بھارتی کابینہ نے بیک وقت تین طلاق دینے پر تین سال قید کے بل کی منظوری دے دی!

محمد عدنان اکبری نقیبی نے 'آج کی خبر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 16, 2017

  1. ربیع م

    ربیع م محفلین

    مراسلے:
    3,563
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Lonely
    جی الحمد للہ موقف ہے.
    موسی علیہ السلام نے جو دس سال یا آٹھ سال خدمت کی وہ فریقین کا باہمی معاہدہ تھا جس پر دونوں راضی تھے
    اور یاد رہے یہ حق مہر تھا جبکہ حق مہر کی بنیادی شرط ہی یہ ہوتی ہے کہ فریقین جس پر راضی ہو جائیں.
    ہمارا یہ موقف ہے اور یہ قرآن سے ثابت ہے اب چاہے وہ پچاس کروڑ پر راضی ہوں یا پچاس روپے پر
    وہی کہہ رہا ہوں جو آٹھ یا دس سال خدمت نہیں کرے گا اس کا نکاح باطل ہے؟
    دیکھیں جب قرآنی حکم پر عمل کرنا ہے تو پھر پورا پورا کریں نا یہ کیا کہ من پسند لے لیا اور باقی اگل ڈالا.
    موسی علیہ السلام نے دس سال یا آٹھ سال خدمت کی اس کے بغیر اب ہر کسی کا نکاح باطل ہو گا؟
    آمدنی کی بات نہیں کرنی
     
  2. ربیع م

    ربیع م محفلین

    مراسلے:
    3,563
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Lonely
    شکریہ
    اگر آپ وہ مراسلہ بغور پڑھنے کی زحمت فرما لیں تو آپ کو سمجھ آ جائے گی ورنہ دوبارہ بیان کرنا شاید سود مند نہ ہو.
     
    آخری تدوین: ‏جنوری 9, 2018
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • متفق متفق × 1
  3. فاروق سرور خان

    فاروق سرور خان محفلین

    مراسلے:
    2,870
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Breezy
    28:27 قَالَ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُنكِحَكَ إِحْدَى ابْنَتَيَّ هَاتَيْنِ عَلَى أَن تَأْجُرَنِي ثَمَانِيَ حِجَجٍ فَإِنْ أَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِندِكَ وَمَا أُرِيدُ أَنْ أَشُقَّ عَلَيْكَ سَتَجِدُنِي إِن شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّالِحِينَ
    انہوں نے (موسٰی علیہ السلام سے) کہا: میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو لڑکیوں میں سے ایک کا نکاح آپ سے کردوں اس (مَہر) پر کہ آپ آٹھ سال تک میرے پاس اُجرت پر کام کریں، پھر اگر آپ نے دس (سال) پور ے کردیئے تو آپ کی طرف سے (احسان) ہوگا اور میں آپ پر مشقت نہیں ڈالنا چاہتا، اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے نیک لوگوں میں سے پائیں گے

    اللہ تعالی نے یہاں کیا لفظ استعمال کیا ہے؟
    تَأْجُرَنِي

    سوال نمبر 1: آپ بتئیے کہ اس تَأْجُرَنِي کے کیا معانی ہوئے؟

    ہم من پسند نہیں لے رہے، نا اس کے معانی یہ ہیں کہ جو 8 یا دس سال خدمت نہیں کرے گا اس کا نکاح باطل ہے۔

    اس آیت میں کہا کیا جارہا ہے، میں آپ کیا سمجھے یہ بات جاننا چاہتا ہوں۔

    والسلامِ
     
  4. فاروق سرور خان

    فاروق سرور خان محفلین

    مراسلے:
    2,870
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Breezy
    جی ایک بار پھر بغور پڑھوں گا اور اگر کوئی نکتہ رہ گیا ہے تو جواب میرا فرض ہے۔ آپ اگر تکلیف کرکے اپنے سوالات دوبارہ واضح کردیجئے تو آسانی ہوگی۔

