ایک خوبصورت محفل کی روداد

اوشو

لائبریرین
اتوار مورخہ 16 مارچ کا ذکر ہے۔ شام میں سید شہزاد ناصر جی کا پیغام موصول ہوا کہ گوجرانوالہ میں تشریف رکھتے ہیں اور ملاقات کا پوچھتا تو فرمایا کہ کل دن 11 بجے کنجاہ میں ایک چھوٹی سی محفل ہے جس کا انتظام ابوحمزہ جی نے کیا ہے۔ ممکن ہے تو وہاں آ جاؤ۔ مجھے اگلے دن اسی طرف ایک دوست کے والد کے جنازہ میں شرکت کے لیے جانا تھا۔ سو ان سے کہا کہ آپ کو بھی ساتھ لیتا جاتا ہوں۔ درخواست منظور کر لی گئی۔ پھر ذہن میں آیا کہ گجرات سے گزر کر جانا ہے تو کیوں نہ تلمیذ جی کو بھی ساتھ لیا جاے۔ ان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بھی رضامندی کا اظہار فرمایا۔ چنانچہ پروگرام یہ طے پایا کہ میں صبح نکلوں گا تو شاہ جی کو بھی پک کر لوں گا اور گجرات سے تلمیذ صاحب کو بھی۔ وہاں سے سیدھا جنازے پر جائیں گے اور واپسی پر کنجاہ میں ابوحمزہ جی کے پاس رکیں گے۔
صبح میں پروگرام سے کچھ لیٹ ہو گیا۔ طے کردہ مقام سے شاہ جی کو گاڑی میں بٹھایا ہی تھا کہ ٹریفک وارڈن اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے آ پہنچے اور ان سے نپٹتے کچھ وقت ضائع ہوا۔ اسی دوران تلمیذ جی سے رابطہ ہوا تو انہوں نے بتایا کہ طبیعت کچھ ناساز ہے اس لیے آپ کا ساتھ دینے سے معذور ہوں۔ ان کو آرام کرنے کا بولا اور ہم اپنے سفر پر نکل پڑے۔
ہمارا پہلا پڑاؤ "ڈنگہ" کے قریب ایک گاؤں "چک محمود" تھا ۔ ہم لیٹ ہو چکے تھے ۔ اس لیے جب ہم پہنچے تو جنازہ ہو چکا تھا۔ خیر فاتح شریف پڑھ اظہار افسوس کیا اور کھانے سے معذرت کرتے ہوئے بڑی مشکل سے اجازت طلب کی۔
ہمارا دوسرا سٹاپ چک محمود سے واپسی پر "کیرانوالہ سیداں" نامی ایک گاؤں میں زیر تعمیر ایک مسجد جسے "مسجد وہیگہ شریف" کا نام دیا گیا ہے ، تھا۔
یہ مسجد اور اس سے ملحق آنکھوں کے علاج کا مفت ہسپتال جو انتہائی سینیئر سرجن اور آئی سپیشلسٹ "صاحبزاہ ڈاکٹر فرخ حفیظ صاحب"کے زیر اہتمام قائم کیا گیاہے۔ اس ہسپتال میں آنکھوں سے متعلقہ امراض کا مفت علاج معالجہ فراہم کیا جاتا ہے۔ ہر مہینے کی پہلی اور تیسری سوموار۔ ڈاکٹر صاحب کا تعارف ایک الگ مضمون کا متقاضی ہے۔
مسجد کا آرکیٹیچر اور طرز تعمیر اپنی جگہ انتہائی منفرد اور خوبصورت ہے۔ سنگ مرمر سے زیر تعمیر یہ مسجد انتہائی خوبصورت ہے۔ اس کی تعمیر کا کام تقریبا 4 سال سے مسلسل جاری ہے۔ اینٹیں بھی ادھر ہی تیاری کی جاتی ہیں اور سنگ مرمر سے متعلقہ کام بھی وہیں پر تیار ہو رہا ہے۔ خوبصورت نقش و نگار اور آیات سے مزین دیواریں، منبر، محراب، ستون، گنبد، مینار ، ستون ، کھڑکیاں، فرش سب سنگ مرمر سے تیار ہو رہا ہے۔ وہاں موجود گائیڈ نے بتایا اس مسجد کا آرکیٹکچر اور سنگ مرمر کے تمام ڈیزاین اور آیات ڈاکٹر صاحب نے خو تیار کیے ہیں۔ جو ایک انتہائی حیران کن بات تھی۔
شاہ جی نے اس مسجد کو ایک عجوبہ قرار دیا۔ فن تعمیر کے متعلق چونکہ شاہ جی زیادہ بہتر جانتے ہیں کیوں کہ وہ ان کا شعبہ ہے اس لیے اس بارے میں مزید وہی بتائیں گے۔
مسجد شریف کی زیارت اور ہسپتال کا انتظام و انصرام دیکھنے کے بعد ہم گاڑی میں بیٹھے اور اگلی منزل کی جانب چل نکلے۔
ہماری اگلی منزل تھی "کنجاہ" ۔۔۔
کنجاہ ادبی لحاظ سے ایک انتہائی شاداب علاقہ ہے ادب کے بہت بڑے بڑے نام اس قصبہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ سیاست، فوج اور دیگر شعبہ جات میں بھی کنجاہ کے بہت سے سنہری نام ہیں۔ جنہوں نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنا اور اپنے ملک کا نام روشن کیا۔
اسی زرخیز خطے کے باسی ابو حمزہ جی ہیں ۔ جن کا اصل نام سلال یوسف ہے۔ انتہائی پیاری ، نفیس ، سلجھی ہوئی شخصیت کے مالک ہیں۔ پہلی ہی ملاقات میں انہوں نے بھرپور تاثر چھوڑا اور ان سے دوبارہ ملنے کی خواہش ہے۔ تخلیقی صلاحیت سے مالامال ہیں۔
کنجاہ پہنچنے پر ان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے ایک ہوٹل "اریبین نائیٹس" کا پتا بتایا۔ وہاں پہنچے ابوحمزہ جی ہمارے منتظر تھے۔
ابو حمزہ جی قطر میں ایک ٹریول ایجنسی چلاتے ہیں۔ اپنے ذوق کی تسکین کے لیے گرافک ڈیزائننگ کرتے ہیں۔ ان کے تیار کئے گئے ڈیزائن اپنے اندر انتہائی خوبصورتی ، جاذبیت اور انفرادیت لیے ہوتے ہیں۔ میں بہت عرصہ سے ان سے ملاقات کا متمنی تھا۔
ابوحمزہ جی نے انتہائی محبت اور اپنائیت سے استقبال کیا۔ اور ہمیں ساتھ لیے ہوٹل میں براجمان ہو گئے۔ "عربین نائیٹس" نامی یہ ہوٹل اپنے نام کی طرح ایک منفرد اور پرسکون ماحول لیے ہوے تھا۔
گپ شپ کا سلسلہ شروع ہوا تو ابوحمزہ جی کے ایک اور دوست بھی آ پہنچے جن کام "عتیق الرحمن صفی" تھا جو کہ بہت اچھے شاعر ہیں۔ ان کا مجموعہ کلام چھپ کر ہر خاص و عام سے پسندیدگی کی سند حاصل کر چکا ہے۔ پیشے کے لحاظ سے ایک دوا ساز ادارے سے وابستہ ہیں۔
کچھ ہی دیر میں ابوحمزہ جی کے صاحبزادے "حمزہ" بھی آ گئے۔ حمزہ میں اپنے والد محترم کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔ یہ کالج کے طالب علم ہیں اور ایروناٹیکس کے شعبہ میں جانے کی پلاننگ رکھتے ہیں۔ اللہ کریم سے ان کی کامیابی کے لیے دعا گو ہوں۔ اتنے میں کھانا لگ گیا اور ابوحمزہ جی نے حکم دیا کہ باقی گپ شپ کھانے کے میز پر ہو گی۔
ہوٹل ابوحمزہ جی کے کزن کی زیر نگرانی ہے۔ جنہوں نے کھانے کا انتہائی پرتکلف انتظام کیا ہوا تھا۔ بہت سی منفرد ڈشز سے میز بھرا ہوا تھا۔ بون لیس چکن ، پٹیالہ ہانڈی اور اس طرح کی ڈشز جو عربی اور پاکستانی ذائقے انتہائی لذیذ امتزاج تھیں ہمارے سامنے موجود تھیں۔ کھانے سے خا طر خواہ انصاف کیا گیا۔ لیکن ابوحمزہ جی کی طرف سے یہ بھی لیں ، یہ بھی ٹیسٹ کریں کی تکرار جاری تھی۔ خاص کر میرے ایک دوست ناصر رسول کو جو اس سفر میں ڈرائیونگ کی ذمہ داری سنبھالے ہوے تھے۔
کھانے کے بعد چائے کا دور چلا ۔ اس دوران آرٹ ، ادب، نظم ، نثر، ڈیزائننگ، کرکٹ اور دوسرے کئی موضوعات پر گپ شپ جاری رہی۔ یہ جان کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ ابوحمزہ جی بھی شاعری کرتے ہیں۔ ہماری پرزور فرمائش پر انہوں نے موبائل پر اپنا ایک کلام درآمد کیا اور موبائل عتیق الرحمن جی کے حوالے کیا کہ پڑھ کر سنا دیں۔ بہت خوبصورت نظم تھی جسے عتیق الرحمن جی نے خوبصورت لب و لہجے کے ساستھ ہماری سماعتوں کی نذر کیا۔ اس کے بعد ابوحمزہ جی سے میں نے فرمائش کی کہ اپنی ڈیزائن کردہ کچھ چیزیں دکھائیں ۔ ابوحمزہ جی نے شرف قبولیت بخشا اور موبائل ہمارے حوالے کیا ۔ کمپیوٹر توموجود نہیں تھا تو موبائل پر اکتفا کرنا پڑا۔ زیادہ تر ڈیزائن خوبصورت اشعار اور انہی اشعار کی مناسبت سے تیار کیے گئے نمونہ جات پر مشتمل تھے۔ ابوحمزہ جی کی ڈیزائننگ کا ایک عرصہ سے میں شیدا ہوں ۔ ان کی ڈیزائننگ کی خاص بات یہ ہے کہ پورا ڈیزائن اشعار کی ترجمانی کر رہا ہوتا ہے ، یہ نہیں کہ بارڈر بنا دیا اور بیک گراونڈ پر کوئی ٹیکسچر لگا دیا اور اوپر اشعار لگا دیے اور اسے ڈیزائن کا نام دے دیا۔ جیسا کہ انٹرنیٹ پر اکثر ڈیزائنر کرتے ہیں۔
کمپیوٹر پر موجود تصویر پکسلز کا مجموعہ ہوتی ہے اور ابوحمزہ جی کے ڈیزائن کی گئی تصاویر دیکھ کر صاف پتا لگتا ہے کہ ایک ایک پکسل پر محنت کی گئی ہے۔ دیکھ کر آنکھوں کو تسکیکن پہنچی ۔ ان کی تصاویر کے کچھ نمونہ جات شاہ جی نے ادھر شیئر بھی کیے تھے۔ باقی ان کی ویب سائیٹ "اردو آرٹسٹ" پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

میں خواتین کے ملبوسات کی ڈیزائننگ کے شعبہ سے وابستہ ہوں جسے ماڈرن الفاظ میں فیشن ڈیزائنر بھی کہا جاتا ہے ، سو اپنے ڈیزائن کیے گئے کچھ ملبوسات کی تصاویر اور خاکے ابوحمزہ جی کو بھی دکھائے۔ اور ان کی تعریف سے بہت خوشی ملی۔
اس پیاری محفل میں وقت کتنی تیزی سے گزرا ، احساس بھی نہ ہوا۔ بینک میں کچھ کام تھا اس لیے 5 بجے تک گوجرانوالہ بھی پہنچنا تھا چنانچہ ابوحمزہ جی سے اجازت طلب کی گئی۔ اور آئندہ ملاقات کا وعدہ کیا گیا۔ ساتھ ساتھ ان کی کزن جنہوں نے خوبصورت ہوٹل میں انتہائی پرتکلف اور لذیذ کھانے کا شاندار انتظام کیا تھا۔ ان کو مشترکہ طور پر خراج تحسین پیش کیا گیا۔
اس طرح یہ خوبصورت محفل اپنے دامن میں بہت سی خوبصورت یادیں لیے اپنے اختتام کو پہنچی۔ ابوحمزہ جی نے بہت محبت سے سب کو رخصت کیا۔
اس کے بعد پھر سے ہم تھے اور ہماری گاڑی۔ شاہ جی کو وزیر آباد ان کے کزن کے ہوٹل پر ڈراپ کر کے ہم واپس گوجرانوالہ پہنچے اور اپنے پیشہ ورانہ کاموں میں مصروف ہو گئے۔ لیکن دل میں ابھی بھی خواہش ہے کہ ایسی محفل پھر سے نصیب ہو۔ باقی یار زندہ صحبت باقی۔
زندگی رہی تو ان شاء اللہ
شاہ جی نے روداد لکھنے کی ذمہ داری مجھ ناسمجھ پر ڈال دی اور میں نے حسب روایت لکھنے میں تاخیر کر دی۔ جس کی وجہ وہی غم روزگار ۔۔۔۔
آج گوجرانوالہ سے چھٹی پر اپنے گھر ملک وال ضلع منڈی بہاوالدین پہنچا ہوں تو شدید تکھاوٹ کے باوجود پہلی فرصت میں یہ روداد لکھنے بیٹھ گیا کہ شاہ جی میری سستی پر کہیں میرے کان نہ کھینچیں۔
مزید یہ کہ شاہ جی سے گزارش ہے اس روداد میں تفصیل طلب باتوں پر یا جو باتیں میں نیند کی وجہ سے بھول رہا ہوں ان پر وہ روشنی ڈالیں۔
سب محفلین کے لیے بہت سی دعائیں
خوش رہیں بہت جئیں۔
شاہ جی اب ٹیگ نامہ بھی آپ لگا دیجیے گا

