بغرض اصلاح : ’ مضطرب روح کو ایک مژدہ ملا‘

فاخر افتخاررحمانی نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 31, 2019

  1. فاخر افتخاررحمانی

    فاخر افتخاررحمانی محفلین

    مراسلے:
    71
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    غزل
    افتخاررحمانی فاخرؔ
    اساتذہ کرام کی خدمت میں

    مضطرب روح کو ایک مژدہ ملا
    خواب میں ہی سہی اس کا تحفہ ملا

    ایک عرصہ ہوا اس کو دیکھا نہیں
    وہ سراپا مگر ناز و عشوہ ملا

    کج کلا ہی کبھی طرۂ ناز تھی
    آج کیوں تندخو رشک بذلہ ملا

    مدتوں ڈھونڈتا پھر رہا تھا جسے
    بھیڑ میں جگمگاتا وہ چہرہ ملا

    اس طرح منتیں میری پوری ہوئیں
    ناگہاں عارض و لب کا بوسہ ملا

    ناز ہے دولتِ بے بہا پر مجھے
    ہجر کی شب مجھے اس کا صد قہ ملا

    لذت ِ جام و شیشہ بیاں کیاکروں
    اس کے ہونٹوں کا جو جام و مینا ملا

    نذر کے واسطے اِس کرم پر اسے
    آہ دل میں مگر آہ و گریہ ملا:cry: !
     
    آخری تدوین: ‏نومبر 1, 2019
  2. سید عاطف علی

    سید عاطف علی محفلین

    مراسلے:
    7,400
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    مصرعے اچھی طرح مربوط نہیں ۔(بقول اعجاز بھائی دولختی ہے )
    صفات کسی واضح مضمون پر متحد نہیں لگ رہیں ۔رشک بذلہ کیا معنی ہوا اور کج کلاہی سے تند خوئی کا کیا ربط ہوا ؟
    یہاں نذر کا تلفظ درست نہیں بندھا۔ یہ نذر ذ ساکن کے ساتھ ہے ۔
    ویسے باقی اشعار اچھے ہیں ۔ :)
     
    • متفق متفق × 1
  3. ارشد چوہدری

    ارشد چوہدری محفلین

    مراسلے:
    1,252
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Brooding
    اچھی خوبصورت غزل ہے کافی دنوں کے بعد نظر آئے ہیں
     
  4. فاخر افتخاررحمانی

    فاخر افتخاررحمانی محفلین

    مراسلے:
    71
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    جزاك الله !
    ’’خوبصورت غزل ہے‘‘ حوصلہ افزائی کا بہت بہت شکریہ! لیکن اساتذہ کی رائے ماقبل میں دیکھا ہوگا؟ان کی رائے آپ سے مختلف ہے ،علاوہ ازیں الف عین صاحب کا سیدعاطف صاحب کے تبصرہ پر ’’لائک‘‘ کا بٹن بھی دبا ہوا ہے ۔ تاہم اساتذہ کی رائے اور آپ کی محبت سر آنکھوں پر۔ ہمارے لیے یہ سعادت ہے۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  5. فاخر افتخاررحمانی

    فاخر افتخاررحمانی محفلین

    مراسلے:
    71
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    جی درست فرمایا ۔ کئی مصرعوں میں ربط نہیں ہے ،ربط کی کوشش کرتا ہوں ۔ اور آخری شعر میں ’’نذر‘‘ کا وزن ’’فعل‘‘ ہی ہے ،مبتدی ہونے کی وجہ سے ’’فَعل‘‘ ہوگیا ہے ۔ اس کو ٹھیک کرتا ہوں ۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  6. فاخر افتخاررحمانی

    فاخر افتخاررحمانی محفلین

    مراسلے:
    71
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    اس کرم پر اسے نذر کے واسطے
    کچھ بھی پایا نہیں ،آہ و گریہ ملا
     
  7. فاخر افتخاررحمانی

    فاخر افتخاررحمانی محفلین

    مراسلے:
    71
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    مستقل دیتا تھا نازنیں کو صدا
    وہ سراپا مگر نازو عشوہ ملا !
     
  8. فاخر افتخاررحمانی

    فاخر افتخاررحمانی محفلین

    مراسلے:
    71
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    کج کلا ہی کبھی طرۂ ناز تھی
    آج کیوں مجھ سے وہ بالمشافہ ملا ؟
     
  9. فاخر افتخاررحمانی

    فاخر افتخاررحمانی محفلین

    مراسلے:
    71
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    نظرثانی کے بعد اساتذہ سخن کی خدمت میں :
    الف عین اور @سیدعاطف علی صاحبان


    مضطرب روح کو ایک مژدہ ملا
    خواب میں ہی سہی اس کا تحفہ ملا

    مستقل دیتا تھا نازنیں کو صدا
    وہ سراپا مگر ناز و عشوہ ملا

    کج کلا ہی کبھی طرۂ ناز تھی
    آج کیوں مجھ سے وہ بالمشافہ ملا؟

    مدتوں ڈھونڈتا پھر رہا تھا جسے
    بھیڑ میں جگمگاتا وہ چہرہ ملا

    اس طرح منتیں میری پوری ہوئیں
    ناگہاں عارض و لب کا بوسہ ملا

    ناز ہے دولتِ بے بہا پر مجھے
    ہجر کی شب مجھے اس کا صد قہ ملا

    لذت ِ جام و شیشہ بیاں کیاکروں
    اس کے ہونٹوں کا جو جام و مینا ملا

    نذر کے واسطے اِس کرم پر اسے
    کچھ نہ دل میں بجز آہ و گریہ ملا !
     
    آخری تدوین: ‏نومبر 1, 2019
  10. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,758
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    مسلسل غزل لگتی ہے، کیا مبارکباد دی جائے؟
    مضطرب روح کو ایک مژدہ ملا
    خواب میں ہی سہی اس کا تحفہ ملا
    ... ربط یہاں بھی مضبوط تو نہیں مگر چل سکتا ہے

    ایک عرصہ ہوا اس کو دیکھا نہیں
    وہ سراپا مگر ناز و عشوہ ملا
    ... یہ یا اس کا نیا روپ، دونوں میں یہ غلطی محسوس ہوتی ہے کہ سراپا ناز وغیرہ تھا یا ہے کے ساتھ تو درست ہے لیکن ملا فعل کے ساتھ نہیں۔ اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ جب ملا تو سراپا.... تھا میکن بیانیہ کی یہ صورت پہلے مصرع سے ربط نہیں رکھتی۔ کہ کچھ مضمون ایسا ہونا چاہیے تھا کہ ہم تو اسے سادہ مزاج سمجھتے تھے!

    کج کلا ہی کبھی طرۂ ناز تھی
    آج کیوں تندخو رشک بذلہ ملا
    ... بات ہو چکی

    مدتوں ڈھونڈتا پھر رہا تھا جسے
    بھیڑ میں جگمگاتا وہ چہرہ ملا

    اس طرح منتیں میری پوری ہوئیں
    ناگہاں عارض و لب کا بوسہ ملا
    دونوں درست

    ناز ہے دولتِ بے بہا پر مجھے
    ہجر کی شب مجھے اس کا صد قہ ملا
    ... کس دولت پر ناز کی بات کر رہے ہیں؟ واضح نہیں

    لذت ِ جام و شیشہ بیاں کیاکروں
    اس کے ہونٹوں کا جو جام و مینا ملا
    ... جو جام... میں تنافر کی کیفیت ہے
    جب لبوں کا ترا جام...
    ایک ممکنہ صورت

    نذر کے واسطے اِس کرم پر اسے
    آہ دل میں مگر آہ و گریہ ملا یا نئی شکل...
    کس کرم پر؟ یہ واضح نہیں
    دوسرے مصرعے کی بہتر صورت یوں ہو سکتی ہے
    کچھ نہ دل میں بجز آہ و گریہ ملا
     
  11. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,758
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    اا عرصے میں پوری غزل روائز ہو گئی ہے
    بس یہی ایک شعع دیکھنے کے لیے باقی ہے
    کج کلا ہی کبھی طرۂ ناز تھی
    آج کیوں مجھ سے وہ بالمشافہ ملا
    پہلے مصرع میں 'جس کی' کے بغیر ربط نہیں بنتا۔
     
  12. فاخر افتخاررحمانی

    فاخر افتخاررحمانی محفلین

    مراسلے:
    71
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    شکریہ بہت شکریہ حضرت !
     
