1. اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں فراخدلانہ تعاون پر احباب کا بے حد شکریہ نیز ہدف کی تکمیل پر مبارکباد۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    $500.00
    اعلان ختم کریں

جون ایلیا :::::: بند باہر سے، مِری ذات کا دَر ہے مُجھ میں :::::: Jon Elia

طارق شاہ نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جون 6, 2016

  1. طارق شاہ

    طارق شاہ محفلین

    مراسلے:
    10,616
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm

    [​IMG]
    غزل
    بند باہر سے، مِری ذات کا دَر ہے مُجھ میں
    میں نہیں خُود میں، یہ اِک عام خبر ہے مُجھ میں

    اِک عَجَب آمد و شُد ہے کہ، نہ ماضی ہے نہ حال
    جونؔ ! بَرپا کئی نسلوں کا سفر ہے مُجھ میں

    ہے مِری عُمر جو حیران تماشائی ہے !
    اور اِک لمحہ ہے، جو زیر و زبر ہے مُجھ میں

    کیا ترستا ہُوں کہ، باہر کے کسی کام آئے !
    وہ اِک انبوہ کہ بس، خاک بسر ہے مُجھ میں

    ڈوبنے والوں کے دریا مِلے پایاب مُجھے
    اُس میں، اب ڈوب رہا ہُوں، جو بھنور ہے مُجھ میں

    دَر و دِیوار تو باہر کے ہیں ڈھینے والے
    چاہے رہتا نہیں میں، پر مِرا گھر ہے مُجھ میں

    میں جو پیکار میں اندر کی ہُوں بے تیغ و زِرہ
    آخرش کون ہے؟ جو سِینہ سِپر ہے مُجھ میں

    معرکہ گرم ہے بے طَور سا کوئی ہر دَم !
    نہ کوئی تیغ سلامت، نہ سِپر ہے مُجھ میں

    زخم ہا زخم ہُوں، اور کوئی نہیں خُوں کا نِشاں !
    کون ہے وہ؟ جو مِرے خون میں تر ہے مُجھ میں

    جوؔن ایلیا
     
    • زبردست زبردست × 2
  2. نیرنگ خیال

    نیرنگ خیال لائبریرین

    مراسلے:
    17,790
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    کیسی دلفریب غزل ہے۔۔۔ اعلیٰ
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. ہادیہ

    ہادیہ محفلین

    مراسلے:
    5,092
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    بہت عمدہ اشتراک
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر