اہلِ نظر کو کیا پتا قبلہ قلوب کا

11/10/2014

اہلِ نظر کو کیا پتا قبلہ قلوب کا
صاحب دلاں ہیں جانتے درجہ قلوب کا

نمدیدہ ، تنگ دست ، سرافگندہ ، پابگل
تن ، ہائے! بے قرار ہے تنہا قلوب کا

کوئی ہے سنگ دل تو کوئی تنگ دل یہاں
پیش آرہا ہے لاحقہ ہرجا قلوب کا

دل کش ، دلارا ، دل ربا ، دل دار ، دل شکن
محبوب سے ہے سابقہ پڑتا قلوب کا

دل گیر ، دل برِشتہ ، دل آزردہ ، دل فگار
عاشق ہمیشہ دیتے ہیں فدیہ قلوب کا

انسان و کعبہ دونوں ہی مٹی سے ہیں بنے
رب کے حضور ہوتا ہے سجدہ قلوب کا

نمناک ، تاب ناک ، الم ناک ، درد ناک
دیکھا ہے سرسری یہ تماشا قلوب کا
 

جنید عطاری

محفلین
مطلع کا پہلا مصرع بہت عجیب ہے، اہلِ نظر عاشقِ صادق کو کہا جاتا ہے، جب عاشق کو ہی نہیں پتا تو کسے پتا ہو گا؟

اہلِ نظر
(لفظاً) دیکھنے والے، (مراداً)محبت کی نگاہ سے دیکھنے والے، عاشق صادق۔

صاحبِ دلاں ہیں جانتے درجہ قلوب کا
صاحب دلاں کا مرکب غَلَط برتا ہے۔ کیونکہ صوت صاحبے دَلاں ہے۔ صاحبِ دلاں اور اہلِ نظر سے مراد کون ہوتا ہے، سمجھ گئے ہوں گے۔

نمدیدہ ، تنگ دست ، سرافگندہ ، پابگل
صوت سرا فگن دہ ہے، سو بے وزن ہو گیا۔

خیر کوشش اچھی ہے، غالبا لغت دیکھ کر بھرت کرتے رہے ہیں، مگر زبردستی کی بھرت سے بُنے گئے مصرعے کھوکھلے اور بے اثر ہوتے ہیں۔ یہاں بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ حقیقت کے قریب ہوتے ہوئے بھی افسانوی بنا دیئے ہیں جیسے میں کہوں حقیقی سراب ہے۔
 
آخری تدوین:
مطلع کا پہلا مصرع بہت عجیب ہے، اہلِ نظر عاشقِ صادق کو کہا جاتا ہے، جب عاشق کو ہی نہیں پتا تو کسے پتا ہو گا؟

اہلِ نظر
(لفظاً) دیکھنے والے، (مراداً)محبت کی نگاہ سے دیکھنے والے، عاشق صادق۔
صاحبِ دلاں ہیں جانتے درجہ قلوب کا
صاحب دلاں کا مرکب غَلَط برتا ہے۔ کیونکہ صوت صاحبے دَلاں ہے۔ صاحبِ دلاں اور اہلِ نظر سے مراد کون ہوتا ہے، سمجھ گئے ہوں گے۔
نمدیدہ ، تنگ دست ، سرافگندہ ، پابگل
صوت سرا فگن دہ ہے، سو بے وزن ہو گیا۔
خیر کوشش اچھی ہے، غالبا لغت دیکھ کر بھرت کرتے رہے ہیں، مگر زبردستی کی بھرت سے بُنے گئے مصرعے کھوکھلے اور بے اثر ہوتے ہیں۔ یہاں بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ حقیقت کے قریب ہوتے ہوئے بھی افسانوی بنا دیئے ہیں جیسے میں کہوں حقیقی سراب ہے۔
عطاری صاحب کی خدمت میں اپنی رائے۔
میرے خیال میں یہاں کیونکہ اہل نظر کو اہل دل کے "تقابل" پہ لایا گیا ہے تو پھر دل کے مقابلے میں اہل نظر کو اہل ظاہر لیا جائے گا چنانچہ اس تقابل کی بنیادپر سامع و قاری پہ یہ ابلاغ گراں نہیں ہو رہا۔
صاحب دلاں کی ترکیب غلط نہیں یہ اسلوب بھی مستندا ہے اس کی مثالیں مل سکتی ہیں ۔
خرد کی گتھیاں سلجھا چکا ہوں
مرے مولی مجھے صاحب جنوں کر۔۔۔اقبال
البتہ یہاں انداز کوذرا غیر مؤثر کر رہی ہے۔شایدیہ بھی اس وجہ سے ہے کہ دکنی کامیڈی وپیروڈی نے سلیم مزاج بگاڑدیا ہو۔
سر افگندہ میں الف ہمزہ وصل کی طرح لیا گیا ہے سرف گندہ۔وزن کا بھی مسئلہ نہیں۔
تراکیب کے انتخابپر بات کی جاسکتی ہے مگر بھرتی تو میرے خیال میں اور ہی چیز ہوتی ہے۔لغت کی بھرت کا معاملہ اپنی سمجھ سے بالا ہے۔
 

جنید عطاری

محفلین
میں شعر کو بحروں کے حوالے سے نہیں دیکھتا، مرے اُستاد نے نصیحت کی تھی کہ جنید ایک بات پلو سے باندھ لو، عروضیہ کبھی اچھا شاعر نہیں بن سکتا، میں صوت اور مضمون کو ترجیح دیتا ہوں، ترنم شرط ہے، باقی انسان کامل نہیں ہوتا، اغلاط تو جزوِ تخلیقِ آدمیت ہے۔
 

جنید عطاری

محفلین
باقائدہ، نامور اور مستند استاد شاعر جو کسی جانے مانے استاد شاعر کا شاگرہ ہو، وہی صحیح راہ دکھا سکتا ہے، وگرنہ بہت سے لوگ دقیق جملوں کی گردان کو فلسفہ کہتے ہیں اور صرف لغت سے چُن چُن کر الفاظ بحروں میں بھر دینے کو سخن کہتے ہیں۔
 
میں شعر کو بحروں کے حوالے سے نہیں دیکھتا، مرے اُستاد نے نصیحت کی تھی کہ جنید ایک بات پلو سے باندھ لو، عروضیہ کبھی اچھا شاعر نہیں بن سکتا، میں صوت اور مضمون کو ترجیح دیتا ہوں، ترنم شرط ہے، باقی انسان کامل نہیں ہوتا، اغلاط تو جزوِ تخلیقِ آدمیت ہے۔
آپ اپنے استاذ صاحب کی پیروی کرتے رہیے۔آپ کے استاذ صاحب اور آپ ہمارے لیے یقینا بہت محترم ہیں۔لیکن تمام آراء کا متحد ہو جا نا بھی تو محال ہے۔
عروض اور شاعری دونوں کیکی حیثیت مسلم ہے اور اس کی بحث طویل ہو سکتی ہے ہر ایک کو اپنی رائے کا برابر حق ہے۔:)
 

جنید عطاری

محفلین
مرا استاد سے فلسفہ ٹکراتا ہے کیونکہ انا و فنا دونوں ایک دُوجے کی ضد ہیں، میں اُستاد کی پیروی نہیں کرتا، کیونکہ مرا معیار کچھ اور ہے، اُن کا کچھ اور، یہی وجہ انفرادیت کو جنم دیتی ہے، وگرنہ اُستاد کی پیروی کرتے کرتے بندہ استاد کے خیالات اور انداز میں اس قدر گم جاتا ہے کہ اُن کے کلام کا اثر لیے لکھتا رہتا ہے۔ جب مجھے اپنا ذاتی نقطہ اور فلسفہ برقرار رکھنے کی اجازت ملی تو میں نے اُن کو ترک کر دیا تھا۔ کیونکہ یہ اُن کی منشا بھی تھی۔ وہ فلسفہ پسند نہیں کرتے اور میں نیتشیات کا قاری ہوں، ساتھ ساتھ ابنِ عربی کا بھی۔
 
مرا استاد سے فلسفہ ٹکراتا ہے کیونکہ انا و فنا دونوں ایک دُوجے کی ضد ہیں، میں اُستاد کی پیروی نہیں کرتا، کیونکہ مرا معیار کچھ اور ہے، اُن کا کچھ اور، یہی وجہ انفرادیت کو جنم دیتی ہے، وگرنہ اُستاد کی پیروی کرتے کرتے بندہ استاد کے خیالات اور انداز میں اس قدر گم جاتا ہے کہ اُن کے کلام کا اثر لیے لکھتا رہتا ہے۔ جب مجھے اپنا ذاتی نقطہ اور فلسفہ برقرار رکھنے کی اجازت ملی تو میں نے اُن کو ترک کر دیا تھا۔ کیونکہ یہ اُن کا منشا بھی تھی۔
یہی تو میں نے عرض کیا کہ آپ کے "استاد" کو "آپ "کو اور ہم جیسے عام لوگوں کو اپنی رائے بنانے اور رکھنے کا حق و اختیار ہے۔
البتہ ایک بات سے اختلاف ہے کہ اگر آپ اپنے استاد کی پیروی نہیں کرتے تو آپ نے انہیں استاد بنانے اور ماننے میں غلطی کی۔:)
 

جنید عطاری

محفلین
پیروی دور اوّل سے ہوتی ہے، بعدِ اجازت ترک کرنا مری مجبوری تھی، کیونکہ مجھے عروض ٹھیک سے نہیں آتا، میں نے علم البیان، تک بندی اور مصرع سازی کو اُن سے باقائدہ سیکھا ہے۔ جب اُنہوں نے اجازت دے دی تو میں اتنی جُرت نہیں کر سکتا کہ خلاف جاؤں۔ اختلاف ضرور ہے مگر مخالفت نہیں کرتا۔ اسی لیے چار سال کی شاگردی رہی ہے۔ خیر۔ باقی واللہ و رسول و اعلم
 

عظیم

محفلین
مطلع کا پہلا مصرع بہت عجیب ہے، اہلِ نظر عاشقِ صادق کو کہا جاتا ہے، جب عاشق کو ہی نہیں پتا تو کسے پتا ہو گا؟

اہلِ نظر
(لفظاً) دیکھنے والے، (مراداً)محبت کی نگاہ سے دیکھنے والے، عاشق صادق۔

صاحبِ دلاں ہیں جانتے درجہ قلوب کا
صاحب دلاں کا مرکب غَلَط برتا ہے۔ کیونکہ صوت صاحبے دَلاں ہے۔ صاحبِ دلاں اور اہلِ نظر سے مراد کون ہوتا ہے، سمجھ گئے ہوں گے۔

نمدیدہ ، تنگ دست ، سرافگندہ ، پابگل
صوت سرا فگن دہ ہے، سو بے وزن ہو گیا۔

خیر کوشش اچھی ہے، غالبا لغت دیکھ کر بھرت کرتے رہے ہیں، مگر زبردستی کی بھرت سے بُنے گئے مصرعے کھوکھلے اور بے اثر ہوتے ہیں۔ یہاں بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ حقیقت کے قریب ہوتے ہوئے بھی افسانوی بنا دیئے ہیں جیسے میں کہوں حقیقی سراب ہے۔


دیکھا ہے سرسری نے تماشا قلوب کا ۔ کاش ایسا ہوتا تو ہم بھی اُن تماش بینوں میں شامل نہ ہوتے ۔۔
 
آخری تدوین:

الف عین

لائبریرین
عزیزم جنید عطاری کا ان کے استاد سے معاملہ ان کے ساتھ، یہاں سرسری کی غزل پر بات چیت ہونی چاہئے۔
بظاہر تو اچھی لگ رہی ہے غزل لیکن جھے قطعی متاثر نہیں کر سکی۔ اصل وجہ اس کی ’مصنوعی‘ ردیف ہے۔ اگرچہ قلب کی عربی جمع قلوب ہی ہوتی ہے لیکن اردو بول چال میں شاید ہی قلوب بولا جاتا ہو۔ اکثر اشعار میں محض ردیف کی وجہ سے قلوب، جمع کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، حالانکہ محل صرف ’قلب‘ کا تھا۔
 
Top