بھارتی کابینہ نے بیک وقت تین طلاق دینے پر تین سال قید کے بل کی منظوری دے دی!

محمد عدنان اکبری نقیبی نے 'آج کی خبر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 16, 2017

  1. ربیع م

    ربیع م محفلین

    مراسلے:
    290
    پرمزاح
    آپ نے یا غور سے مراسلہ پڑھا ہی نہیں یا پھر...
    پہلی بات یہ کہ آپ کا دعوی ہے کہ نان ونفقہ اور رہائش ہمیشہ کیلئے ہے جبکہ جو آیات آپ نے دلیل میں پیش کیں ان سے صاف پتہ چل رہا ہے کہ رہائش اور نان ونفقہ عدت وضع حمل اور بچے کو دودھ پلانے تک محدود ہے اور آپ نے میرے اٹھائے گئے نکات کا جواب بھی نہیں دیا.
     
  2. فاروق سرور خان

    فاروق سرور خان محفلین

    مراسلے:
    2,647
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Breezy
    کوئی واضح سوال ہو تو میں ضرور جواب دوں گا۔ بچے کے دودھ پلانے کی اجرت ادا کی جائے گی ایکمطلقہ عورت کو۔ اس کا حق متاع اس کے علاوہ ہے۔ آپ کا نکتہ کیا ہے مجھے سمجھنے میں دشواری ہے بھائی۔ آپ واضح سوال لکھئ اور سوال کے بعد سوالیہ نشان بھی لگائیے۔ میں نے آُ کے تمام مراسلے بغور پڑھے۔ لیکن افسوس کہ میں کوئی اہم نکتہ نکال نہیں پایا۔ جن آیات کا میں نے حوالہ دیا ہے ، اس میں رہائش، اور تمام خرچہ کسی مدت کے لئے محدود نہیں ہے۔ آپ مدد فرمائیے کہ میں سمجھ سکوں کہ سورۃ طلاق کی کس آٰیت سے ہم متاع یعنی آسائش زندگی کے ساز و سامان وغیرہ کی مدت کو محدود کرسکتے ہیں؟

    ایک شخص اگر اپنی بیوی کو کہتا ہے کہ " میں تجھے چھوڑ کر جارہا ہوں" اور گھر سے چلا جاتا ہے تو یہ پیچھے رہ جانے والی عورت کتنا انتظار کرے کہ آزاد ہو کہ نئی شادی کرنا چاہے تو کرسکے؟ اس سوال کا جواب تو ضرور ہم کو صاف اور واضح مل جاتا ہے کہ وہ عدت کی مدت تک انتظار کے بعد آزاد ہے۔ یہ عورت کی عدت کی مدت ہے ، مرد کی ذمہ داری ختم ہونے کی مدت نہیں۔ مرد کی ذمہ داری اس کی اولاد کی طرف تو جاری رہتی ہی ہے کہ جب تک وہ قابل نا ہوجائیں ۔ اسی طرح مطلقہ عورت کی طرف بھی ذمہ داری جاری رہتی ہے کہ ا س کا بھی اولاد پر حق ہے اور وہ ان کی تربیت بھی کرنے کی ذمہ دار ہے۔ عورت سے اولاد کو چھین کر یہ سمجھنا سمجھانا کہ اب مرد پر کوئی ذمہ داری نہیں ۔ ان آیات سے کسی طور ثابت نہیں۔ جب مطلق عورت کے لئے کوئی نئی راہ نکل آئے اس وقت تک مرد کو اپنی وسعت یا تنگ دستی دونوں کی صورتوں میں اپنی ذمہ داری پوری کرنی ہے۔

    والسلام
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  3. فاروق سرور خان

    فاروق سرور خان محفلین

    مراسلے:
    2,647
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Breezy
    جناب ربیع-م صاحب،، میں نے آپ کے سب مراسلے دوبارہ پڑھےاوار ان مراسلات سے درج ذیل نکات اخذ کئے

    1۔ شادی میں مہر کی مقدار 50 ہو یا جو بھی ، مرد کم سے کم رقم مقرر کرسکتا ہے ، اگر عورت چاہے تو یہ قبول کرلے ورنہ دروازہ ادھر ہے۔
    2۔ شادی یا نکاحموقت یعنی عارضی نکاح ایک رات کا بھی ہو سکتا ہے۔
    2۔ ناچاقی کی صورت میں عورت کو ضرورت ہے کہ وہ قانونی کاروائی کرکے 'چھوڑ سکے' لیکن مرد تین طلاق کی توپ چلا کر نکال باہر کرسکتا ہے۔
    3۔ مہر کی ادائیگی معجل (فوری ) ہو یا غیر معجل (بعد میں) ، مرد کی مرضی پر ہے کہ جب چاہے ادا کرے۔ اور طلاق کی صورت میں یہی مہر کی رقم ، بچوں کو ماں کو دینے کی مد مین بلیک میل کے لئے استعمال ہو سکتی ہے
    4۔ طلاق یافتہ عورت کا کسی قسم کے 'مال و متاع' پر بہت ہی تھوڑاسا حق ہے۔ تین طلاق دی، مہر ادا کیا اور تھوڑا سا ساز و سامان دیا یا نا دیا۔ عورت کو نکال باہر کیا۔

    سرکار ، آپ کا کوئی قصور نہیں ہے۔ اس لئے کہ ملاء یہی پاٹ زمانے سے پڑھا رہے ہیں کہ شاہزادیوں کو بھی شب زادیوں کے برابر رکھا جائے۔

    ایک شاہزادی اور ایک شب زادی میں کیا فرق رہ گیا؟؟ 50 روپے مہر کے طے کئے ، ایک رات کا نکاح کیا، اور بغیر کسی ذمہ داری کے اگلے دن نکال باہر کیا۔ ملاء شادی کو نہیں طوائف بازی کو فوغ دے رہے ہیں۔ ان کے نظریات، قرآن کے خلاف اور صرف اور صرف شب زادیوں کے فروٍغ کے لئے ہیں نا کہ شاہزادیوں کو گھر بنانے کا موقع دینے کے لئے۔

    والسلام
     
  4. ربیع م

    ربیع م محفلین

    مراسلے:
    290
    محض ریکارڈ کی درستگی کیلئے!
    یہ میرا موقف نہیں ہے البتہ آپ کا موقف جاننے کیلئے آپ سے دلیل مانگی جو آپ نہ دے سکے.
    باہمی رضا مندی
    باہمی رضا مندی
    اگر کسی فریق کو قبول نہیں تو عقد طے نہ کرے دنیا میں مرد ختم ہو گئے ہیں یا گن پوائنٹ پر سب کچھ طے ہو رہا ہے.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر