لڑکو! تم بڑے ہو گے تو تمہیں افسوس ہوگا۔ جوں جوں تمہارا تجربہ بڑھتاجائے گا، تمہارے خیالات میں پختگی آتی جائے گی اور یہ افسوس بھی بڑھتا جائے گا۔یہ خواب پھیکے پڑتے جا ئیں گے۔ تب اپنے آپ کو فر یب نہ دے سکو گے۔بڑے ہو کر تمہیں معلوم ہو گا کہ زندگی بڑی مشکل ہے۔جینے کے لیئے مرتبے کی ضرورت ہے۔آسائش کی ضرورت ہےاور ان کے لیئے روپے کی ضرورت ہے۔اور روپیہ حاصل کرنے کے لیے مقابلہ ہوتا ہے۔مقابلے میں جھوٹ بولنا پڑتا ہے،دھوکا دینا پڑتا ہے،غداری کرنی پڑتی ہے۔یہاں کوئی کسی کی پرواہ نہیں کرتا۔دنیا میں دوستی ،محبت،انس،سب رشتے مطلب پر قائم ہیں۔محبت آمیز باتوں ،مسکراہٹوں،مہر بانیوں،شفقتوں--ان سب کی تہہ میں کوئی غرض پوشیدہ ہے۔یہاں تک کہ خدا کو بھی لوگ ضرورت پڑنے پر یاد کرتے ہیں۔اور جب خدا دعا قبول نہیں کرتا تو لوگ دہریے بن جاتے ہیں،اس کے وجود سے منکر ہو جاتے ہیں۔اور دنیا کو تم کبھی خوش نہیں رکھ سکتے۔اگر تم سادہ لوح ہوئے تو دنیا تم پر ہنسےگی،تمہارا مذاق اُڑاے گی۔اگر عقلمند ہوئے تو حسد کرے گی۔اگر الگ تھلگ رہے تو تمہیں چڑچڑا اور مکار گردانا جائے گا۔اگر ہر ایک سے گھل مل کر رہے تو تمہیں خوشامدی سمجھا جائے گا۔اگر سوچ سمجھ کر دولت خرچ کی تو تمہیں پست خیال اور کنجوس کہیں گے اور اگر فراخ دل ہوئے تو بیوقوف اور فضول خرچ۔ عمر بھر تمہیں کوئی نہیں سمجھے گا،نہ سمجھنے کی کوشش کرے گا۔تم ہمیشہ تنہا رہو گے حتی کہ ایک دن آئے گااور چپکے سے اس دنیا سے رخصت ہو جاؤ گے۔یہاں سے جاتے وقت تم متحیرہو گے کہ یہ تماشا کیا تھا۔ اس تماشےکی ضرورت کیا تھی۔یہ سب کچھ کس قدر بےمعنی اور بے سود تھا۔

از نیلی جھیل
کتاب: حماقتیں
مصنف: شفیق الرحمن
اچھی اور پر فکر شر اکت ہے ۔۔۔سلامت رہیں۔۔
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
برکاتِ حکومتِ غیر انگلشیہ:
عزیزو!بہت دن پہلے اس ملک میں انگریزوں کی حکومت ہوتی تھی اور درسی کتابوں میں ایک مضمون "برکاتِ حکومتِ انگلشیہ" کے عنوان سے شامل رہتا تھا۔اب ہم آزاد ہیں۔اُس زمانے کے مصنف حکومتِ انگلشیہ کی تعریف کیا کرتے تھے،کیونکہ اس کے سوا چارہ نہ تھا۔ہم اپنے عہد کی آزاد اور قومی حکومتوں کی تعریف کریں گے۔اس کی وجہ بھی ظاہر ہے۔
عزیزو!انگریزوں نے کچھ اچھے کام بھی کئے لیکن ان کے زمانے میں خرابیاں بہت تھیں۔کوئی حکومت کے خلاف لکھتا یا بولتا تھا تو اس کو جیل بھیج دیتے تھے۔اب نہیں بھیجتے۔رشوت ستانی عام تھی۔آج کل نہیں ہے۔دکاندار مہنگی چیزیں بیچتے تھے اور ملاوٹ بھی کرتے تھے۔آج کل کوئی مہنگی نہیں بیچتا۔ملاوٹ بھی نہیں کرتا۔انگریزوں کے زمانے میں امیر اور جاگیردار عیش کرتے تھے،غریبوں کو کوئی پوچھتا بھی نہیں تھا۔اب امیر لوگ عیش نہیں کرتے اور غریبوں کو ہر کوئی اتنا پوچھتا ہے کہ وہ تنگ آجاتے ہیں۔خصوصا حقِ رائے دہندگی بالغاں کے بعد سے۔
تعلیم اور صنعت و حرفت کو لیجئے۔ربع صدی کے مختصر عرصے میں ہماری شرح خواندگی اٹھارہ فیصد ہوگئی ہے۔غیر ملکی حکومت کے زمانے میں ایسا ہوسکتا تھا؟
انگریز شروع شروع میں ہمارے دستکاروں کے انگوٹھے کاٹ دیتے تھے،اب کارخانوں کے مالک ہمارے اپنے لوگ ہیں۔دستکاروں کے انگوٹھے نہیں کاٹتے ہاں کبھی کبھار پورے دستکار کو کاٹ دیتے ہیں۔آزادی سے پہلے ہندو بنئے اور سرمایہ دار ہمیں لوٹا کرتے تھے۔ہماری خواہش تھی کہ یہ سلسلہ ختم ہو اور ہمیں مسلمان بنئے اور سیٹھ لُوٹیں۔الحمداللہ کہ یہ آرزو پوری ہوئی۔جب سے حکومت ہمارے ہاتھ میں آئی ہے۔ہم نے ہر شعبے میں ترقی کی ہے۔درآمد برآمد بھی بہت بڑھ گئی ہے۔ہماری خاص برآمدات دو ہیں۔وفود اور زرِ مبادلہ۔درامدات ہم گھٹاتے جارہے ہیں۔ایک زمانہ میں تو خارجہ پالیسی تک باہر سے درآمد کرتے تھے۔اب یہاں بننے لگی ہے۔

ابن انشاء
اردو کی آخری کتاب
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
ایک بزرگ شاعر ہر مشاعرے میں اس ٹھسّے سے آتے تھے کہ ہاتھ میں موٹی سی چھڑی ہوتی تھی اور ساتھ میں کیمرہ لئے ان کا بیٹا ہوتا تھا۔ بیٹا یوں تو بیٹھا اونگھتا رہتا تھا لیکن جوں ہی ابّا جان شعر پڑھنے کو کھڑے ہوتے، وہ حرکت میں آجاتا اور تصویروں پر تصویریں اتارتا رہتا۔ ابّاجان بھی ایسے تھے کہ اپنی نشست پر جم کر نہیں بیٹھتے تھے بلکہ مختلف بہانوں سے ادھر ادھر آتے جاتے رہتے تھے کہ کہیں انہیں شروع ہی میں نہ بلا لیا جائے۔
ایک بار اپنے مخصوص ترنم میں غزل کا پہلا شعر پڑھا اور اسی ترنم میں لہک کر اس کی تقطیع بھی کر دی
فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن
بس پھر غضب ہوگیا۔ جوں ہی وہ شعر مکمل کرتے، سارا مجمع اُسی ترنم میں اور قوالی کے انداز میں اس کی تقطیع کرنے لگتا۔ وہ پہلے تو محظوظ ہوئے، پھر خفا، پھر ناراض، پھر برہم اور آخر میں چھڑی اٹھائی، بیٹے کا ہاتھ تھاما اور محفل سے اس بڑھیا کی طرح نکل گئے جو اپنا مرغ بغل میں داب کر گاؤں سے چلی گئی تھی۔ لیکن مقطع سنائے بغیر نہیں گئے۔

اقتباس از "مشاعروں کی بودوباش"
تصنیف: اردو کا حال
مصنف: رضا علی عابدی
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
نیک چلنی کا سائن بورڈ
اشتہار میں مولوی سیّد محمد مظفّر نے، کہ یہی اسکول کے بانی، منتظم، مہتمم، سرپرست اور خازن و خائن کا نام تھا نے مطلع کیا تھا کہ امیدواروں کو تحریری درخواست دینے کی ضرورت نہیں۔ اپنی ڈگری اور نیک چلنی کے دستاویزی ثبوت کے ساتھ صبح آٹھ بجے اصالتاً پیش ہوں۔ بشارت کی سمجھ میں نہ آیا کہ نیک چلنی کا کیا ثبوت ہو سکتا ہے۔ بد چلنی کا البتہ ہو سکتا ہے۔ مثلاً چالان، مچلکہ، وارنٹِ گرفتاری، مصّدقہ نقل حکم سزایابی یا "بستہ الف" جس میں نامی بدمعاشوں کا اندراج ہوتا ہے۔ پانچ منٹ میں آدمی بد چلنی تو کرسکتا ہے، نیک چلنی کا ثبوت فراہم نہیں کرسکتا۔ مگر ان کا تردّد بے جا تھا۔ اس لیے کہ جو حلیہ انھوں نے بنا رکھا تھا، یعنی منڈا ہوا سر، آنکھوں میں سرمے کی تحریر، اٹنگا پاجامہ، سر پر مخمل کی سیاہ رام پوری ٹوپی، گھر، مسجد اور محلّے میں پیر پر کھڑاؤں۔۔۔۔۔۔ اس حلیے کے ساتھ وہ چاہتے بھی تو نیک چلنی کے سوا اور کچھ ممکن نہ تھا۔ نیک چلنی انکی مجبوری تھی، اختیاری وصف نہیں۔ اور ان کا حلیہ اس کا ثبوت نہیں، سائن بورڈ تھا۔

اقتباس از "دھیرج گنج کا پہلا یادگار مشاعرہ"
کتاب: آب گم
مصنف: مشتاق احمد یوسفی
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
صحیح رقم خوش نویس
پہلے کچھ اور کیا کرتے تھے۔ ایک دن جھنجھلا کر کاتب بن گئے۔
آپ کی لکھی ہوئی تحریر پر پروئے ہوئے موتیوں کا گماں گزرتا ہے۔
زبان کے پکے ہیں۔ جب وعدہ کرتے ہیں تو اُسی سال کام مکمل کر کے رہتے ہیں۔
لکھتے وقت موقعے (اور اپنے موڈ کے مطابق) عبارت میں ترمیم کرتے جاتے ہیں۔ عالمِ دلسوزی کو عالمِ ڈلہوزی، بِچھڑا عاشق کو بَچھڑا عاشق، سہروردی کو سردردی، سماجی بہبودی کو سماجی بیہودگی، وادیء نیل کو وادیء بیل بنا دینے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے۔
کسی غلام حسن کے نواسے نے اپنے آپ کو نبیرہء غلام حسن لکھا جو آپ کو نامانوس سا معلوم ہُوا۔ چنانچہ آپ نے کچھ دیر سوچ کر اسے بٹیرہء غلام حسن تحریر فرمایا۔
ایک رومانی افسانے میں حُور شمائل نازنین کو چور شمائل نازنین لکھ کر کہانی کو چار چاند لگا دیئے۔ اسی طرح قہقہے کو قمقمے، موٹے موٹے انجیروں کو موٹے موٹے انجینیئروں، اپنا حصّہ کو اپنا حقّہ، پھُلواری کو پٹواری بنا دیتے ہیں۔
پروازِ تخیل کی انتہا ہے کہ جہاں شبلی عفی عنہ لکھنا چاہئیے تھا وہاں لکھا۔ ستلی کئی عدد۔
اس وقت ملک میں آپ سے بہتر کاتب ملنا محال ہے۔

مسکراہٹیں
مصنف: شفیق الرحمن
 

جاسمن

مدیر
صحیح رقم خوش نویس
پہلے کچھ اور کیا کرتے تھے۔ ایک دن جھنجھلا کر کاتب بن گئے۔
آپ کی لکھی ہوئی تحریر پر پروئے ہوئے موتیوں کا گماں گزرتا ہے۔
زبان کے پکے ہیں۔ جب وعدہ کرتے ہیں تو اُسی سال کام مکمل کر کے رہتے ہیں۔
لکھتے وقت موقعے (اور اپنے موڈ کے مطابق) عبارت میں ترمیم کرتے جاتے ہیں۔ عالمِ دلسوزی کو عالمِ ڈلہوزی، بِچھڑا عاشق کو بَچھڑا عاشق، سہروردی کو سردردی، سماجی بہبودی کو سماجی بیہودگی، وادیء نیل کو وادیء بیل بنا دینے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے۔
کسی غلام حسن کے نواسے نے اپنے آپ کو نبیرہء غلام حسن لکھا جو آپ کو نامانوس سا معلوم ہُوا۔ چنانچہ آپ نے کچھ دیر سوچ کر اسے بٹیرہء غلام حسن تحریر فرمایا۔
ایک رومانی افسانے میں حُور شمائل نازنین کو چور شمائل نازنین لکھ کر کہانی کو چار چاند لگا دیئے۔ اسی طرح قہقہے کو قمقمے، موٹے موٹے انجیروں کو موٹے موٹے انجینیئروں، اپنا حصّہ کو اپنا حقّہ، پھُلواری کو پٹواری بنا دیتے ہیں۔
پروازِ تخیل کی انتہا ہے کہ جہاں شبلی عفی عنہ لکھنا چاہئیے تھا وہاں لکھا۔ ستلی کئی عدد۔
اس وقت ملک میں آپ سے بہتر کاتب ملنا محال ہے۔

مسکراہٹیں
مصنف: شفیق الرحمن

ہاہاہاہا
کیا بات ہے شفیق الرحمن کی!
آپ بھی تو ان کے شاگردوں میں سے محسوس ہوتے ہیں۔
 

جاسمن

مدیر
نیک چلنی کا سائن بورڈ
اشتہار میں مولوی سیّد محمد مظفّر نے، کہ یہی اسکول کے بانی، منتظم، مہتمم، سرپرست اور خازن و خائن کا نام تھا نے مطلع کیا تھا کہ امیدواروں کو تحریری درخواست دینے کی ضرورت نہیں۔ اپنی ڈگری اور نیک چلنی کے دستاویزی ثبوت کے ساتھ صبح آٹھ بجے اصالتاً پیش ہوں۔ بشارت کی سمجھ میں نہ آیا کہ نیک چلنی کا کیا ثبوت ہو سکتا ہے۔ بد چلنی کا البتہ ہو سکتا ہے۔ مثلاً چالان، مچلکہ، وارنٹِ گرفتاری، مصّدقہ نقل حکم سزایابی یا "بستہ الف" جس میں نامی بدمعاشوں کا اندراج ہوتا ہے۔ پانچ منٹ میں آدمی بد چلنی تو کرسکتا ہے، نیک چلنی کا ثبوت فراہم نہیں کرسکتا۔ مگر ان کا تردّد بے جا تھا۔ اس لیے کہ جو حلیہ انھوں نے بنا رکھا تھا، یعنی منڈا ہوا سر، آنکھوں میں سرمے کی تحریر، اٹنگا پاجامہ، سر پر مخمل کی سیاہ رام پوری ٹوپی، گھر، مسجد اور محلّے میں پیر پر کھڑاؤں۔۔۔۔۔۔ اس حلیے کے ساتھ وہ چاہتے بھی تو نیک چلنی کے سوا اور کچھ ممکن نہ تھا۔ نیک چلنی انکی مجبوری تھی، اختیاری وصف نہیں۔ اور ان کا حلیہ اس کا ثبوت نہیں، سائن بورڈ تھا۔

اقتباس از "دھیرج گنج کا پہلا یادگار مشاعرہ"
کتاب: آب گم
مصنف: مشتاق احمد یوسفی

مزے کا ہے۔
مشتاق احمد یوسفی کی تحریروں کے مداحوں میں ہمارا شمار بھی ہوتا ہے۔
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
ہاہاہاہا
کیا بات ہے شفیق الرحمن کی!
بلاشبہ۔ شفیق الرحمن کے کیا کہنے۔۔۔ برجستگی، تخیل، محبت اور منظر۔۔۔ اور منظر بھی ایسے جو زمان و مکاں کی قید سے آزاد ہیں۔ آپ کو احساس ہی نہیں ہوتا کہ کس زمانے کی بات کی جا رہی ہے۔ بس ہلکا سا اندازہ لگا کر رہے جاتے ہیں کہ کون سی جگہ ہوگی۔

آپ بھی تو ان کے شاگردوں میں سے محسوس ہوتے ہیں۔
یہ الفاظ میرے لیے بہت زیادہ ہیں۔ کاش ایسا ہوتا۔
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
مزے کا ہے۔
مشتاق احمد یوسفی کی تحریروں کے مداحوں میں ہمارا شمار بھی ہوتا ہے۔
اب آپ جیسے مداحوں کی موجودگی میں ہم جیسے تو یوں بھی پیچھے کی قطار میں جا بیٹھتے ہیں۔
مجھے یہ پیرگراف بڑا پسند ہے۔ خاص کر جو "پنچ لائن" ہے نا۔۔۔۔
" اس حلیے کے ساتھ وہ چاہتے بھی تو نیک چلنی کے سوا اور کچھ ممکن نہ تھا۔ نیک چلنی انکی مجبوری تھی، اختیاری وصف نہیں۔ اور ان کا حلیہ اس کا ثبوت نہیں، سائن بورڈ تھا۔"

اس کے تو کیا ہی کہنے۔۔۔۔
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
رونا رُلانا

ایک امریکن ادبی نقاد ایک مقام پر لکھتا ہے کہ مرد ایک ہنسوڑا جانور ہے اور عورت ایک ایسا حیوان ہے جو اکثر رونی شکل بنائے رہتا ہے۔
مصنف کی خوش طبعی نے اس فقرے میں مبالغے اور تلخی کی آمیزش کر دی ہے اور چونکہ وہ خود مرد ہے اس لئے شاید عورتوں کو اس سے کلی اتفاق بھی نہ ہو لیکن بہرحال موضوع ایسا ہے جس پر بہت کچھ کہا جا سکتا ہے۔

میرے ایک دوست کا مشاہدہ ہے کہ عورتوں کی باہمی گفتگو یا خط و کتابت میں موت یا بیماری کی خبروں کا عنصر زیادہ ہوتا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ ایسے واقعات کے بیان کرنے میں عورتیں غیر معمولی تفصیل اور رقت انگیزی سے کام لیتی ہیں۔ گویا ناگوار باتوں کو ناگوار ترین پیرائے میں بیان کرنا ان کا نہایت پسندیدہ شغل ہے۔ ان سے وہ کبھی سیر نہیں ہوتیں۔ ایک ہی موت کی خبر کے لئے اپنی شناساؤں میں سے زیادہ سے زیادہ سامعین کی تعداد ڈھونڈ ڈھونڈ کر نکالتی ہیں ایسی خبر جب بھی نئے سرے سے سنانا شروع کرتی ہیں ایک نہ ایک تفصیل کا اضافہ کر دیتی ہیں اور ہر بار نئے سرے سے آنسو بہاتی ہیں اور پھر یہ بھی ضروری نہیں کہ موت یا بیماری کسی قریبی عزیز کی ہو۔ کوئی پڑوسی ہو، ملازم ہو، ملازم کے ننھیال یا سہیلی کے سسرال کا واقعہ ہو، گلی میں رو زمرہ آنے والے کسی خوانچہ والے کا بچہ بیمار ہو، کوئی اُڑتی اُڑتی خبر ہو ، کوئی افواہ ہو۔ غرض یہ کہ اس ہمدردی کا حلقہ بہت وسیع ہے:

”سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے“

نہ صرف یہ بلکہ رقت انگیز کہانیوں کے پڑھنے کا شوق عورتوں ہی کو بہت زیادہ ہوتا ہے اور اس بارے میں سب ہی اقوام کا ایک ہی سا حال ہے۔ غیر ممالک میں بھی رلانے والی کہانیاں ہمیشہ نچلے طبقہ کی عورتوں میں بہت مقبول ہوتی ہیں۔ گھٹیا درجے کے غم نگار مصنفین کو اپنی کتابوں کی قیمت اکثر عورتوں کی جیب سے وصول ہوتی ہے۔ وہ بھی عورتوں کی فطرت کو سمجھتے ہیں۔ کہانی کیسی ہی ہو اگر اس کا ہر صفحہ غم و الم کی ایک تصویر ہے تو اس کی اشاعت یقینی ہے اور عورتوں کی آنکھوں سے آنسو نکلوانے کے لئے ایسے مصنفین طرح طرح کی ترکیبیں کرتے ہیں۔ کبھی ایک پھول سے بچے کو سات آٹھ سال کی عمر میں ہی مار دیتے ہیں اور بستر مرگ پر توتلی باتیں کرواتے ہیں۔ کبھی کسی یتیم کو رات کے بارہ بجے سردی کے موسم میں کسی چوک پر بھوکا اور ننگا کھڑا کر دیتے ہیں۔ اور بھی رقت دلانی ہو تو اسے سید بنا دیتے ہیں۔ یہ کافی نہ ہو تو اسے بھیک مانگتا ہوا دکھا دیتے ہیں کہ ”میری بوڑھی ماں مر رہی ہے۔ دوا کے لئے پیسے نہیں۔ خدا کے نام کا کچھ دیتے جاؤ۔ کبھی کسی سگھڑ خوب صورت نیک طینت لڑکی کو چڑیل سی ساس کے حوالے کرا دیا۔ یا کسی بدقماش خاوند کے سپرد کر دیا۔ اور کچھ بس نہ چلا تو سوتیلی ماں کی گود میں ڈال دیا اور وہاں دل کی بھڑاس نکال لی۔ پڑھنے والی ہیں کہ زار و قطار رو رہی ہیں اور بار بار پڑھتی ہیں اور بار بار روتی ہیں۔

تہذیب نسواں
مصنف: پطرس بخاری
 

جاسمن

مدیر
رونا رُلانا

ایک امریکن ادبی نقاد ایک مقام پر لکھتا ہے کہ مرد ایک ہنسوڑا جانور ہے اور عورت ایک ایسا حیوان ہے جو اکثر رونی شکل بنائے رہتا ہے۔
مصنف کی خوش طبعی نے اس فقرے میں مبالغے اور تلخی کی آمیزش کر دی ہے اور چونکہ وہ خود مرد ہے اس لئے شاید عورتوں کو اس سے کلی اتفاق بھی نہ ہو لیکن بہرحال موضوع ایسا ہے جس پر بہت کچھ کہا جا سکتا ہے۔