    والسلام
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  5. ربیع م

    ربیع م محفلین

    مراسلے:
    3,563
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Lonely
    فریقین عقد نکاح کے وقت اس معاہدہ پر راضی تھے اب بھی اگر فریقین باہمی رضا مندی سے عقد نکاح کے موقع پر دس کے بجائے بیس سال کی ملازمت مہر میں لکھ لیں تو کوئی حرج نہیں.
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  6. ربیع م

    ربیع م محفلین

    مراسلے:
    3,563
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Lonely
  7. فاروق سرور خان

    فاروق سرور خان محفلین

    مراسلے:
    2,870
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Breezy
    سوال میرا تھا تَأْجُرَنِي کے بارے میں ۔ اس کے معانی ہوئے 'تیری جو اجرت میری طرف بنتی ہے' جی؟

    اس کے ممکنہ معانی یہ بھی ہوتے ہیں کہ میں تجھے کرایہ پر لے لوں،

    کوئی بھی فرد جو بھی کام کرتا ہے اس کی اجرت تو کچھ نا کچھ بنتی ہے ؟ یا نہیں؟
    اس صورت حال میں موسیٰ علیہ السلام کا نکاح کم از کم آٹھ سال اور زیادہ سے زیادہ دس سال کی اجرت کے مساوی مہر پر ہوا؟

    یہاں تک تو اتفاق ہے ہم میں یا نہیں کہ باہمی سمجھوتہ کی مقدار، تعداد، آٹھ تا دس سال کی اجرت رہی؟؟

    آپ درست فرما رہے ہیں کہ نکاح کے لئے مہر کا یہ باہمی سمجھوتہ تھا ۔ میں یہاں سے یہ نکتہ اٹھا رہا ہوں کہ باہمی سمجھوتہ میں مقدار کتنی بنتی ہے۔ جب یہاں تک ہم دونوں اتفاق کرلیں گے تو آٹھ تا دس سال کی یہ اجرت کتنی بنتی ہے اس کا حساب ہم آج کے اور آپ کے ہی پہلے سے مانے ہوئے فارمولے سے کرلیں گے۔

    آپ کے اتفاق کرنے کا انتظار کروں گا۔ پھر اس مقدار یا تعداد کے بارے میں عرض کروں گا جو جناب حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اجرت بنتی ہے۔
     
    آخری تدوین: ‏جنوری 10, 2018
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  8. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    37,348
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Amused
    اب تو لگتا ہے اس لڑی کو اکٹھی تین طلاقیں دینی پڑیں گی
     
    • پر مزاح پر مزاح × 6
  9. فاروق سرور خان

    فاروق سرور خان محفلین

    مراسلے:
    2,870
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Breezy
    ااس سابقہ مراسلے میں جس میں میں نے طلاق کے معانی والی آیات کا حوالہ دیا، میں اپنا نکتہ نگاہ مکمل کرچکا ہوں برادر محترم۔ اب لوگ صرف کھیل رہےہیں الفاظ کے ساتھ۔ قرآن حکیم کے فراہم کردہ پراسیس کے علاوہ نا کوئی مربوط نکتہ نظر میرے سامنے آیا ہے اور نا ہی کوئی دلیل۔ آپ اس لڑی کو تین بار چھوڑ کر جائیے :) یا تین سو بار۔ بنیادی طور پر آپ ایک بار ہی چھوڑیں گے :) خوش رہئے

    والسلام
     
    آخری تدوین: ‏جنوری 10, 2018
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  10. ربیع م

    ربیع م محفلین

    مراسلے:
    3,563
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Lonely
    فاروق صاحب!
    آپ خوامخواہ بچگانہ انداز میں بحث کو بڑھا رہے ہیں، اپنا صاف موقف بیان کیجئے کہ کیا آٹھ سال یا دس سال کی ملازمت آپ کے نزدیک فرض حق مہر ہے؟
    جیسا کہ میں نے پیچھے صاف انداز میں اپنا موقف ذکر کیا کہ حق مہر کا تقرر فریقین کی باہمی رضامندی سے ہوتا ہے چاہے وہ ایک روپے پر راضی ہوں یا ایک کروڑ پر اور چاہے ایک سال کی أجرت ہو یا ساری زندگی کی.
    سوال آپ سے ہے کہ آپ کھل کر بتائیں آپ کا کیا موقف ہے کیا آپ آٹھ یا دس سال کی مزدوری جیسا کہ موسی علیہ السلام نے کی اس کو فرض حق مہر سمجھتے ہیں؟
     
    • زبردست زبردست × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  11. فاروق سرور خان

    فاروق سرور خان محفلین

    مراسلے:
    2,870
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Breezy
    نہیں، جو لوگ یہ نہیں مانتےکہ چھوڑ کر چلے جانے یعنی طلاق دینے کے بعد بھی سابقہ بیوی کا نان نفقہ اور گھر کا کرایہ ان کے ذمے اس وقت تک ہے جب تککوئی دوسرا کفالت نا کرنے لگے، تو نکاح کے کنٹریکٹ میں یہ شرط لکھی جاسکتی ہے کہ مہر ، شوہر کی آت تا دس سال کی آمدنی ہوگی۔

    میں اپنے نکات مکمل کر چکا ہوں اور اس ضمن میں بیشتر آیات کا حوالہ فراہم کر چکا ہوں۔ اس مقام کے بعد ، اب آپ ہدایت ، اللہ تعالی کے فرمان قرآن حکیم سے لیجئے، ان آیات کا مطالعہ کیجئے اور تدبر فرمائیے، آپ ماشاء اللہ کافی سمجھدار ہیں۔

    والسلام
     
    • متفق متفق × 1
  12. کاف سین

    کاف سین معطل

    مراسلے:
    413
    اس لڑی کو پڑھنے کے بعد کس کس کی طلاق ہو گئی ہے؟
     
    • پر مزاح پر مزاح × 4
  13. ربیع م

    ربیع م محفلین

    مراسلے:
    3,563
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Lonely
    لکھی جا سکتی ہے سے تو کسی نے اختلاف کیا ہی نہیں جناب عالی!
    اختلاف آپ کی اس بات سے تھا جو آپ ہر صورت میں مطلقہ عورت کا نان نفقہ اور رہائش ہمیشہ کیلئے سابق شوہر کی ذمہ داری وجوب کے ساتھ قرار دے رہے تھے.
     
    • زبردست زبردست × 1
  14. فاروق سرور خان

    فاروق سرور خان محفلین

    مراسلے:
    2,870
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Breezy
    آیات پہلے فراہم کرچکا ہوں۔ آپ دیکھ لیجئے میرا وہ مراسلہ جس میں سورۃ البقرہ اور سورۃ الطلاق سے ایسا حوالہ دیا ہے۔ جو لوگ ایسا نہیں مانتے ہیں، اس کا علاج پھر طویل عرصے کی سپورٹ مہر میں شامل کرکے کیا جاسکتا ہے۔ آپ درج ذیل آیت سےکیا معانی لیں گے ۔ تدبر کیجئے۔ اس آیت کی روح اتنے سارے مترجمین کے ترجمے سے واضح ہے، ہم کیا معروف کریں گے اپنے ملک و قوم میں کہ تین طلاق دو اور نکال کر گھر سے باہر کرو اور کچھ نا دو اس خاتون کو جس نے قوم بنانے کے لئے اپنی پیداوار اولاد پیدا کی۔ اب کوئی حق نہیں اس عورت کا جینے کا کہ اس کے شوہر نے تین بار اس کو کہہ دیا کہ 'چھوڑ کے جا رہا ہوں' ؟؟ اب تم جاؤ سڑک پر؟ کسی مال پر کوئی حق نہیں؟ کچھ سوچو یار۔

