ایک چائے کا احوال۔ پروفیسر خورشید احمد کی کتاب تذکرۂ زنداں سے ایک اقتباس

محمد تابش صدیقی نے 'محفل چائے خانہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اپریل 16, 2020

  1. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    25,382
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    چونکہ اس تحریر کا موضوع چائے ہے تو چائے خانہ میں ہی مناسب معلوم ہوئی۔ :)
    ---
    ہماری شام کی محفلیں آج کل خوب گرم ہیں۔ چولہے کے آ جانے سے چائے کی دولتِ گم شده پھر ہاتھ آ گئی ہے۔ ایک ڈبہ (Choicest) کا اور ایک (red label) کا آ گیا ہے۔ صادق صاحب چائے کے انچارج ہیں اور چائے بنانے کا حق ادا کرتے ہیں بلکہ اس فن کے امام ہیں۔
    پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ
    افسوس تم کو میرؔ سے صحبت نہیں رہی​
    ابوالکلام کی چائے کا حال پڑھا تھا اور صادق صاحب کے اہتمام کو دیکھا ہے! پہلے کیتلی دھوئی جائے گی پھر تازہ پانی کے بجائے مٹکے کا پانی لیا جائے گا کہ اس میں کلورین کی بو کم ہو جاتی ہے۔ آگ پر ایک خاص درجۂ حرارت تک پانی کے گرم ہونے کا انتظار ہو گا۔ جب "سُرہ" بلند ہو تو یہ اس بات کا اعلان ہے کہ اب پانی چائے کے لیے بالکل تیار ہے۔ اگر اس کیفیت پر زیادہ دیر گزر جائے تو زیادہ پک جانے کی وجہ سے چائے کا (flavor) نکھر نہ سکے گا۔اب پیالیوں کی مناسبت سی چائے پڑے گی۔ اگر ریڈ لیبل ہے تو چھ پیالیوں کے لیے سات چمچے، اگر چوائسسٹ ہے تو پانچ چمچے۔ اس کے بعد چائے دانی کو دم دیا جائے گا۔ چونکہ ٹی کوزی نہیں ہے اس لیے پہلے تولیہ رکھا جائے گا- ایک کمبل نیچے اور ایک کمبل اوپر۔ اب کہیں بی چائے کا رنگ نکھرے گا۔ لیکن ابھی بات ختم کہاں ہوئی،
    ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں!​
    اب اسی اہتمام سے دودھ گرم ہو گا لیکن چونکہ زندانی دودھ چائے کے سارے مزہ کو خراب کر دیتا ہے اس لیے ہم نے جلد ہی دودھ کے ڈبے منگوا لیے۔ سنا ہے کہ ہمیں خاص سہولت دی گئی ہے ورنہ چائے کی تو اجازت ہے لیکن دودھ کے ڈبے کی نہیں۔ یہ ایک "سامان تعیش" ہے۔ جن جیلر صاحب نے دودھ کے ڈبہ کو پاس کیا انہوں نے فرمایا ہے کہ بس آپ لوگوں کے لیے قاعدہ توڑ رہا ہوں ورنہ ہم اس کی اجازت نہیں دیتے۔ پوچھا کہ اس پابندی کی وجہ؟ جب چائے کے اجازت ہے تو دودھ کیوں منع ہے۔ یا دونوں کو منع کیجیے یا دونوں کی اجازت دیجیے؟ ( یہ تو وہی معمہ ہوا جو انٹونیو نے شائی لاک کے سامنے پیش کیا تھا۔ "گوشت لے لو، لیکن خون کی ایک بوند نہ ٹپکے!") بڑے ناصحانہ انداز میں بولے: " اجی ! یہ آپ حضرات ہی کے فائدے کے لیے ہے۔ اب اگر کوئی ایسا کرے کہ اس کا کاغذ ذرا سا ہٹا کر (اور ایک کونے سے انہوں نے کاغذ اکھیڑا) اور اس میں زہر انجیکٹ کر دے تو کیا ہو؟ ذمہ داری تو ہماری ہے۔" اس دلیل پر طبیعت خوش ہو گئی اور ہم اس کا منہ تکتے ہی رہ گئے۔
    تھی کچھ ایسی ہی بات جو چپ ہوں
    ورنہ کیا بات کر نہیں آتی؟​
    بہرحال یہ تو ایک جملۂ معترضہ تھا! دودھ کو چائے دانی کے پاس رکھا جاتا ہے پھر تھوڑا سا گرم پانی پیالوں میں ڈالا جاتا ہے تاکہ وہ چائے کی امانت قبول کرنے کے لائق ہو جائیں۔ اب شکر پڑتی ہے اور پھر چائے ڈالی جاتی ہے۔ صادق صاحب چائے ڈالتے ہیں اور ہم سب چائے دانی سے نکلنے والے اس قرمزی آبشار پر آنکھیں جمائے ہوتے ہیں۔ اِدھر یہ سیال ارغوانی جو خونِ کبوتر کی سرخی کر شرمائے، آگ کی گرمی اور شعلہ کی سرخی لیے پیالی میں گرا اور اس خالص پاکستانی پیالی کے مٹیالے رنگ پر حیا کی سرخی دوڑی اور اُدھر واہ! واہ! کی صدائیں بلند ہوئیں۔
    مے میانِ شیشۂ ساقی نگر
    آتشے گویا بآب آلوده اند​
    رندوں کی "ہاؤ ہو" کا یہ عالم بس دیکھنے ہی سے تعلق رکھتا ہے!
    ہر شخص کی پیالی جدا ہے۔ اُس کے ذوق کے مطابق شکر اور دودھ ڈالا گیا ہے۔ ایک ایک پیالی بھری جاتی ہے او جس کے نام کی اس پر مہر ہے اس کو ملتی جاتی ہے۔
    اہتمام اچھا یہ ساقی تیرے میخانے میں ہے
    جس کا جتنا ظرف ہے اتنی ہی پیمانے میں ہے​
    چائے کا گھونٹ لیا جاتا ہے اور داد کا دوسرا دور شروع ہو جاتا ہے۔ اس بیخودی کے عالم میں بھی اتنا ہوش ہے کہ آدابِ ناؤ و نوش کی ذرا خلاف ورزی نہیں ہو رہی ہے! پہلی پیالی ختم ہوئی تو اب دوسری کے لیے ہاتھ بڑھ رہے ہیں اور نظریں التجا کر رہی ہیں اور ساقی کی فیاضی کا بھی یہ عالم ہے کہ
    پیہم دیا پیالۂ "چاء" برملا دیا
    ساقی نے التفات کا دریا بہا دیا
    ٭٭٭
    پروفیسر خورشید احمد کی کتاب تذکرۂ زنداں سے ایک اقتباس
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1

اس صفحے کی تشہیر