میرے ایک دوست کا مشاہدہ ہے کہ عورتوں کی باہمی گفتگو یا خط و کتابت میں موت یا بیماری کی خبروں کا عنصر زیادہ ہوتا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ ایسے واقعات کے بیان کرنے میں عورتیں غیر معمولی تفصیل اور رقت انگیزی سے کام لیتی ہیں۔ گویا ناگوار باتوں کو ناگوار ترین پیرائے میں بیان کرنا ان کا نہایت پسندیدہ شغل ہے۔ ان سے وہ کبھی سیر نہیں ہوتیں۔ ایک ہی موت کی خبر کے لئے اپنی شناساؤں میں سے زیادہ سے زیادہ سامعین کی تعداد ڈھونڈ ڈھونڈ کر نکالتی ہیں ایسی خبر جب بھی نئے سرے سے سنانا شروع کرتی ہیں ایک نہ ایک تفصیل کا اضافہ کر دیتی ہیں اور ہر بار نئے سرے سے آنسو بہاتی ہیں اور پھر یہ بھی ضروری نہیں کہ موت یا بیماری کسی قریبی عزیز کی ہو۔ کوئی پڑوسی ہو، ملازم ہو، ملازم کے ننھیال یا سہیلی کے سسرال کا واقعہ ہو، گلی میں رو زمرہ آنے والے کسی خوانچہ والے کا بچہ بیمار ہو، کوئی اُڑتی اُڑتی خبر ہو ، کوئی افواہ ہو۔ غرض یہ کہ اس ہمدردی کا حلقہ بہت وسیع ہے:

”سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے“

نہ صرف یہ بلکہ رقت انگیز کہانیوں کے پڑھنے کا شوق عورتوں ہی کو بہت زیادہ ہوتا ہے اور اس بارے میں سب ہی اقوام کا ایک ہی سا حال ہے۔ غیر ممالک میں بھی رلانے والی کہانیاں ہمیشہ نچلے طبقہ کی عورتوں میں بہت مقبول ہوتی ہیں۔ گھٹیا درجے کے غم نگار مصنفین کو اپنی کتابوں کی قیمت اکثر عورتوں کی جیب سے وصول ہوتی ہے۔ وہ بھی عورتوں کی فطرت کو سمجھتے ہیں۔ کہانی کیسی ہی ہو اگر اس کا ہر صفحہ غم و الم کی ایک تصویر ہے تو اس کی اشاعت یقینی ہے اور عورتوں کی آنکھوں سے آنسو نکلوانے کے لئے ایسے مصنفین طرح طرح کی ترکیبیں کرتے ہیں۔ کبھی ایک پھول سے بچے کو سات آٹھ سال کی عمر میں ہی مار دیتے ہیں اور بستر مرگ پر توتلی باتیں کرواتے ہیں۔ کبھی کسی یتیم کو رات کے بارہ بجے سردی کے موسم میں کسی چوک پر بھوکا اور ننگا کھڑا کر دیتے ہیں۔ اور بھی رقت دلانی ہو تو اسے سید بنا دیتے ہیں۔ یہ کافی نہ ہو تو اسے بھیک مانگتا ہوا دکھا دیتے ہیں کہ ”میری بوڑھی ماں مر رہی ہے۔ دوا کے لئے پیسے نہیں۔ خدا کے نام کا کچھ دیتے جاؤ۔ کبھی کسی سگھڑ خوب صورت نیک طینت لڑکی کو چڑیل سی ساس کے حوالے کرا دیا۔ یا کسی بدقماش خاوند کے سپرد کر دیا۔ اور کچھ بس نہ چلا تو سوتیلی ماں کی گود میں ڈال دیا اور وہاں دل کی بھڑاس نکال لی۔ پڑھنے والی ہیں کہ زار و قطار رو رہی ہیں اور بار بار پڑھتی ہیں اور بار بار روتی ہیں۔

تہذیب نسواں
مصنف: پطرس بخاری

کیابات ہے پطرس کی!!
مجھے تو ان کی سائیکل چلانے کا منظر نہیں بھولتا۔
"دور سے ایسا لگتا جیسے کوئی عورت آٹا گوندھ رہی ہو۔"
ہاہاہاہا۔
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
مزید کی گنجائش ہمیشہ رہتی ہے۔
میں تو عاطف بھائی سے پوچھتے پوچھتے رہ گئی کہ آپ کو ان میں اضافہ کرنا مطلوب ہے؟
عاطف بھائی خود کفیل ہیں؟ ویسے مجھے یہ یقین ہے کہ اگر ہم نے ان سے پوچھا آپ خود کفیل ہیں تو کہیں گے، نہیں بھائی۔ میرے کفیل کا نام تو یہ ہے۔ :D
 
Top