اپنا اسے سمجھو ، مگر اپنا ہی نہ سمجھو

محمد اسامہ سَرسَری نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 14, 2013

  1. محمد اسامہ سَرسَری

    محمد اسامہ سَرسَری لائبریرین

    مراسلے:
    6,457
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    ہوتا ہے ہر اک ظلم گھٹا ٹوپ اندھیرا
    چھٹ جائے گا جب ہوگا قیامت کا سویرا

    معشوقِ حقیقی نے دیا عشقِ حقیقی
    خود خالقِ دل کا ہے اب اس دل میں بسیرا

    اپنا اسے سمجھو ، مگر اپنا ہی نہ سمجھو
    یہ ملک ہمارا ہے ، نہ تیرا ہے نہ میرا

    قرآن و احادیث و صحابہ پہ یقیں رکھ
    بیکا نہیں کرسکتا کوئی بال بھی تیرا

    گر نفس ہے امارہ اسے مار اے بیمار!
    جو مار سے بے بس ہو وہ کاہے کا سپیرا

    جنت نے تو مسحور رکھا مجھ کو سحر تک
    بیٹھے ہوئے اک شب جو خیالات نے گھیرا

    ہم امتیٔ شافعِ محشر ہیں اسامہ!
    یوں دستِ کرم ہم پہ ہے رحمان نے پھیرا
     
    آخری تدوین: ‏اکتوبر 14, 2013
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  2. سید عاطف علی

    سید عاطف علی لائبریرین

    مراسلے:
    10,683
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    بہت اچھے اسامہ بھائی صاحب۔۔۔ امتی کی ی کی نرمی کے فورا" بعد ہیں کی ہ ذرا روانی میں آڑے کر ثقالت لا رہی ہے۔۔۔ اسے اس طرح ترتیب دیا یا سکتا ہے ۔ ۔۔۔ ہم امتی ء شافعِ محشر ہیں اسامہ!۔ ۔۔ یہ مشورہ مفت ہے ۔اور مفت مشورے ہر طرح کے ہو سکتے ہیں سو برداشت کیجیئے گا ۔:)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  3. محمد اسامہ سَرسَری

    محمد اسامہ سَرسَری لائبریرین

    مراسلے:
    6,457
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    جزاکم اللہ خیرا بھائی توجہ ، حوصلہ افزائی اور تصحیح فرمانے کا۔
    ابھی تدوین کیے دیتا ہوں۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. سید عاطف علی

    سید عاطف علی لائبریرین

    مراسلے:
    10,683
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    سپیرے کی مناسبت سے سانپ ہی زیادہ ٹھیک ہو (شاید)۔بر وزن بھی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. محمد اسامہ سَرسَری

    محمد اسامہ سَرسَری لائبریرین

    مراسلے:
    6,457
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    نفس کو مارنے اور بیمار کی لفظی مناسبت سے لایا ہوں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. سید عاطف علی

    سید عاطف علی لائبریرین

    مراسلے:
    10,683
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    اس لطافت کو تو میں پا ہی نہ سکا تھا ۔۔۔
    واہ بھئی واہ۔ اس طرح تو نفس ِامّار لے آتے ۔وہ نفس کہ امّار ہے بیمار ہے بیمار۔۔۔۔واضح رہے کہ نفس امّارہ در اصل عربی ترکیب ہے جو کہ عربی قاعدے کے تحت نفس کے مؤنث ہونے کی وجہ سے ہے ۔ سو ہمیں اردو میں نفس امار کہنا بجا ہوگا ۔;)( ازراہ تفنن آپ کی طرح قوسین کی وضاحت :laughing:)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  7. محمد اسامہ سَرسَری

    محمد اسامہ سَرسَری لائبریرین

    مراسلے:
    6,457
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    امارہ لانے سے بھی وزن اور لطافت دونوں متاثر نہ ہوں گے۔
    اب دیکھیں:
    گر نفس ہے امارہ اسے مار اے بیمار!
    جو مار سے بے بس ہو وہ کاہے کا سپیرا
     
    آخری تدوین: ‏اکتوبر 14, 2013
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  8. سید عاطف علی

    سید عاطف علی لائبریرین

    مراسلے:
    10,683
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    بہترین۔۔۔امار سے نفس کو ذرا اور مار پڑتی ۔:)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. محمد اسامہ سَرسَری

    محمد اسامہ سَرسَری لائبریرین

    مراسلے:
    6,457
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    مگر یہ مار ذرا اور قسم کی ہے۔:) (از راہ مذاق)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  10. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,353
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    بہت خوب۔

    قرآن و احادیث و صحابہ پہ یقیں رکھ
    بیکا نہیں کرسکتا کوئی بال بھی تیرا
    ÷÷اس شعر میں مجھے یہ غلطی محسوس ہوئی ہے کہ محاورہ درست نہیں باندھا گیا ہے۔ بال یہاں فاعل کی حیثیت سے آ رہا ہے، جب کہ محاورہ مکمل بال بیکا ہے۔
    گر نفس ہے امارہ اسے مار اے بیمار!
    جو مار سے بے بس ہو وہ کاہے کا سپیرا
    ÷÷ ’مار اے بیمار‘ بھی صوتی طور پر اچھا نہیں لگا۔ ’اے‘ کی ے گرنے کی وجہ سے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  11. سید عاطف علی

    سید عاطف علی لائبریرین

    مراسلے:
    10,683
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    میرے خیال میں بال کو مفعول اور کوئی کو فاعل کے طور پر لیا جاسکتا ہے جو محاورے کے مطابق ہے۔ یعنی۔ کوئی تیرا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا ۔
     
  12. محمد اسامہ سَرسَری

    محمد اسامہ سَرسَری لائبریرین

    مراسلے:
    6,457
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    بہت شکریہ استاد جی توجہ اور حوصلہ افزائی فرمانے کا۔۔۔ جزاکم اللہ خیرا۔
    اگرچہ پہلے شعر میں بال کو مفعول کے طور پر لایا ہوں۔۔۔ مگر بہرحال فاعل ہونے کے احتمال کو ختم کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
    ”اے بیمار“ کی صحت کی بھی فکر ہے۔۔۔کوشش کرتا ہوں۔
     

اس صفحے کی تشہیر