    یا پھر ایک طلاق یافتہ عورت کو قوم کی اولاد کی ماں سمجھ کر سہارا دیا جائے کہ جب تک اس کا انتظام نا ہوجائے اس وقت تک اس کا شوہر اس مطلقہ عورت کا ذمہ دار رہے؟ مہر تو شوہر ادا کرے گا ہی، وہ اس کا حق 'متاع' نان نفقہ بھی ادا کرے گا۔ مہر اپنی جگہ ہے اور 'متاع' جسے alimony یا نان نفقہ کہا جاتا ہے ، عام طور پر طلاق کے بعد قاضی یا کورٹ آرڈر کرتی ہے۔ مطلقہ عورت کا 'متاع' یا alimony یا نان نفقہ کا یہحق آپ کو فقہ کی کتب میں بھی ملے، کتب روایات میں بھی، اسلامی اور غیر اسلامی قانون میں بھی اور اللہ تعالی کے فرمان قرآن حکیم میں بھی۔

    طلاق یافتہ عورتوں کو خرچہ کی ادائیگی، اللہ تعالی کا فرمان ، اللہ سے ڈرنے والوں کے لئے؟
    2:241 وَلِلْمُطَلَّقَاتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ
    طاہر القادری: اور طلاق یافتہ عورتوں کو بھی مناسب طریقے سے خرچہ دیا جائے، یہ پرہیزگاروں پر واجب ہے
    احمد علی : اور طلاق دی ہوئی عورتوں کے واسطے دستور کے موافق خرچ دینا پرہیزگارو ں پر یہ لازم ہے
    احمد رضا خان: اور طلاق والیوں کے لئے بھی مناسب طور پر نان و نفقہ ہے، یہ واجب ہے پرہیزگاروں پر،
    شبیر احمد ۔ اور طلاق یافتہ عورتوں کو بھی کچھ نہ کچھ دینا چاہیے دستور کے مطابق یہ حق ہے اللہ سے ڈرنے والوں پر۔
    فتح محمد جالندھری : اور مطلقہ عورتوں کو بھی دستور کے مطابق نان و نفقہ دینا چاہیئے پرہیزگاروں پر (یہ بھی) حق ہے
    محمود الحسن : اور طلاق دی ہوئی عورتوں کے واسطے خرچ دینا ہے قاعدہ کے موافق لازم ہے پرہیزگاروں پر
    مودودی : اسی طرح جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو، انہیں بھی مناسب طور پر کچھ نہ کچھ دے کر رخصت کیا جائے یہ حق ہے متقی لوگوں پر
    فاروق سرور خان : اور مطلقہ عورتوں کو معروف طریقہ سے نان نفقہ، فرض ہے اللہ سے ڈرنے والوں پر۔

    والسلام
     
    آخری تدوین: ‏جنوری 11, 2018
  15. فاروق سرور خان

    فاروق سرور خان محفلین

    مراسلے:
    2,870
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Breezy
    مطلقہ عور ت کے نان نفقہ کے حق یعنی 'متاع' کے حق اور اس کے طے شدہ مہر کے حق کے بارے میں آپ کنفیوژ ہیں۔ فراہم کردہ آیات کے عربی متن میں لفظ 'متاع' اور مہر کو غور سے دیکھئے۔

    آپ کا کمنٹ کی بنیادی وجہ آپ یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالی کے بزرگ نبی اکرم حضرت موسی علیہ السلام نے آٹھ سال بکریاں چرائی تھی۔ جی؟

    درج ذیل کہانی درست ہے یا نہیں ، مجھے نہیں پتہ لیکن اس کے سب حصے ایک سے زائید کتب میں دیکھ چکا ہوں۔
    تو آپ کہ سوچوں کے ارتقاء کے لئے یہ عرض ہے کہ ایک بندہ جسے میں اور آپ محمد علی جناح کے نام سے جانتے ہیں، انگلینڈ میں ڈگلس گراہم اینڈ کمپنی میں کام کرتا تھا۔ جناح نے ایک دن اپنے ایمپلائر کو بتایا کہ وہ ہندوستان جانا چاہتا ہے۔ ایمپلائر نے کہا ، وہاں کیا کروگے؟ اور کیا کمالوگے؟ جناح نے کہا کہ میں ایک دن میں اتنا کماؤں گا جتنا تم مجھے مہینے ( یا سال) بھر میں دیتے ہو۔

    فطری سوال اٹھتا ہے کہ ایسا کام کیا ہوسکتا ہے کہ اتنی بڑی اجرت ملے؟
    تو جناح نے ایسا کونسا کام کیا؟
    سٹینلے والپرٹ کے الفاظ میں، "کچھ لوگ تاریخ کا دھارا موڑ سکے، اور ان میں سے بہت تھوڑے سے دنیا کا نقشہ بدل سکے اور ان میں سے بہت ہی تھوڑے سے ایک قوم تعمیر کرسکے، جناح نے یہ سب کچھ کیا"

    ٰ in the words of Stanley Wolpert, “Few individuals significantly alter the course of history. Fewer still modify the map of the world. Hardly anyone can be credited with creating a nation state. Muhammad Ali Jinnah did all three”.

