امریکا پاکستان دشمن جماعتوں کی پشت پناہی کررہاہے، عمران خان

اسلام آباد (جنگ نیوز) چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے کہ امریکا پاکستان میں امن نہیں چاہتا، شکر ہے آپریشن رک گیا، افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء تک خطے میں امن قائم نہیں ہوسکتا ،مذاکرات سے پتا چل جائے گا کہ کون امن نہیں چاہتا۔ اسلام آباد میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ایسے عناصر موجود ہیں جو امن نہیں چاہتے، بیرونی قوتوں کے ایجنڈے پر کام کرنے والوں کو علیحدہ کرنا چاہئے، شمالی وزیرستان میں سات لاکھ پاکستانی بستے ہیں جبکہ لڑنے والے صرف 20 سے 25 ہزار افراد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن ہونے والا تھا، شکر ہے کہ آپریشن رک گیا، امریکہ نہیں چاہتا کہ پاکستان میں امن قائم ہو،۔ پاکستان میں اس وقت تک امن کا قیام ممکن نہیں جب تک امریکہ افغانستان سے اپنی فوجیں نہیں نکالتا۔ عمران خان نے کہا ہے کہ امریکہ پاکستان میں امن نہیں چاہتا،امریکہ ان جماعتوں اور دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہا ہے جو پاکستان کے دشمن ہیں اور یہاں امن نہیں چاہتے۔ سیز فائر کے بعد حکومت،فوج اور طالبان ان لوگوں کو تنہا کریں جو دہشت گردی کر رہے ہیں۔
http://beta.jang.com.pk/NewsDetail.aspx?ID=177615
 
کچھ دن پہلے میری ایک سابقہ آرمی کے افسر سے بات ہوئی تو اس نے بھی یہی کہا کہ جب امریکہ افغانستان سے نکل جائے گا تو پاکستان میں بھی امن ہو جائے گا۔
البتہ جب میں نے یہ پوچھا کہ طالبان کو پاکستان میں لڑنے کے لئے سپلائی کون دے رہا ہے تو اس نے کہا کہ انکو بھی امریکہ ہی دے رہا ہے۔
 

ساجد

محفلین
اوئے ہوئے کتنا اہم انکشاف ہے ۔ ہمارے قریب کے بازار میں دکانوں پر لینڈ کرنے والا فیقا جہاز بھی کئی برسوں سے اس "راز" کو جانتا ہے ۔:)
اس بیان میں جو دیکھنے کی چیز ہے وہ ہے کپتان کا کھسیانی بلی کے انداز میں طالبان کے لئے ہمدردی جتلانا ۔
 

x boy

محفلین
طالبان کو کن راستوں سے امریکہ اسلحہ پہنچاتا ہے
اگر افغان راستے سسے تو افغان راستہ بلاک کردے،
امریکہ گبھراکر ملا عمر سے مذاکرات کرنا چاہتا ہے اور دو ہو بھی چکے،
اگر کوئی کہے کہ ملا عمر اسلحہ دیتا ہے تو وہ امریکہ کا دشمن ہے
اگر امریکہ دیتا ہے تو طالبان پاکستان ملا عمر کا دشمن ہے
سوئی کہاں اٹکتی ہے اس کو تلاش کیا جائے۔
 
ان کو پاکستان ارمی ہی دیتی ہے
پاکستان ارمی میں اسپلٹ ہے۔ ایک گروپ اندروں خانہ طالبان کی سپورٹ کررہا ہے۔ دوسرا مخالفت
پاکستان میں سیکولرز اور قدامت پسندی کی جنگ ہے۔ ابھی تک سیکولرز پاور میں ہیں
 

سید زبیر

محفلین
شکر ہے کسی نے برملا کہا کہ یہ سب امریکہ کی کارستانیاں ہیں ، ورنہ میڈیا سمیت تمام سیاستدان امریکہ کو مورد الزام ٹھہرانے کی جرات بھی نہیں کرتے ۔کل تک جو دیواروں پر لکھتے پھر رہے تھے " جو امریکہ کا یار ہے غدار ہے غدار ہے " وہ بھی امریکی ریمنڈ دٰوسوں کے ھمنوا بن چکے ہیں
 

زلفی شاہ

لائبریرین
عمران کے بیان کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ وہ تحریک انصاف کا چئیرمین ہے جو پارٹی اب ایک نا قابل تردید قوت ہے۔ عمران خان کےبیانات پارٹی کی مشاورت سے ہوتے ہیں۔ اور یہ پارٹی کوئی کاکوں کی پارٹی نہیں ہے۔ لہذا مذکورہ بالا بیان میں کافی وزن نظر آتا ہے۔
 

x boy

محفلین
ایک سے بڑھ کر ایک جواب ماشاء اللہ
دیکھا جائے تو ہر کسی کا رخ اچھا ہے اللہ کرے سمت درست ہوجائے۔
 

سعود الحسن

محفلین
اسلام آباد (جنگ نیوز) چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے کہ امریکا پاکستان میں امن نہیں چاہتا، شکر ہے آپریشن رک گیا، افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء تک خطے میں امن قائم نہیں ہوسکتا ،مذاکرات سے پتا چل جائے گا کہ کون امن نہیں چاہتا۔ اسلام آباد میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ایسے عناصر موجود ہیں جو امن نہیں چاہتے، بیرونی قوتوں کے ایجنڈے پر کام کرنے والوں کو علیحدہ کرنا چاہئے، شمالی وزیرستان میں سات لاکھ پاکستانی بستے ہیں جبکہ لڑنے والے صرف 20 سے 25 ہزار افراد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن ہونے والا تھا، شکر ہے کہ آپریشن رک گیا، امریکہ نہیں چاہتا کہ پاکستان میں امن قائم ہو،۔ پاکستان میں اس وقت تک امن کا قیام ممکن نہیں جب تک امریکہ افغانستان سے اپنی فوجیں نہیں نکالتا۔ عمران خان نے کہا ہے کہ امریکہ پاکستان میں امن نہیں چاہتا،امریکہ ان جماعتوں اور دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہا ہے جو پاکستان کے دشمن ہیں اور یہاں امن نہیں چاہتے۔ سیز فائر کے بعد حکومت،فوج اور طالبان ان لوگوں کو تنہا کریں جو دہشت گردی کر رہے ہیں۔
http://beta.jang.com.pk/NewsDetail.aspx?ID=177615

پتہ نہیں یہ بندہ کب بڑا ہوگا
 
مذاکرات ضرور کریں لیکن مذاکرات سے پہلے یہ طے کرلیں کہ مذاکرات کا مقصد کیا ہو۔ میری رائے میں مذاکرات کا ایک ہی مقصد ہونا چاہئیے کہ تمام عسکریت پسند تنظیمیں اپنے آپ کو خود ہی تحلیل کردیں، ہتھیار ڈال دیں اور انکے ممبران قومی دھارے میں شامل ہوجائیں۔۔ اسکے بدلے میں حکومت ان افراد کو معافی دینے کا اعلان کردے۔ اگر یہ تنظیمیں اس شرط کو تسلیم نہیں کرتیں، تو پھر ایک بھرپور جنگ کرکے ان تمام عسکریت پسندوں کا قلع قمع کردیا جائے اور ان علاقوں میں فوج کی چھاؤنیاں بنادی جائیں۔۔۔
 

سید زبیر

محفلین
دہشت گردوں کو سپلائی کہاں سے ملتی ہے؟ افغانستان سے
افغانستان پر کس کا قبضہ ہے؟ امریکہ کا
افغانستان کے علاوہ بحری راستوں سے بندرگاہ اور چھوٹے چھوٹے کریک یا جزیروں کے ذریعے پر بھی آتی ہے ۔ یہ ساحل کراچی سے گوادر اور پسنی تک جو پھیلا ہے اسی لئے جہاز رانی اور بندرگاہوں کی وزارت پر ہمیشہ کالا دھن کمانے والوں کی نظر رہتی ہے ۔ یہ ڈان لوگ ہمیشہ بندرگاہوں ہی پر کیوں رہتے ہیں ، اب ہماری نیوی اور کسٹمز کتنی مستعد ہے ۔ کراچی میں نیوی کے اہلکار بلاوجہ نہیں شہید کئے جاتے ۔
 

سید زبیر

محفلین
مذاکرات ضرور کریں لیکن مذاکرات سے پہلے یہ طے کرلیں کہ مذاکرات کا مقصد کیا ہو۔ میری رائے میں مذاکرات کا ایک ہی مقصد ہونا چاہئیے کہ تمام عسکریت پسند تنظیمیں اپنے آپ کو خود ہی تحلیل کردیں، ہتھیار ڈال دیں اور انکے ممبران قومی دھارے میں شامل ہوجائیں۔۔ اسکے بدلے میں حکومت ان افراد کو معافی دینے کا اعلان کردے۔ اگر یہ تنظیمیں اس شرط کو تسلیم نہیں کرتیں، تو پھر ایک بھرپور جنگ کرکے ان تمام عسکریت پسندوں کا قلع قمع کردیا جائے اور ان علاقوں میں فوج کی چھاؤنیاں بنادی جائیں۔۔۔
نہیں سر بالکل نہیں ! ایک تو یہ ایسے درندے ہیں جو انسانی خون کے علاوہ کچھ نہیں پیتے ،ان قماش کے لوگوں میں اب جنسی جہاد کی اصطلاح بھی آچکی ہے ،تحلیل ہونا ایسا ہوگا جیسے نمک پانی میں تحلیل ہو کر اپنی خصوصیات پورے پانی میں پیدا کردیتا ہے ہر گلی ، کوچے میں یہی صاحب حیثیت بنیں گے ، اسلحہ جو پہلے یہاں لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کے پاس ہے ان سے نہیں رکھوایا جا سکتا تو یہ کیوں حوالہ کر کے نہتے ہوںگ یہی معاشرے کی عزت ،جان و مال سے کھیلیں گے یہ وحشی درندے ہیں ان ڈرا دھمکا کر اپنی جائز نا جائز خواہشات کی تکمیل کرانے کی لت پڑ چکی ہے ، ۔ممبران کو قومی دھارے میں تو ایسے ہی شریک کیا جاسکتا ہے کہ موجودہ قومی اسمبلی کے ارکان اپنی لوٹ مار میں انہیں بھی شریک کریں یا ان کے ہمنوا بن جائیں ، عام معافی اگر انہیں دی جاسکتی ہے تو ہر قاتل ٹارگٹ کلر کو بھی دیں یہی تو وجہ ہے کہ مجرموں کو سزائے موت کا ڈر ہی نہیں ۔اس کا واحد حل قصاص اور صرف قصاص ہے میرے رب کا فرمان ہے کہ قصاص ہی میں حیات ہے اور وہ بھی سر عام ، تا کہ باقی کو عبرت ہو
 

صرف علی

محفلین
اگر امریکہ پاکستان دشمن لوگوں کی مدد کررہا ہے تو عمران خان بھی تو یہی کر رہا ہے اگر امریکہ کرے تو برا خود کرے تو اچھا
 

Fawad -

محفلین
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

بعض رائے دہندگان تواتر کے ساتھ ٹی ٹی پی کی پشت پنائ کا الزام نيٹو اور امريکہ کے سر ڈالتے ہيں - باوجود اس کے کہ اس ضمن ميں کوئ ثبوت تو درکنار قابل فہم دانش کا پہلو بھی موجود نہيں ہے۔ ميں نے يہ بات بارہا واضح کی ہے کہ يہ صرف امريکی اور پاکستانی حکومتيں ہی نہيں ہيں جنھوں نے ٹی ٹی پی کو کالعدم قرار ديا ہے بلکہ کئ نيٹو ممالک بھی اس تنظيم کو دہشت گرد قرار دے چکے ہيں۔ ٹی ٹی پی اور افغانستان ميں متحرک طالبان کے کئ گروہوں کے درميان مضبوط روابط ريکارڈ کا حصہ ہيں جسے خود ٹی ٹی پی کی قيادت اپنے کئ بيانات اور انٹرويوز ميں تسليم کر چکی ہے۔

امريکی حکومت اور نيٹو کيونکر ان عناصر کو کسی بھی قسم کا تعاون فراہم کريں گے جو بلواسطہ يا بالاواسطہ ان وسائل کو افغانستان ميں ہمارے ہی فوجيوں کو نشانہ بنانے کے ليے استعمال کريں گے؟

کونسی منطق يا دانش کے کس پہلو کے تحت کچھ رائے دہندگان اس بات پر يقين کر ليتے ہيں کہ ٹی ٹی پی امريکی ايجنڈے کو پورا کر رہی ہے کيونکہ حقيقت تو يہ ہے کہ ٹی ٹی پی نا صرف يہ کہ خطے ميں ہمارے سب سے مضبوط اتحادی پاکستان کو نشانہ بنا رہی ہے بلکہ افغانستان ميں بھی کئ گروہوں کو انسانی کمک اور وسائل فراہم کر رہی ہے؟

بدقستمی سے گزشتہ کئ برسوں سے پاکستان ميں کچھ رائے ہندگان کا يہی رويہ بن چکا ہے۔ جب بھی ان دہشت گردوں کی جانب سے ظلم کيا جاتا ہے تو ان کی اس کاروائ پر توجہ مرکوز کرنے کی بجائے ان کی تمام تر کوشش يہ ثابت کرنے پر لگ جاتی ہے کہ يا تو ان مجرموں اور دہشت گردوں کا سرے سے کوئ وجود ہی نہيں ہے يا پھر يہ کہ انھيں کسی بيرونی ہاتھ کا تعاون حاصل ہے۔

دہشت گردی کی مذمت اور مسلئے پر پرمغز اور تعميری بحث کے ذريعے مثبت اور ديرپا حل تلاش کرنے کی بجائے "بيرونی عناصر" اور "امريکی سازش" جيسے نعرے لگا کرتوجہ ہٹا لی جاتی ہے۔

ايک طرف تو پاکستانی حکومت خود بارہا يہ تسليم کر چکی ہے کہ گزشتہ 10 برسوں کے دوران امريکہ نے پاکستان کو دفاع اور فوجی اداروں کے استحکام اور دہشت گردی کے خاتمے کے ليے کئ بلين ڈالرز کی امداد دی ہے اور دوسری جانب ايسے مبصرين اور رائے دہندگان بھی موجود ہيں جو پھر بھی بغير کسی منطق کے امريکہ اور نيٹو ہی کو پاکستان ميں ٹی ٹی پی جيسی دہشت گرد تنظيموں کی پشت پنائ کے ليے مورد الزام قرار ديتے ہيں۔

پاک فوج کو امداد فراہم کر کے اور پھر بغير کسی منطق کے ٹی ٹی پی کی پشت پنائ کر کے خود اپنی ہی کاوشوں کو سبوتاز کر کے کيا فائدہ حاصل کيا جا سکتا ہے؟


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
www.state.gov
http://www.facebook.com/USDOTUrdu
 

سویدا

محفلین
امن اور امداد کی آڑ میں امریکہ جو دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے یہ کسی سے مخفی نہیں ہے
امریکہ کی تمام امداد اور امن کے نعرے سب فریب اور دھوکہ ہے
 
Top