اقبال اور ہم ۔ نئی پیروڈیاں

دھیرج بھائی دھیرج!
ابھی ہم مانیٹر بننے کے لائق بھی نہیں ہوئے( کہ مانیٹر بھی کبھی کبھی استاد کی جگہ کھڑا ہوجاتا ہے) اور آپ نے ہمیں اتنا بڑا لقب دے ڈالا۔ خبردار کہیں اساتذہ سن پائیں تو ہمارا تو جو حشر ہو سو ہو، آپ کے ساتھ جانے کیا کریں؟

خوش رہیے!
مانیٹر کبھی ہمارے زمانے میں ہوا کرتے تھے
آج کل ان کی جگہ پراکٹر نے لے لی ہے
اے نوج ناک ہی کٹے موئے زمانے کی
کہاں سے کہاں پہنچ گیا
ہم زمانے کی دوڑ سے اپنی خمیدہ کمر پر ہاتھ رکھے ہائے ہائے کرتے باہر ہو گئے :waiting:
 

فارقلیط رحمانی

لائبریرین
9۔ مذہب
اقبال​
مذہب​
اپنی ملت پر قیاس اَقوامِ مغرب سے نہ کر​
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ھاہاشمی​
ان کی جمعیت کا ہے ملک و نسَب پر انحصار​
قوت مذہب سے مستحکم ہے جمعیت تری​
دامین دامن ِدِیں ہاتھ سے چھوٹا تو جمعیت گئی​
اور جمعیت ہوئی رخصت تو ملت بھی گئی​
ہم​
محمد خلیل الر حمٰن​
اپنی ملت پر قیاس اسلام سے ہرگز نہ کر​
خاص تھی ترکیب میں قوم رسول ھاشمی​
اپنی جمعیت کا ہے ملک و نسب پر انحصار​
قوت مذہب سے مستحکم تھی جمعیت کبھی​
دامن دیں ہاتھ سے چھوٹا ہے فرقے بن گئے​
جبکہ جمعیت ہوئی رخصت تو ملت بھی گئی​
تلمیذ ، شمشاد، نیرنگ خیال، محمد احمد، غ۔ن۔غ، فارقلیط رحمانی، شوکت پرویز، الف عین، محمود احمد غزنوی، مہ جبین، محمد یعقوب آسی، نایاب
 

نایاب

لائبریرین
محترم خلیل بھائی ۔۔۔۔۔۔۔۔
بلاشبہ ۔۔۔ علامہ صاحب نے اپنے وقت میں درست و سچی حقیقت کو عیاں کیا تھا ۔
۔ اور آپ نے آج کے تلخ سچ کو عیاں کر دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت خوب شراکت بہت دعائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

یوسف-2

محفلین
مانیٹر کبھی ہمارے زمانے میں ہوا کرتے تھے
آج کل ان کی جگہ پراکٹر نے لے لی ہے
اے نوج ناک ہی کٹے موئے زمانے کی
کہاں سے کہاں پہنچ گیا
ہم زمانے کی دوڑ سے اپنی خمیدہ کمر پر ہاتھ رکھے ہائے ہائے کرتے باہر ہو گئے :waiting:

صحیح بخاری:جلد سوم:باب:ادب کا بیان :زمانے کو برا بھلا نہ کہو۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ: ابن آدم مجھے تکلیف پہنچاتا ہے، زمانہ کو گالی دیتا ہے، حالانکہ زمانہ تو میں ہی ہوں۔ میرے ہی قبضہ قدرت میں تمام امور ہیں میں رات اور دن کو گردش دیتا ہوں۔

صحیح بخاری:جلد دوم:باب:تفاسیر کا بیان
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : زمانے کو بُرا بھلا نہ کہو کیونکہ اللہ ہی زمانہ ہے۔
 
صحیح بخاری:جلد سوم:باب:ادب کا بیان :زمانے کو برا بھلا نہ کہو۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ: ابن آدم مجھے تکلیف پہنچاتا ہے، زمانہ کو گالی دیتا ہے، حالانکہ زمانہ تو میں ہی ہوں۔ میرے ہی قبضہ قدرت میں تمام امور ہیں میں رات اور دن کو گردش دیتا ہوں۔

صحیح بخاری:جلد دوم:باب:تفاسیر کا بیان
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : زمانے کو بُرا بھلا نہ کہو کیونکہ اللہ ہی زمانہ ہے۔
:silent3:
 
10۔ دولت کے پروانے

دولت کے پروانے
محمد خلیل الرحمٰن
(علامہ اقبال سے معذرت کے ساتھ)


دنیا میں لوگ کرتے ہیں دولت سے پیار کیوں
ہر جانِ بے قرار ہے اس پر نثار کیوں

سیماب وار رکھتی ہے دولت سدا اسے
حرص و ہوس کے دام میں ہے لے لیا جسے

زر اس جہاں میں قاضیٗ حاجات بن گیا
عالم تمام جشنِ خرابات بن گیا

غم خانہٗ جہاں میں جو اس کی ضیاء نہ ہو
ہر تفتہ دل کا نخلِ تمنا ہرا نہ ہو

جھکنا ترے حضور میں سب کی نماز ہے
تیری کھنک سے آج دلوں میں گداز ہے

ھل من مزید ایک جو رسمِ قدیم ہے
جیسے کسی چمن میں پریشاں شمیم ہے

آرام آدمی کو ہے تیری کھنک سدا
ہر دل کا چین بن گئی تیری چمک سدا

کتنا عجیب ہے یہ تماشائے سیم و زر
ہر شخص ہے اسیرِ تمنائے سیم و زر​
 

جیہ

لائبریرین
انکل جی۔ مجھے تو ڈر ہے کہ روز محشر یزدان سے پہلے اقبال آپ سے پرسش کریں گے۔ کہ خدا کے بندے میرے اشعار کا کیا حشر کیا :)



گستاخی کے لئے معذرت خواہ ہوں
 
انکل جی۔ مجھے تو ڈر ہے کہ روز محشر یزدان سے پہلے اقبال آپ سے پرسش کریں گے۔ کہ خدا کے بندے میرے اشعار کا کیا حشر کیا :)



گستاخی کے لئے معذرت خواہ ہوں
کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا؟

جیہ بٹیا ! یہی ڈر ہمیں بھی ہے۔
 

جاسمن

لائبریرین
واہ بھی واہ۔ بہت خوب! کس قدر ذہانت اور خیالات کی وسعت چاہیے محاکات کہنے کے لئے۔
بہت خوب!
زبر دست!
ماشاءاللہ!
اللہ آپ کے قلم کو نظرِ بد سے بچائے۔ آمین!:)
 
۱۱۔ پھولوں کی شہزاری

پھولوں کی شہزادی
محمد خلیل الرحمٰن
(علامہ اقبال سے معذرت کے ساتھ)

پڑوسن کہہ رہی تھی ایک دن مجھ سے گلستاں میں
رہی میں ایک مدت سامنے ہی باغِ رضواں میں

مگر بیوی کی سختی نے تمہیں ناآشنا رکھا
تمہیں ہم سے جدا رکھا، ہمیں تم سے جدا رکھا

تمہاری نصف بہتر سے تو میں بھی سخت نالاں ہوں
گزر کیسے کیا کرتے ہو اس کے ساتھ حیراں ہوں

کبھی مووی دکھانے کے لیے ہی مجھ کو تو لے چل
بٹھاکر اپنی گاڑی میں برنگِ موجِ بو لے چل

کہا میں نے سریر آرا ہماری ہے وہ شہزادی
کہ جس کی سخت نظروں سے نہیں ہے مجھ کو آزادی

کھڑی ہے گھر کے دروازے پہ بیگم اس طرح تن کر
کہاں ممکن کہ میں نکلوں تمہارا ہم نشیں بن کر

