1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $450
    $368.00
    اعلان ختم کریں
  2. اردو محفل سالگرہ سیزدہم

    اردو محفل کی یوم تاسیس کی تیرہویں سالگرہ کے موقع پر تمام اردو طبقہ و محفلین کو دلی مبارکباد!

    اعلان ختم کریں
  3. دو ملین پیغامات کا کاؤنٹ ڈاؤن

    اردو محفل فورم پر دو ملین پیغامات مکمل ہونے میں صرف 1500 پیغامات باقی رہ گئے ہیں۔ مزید تفصیل ملاحظہ فرمائیے۔

    اعلان ختم کریں

بھارتی کابینہ نے بیک وقت تین طلاق دینے پر تین سال قید کے بل کی منظوری دے دی!

محمد عدنان اکبری نقیبی نے 'آج کی خبر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 16, 2017

  1. ربیع م

    ربیع م محفلین

    مراسلے:
    968
    پرمزاح
    آپ نے یا غور سے مراسلہ پڑھا ہی نہیں یا پھر...
    پہلی بات یہ کہ آپ کا دعوی ہے کہ نان ونفقہ اور رہائش ہمیشہ کیلئے ہے جبکہ جو آیات آپ نے دلیل میں پیش کیں ان سے صاف پتہ چل رہا ہے کہ رہائش اور نان ونفقہ عدت وضع حمل اور بچے کو دودھ پلانے تک محدود ہے اور آپ نے میرے اٹھائے گئے نکات کا جواب بھی نہیں دیا.
     
  2. فاروق سرور خان

    فاروق سرور خان محفلین

    مراسلے:
    2,657
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Breezy
    کوئی واضح سوال ہو تو میں ضرور جواب دوں گا۔ بچے کے دودھ پلانے کی اجرت ادا کی جائے گی ایکمطلقہ عورت کو۔ اس کا حق متاع اس کے علاوہ ہے۔ آپ کا نکتہ کیا ہے مجھے سمجھنے میں دشواری ہے بھائی۔ آپ واضح سوال لکھئ اور سوال کے بعد سوالیہ نشان بھی لگائیے۔ میں نے آُ کے تمام مراسلے بغور پڑھے۔ لیکن افسوس کہ میں کوئی اہم نکتہ نکال نہیں پایا۔ جن آیات کا میں نے حوالہ دیا ہے ، اس میں رہائش، اور تمام خرچہ کسی مدت کے لئے محدود نہیں ہے۔ آپ مدد فرمائیے کہ میں سمجھ سکوں کہ سورۃ طلاق کی کس آٰیت سے ہم متاع یعنی آسائش زندگی کے ساز و سامان وغیرہ کی مدت کو محدود کرسکتے ہیں؟

    ایک شخص اگر اپنی بیوی کو کہتا ہے کہ " میں تجھے چھوڑ کر جارہا ہوں" اور گھر سے چلا جاتا ہے تو یہ پیچھے رہ جانے والی عورت کتنا انتظار کرے کہ آزاد ہو کہ نئی شادی کرنا چاہے تو کرسکے؟ اس سوال کا جواب تو ضرور ہم کو صاف اور واضح مل جاتا ہے کہ وہ عدت کی مدت تک انتظار کے بعد آزاد ہے۔ یہ عورت کی عدت کی مدت ہے ، مرد کی ذمہ داری ختم ہونے کی مدت نہیں۔ مرد کی ذمہ داری اس کی اولاد کی طرف تو جاری رہتی ہی ہے کہ جب تک وہ قابل نا ہوجائیں ۔ اسی طرح مطلقہ عورت کی طرف بھی ذمہ داری جاری رہتی ہے کہ ا س کا بھی اولاد پر حق ہے اور وہ ان کی تربیت بھی کرنے کی ذمہ دار ہے۔ عورت سے اولاد کو چھین کر یہ سمجھنا سمجھانا کہ اب مرد پر کوئی ذمہ داری نہیں ۔ ان آیات سے کسی طور ثابت نہیں۔ جب مطلق عورت کے لئے کوئی نئی راہ نکل آئے اس وقت تک مرد کو اپنی وسعت یا تنگ دستی دونوں کی صورتوں میں اپنی ذمہ داری پوری کرنی ہے۔

    والسلام
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  3. فاروق سرور خان

    فاروق سرور خان محفلین

    مراسلے:
    2,657
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Breezy
    جناب ربیع-م صاحب،، میں نے آپ کے سب مراسلے دوبارہ پڑھےاوار ان مراسلات سے درج ذیل نکات اخذ کئے