    اس کام کی اجرت جناح کو کیا ملی؟ جناح کی دولت کا اندازہ ، اس سے کرلیجئے کہ اس کے ہی سکے سے آج سارا پاکستان چلتا ہے۔

    جناح اتنا بڑا لیڈر نہیں جتنے بڑے لیڈر، حضرت موسی علیہ السلام، کہ آج یہودی، عیسائی اور مسلمان تینوں بڑے مذہب کے کوئی ساڑھے تین بلین لوگ ان کو احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، انہی کا لائے ہوئے قانون پر عمل کرتے ہیں۔

    جناح کے مقابلے میں موسی علیہ السلام نے اسلام کی بنیاد مظبوط کی، اللہ تعالی سے کلام کیا اور سچائی کی قوم کی بنیاد ڈالی کہ آج 3761 + 2018 = 5779 سال بعد بھی وہی قانون چلا آرہا ہے جسے دنیا کے بیشتر افراد مانتے ہیں۔ اگر جناح کی اجرت کا معاوضہ سے ، جناح کے سکے سے، پاکستان چل رہا ہے تو موسی علیہ السلام کی آٹھ سال کی اجرت کیا بنتی ہے؟

    سرکار، ایک جلیل القدر نبی کو محض بکری چلانے والا تو نا گردانو۔ پہلے اللہ تعالی کے فرمان پر تدبر کرو پھر کچھ بولو۔

    والسلام
     
  16. ربیع م

    ربیع م محفلین

    مراسلے:
    3,563
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Lonely
    متاع سے مراد معروف طریقے کے مطابق کچھ سازوسامان یا مال و متاع دینا ہے. مستقل خرچ اس کا ہرگز مطلب نہیں جیسا کہ بہت سی جگہوں پر متاع کے استعمال سے واضح ہوتا ہے.
    سورۃ الطلاق کی جن آیات سے آپ نے مطلب کشید کیا ان پر کچھ گزارشات پہلے عرض کر چکا ہوں.
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  17. محمد عدنان اکبری نقیبی

    محمد عدنان اکبری نقیبی محفلین

    مراسلے:
    17,832
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    بھارت، تین طلاقوں کے خلاف آرڈیننس کے اجرا کا فیصلہ

    [​IMG]
    راجیہ سبھا میں تین طلاق بل کی منظوری میں تاخیر پر مودی حکومت نے اب تین طلاقوں کیخلاف آرڈیننس جاری کرنے کا فیصلہ کیاہے۔ امکان ہے کہ یہ آرڈی نینس پارلیمنٹ کے مشترکہ بجٹ اجلاس کے موقع پر جاری کیا جائے گا۔
    ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت ٹرپل طلاق آرڈیننس لانے سمیت تمام آپشنز کا بغورجائزہ لے رہی ہے جسے بجٹ سیشن کے دوران پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔
    ٹرپل طلاق بل گزشتہ ماہ دسمبر میں لوک سبھا سے پہلے ہی منظور ہوچکاہے لیکن راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کی جماعتوں کے تحفظات کے سبب بل کی منظوری تاخیر کا شکار ہے۔
    ایوان بالا کے کچھ ارکان نے تجویزدی ہےکہ بل کو نظر ثانی کیلئے پارلیمانی کمیٹی کو سونپا جائے۔آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اور خواتین کے کئی گروپس کی جانب سے بھی اس بل کی مخالفت کی جارہی ہے۔
     
    • زبردست زبردست × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  18. فاروق سرور خان