مری آزاد ہے فطرت مگر ہوں گُربہء مسکیں
نہیں ممکن کہ نظریں پھیر لے مجھ سے مرا گلچیں

"نظر اس کی پیامِ عید ہے اہلِ محرّم کو
بنادیتی ہے گوہر غم زدوں کے اشکِ پیہم کو"




علامہ کی خوبصورت نظم یہاں ملاحظہ فرمائیے۔
بانگ درا --- علامہ محمّد اقبال: پھولوں کی شہزادی
 
آخری تدوین:
۱۱۔ پھولوں کی شہزاری

پھولوں کی شہزادی
محمد خلیل الرحمٰن
(علامہ اقبال سے معذرت کے ساتھ)

پڑوسن کہہ رہی تھی ایک دن مجھ سے گلستاں میں
رہی میں ایک مدت سامنے ہی باغِ رضواں میں

مگر بیوی کی سختی نے تمہیں ناآشنا رکھا
تمہیں ہم سے جدا رکھا، ہمیں تم سے جدا رکھا

تمہاری نصف بہتر سے تو میں بھی سخت نالاں ہوں
گزر کیسے کیا کرتے ہو اس کے ساتھ حیراں ہوں

کبھی مووی دکھانے کے لیے ہی مجھ کو تو لے چل
بٹھاکر اپنی گاڑی میں برنگِ موجِ بو لے چل

کہا میں نے سریر آرا ہماری ہے وہ شہزادی
کہ جس کی سخت نظروں سے نہیں ہے مجھ کو آزادی

کھڑی ہے گھر کے دروازے پہ بیگم اس طرح تن کر
کہاں ممکن کہ میں نکلوں تمہارا ہم نشیں بن کر

مری آزاد ہے فطرت مگر ہوں گُربہء مسکیں
نہیں ممکن کہ نظریں پھیر لے مجھ سے مرا گلچیں

"نظر اس کی پیامِ عید ہے اہلِ محرّم کو
بنادیتی ہے گوہر غم زدوں کے اشکِ پیہم کو"




علامہ کی خوبصورت نظم یہاں ملاحظہ فرمائیے۔
بانگ درا --- علامہ محمّد اقبال: پھولوں کی شہزادی
حد ای مُکا دتی جناب:lol:
 
مدیر کی آخری تدوین:
۱۱۔ پھولوں کی شہزاری

پھولوں کی شہزادی
محمد خلیل الرحمٰن
(علامہ اقبال سے معذرت کے ساتھ)

پڑوسن کہہ رہی تھی ایک دن مجھ سے گلستاں میں
رہی میں ایک مدت سامنے ہی باغِ رضواں میں

مگر بیوی کی سختی نے تمہیں ناآشنا رکھا
تمہیں ہم سے جدا رکھا، ہمیں تم سے جدا رکھا

تمہاری نصف بہتر سے تو میں بھی سخت نالاں ہوں
گزر کیسے کیا کرتے ہو اس کے ساتھ حیراں ہوں

کبھی مووی دکھانے کے لیے ہی مجھ کو تو لے چل
بٹھاکر اپنی گاڑی میں برنگِ موجِ بو لے چل

کہا میں نے سریر آرا ہماری ہے وہ شہزادی
کہ جس کی سخت نظروں سے نہیں ہے مجھ کو آزادی

کھڑی ہے گھر کے دروازے پہ بیگم اس طرح تن کر
کہاں ممکن کہ میں نکلوں تمہارا ہم نشیں بن کر

مری آزاد ہے فطرت مگر ہوں گُربہء مسکیں
نہیں ممکن کہ نظریں پھیر لے مجھ سے مرا گلچیں

"نظر اس کی پیامِ عید ہے اہلِ محرّم کو
بنادیتی ہے گوہر غم زدوں کے اشکِ پیہم کو"


کمال ، لاجواب اور بہترین ۔ کیا کہنے سر ۔ زبردست
 
Top