    1۔ شادی میں مہر کی مقدار 50 ہو یا جو بھی ، مرد کم سے کم رقم مقرر کرسکتا ہے ، اگر عورت چاہے تو یہ قبول کرلے ورنہ دروازہ ادھر ہے۔
    2۔ شادی یا نکاحموقت یعنی عارضی نکاح ایک رات کا بھی ہو سکتا ہے۔
    2۔ ناچاقی کی صورت میں عورت کو ضرورت ہے کہ وہ قانونی کاروائی کرکے 'چھوڑ سکے' لیکن مرد تین طلاق کی توپ چلا کر نکال باہر کرسکتا ہے۔
    3۔ مہر کی ادائیگی معجل (فوری ) ہو یا غیر معجل (بعد میں) ، مرد کی مرضی پر ہے کہ جب چاہے ادا کرے۔ اور طلاق کی صورت میں یہی مہر کی رقم ، بچوں کو ماں کو دینے کی مد مین بلیک میل کے لئے استعمال ہو سکتی ہے
    4۔ طلاق یافتہ عورت کا کسی قسم کے 'مال و متاع' پر بہت ہی تھوڑاسا حق ہے۔ تین طلاق دی، مہر ادا کیا اور تھوڑا سا ساز و سامان دیا یا نا دیا۔ عورت کو نکال باہر کیا۔

    سرکار ، آپ کا کوئی قصور نہیں ہے۔ اس لئے کہ ملاء یہی پاٹ زمانے سے پڑھا رہے ہیں کہ شاہزادیوں کو بھی شب زادیوں کے برابر رکھا جائے۔

    ایک شاہزادی اور ایک شب زادی میں کیا فرق رہ گیا؟؟ 50 روپے مہر کے طے کئے ، ایک رات کا نکاح کیا، اور بغیر کسی ذمہ داری کے اگلے دن نکال باہر کیا۔ ملاء شادی کو نہیں طوائف بازی کو فوغ دے رہے ہیں۔ ان کے نظریات، قرآن کے خلاف اور صرف اور صرف شب زادیوں کے فروٍغ کے لئے ہیں نا کہ شاہزادیوں کو گھر بنانے کا موقع دینے کے لئے۔

    والسلام
     
  4. ربیع م

    ربیع م محفلین

    مراسلے:
    968
    محض ریکارڈ کی درستگی کیلئے!
    یہ میرا موقف نہیں ہے البتہ آپ کا موقف جاننے کیلئے آپ سے دلیل مانگی جو آپ نہ دے سکے.
    باہمی رضا مندی
    باہمی رضا مندی
    اگر کسی فریق کو قبول نہیں تو عقد طے نہ کرے دنیا میں مرد ختم ہو گئے ہیں یا گن پوائنٹ پر سب کچھ طے ہو رہا ہے.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. خالد محمود چوہدری

    خالد محمود چوہدری محفلین

    مراسلے:
    9,470
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    بیک وقت تین طلاقیں پاکستان میں قابل تعزیز جرم بنائے جانے کا امکان
    پاکستانی دستور کے تحت قائم ہونے والے مشاورتی ادارے اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین قبلہ ایاز کا کہنا ہے کہ بیک وقت تین طلاقوں کو قابلِ سزا جرم قرار دیا جائے گا جس کے لیے بل جلد پارلیمنٹ میں پیش کریں گے۔ برطانوی نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں سفارشات تیار کر لی گئی ہیں جو جلد ہی پارلیمان میں پیش کر دی جائیں گی ہم اس پر بل تیار کر رہے ہیں جو وزارت قانون کو بھیجا جائے گا اور وہ اس پر سزا تجویز کرے گی جس کے بعد بیک وقت تین طلاقوں کی ممانعت کی جائے گی اور یہ قابلِ سزا جرم ہو گا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ بیک وقت تین طلاقیں دینے کی صورت میں طلاق تو ہو جائے گی تاہم اس سلسلے میں حتمی فیصلہ عدالت میں قاضی کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے یہ تاثر پھیل گیا ہے کہ ہم نے صرف خواتین کو ہی موضوعِ بحث بنایا ہے لیکن ہم نے خواتین کے حقوق کے بارے میں سفارشات بھی مرتب کی ہیں اس کے علاوہ ہم نے معیشت، تعلیم اور ابلاغِ عامہ کے حوالے سے بہت کام کیا ہے۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ مولانا شیرانی کے متنازع بیانات ان کی ذاتی رائے ہیں خواتین معاشی سرگرمیوں کا فعال حصہ ہیں اور عفت اور حیا کے دائرے کے اندر ان پر معاشی سرگرمیوں کا حصہ بننے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ واضح رہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل ایک دستوری ادارہ ہے، جس کا کام پارلیمنٹ سمیت حکومت کو مختلف امور پر قرآن وسنت کی روشنی میں مشاورت فراہم کرنا ہوتا ہے، تاہم کونسل کی سفارشات مشاورتی نوعیت کی ہوتی ہیں اس لئے پارلیمنٹ ان پر عمل کی پابند نہیں ہوتی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر