آپ اس کو ٹھیک سمجھتے ہیں اور جو مجھے ٹھیک لگتا ہے میں اس کو ٹھیک سمجھتا ہوں۔ ہاں میں اس بات کو مانتا ہوں کہ میری بہن یا میری بیٹی کی جب شادی ہو تو اس شادی میں ان کی مرضی شامل ہو چاہے پسند کی ہی ہو۔ لیکن میں کبھی برداشت نہیں کروں گا کہ میری بہن یا میری بیٹی مجھے یہ کہہ کے میں اس لڑکے کے ساتھ شادی کرنا چاہتی ہوں۔ کیونکہ اس بات کے لیے بہن یا ماں کو اعتماد میں لیا جانا چاہے اور ان کی مدد سے بات کرنی چاہے۔
ہمارے ہاں تعلیم کوایجوکیشن تو ہوتی ہے لیکن کالج میں خواتین کے کالج کو ہی اہمیت دی جاتی ہے نا کہ کو ایجوکیشن والے کالج وغیرہ میں۔ میرے نزدیک اعتماد یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کویہ تعلیم دیں کے ایسا کرنا درست ہے اور ایسا کرنا غلط ہے۔ اور ہم ان کو یہ اختیار دیتے ہیں کہ آپ جو منتخب کرو گے ہم وہی کریں گے اور ہماری تربیت ایسی ہو کہ ہمارے بچے اسی کو منتخب کریں جو ہم درست مانتے ہیں۔ یہاں ایک مثال دوں گا۔
تعلیمی میدان میں ہم کہتے ہیں ہمارا بچہ ڈاکٹر بنے لیکن اس کی ڈاکٹر بنے میں کوئی دلچسپی نہیں۔ اور ہم کہتے ہیں میری بچپن کی خواہش تھی کہ میرا بچہ ڈاکٹر بنے لیکن اس نے میری خواہش پوری نہیں کی۔ پھر کیا ہوتا ہے جب بچہ اپنے والدین کی جزباتی باتیں سنتا ہے تو ڈاکٹر بننے کی تیاری کرتا ہے اور پھر کیا ہوتا ہے۔ نا وہ ڈاکٹر بنتا ہے اور نا ہی وہ کچھ بنتا ہے جو وہ خود بننا چاہتا ہے۔ میرا طریقہ تعلیم کچھ مختلف ہے۔
اب میری خواہش یہ ہے کہ میری بیٹی ادیب بھی بنے اور کمپیوٹر فیلڈ میں ارفع کریم کی طرح نام بھی کمائے۔ اب میں نے جو مستقبل کی حکمت عملی بنائی ہے وہ کچھ یوں ہے۔ ابھی سے کہانیاں اور کمپیوٹر میں بچوں کے لیے سافٹ وئیر انسٹال کر دیے ہیں۔ جب خود پڑھتا ہوں تو بیٹی کو بھی ساتھ بٹھاتا ہوں تھوڑا سا اونچی آواز میں پڑھتا ہوں تاکہ اس تک آواز جائے۔ پھر جب کمپیوٹر پر کام کرتا ہوں تو اس کو گود میں لیے لیتا ہوں۔ جو کام کرتا ہوں اس کو ساتھ بتاتا ہوں یہ ایسے کرتے ہیں یہ ایسے کرتے ہیں۔ کمپیوٹر پر اے بی سی کے سافٹ وئیر ہیں جو بٹن دبائیں گے وہی آواز نکلے گی پھر وہ کی بورڈ پر ہاتھ مارتی ہے اور اے بی سی کی آواز آتی ہے۔
اب جب یہ پڑھنے لکھنے کے قابل ہو جائے گی تو انشاءاللہ میں اس سے روز کی ڈائری لکھواں گا اور کمپیوٹر پر ہوم ورک کروایا کروں گا۔ اس طرح اس کی پسند وہی ہو جائے گی جو میری ہو گی اور وہ انشاءاللہ وہی بنے گی جو میں اس کو بنانا چاہوں گا۔ یعنی ادیب اور کمپیوٹر انجینئر۔

جہاں تک اعتماد اور تربیت کی بات ہے تو جیسے ہم پہلی اینٹ لگائیں گے دیوار بھی ایسی ہی بنے گی اس لیے ہمیں شروع سے ہی تیاری کرنی ہوگی تاکہ جس چیز کو ہم درست کہیں ہماری اولاد بھی اس کو درست ہی مانیں۔ لیکن اس کو یہ بھی اعتماد دیا جائے کہ اگر ہم غلط کہہ رہے ہیں تو پھر اس انداز سے ہمیں سمجھائیں جس انداز سے ہم نے اس کو سمجھایا ہے نا کہ وہ نافرمانی پر اتر آئے

اور یاد رہے میری بیٹی ابھی 8 ماہ اور کچھ مہینے کی ہے
ماشاءاللہ،
:)
 

ام اریبہ

محفلین
ماں بیٹیوں کی بہت اچھی دوست اور رہنما ہوتی ہے۔وہ اپنی ہر بات ہر مشکل ماں کو زیادہ اچھے طریقے سے بتا لیتں ہیں۔۔ہمارے معاشرے میں ایک ماں کو دینی شعور ۔۔اور سمجھ دینا بہت ضروری ہے تا کہ وہ اس کی روشنی میں اولاد کی بہتر تربیت کر سکے۔۔۔
 

زیک

مسافر
میرے خیال میں سب سے اہم چیز یہ ہے کہ اپنی اولاد کے لئے آپ خود مرد عورت کی برابری کی مثال قائم کریں۔
 

ام اریبہ

محفلین
ہم لوگ مرد عورت کی برابری کے نعرے بہت لگاتے ہیں۔۔شائد قرآن کی بات بھول جاتے ہیں۔۔وہاں لکھا ہوا ہے کہ مرد کو بہر حال فوقیت حاصل ہے ۔کیونکہ وہ اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔۔مغرب میں برابری کا نعرہ لگانے والوں کا حال آپ سب کے سامنے ہے۔۔۔
 

ام اریبہ

محفلین
Untitled.jpg
 
Top