اے عشق جنوں پیشہ۔۔۔ احمد فراز کی آخری کتاب سے انتخاب

محمد بلال اعظم نے 'اردو شاعری' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 23, 2012

  1. محمد بلال اعظم

    محمد بلال اعظم لائبریرین

    مراسلے:
    10,288
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    یونہی مل بیٹھنے کا کوئی بہانہ نکلے
    بات سے بات فسانے سے فسانہ نکلے

    پھر چلے ذکر کسی زخم کے چِھل جانے کا
    پھر کوئی درد کوئی خواب پرانا نکلے

    پھر کوئی یاد کوئی ساز اُٹھا لے آئے
    پھر کسی ساز کے پردے سے ترانہ نکلے

    یہ بھی ممکن ہے کہ صحراؤں میں گم ہو جائیں
    یہ بھی ممکن ہے خرابوں سے خزانہ نکلے

    آؤ ڈھونڈیں تو سہی اہلِ وفا کی بستی
    کیا خبر پھر کوئی گم گشتہ ٹھکانہ نکلے

    یار ایسی بھی نہ کر بات کہ دونوں رو دیں
    یہ تعلق بھی فقط رسمِ زمانہ نکلے

    یہ بھی ہے اب نہ اٹھے نغمۂ زنجیر فرازؔ
    یہ بھی ہے ہم سا کوئی اور دِوانہ نکلے
    ٭٭٭​
     
  2. محمد بلال اعظم

    محمد بلال اعظم لائبریرین

    مراسلے:
    10,288
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    کفن بدوش کہیں سر بکف لئے پھری ہے
    یہ زندگی مجھے کس کس طرف لئے پھری ہے

    مری طلب اُسے جنگاہ میں بھی لے جاتی
    مری تلاش اُسے صف بہ صف لئے پھری ہے

    میں رزم گاہ میں ہوتا تو پاگلوں کی طرح
    وہ خیمہ گاہ میں راتوں کو دف لئے پھری ہے

    یہ سر زمین مرے خوں سے سرخرو نہ ہوئی
    یہ خاک مرے لہو کا شرف لئے پھری ہے

    سو بے نیاز رہے دوستوں سے ہم کہ یہ جاں
    خود اپنا تیر خود اپنا ہدف لئے پھری ہے

    فرازؔ درخورِ قاتل نہ تھے ہمی ورنہ
    ہمیں بھی جوششِ خوں سر بکف لئے پھری ہے
    ٭٭٭​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. محمد بلال اعظم

    محمد بلال اعظم لائبریرین

    مراسلے:
    10,288
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    اُس نے جب چاہنے والوں سے اطاعت چاہی
    ہم نے آداب کہا اور اجازت چاہی

    یونہی بیکار میں کب تک کوئی بیٹھا رہتا
    اس کو فرصت جو نہ تھی ہم نے بھی رخصت چاہی

    شکوہ ناقدریِ دنیا کا کریں کیا کہ ہمیں
    کچھ زیادہ ہی ملی جتنی محبت چاہی

    رات جب جمع تھے دکھ دل میں زمانے بھر کے
    آنکھ جھپکا کے غمِ یار نے خلوت چاہی

    ہم جو پامالِ زمانہ ہیں تو حیرت کیوں ہے
    ہم نے آبا کے حوالے سے فضیلت چاہی

    میں تو لے آیا وہی پیرہنِ چاک اپنا
    اُس نے جب خلعت و دستار کی قیمت چاہی

    حُسن کا اپنا ہی شیوہ تھا تعلق میں فرازؔ
    عشق نے اپنے ہی انداز کی چاہت چاہی
    ٭٭٭​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. محمد بلال اعظم

    محمد بلال اعظم لائبریرین

    مراسلے:
    10,288
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    تُو کہ شمعِ شامِ فراق ہے دلِ نامراد سنبھل کے رو
    یہ کسی کی بزمِ نشاط ہے یہاں قطرہ قطرہ پگھل کے رو

    کوئی آشنا ہو کہ غیر ہو نہ کسی سے حال بیان کر
    یہ کٹھور لوگوں کا شہر ہے کہیں دُور پار نکل کے رو

    کسے کیا پڑی سرِ انجمن کہ سُنے وہ تیری کہانیاں
    جہاں کوئی تجھ سے بچھڑ گیا اُسی رہگزار پہ چل کے رو

    یہاں اور بھی ہیں گرفتہ دل کبھی اپنے جیسوں سے جا کے مِل
    ترے دکھ سے کم نہیں جن کے دکھ کبھی اُن کی آگ میں جل کے رو

    ترے دوستوں کو خبر ہے سب تری بے کلی کا جو ہے سبب
    تُو بھلے سے اُس کا نہ ذکر کر تُو ہزار نام بدل کے رو

    غمِ ہجر لاکھ کڑا سہی پہ فرازؔ کچھ تو خیال کر
    مری جاں یہ محفلِ شعر ہے تو نہ ساتھ ساتھ غزل کے رو
    ٭٭٭​
     
  5. محمد بلال اعظم

    محمد بلال اعظم لائبریرین

    مراسلے:
    10,288
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    مہر و مہتاب بنا ہوں نہ ستارا ہُوا ہوں
    میں زمیں پر ہوں کہ افلاک کا مارا ہُوا ہوں

    قعرِ دریا میں ہیں موجوں سے جو پسپا نہ ہوئے
    میں کنارے پہ جو بیٹھا ہوں تو ہارا ہُوا ہوں

    میں تو ذرّہ تھا مگر اے مرے خورشید خرام
    تُو مجھے روند گیا ہے تو ستارا ہُوا ہوں

    تم نے ہر وار پہ مجھ سے ہی شکایت کی ہے
    میں کہ ہر زخم پہ ممنون تمہارا ہُوا ہوں

    عشق میں حُسن کے انداز سما جاتے ہیں
    میں بھی تیری طرح خود بین و خود آرا ہُوا ہوں

    سفرِ ذات میں ایسا کبھی لگتا ہے فرازؔ
    میں پیمبر کی طرح خود پہ اتارا ہُوا ہوں
    ٭٭٭​
     
  6. محمد بلال اعظم

    محمد بلال اعظم لائبریرین

    مراسلے:
    10,288
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    عاشقی میں میرؔ جیسے خواب مت دیکھا کرو
    باؤلے ہو جاؤ گے مہتاب مت دیکھا کرو

    جستہ جستہ پڑھ لیا کرنا مضامینِ وفا
    پر کتابِ عشق کا ہر باب مت دیکھا کرو

    اِس تماشے میں اُلٹ جاتی ہیں اکثر کشتیاں
    ڈوبنے والوں کو زیرِ آب مت دیکھا کرو

    میکدے میں کیا تکلف، میکشی میں کیا حجاب
    بزمِ ساقی میں ادب آداب مت دیکھا کرو

    ہم سے درویشوں کے گھر آؤ تو یاروں کی طرح
    ہر جگہ خس خانہ و برفاب مت دیکھا کرو

    مانگے تانگے کی قبائیں دیر تک رہتی نہیں
    یار لوگوں کے لقب القاب مت دیکھا کرو

    تشنگی میں لب بھگو لینا بھی کافی ہے فرازؔ
    جام میں صہبا ہے یا زہراب مت دیکھا کرو
    ٭٭٭​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. محمد بلال اعظم

    محمد بلال اعظم لائبریرین

    مراسلے:
    10,288
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    یہی بہت ہے کہ محفل میں ہم نشیں کوئی ہے
    کہ شب ڈھلے تو سَحر تک کوئی نہیں، کوئی ہے

    نہ کوئی چاپ نہ سایہ کوئی نہ سرگوشی
    مگر یہ دل کہ بضد ہے، نہیں نہیں کوئی ہے

    ہر اک زباں پہ اپنے لہو کے ذائقے ہیں
    نہ کوئی زہرِ ہلاہل نہ انگبیں کوئی ہے

    بھلا لگا ہے ہمیں عاشقوں کا پہناوا
    نہ کوئی جیب سلامت نہ آستیں کوئی ہے

    دیارِ دل کا مسافر کہاں سے آیا ہے
    خبر نہیں مگر اک شخص بہتریں کوئی ہے

    یہ ہست و بود یہ بود و نبود وہم ہے سب
    جہاں جہاں بھی کوئی تھا وہیں وہیں کوئی ہے

    فرازؔ اتنی بھی ویراں نہیں مری دنیا
    خزاں میں بھی گُلِ خنداں کہیں کہیں کوئی ہے
    ٭٭٭​
     
  8. محمد بلال اعظم

    محمد بلال اعظم لائبریرین

    مراسلے:
    10,288
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    دوست بھی ملتے ہیں محفل بھی جمی رہتی ہے
    تو نہیں ہوتا تو ہر شے میں کمی رہتی ہے

    اب کے جانے کا نہیں موسمِ گر یہ شائد
    مسکرائیں بھی تو آنکھوں میں نمی رہتی ہے

    عشق عمروں کی مسافت ہے کسے کیا معلوم
    کب تلک ہم سفری ہم قدمی رہتی ہے

    کچھ دِلوں میں کبھی کھلتے نہیں چاہت کے گلاب
    کچھ جزیروں پہ سدا دھند جمی رہتی ہے

    تم بھی پاگل ہو کہ اُس شخص پہ مرتے ہو فرازؔ
    ایک دنیا کی نظر جس پہ جمی رہتی ہے
    ٭٭٭
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. محمد بلال اعظم

    محمد بلال اعظم لائبریرین

    مراسلے:
    10,288
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    قیمت ہے ہر کسی کی دکاں پر لگی ہوئی
    بِکنے کو ایک بھِیڑ ہے باہر لگی ہوئی

    غافل نہ جان اُسے کہ تغافل کے باوجود
    اُس کی نظر ہے سب پہ برابر لگی ہوئی

    خوش ہو نہ سر نوشتۂ مقتل کو دیکھ کر
    فہرست ایک اور ہے اندر لگی ہوئی
    ق
    کس کا گماشتہ ہے امیرِ سپاہِ شہر
    کن معرکوں میں ہے صفِ لشکر لگی ہوئی

    برباد کر کے بصرہ و بغداد کا جمال
    اب چشمِ بد ہے جانبِ خیبر لگی ہوئی

    غیروں سے کیا گِلا ہو کہ اپنوں کے ہاتھ سے
    ہے دوسروں کی آگ مرے گھر لگی ہوئی

    لازم ہے مرغِ بادنما بھی اذان دے
    کلغی تو آپ کے بھی ہے سر پر لگی ہوئی

    میرے ہی قتل نامے پہ میرے ہی دستخط
    میری ہی مُہر ہے سرِ محضر لگی ہوئی

    کس کے لبوں پہ نعرۂ منصور تھا فرازؔ
    ہے چار سُو صدائے مکرّر لگی ہوئی
    ٭٭٭
     
  10. محمد بلال اعظم

    محمد بلال اعظم لائبریرین

    مراسلے:
    10,288
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    اجل سے خوف زدہ زیست سے ڈرے ہوئے لوگ
    سو جی رہے ہیں مرے شہر میں مرے ہوئے لوگ

    یہ بے دلی کسی آفت کا پیش خیمہ نہ ہو
    کہ چشم بستہ ہیں زانو پہ سر دھرے ہوئے لوگ

    نہ کوئی یاد نہ آنسو نہ پھول ہیں نہ چراغ
    تو کیا دیارِ خموشاں سے بھی پرے ہوئے لوگ

    ہوائے حرص سبھی کو اُڑائے پھرتی ہے
    یہ گرد بادِ زمانہ یہ بھُس بھرے ہوئے لوگ

    یہ دل سنبھلتا نہیں ہے وداعِ یار کے بعد
    کہ جیسے سو نہ سکیں خواب میں ڈرے ہوئے لوگ

    کچھ ایسا ظلم کا موسم ٹھہر گیا ہے فرازؔ
    کسی کی آب و ہوا میں نہ پھر ہرے ہوئے لوگ
    ٭٭٭
     
  11. محمد بلال اعظم

    محمد بلال اعظم لائبریرین

    مراسلے:
    10,288
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    جب ہر اک شہر بلاؤں کا ٹھکانہ بن جائے
    کیا خبر کون کہاں کس کا نشانہ بن جائے

    عشق خود اپنے رقیبوں کو بہم کرتا ہے
    ہم جسے پیار کریں جانِ زمانہ بن جائے

    اتنی شدت سے نہ مل تُو کہ جدائی چاہیں
    اور یہ قربت تری دوری کا بہانہ بن جائے

    جو غزل آج ترے ہجر میں لکھی ہے وہ کل
    کیا خبر اہلِ محبت کا ترانہ بن جائے

    کرتا رہتا ہوں فراہم میں زرِ زخم کہ یوں
    شائد آئندہ زمانوں کا خزانہ بن جائے

    اِس سے بڑھ کر کوئی انعامِ ہنر کیا ہے فرازؔ
    اپنے ہی عہد میں اک شخص فسانہ بن جائے
    ٭٭٭
     
  12. محمد بلال اعظم

    محمد بلال اعظم لائبریرین

    مراسلے:
    10,288
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    یونہی مر مر کے جئیں وقت گذارے جائیں
    زندگی ہم ترے ہاتھوں سے نہ مارے جائیں

    اب زمیں پر کوئی گوتم نہ محمدﷺ نہ مسیح
    آسمانوں سے نئے لوگ اُتارے جائیں

    وہ جو موجود نہیں اُس کی مدد چاہتے ہیں
    وہ جو سنتا ہی نہیں اُس کو پکارے جائیں

    باپ لرزاں ہے کہ پہنچی نہیں بارات اب تک
    اور ہم جولیاں دلہن کو سنوارے جائیں

    ہم کہ نادان جواری ہیں سبھی جانتے ہیں
    دل کی بازی ہو تو جی جان سے ہارے جائیں

    تج دیا تم نے درِ یار بھی اُکتا کے فرازؔ
    اب کہاں ڈھونڈھنے غمخوار تمہارے جائیں
    ٭٭٭
     
    • نا پسندیدہ نا پسندیدہ × 1
  13. محمد بلال اعظم

    محمد بلال اعظم لائبریرین

    مراسلے:
    10,288
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    باغباں ڈال رہا ہے گل و گلزار پہ خاک​
    اب بھی میں چپ ہوں تو مجھ پر مرے اشعار پہ خاک​
    کیسے بے آبلہ پا بادیہ پیما ہیں کہ ہے
    قطرۂ خوں کے بجائے سر ہر خار پہ خاک

    سرِ دربار ستادہ ہیں پئے منصب و جاہ
    تُف بر اہلِ سخن و خلعت و دستار پہ خاک

    آ کے دیکھو تو سہی شہر مرا کیسا ہے
    سبزہ و گل کی جگہ ہے در و دیوار پہ خاک

    تا کسی پر نہ کھُلے اپنے جگر کا احوال
    مَل کے آ جاتے ہیں ہم دیدۂ خونبار پہ خاک

    بسکہ اک نانِ جویں رزقِ مشقت تھا فرازؔ
    آ گیا ڈال کے میں درہم و دینار پہ خاک
    ٭٭٭
     
  14. محمد بلال اعظم

    محمد بلال اعظم لائبریرین

    مراسلے:
    10,288
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    نامہ بروں کو کب تک ہم کوئے یار بھیجیں
    وہ نامراد آئیں ہم بار بار بھیجیں

    ہم کب سے منتظر ہیں اس موسمِ جنوں کے
    جب زخم تہنیت کے یاروں کو یار بھیجیں

    کیوں چشمِ شہر یاراں ہے سوئے جاں فگاراں
    کیا جامۂ دریدہ اُن کو اُتار بھیجیں؟

    آؤ اور آ کے گِن لو زخم اپنے دل زدوں کے
    ہم کیا حساب رکھیں ہم کیا شمار بھیجیں

    یارانِ مہرباں کو گر فکر ہے ہماری
    یا پندگر نہ بھیجیں یا غمگسار بھیجیں

    جب یار کا سندیسہ آئے تو بات بھی ہو
    یوں تو ہزار نامے خوباں ہزار بھیجیں

    سُن اے غزالِ رعنا اب دل یہ چاہتا ہے
    ہرروز اک غزل ہم در مدحِ یار بھیجیں

    دل یہ بھی چاہتا ہے ہجراں کو موسموں میں
    کچھ قربتوں کی یادیں ہم دُور پار بھیجیں

    دل یہ بھی چاہات ہے اُن پھول سے لبوں کو
    دستِ صبا پہ رکھ کر شبنم کے ہار بھیجیں

    دل یہ بھی چاہتا ہے اُس جانِ شاعری کو
    کچھ شعر اپنے چُن کر شاہکار بھیجیں

    دل یہ بھی چاہتا ہے سب بھید چاہتوں کے
    ہر مصلحت بھُلا کر بے اختیار بھیجیں

    دل یہ بھی چاہتا ہے پردے میں ہم سُخن کے
    دیوانگی کی باتیں دیوانہ وار بھیجیں

    دل یہ بھی چاہتا ہے جب بے اثر ہو سب کچھ
    تجھ کو بنا کے قاصد اے یادِ یار بھیجیں

    دل یہ بھی چاہتا ہے یا چُپ کا زہر پی لیں
    یا دامن و گریباں ہم تار تار بھیجیں

    دل جو بھی چاہتا ہو لیکن فرازؔ سوچو
    ہم طوقِ آشنائی کیسے اُتار بھیجیں
    ٭٭٭
     
  15. محمد بلال اعظم

    محمد بلال اعظم لائبریرین

    مراسلے:
    10,288
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    ابر و باراں ہی نہ تھے بحر کی یورش میں شریک
    دکھ تو یہ ہے کہ ہے ملاح بھی سازش میں شریک

    تا ہمیں ترکِ تعلق کا بہت رنج نہ ہو
    آؤ تم کو بھی کریں ہم اِسی کوشش میں شریک

    اک تو وہ جسم طلسمات کا گھر لگتا ہے
    اس پہ ہے نیّتِ خیاط بھی پوشش میں شریک

    ساری خلقت چلی آتی ہے اُسے دیکھنے کو
    کیا کرے دل بھی کہ دنیا ہے سفارش میں شریک

    اتنا شرمندہ نہ کر اپنے گنہگاروں کو
    اے خدا تُو بھی رہا ہے مری خواہش میں شریک

    لفظ کو پھول بنانا تو کرشمہ ہے فرازؔ
    ہو نہ ہو کوئی تو ہے تیری نگارش میں شریک
    ٭٭٭
     
  16. محمد بلال اعظم

    محمد بلال اعظم لائبریرین

    مراسلے:
    10,288
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    نشستہ مسندِ ساقی پہ اب ہیں آب فروش
    ہوئے ہیں شہر بدر، شہر کے شراب فروش

    کوئی بھی دیکھنا چاہے نہ اپنے چہرے کو
    سو جتنے آئنہ گر تھے ہوئے نقاب فروش

    کسی کے پاس نہ ظرفِ خرد نہ حرفِ جنوں
    ہوئے ہیں عارف و سالک سبھی نصاب فروش

    یہ کہہ کے اُڑ گئے باغوں سے عندلیب تمام
    جو باغباں تھے کبھی اب ہوئے گلاب فروش

    نہ کشتیاں ہیں نہ ملاح ہیں نہ دریا ہے
    تمام ریگِ رواں اور سبھی سراب فروش

    جو حرفِ دل کبھی خونِ جگر سے لکھتے تھے
    وہ اہلِ درد بھی اب ہو گئے کتاب فروش

    کوئی نہیں جو خبر لائے قعرِ دریا کی
    یہ تاجرِ کفِ سیلاب وہ حباب فروش

    جو کور چشم، کہن سال و شعبدہ گر تھے
    وہی تو لوگ ہیں اب سرمہ وخضاب فروش

    نہیں فرازؔ تو لوگوں کو یاد آتا ہے
    وہ نغمہ سنج وہ خوش گفتگو وہ خواب فروش
    ٭٭٭
     
  17. محمد بلال اعظم

    محمد بلال اعظم لائبریرین

    مراسلے:
    10,288
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    مسافت دل کی تھی سو وہ جادۂ مشکل پسند آیا
    ہمیں بھی مثلِ غالبؔ گفتۂ بیدلؔ پسند آیا

    سمر قند و بخارا کیا ہیں خالِ یار کے آگے
    سو ہم کو مصرعۂ حافظؔ بجان و دل پسند آیا

    طبیعت کی کشاکش نے ہمیں آخر ڈبونا تھا
    کبھی دریا اچھا لگا کبھی ساحل پسند آیا

    متاعِ سوختہ دل سے لگائے پھرتا رہتا ہوں
    کہ شہرِ آرزو جیسا بھی تھا حاصل پسند آیا

    عجب رنگ آ گیا ہے دل کے خوں ہونے سے آنکھوں میں
    ہمیں بھی اب کے گریہ میں لہو شامل پسند آیا

    نہ تھا یوں بھی کہ جس کو دیکھتے ہم اُس کے ہو جاتے
    کہ تُو بھی تو ہمیں جاناں بصد مشکل پسند آیا

    فرازؔ اپنی ادا کا ایک دیوانہ ہے کیا کیجئے
    اُسے سارے مسیحاؤں میں اک قاتل پسند آیا
    ٭٭٭
     
  18. محمد بلال اعظم

    محمد بلال اعظم لائبریرین

    مراسلے:
    10,288
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    سبھی کہیں مرے غمخوار کے علاوہ بھی
    کوئی تو بات کروں یار کے علاوہ بھی

    بہت سے ایسے ستمگر تھے جو اب یاد نہیں
    کسی حبیبِ دل آزار کے علاوہ بھی

    یہ کیا کہ تم بھی سرِ راہ حال پوچھتے ہو
    کبھی ملو ہمیں بازار کے علاوہ بھی

    سو دیکھ کر ترے رخسار و لب یقیں آیا
    کہ پھول کھلتے ہیں گلزار کے علاوہ بھی

    کبھی فرازؔ سے آ کر ملو جو وقت ملے
    یہ شخص خوب ہے اشعار کے علاوہ بھی
    ٭٭٭
     
  19. محمد بلال اعظم

    محمد بلال اعظم لائبریرین

    مراسلے:
    10,288
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    سنو ہَواؤں کا نوحہ زبانیِ صحرا
    کہ گرگ زاد کریں اب شبانیِ صحرا

    سنو کہ پیاس ہر اک کی جدا کدا ٹھہری
    سو بحر خاک کرے ترجمانیِ صحرا

    سنو کہ سب کا مقدر کہاں غمِ لیلیٰ
    کسی کسی پہ رہی مہربانیِ صحرا

    سنو کہ دل کا اثاثہ بس ایک داغ تو ہے
    کہ جیسے خانۂ مجنوں نشانیِ صحرا

    سنو کہ اب کوئی بانگِ جرس نہ نالۂ نے
    عیاں تو سب پہ ہے سوزِ نہانیِ صحرا

    سنو کہ آبلہ پا اب کہاں سے آئیں گے
    ہمارے ساتھ گئی گل گشانیِ صحرا

    سنو کہ جب کوئی آئینِ گلستاں ہی نہیں
    تو کوئی کیسے کرے باغبانیِ صحرا
    ٭٭٭
     
  20. محمد بلال اعظم

    محمد بلال اعظم لائبریرین

    مراسلے:
    10,288
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    کس نے کہا تھا کہ وحشت میں چھانیے صحرا
    کڑی ہے دھوپ تو اب سر پہ تانیے صحرا

    بس اک ذرا سے اُجڑنے پہ زعم کتنا ہے
    یہ دل بضد ہے کہ اب اس کو مانیے صحرا

    کسی کی آبلہ پائی عنایتِ رہِ دوست
    کسی کی چاک قبائی نشانیِ صحرا

    یہ زندگی کہ خیاباں بھی ہے خرابہ بھی
    اب اس کو خلد سمجھیے کہ جانیے صحرا

    ہوس کے واسے سو در کھُلے ہیں شہروں میں
    اگر جنونِ وفا ہے تو چھانیے صحرا

    ستم تو یہ ہے کہ اب خانہ زادگانِ چمن
    ہمیں بتانے لگے ہیں معانیِ صحرا

    ہمیں ملی نہ کہیں خیمہ زن نگارِ بہار
    لئے پھری ہے عبث بیکرانیِ صحرا

    فرازؔ و قیس ہیں دونوں ہی کشتگانِ وفا
    یہ جانِ شہرِ ملامت وہ جانیِ صحرا
    ٭٭٭​
     

اس صفحے کی تشہیر