والسلام
 

نایاب

لائبریرین
بلا شبہ بہت خوب روداد ہے ۔ ۔۔۔۔۔
گویا ہم بھی سفر میں تھے ساتھ ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محترم " ابو حمزہ " بلا شک اک عجب کشش کی حامل منفرد ہستی ہیں ۔
بہت دعائیں محترم اوشو بھائی
 

زیک

مسافر
محفلین سے ملنے کا اپنا مزا ہے۔ روداد اچھی ہے مگر دو چیزوں کی کمی ہے۔ ایک تو تصاویر کدھر ہیں؟ دوسرے سید شہزاد ناصر کے بارے میں آپ کے تاثرات؟ محفل اور اصل میں کوئی فرق پایا؟
 

اوشو

لائبریرین
محفلین سے ملنے کا اپنا مزا ہے۔ روداد اچھی ہے مگر دو چیزوں کی کمی ہے۔ ایک تو تصاویر کدھر ہیں؟ دوسرے سید شہزاد ناصر کے بارے میں آپ کے تاثرات؟ محفل اور اصل میں کوئی فرق پایا؟
شاہ جی کے بارے میں تاثرات کیا دوں۔۔۔!!!!
چھوٹا منہ بڑی بات ہو جائے گی۔ ان سے میری تیسری ملاقات تھی۔ ان کے بارے میں تاثرات پہلی ملاقات کی روداد میں لکھ چکا ہوں۔
محبت سے بھرا دل رکھنے والے انسان ہیں۔ اس سے بڑی اور کیا خوبی ہو سکتی ہے
 

عمراعظم

محفلین
بہت خوبصورت روداد رقم کرنے پر اوشو بھائی کا بہت شکریہ۔ اس پُر آشوب اور عدیم الفرصتی کے دور میں قافلہء محبت کے بارے میں پڑھ کر قلبی و روحانی تسکین ہوتی ہے۔ آج کی سب سے بڑی ضرورت بھی انسانوں کا انسا نوں کے ساتھ اخلاص کے رشتے کو جلا بخشنا ہے۔ اللہ آپکی محبتوں کو قائم و دائم آباد رکھے۔آمین
 
محفلین سے ملنے کا اپنا مزا ہے۔ روداد اچھی ہے مگر دو چیزوں کی کمی ہے۔ ایک تو تصاویر کدھر ہیں؟ دوسرے سید شہزاد ناصر کے بارے میں آپ کے تاثرات؟ محفل اور اصل میں کوئی فرق پایا؟
چھڈو یار کیا اصل کیا نقل
پوچھئے نہ یہ ہم سے بتکدے میں کیا پایا
جب صنم کو پوجا ہے، تب کہیں خدا پایا
 
Top