  13. فاخر افتخاررحمانی

    فاخر افتخاررحمانی محفلین

    مراسلے:
    71
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    غزل
    ایک بار پھر ،کئی مصرعوں میں حذف و ترمیم کے بعد:
    الف عین سید عاطف علی

    مضطرب روح کو ایک مژدہ ملا
    خواب میں ہی سہی اس کا تحفہ ملا

    مستقل دیتا تھا نازنیں کو صدا
    ’’وہ سراپا بصد ناز و عشوہ ملا‘‘ -----------یہ مصرعہ :جناب@محمد خلیل الرحمٰن صاحب کا تجویز کردہ ہے۔

    کج کلاہی کبھی طرۂ ناز تھی
    کل مجھے وہ مگر بالمشافہ ملا

    مدتوں ڈھونڈتا پھر رہا تھا جسے
    بھیڑ میں جگمگاتا وہ چہرہ ملا

    الغرض منتیں میری پوری ہوئیں
    پے بہ پے عارض و لب کا بوسہ ملا

    ناز ہے دولتِ بے بہا پر مجھے
    ہجر کی شب میں اُس کا جو صدقہ ملا

    لذت ِ جام و شیشہ بیاں کیا کروں
    اس کے ہونٹوں کا جب جام و شیشہ ملا

    نذر کے واسطے اِس کرم پر اسے
    ’’کچھ نہ پایا بجز آہ و گریہ ملا!‘‘-----(یہ مصرعہ الف عین صاحب کا تجویز کردہ ہے)

    کیسی ہے اے خدا یہ مری مفلسی
    میرے دامن میں ہی اشک و نالہ ملا

    اے دل سوختہ شکر تو کر ادا
    رنج سے تو تجھے اب افاقہ ملا
     
    آخری تدوین: ‏نومبر 2, 2019
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  14. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    7,849
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    استادِ محترم نے اس مصرع کو بھی کچھ پسند نہیں فرمایا تھا۔ اسے یوں کرسکتے ہیں
    "وہ سراپا بصد ناز و عشوہ ملا"
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  15. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,758
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    شعر نمبر 2، 3 اور 6 پر میرے پرانے کمینٹس دوبارہ دیکھیں
    دو نئے اشعار
    کیسی ہے اے خدا یہ مری مفلسی
    میرے دامن میں ہی اشک و نالہ ملا
    .. کیسی کی ی کا اسقاط ناگوار ہے اس کے علاوہ مصرع میں ربط کی کمی ہے

    اے دل سوختہ شکر تو کر ادا
    رنج سے تو تجھے اب افاقہ ملا
    ... افاقہ ہوا محاورہ ہے، ملا نہیں
    دل سوختہ کی معنویت؟
     
  16. فاخر افتخاررحمانی

    فاخر افتخاررحمانی محفلین

    مراسلے:
    71
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    واہ!!!!!!!!!!!!!!

    بہت ہی خوب یہ تو آپ کا مصرعہ ہوا ۔ بہت ہی خوب ! لاجواب !
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  17. فاخر افتخاررحمانی

    فاخر افتخاررحمانی محفلین

    مراسلے:
    71
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    بغرض اصلاح : ’ مضطرب روح کو ایک مژدہ ملا‘
    عالی جناب! آپ کے مشورہ کے عین مطابق مصرعہ بدل دیا گیا ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  18. فاخر افتخاررحمانی

    فاخر افتخاررحمانی محفلین

    مراسلے:
    71
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    پھر کوشش کرتا ہوں ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  19. فاخر افتخاررحمانی

    فاخر افتخاررحمانی محفلین

    مراسلے:
    71
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    غزل کو غزل مسلسل کہی گئی تھی ۔ لیکن یہ ناقص ہی تھی ۔ سوچا جب مسلسل کہہ دیا گیا ہے تو پھر کیوں نہ اس کو باقاعدہ غزل مسلسل ہی مان لیا جائے۔ کچھ اشعار میں ترمیم اور اضافے کے بعد پیش ہے۔ اپنی آراء سے ضرور نوازیں ۔ مجھے گمان اغلب ہے کہ یہ کوشش بھی نامراد ہی جائے گی۔
    الف عین سید عاطف علی اور دیگر صاحبان