    فاروق سرور خان محفلین

    مراسلے:
    2,870
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Breezy
    بہت شکریہ ککہ آپ نے کم از کم ، طلاق کے بعد مطلقہ خاتون کا مال و متاع پر حق تو تسلیم کیا۔ ملاء عام طور پر صرف اور صرف حق مہر کی بات کرتے ہیں، حق متاع کی بات نہیں کرتے۔

    ایک گھروندہ ، مرد اور عورت دنوں نے مل کر تعمیر کیا ہوتا ہے۔ دونوں نے اپنی اپنی طرح کا حصہ ڈالا ہوتا ہے۔ لہذا یہ حق تو بالکل بنتا ہے۔ اب دو نکات رہ گئے کہ، متاع کیا ہے اور مطلقہ خاتون کو کتنے عرصہ دینا ہے؟ ایک بار یا جب تک کوئی دوسرا انتظام نہیں ہو جاتا۔

    متاع کیا ہے؟ قرآن حکیم سے متاع کی تعریف۔
    3:14 زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالْأَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ذَلِكَ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَاللّهُ عِندَهُ حُسْنُ الْمَآبِ
    لوگوں کے لئے ان خواہشات کی محبت (خوب) آراستہ کر دی گئی ہے (جن میں) عورتیں اور اولاد اور سونے اور چاندی کے جمع کئے ہوئے خزانے اور نشان کئے ہوئے خوبصورت گھوڑے اور مویشی اور کھیتی (شامل ہیں)، یہ (سب) دنیوی زندگی کا سامان ہے، اور اﷲ کے پاس بہتر ٹھکانا ہے

    10:70 مَتَاعٌ فِي الدُّنْيَا ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِيقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِيدَ بِمَا كَانُواْ يَكْفُرُونَ
    دنیا میں لطف اندوزی ہے پھر انہیں ہماری ہی طرف پلٹنا ہے پھر ہم انہیں سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے اس کے بدلے میں جو وہ کفر کیا کرتے تھے

    ان آیاتگ سے صاف ااور واضح ہے کہ متاع ، ہر وہ شے ہے جس سے آسائش ہو، لطف و نشاط ہو۔

    تو مطلقہ عورت کا حق، مال، آسائش، لطف و نشاط پر کتنا ؟ اور کب تک ؟
    65:6 تم اُن (مطلّقہ) عورتوں کو وہیں رکھو جہاں تم اپنی وسعت کے مطابق رہتے ہو اور انہیں تکلیف مت پہنچاؤ کہ اُن پر (رہنے کا ٹھکانا) تنگ کر دو، اور اگر وہ حاملہ ہوں تو اُن پر خرچ کرتے رہو یہاں تک کہ وہ اپنا بچہ جَن لیں، پھر اگر وہ تمہاری خاطر (بچے کو) دودھ پلائیں تو انہیں اُن کا معاوضہ ادا کرتے رہو، اور آپس میں (ایک دوسرے سے) نیک بات کا مشورہ (حسبِ دستور) کر لیا کرو، اور اگر تم باہم دشواری محسوس کرو تو اسے (اب کوئی) دوسری عورت دودھ پلائے گی

    65:7 صاحبِ وسعت کو اپنی وسعت (کے لحاظ) سے خرچ کرنا چاہئے، اور جس شخص پر اُس کا رِزق تنگ کر دیا گیا ہو تو وہ اُسی (روزی) میں سے (بطورِ نفقہ) خرچ کرے جو اُسے اللہ نے عطا فرمائی ہے۔ اللہ کسی شخص کو مکلّف نہیں ٹھہراتا مگر اسی قدر جتنا کہ اُس نے اسے عطا فرما رکھا ہے، اللہ عنقریب تنگی کے بعد کشائش پیدا فرما دے گا

    آپ پہلے ان آیات کو مہر کے حق سے جوڑ رہے تھے۔ یہ آیات مطلقہ خاتون کے متاع پر حق کے لئے ہیں۔ ان دونوں آیات سے یہ صاف اور واضھ ہے کہ آسائش پر مطلقہ خاتون کا حق اس کے سابقہ شوہر کی وسعت کے مطابق ہے۔ یہاں وقت کی کوئی قیند نہیں لگائی گئی ہے لہذا ، مطلقہ عورت کی آسائش کی ذمہ داری جب تک اس کا کوئی دوسرا انتظام نا ہوجائے ، مرد پر ہے۔ اس میں وقت کی کوئی قید ہیں۔

    آپ سے عرض ہے کہ آپ ہمیں قرآں حکیم سے وہ دلیل فراہم فرمائیے جس سے یہ صاف اور واضح طے پاتا ہو کہ ، آسائش فراہم کرنے کی ذمے دارری ایک محدود مدت کے لئے ہے؟

    والسلام
     
  19. ربیع م

    ربیع م محفلین

    مراسلے:
    3,563
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Lonely
    اس کی وضاحت پچھلے مراسلے میں کر چکا ہوں.
    یہاں دیکھیں!
    متاع کی تعریف میں وہی آیات کیوں؟
    متاع کا لفظ تو قرآن میں 34 بار آیا ہے کہیں دنیا کے سازوسامان کیلئے، کہیں سمندر کے شکار کیلئے کہیں کھانے کیلئے، کہیں چوری شدہ سامان کیلئے تو کہیں جانوروں کی خوراک کیلئے.
    ﴿لا جُناحَ عَلَيكُم إِن طَلَّقتُمُ النِّساءَ ما لَم تَمَسّوهُنَّ أَو تَفرِضوا لَهُنَّ فَريضَةً وَمَتِّعوهُنَّ عَلَى الموسِعِ قَدَرُهُ وَعَلَى المُقتِرِ قَدَرُهُ مَتاعًا بِالمَعروفِ حَقًّا عَلَى المُحسِنينَ﴾
    [Al-Baqarah: 236]
    اب یہاں اس آیت میں دخول یا صحبت سے پہلے اور حق مہر مقرر نہیں(جبکہ آپ اسے زبردستی منگنی کے بعد والی علیحدگی بنانے پر تلے ہیں) اس صورت میں بھی متاع کا ذکر ہے جس کا مطلب خود آپ نے سازوسامان ہی کیا.
    چنانچہ آپ کی پیش کردہ آیت کا مفہوم بھی یہی ہے کہ مطلقہ عورت کو کچھ سازوسامان یا فائدہ دیا جائے گا ہمیشہ کیلئے نان و نفقہ اور رہائش نہیں.
    مزید تفصیل کیلئے میرا یہی مراسلہ بغور پڑھیں اور ان نکات کا جواب دیں.
     
  20. فاروق سرور خان

    فاروق سرور خان محفلین

    مراسلے:
    2,870
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Breezy
    برادر من ربیع، بات بنیادی وہی ہے کہ یا تو لوگ طلاق کے بعد مطلقہ عورت کا حق متاع پر مانیں یا پھر مہر میں لمبے عرصے کی اجرت لکھوائی جائے۔

    جہاں تک متاع پر حق کا تعلق ہے، یہ آج کل عدالتیں طے کرتی ہیں۔ جو کہ حق مہر کے علاوہ ہوتا ہے۔ میرا ووٹ حق متاع کے حق میں ہے۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں ۔ اس کی وجہ وہ آیات ہیں جن کا حوالہ فراہم کیا۔ آپ کو حق ہے اپنا نظریہ رکھنے کا لیکن مجھے آپ حق متاع یعنی خرچے کو صرف ایک بار دینے کی کوئی دلیل فراہم نہیں کرسکے ہیں۔ آپ کا جواب میں نے پڑھ لیا ہے ، افسوس یہ ہے کہ اس میں کوئی تذکرہ نہیں ملتا کہ کتنی مدت تک خرچہ ادا کیا جانا ہے ۔ لہذا یہ کوئی تشفی بخش جواب نہیہں ۔

    فی الحال اس بھث کو بند کرتے ہیں۔ اس نکتے پر کہ ہمارا اس نکتے پر کوئی اتفاق نہیں۔

    والسلام
     

اس صفحے کی تشہیر