    مضطرب روح کو ایک مژدہ ملا
    خواب میں ہی سہی اس کا تحفہ ملا

    مستقل جس کی کرتا تھا میں منتیں
    وہ ہمیشہ بصد ناز و عشوہ ملا

    جس کی فطرت سدا شوخی و ناز تھی
    وہ ستم گر مجھے بالمشافہ ملا

    الغرض منتیں میری پوری ہوئیں
    پیار اس کا مجھے بے تحاشہ ملا

    ناز ہے دولتِ بے بہا پر مجھے
    ہجر کی شب میں اُس کا جو صدقہ ملا

    اے مرے ہم نشیں کیا بتاؤں تجھے
    تحفہ ٔ یار میں مجھ کو کیا کیا ملا

    جستجو ہے تجھے گر تو پھر جان لو
    ’’پے بہ پے عارض و لب کا بوسہ ملا‘‘

    لذت ِ ’کیف‘ کو میں بیاں کیا کروں
    اُس کے ہونٹوں سے جو جام و مینا ملا

    آسمان و زمیں دم بخود رہ گئے
    جب مرا دلربا مسکراتا ملا

    کلفت و غم سبھی دور ہو بھی گئے
    رنج وغم کا مرے جب مسیحا ملا

    ’مرحبا‘ کی صدائیں بھی آنے لگیں
    مجھ سے جب ماہ رو فاتحانہ ملا

    ’’بوسۂ دلبرانہ پہ کیا اس کو دوں؟‘‘-------اس کرم پر اسے نذر کیواسطے
    میرے دامن میں تو اشک و قطرہ ملا

    دل نے چاہا بہت نذر کچھ تو کریں
    کچھ نہ پاپا بجز آہ و گریہ ملا

    مفلسی میں مرے پاس کچھ بھی نہیں
    ہاں! دعا کے لیے ہاتھ اٹھتا ملا
     
    آخری تدوین: ‏نومبر 4, 2019
  20. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,758
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    جس کی فطرت سدا شوخی و ناز تھی
    وہ ستم گر مجھے بالمشافہ ملا
    ... بالمشافہ کے ساتھ پہلا مصرع ربط نہیں رکھتا

    ناز ہے دولتِ بے بہا پر مجھے
    .. یہ لکھ چکا ہوں کہ جب تک 'اس دولت' نہیں کہا جائے، ربط نہیں پیدا ہوتا
    ناز ہے اس خزانے پہ مجھ کو بہت
    یا اس قسم کا کوئی مصرع بہتر ہو گا

    آسمان و زمیں دم بخود رہ گئے
    جب مرا دلربا مسکراتا ملا
    .. یہ تو مختلف بات ہو گئی! تو کیا ہمیشہ روتا ملتا تھا جو سب کو اتنا تعجب ہوا؟

    کلفت و غم سبھی دور ہو بھی گئے
    رنج وغم کا مرے جب مسیحا ملا
    ... بھی' بھرتی کا ہے
    دوسرا مصرع
    جب مرت رنج و......
    سادہ اور رواں ہے

    ’مرحبا‘ کی صدائیں بھی آنے لگیں
    مجھ سے جب ماہ رو فاتحانہ ملا
    ... فاتحانہ؟ یہ شعر نکال ہی دو

    ’’بوسۂ دلبرانہ پہ کیا اس کو دوں؟‘‘-------اس کرم پر اسے نذر کیواسطے
    میرے دامن میں تو اشک و قطرہ ملا

    دل نے چاہا بہت نذر کچھ تو کریں
    کچھ نہ پاپا بجز آہ و گریہ ملا

    مفلسی میں مرے پاس کچھ بھی نہیں
    ہاں! دعا کے لیے ہاتھ اٹھتا ملا
    ... ان تینوں اشعار کے بدلے صرف یہ رکھیں
    دل نے چاہا/سوچتا تھا کروں نذر، دل میں مگر
    کچھ نہ پاپا بجز آہ و گریہ ملا
    ہی کافی ہے، باقی دو اشعار نکال دو
     

اس صفحے کی تشہیر