محمد بلال اعظم

لائبریرین
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے؟
اُستاد ابراہیم ذوق نے یہ شعرچچا غالب کو اُن کی ”غیر اخلاقی حرکتوں“ سے باز رکھنے لئے طنزاً کہا تھا۔ یہ تو آپ کو معلوم ہی ہوگا کہ چچا کی اپنی بیگم سے ان بن رہتی تھی۔ اس لئے کہ چچا پینے پلانے کے شوقین اور چچی پنج وقتہ نمازن۔ چچی نے چچا کے کھانے پینے کے برتن بھی الگ کر رکھے تھے۔ چچا کو ”حکم“ تھا کہ جب زنان خانے میں آئیں، اپنی جوتی باہر اتار کر آئیں۔ چچا زنان خانے کے باہراپنی جوتی اتارتے ہوئے کہا کرتے۔ لو اب میں مسجد میں داخل ہورہا ہوں۔ چچا نے ایک کوٹھے والی سے آنکھ لڑائی ہوئی تھی۔ اکثر ان کے پاس جایا کرتے تھے اوراپنی ”منظور نظر“ کو پیسوں کی بجائے”مفت میں غزلیں“ عطا کیا کرتے تھے، جسے وہ مجرہ میں گا کر ”کیش“ کرا لیا کرتی تھیں۔ ایک مرتبہ کسی بات پر نازنین ناراض ہوگئیں تو انہوں نے چچا کے لئے اپنے گھر کا دروازہ بند کردیا (چچا کو باہر نکال کر:D ) ۔ اب چچا کی پریشانی دیدنی تھی۔ سر جھاڑ منہ پھاڑ گلیوں میں پھرا کرتے۔ کوٹھے پر آنے جانے والے کے ہاتھ ایک مرتبہ یہ رقعہ بھی بھجوایا کہ:​
مہرباں ہو کے بُلا لو مجھے، چاہو جس وقت
میں گیا وقت نہیں ہوں کہ پھر آ بھی نہ سکوں
استاد ذوق نےلاکھ سمجھایا کہ میاں کیا تمہیں کوئی شریف زادی نہیں ملی تھی کہ ایک طوائف زادی پر مر مٹے ہو، چچا غالب گھبرا کے بولے: بھئی ہم تو اسی پہ مریں گے اور یہیں پہ مر کے چین پائیں گے۔ اس موقع پر استاد ذوق نے لوگوں کو مخاطب کر کے کہا کہ ۔۔۔ اب تو گھبرا کے ”یہ“ (حضرت) کہتے ہیں کہ (اسی طوائف زادی پہ) مرجائیں گے۔ (لیکن میاں غالب! اگر کوٹھے والی پہ) مرکے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے۔۔۔ ۔ کیونکہ پھر تو تمہاری بیگم بھی گھر میں گھسنے نہیں دیں گی۔​
پس نوشت: مندرجہ بالا تشریح میں مرزا غالب سے متعلق تمام باتیں حقیقت پر مبنی ہیں، کوئی اسے ”فرضی“ سمجھ کر ”گمراہ“ نہ ہو۔ :)

:grin:
 

نیلم

محفلین
ہمارے حال پر رویا دسمبر​
وہ دیکھو ٹوٹ کر برسا دسمبر​
شاعر دسمبر کی اوس کو بھی اغیار کی طعنہ زنی سمجھ رہا ہے۔ کتابی باتوں نے شاعر کا دماغ اتنا خراب کر دیا ہے کہ وہ یہ بھی بھول بیٹھا ہے کہ ساون دسمبر میں نہیں آتا۔ اصل میں شاعر اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے کی بجائے انکی کوئی وجہ تلاش کرنے کے چکر میں ہے۔ اب اور کوئی نہ ملا تو یہ الزام اس نے مہینے کے سر منڈھ دیا۔ :cautious:

گزر جاتا ہے سارا سال یوں تو​
نہیں کٹتا مگر تنہا دسمبر​
کوئی اللہ کا بندہ پوچھے کہ جہاں سارا سال گزرا وہاں ان اکتیس دنوں کو کیا بیماری ہے۔ مگر نہ جی۔ اصل میں شاعر نے یہاں استعارے سے کام لیا ہے۔ کہ اپنے گھر والوں کے سامنے شادی کا ذکر کس طرح کرے۔:p سو اس نے دسمبر کا کاندھا استعمال کرنے میں رتی بھر رعایت نہیں کی۔;)

بھلا بارش سے کیا سیراب ہوگا​
تمھارے وصل کا پیاسا دسمبر​
اسی موضوع کو شاعر نے جاری رکھا ہے۔ جب پہلے شعر پر کوئی ردعمل نہ ہوا اور گھر والوں کی طرف سے کسی قسم کی پذیرائی حاصل نہ ہوئیo_O تو شاعر کا لہجہ ذرا بیباک ہو گیا۔ اور اس نے کھلے الفاظ میں وصل کی تمنا ظاہر کرنی شروع کر دی۔:devil: شاعر کو اخلاقی سدھار کی اشد ضرورت ہے۔ :twisted:

وہ کب بچھڑا، نہیں اب یاد لیکن​
بس اتنا علم ہے کہ تھا دسمبر​
یہاں ہر شاعر نے اپنی نام نہاد محبت کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔:LOL: اگر اسے محبوب سے الفت ہوتی تو اسے وقت اور دن یاد ہونا چاہئے تھا۔:confused: مگر شاعر کو تو عشرہ بھی یاد نہیں۔ کہ شروع تھا درمیان یا پھر آخر۔۔۔ ۔ اس کو صرف مہینہ یاد ہے۔:unsure: اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ محبوب شاعر کی نسیانی سے تنگ تھا۔:nailbiting: اوریہی وجہ بنی اس کے چھوڑ کر جانے کی۔:thumbsdown: شعر کے الفاظ سے اندازہ ہو رہا ہے کہ شاعر کو بھی کوئی دکھ نہیں ہے۔ :tongue:

یوں پلکیں بھیگتی رہتی ہیں جیسے​
میری آنکھوں میں آ ٹھہرا دسمبر​
اب شاعر نے یکدم پلٹی کھائی ہے۔ اور محبوب کے ذکر سے سیدھا غم روزگار پر آ پہنچا ہے۔:biggrin: شاعر کسی ہوٹل میں پیاز کاٹنے کے فرائض سر انجام دے رہا ہے۔:hypnotized: اور انکی وجہ سے جو آنکھوں سے پانی بہہ رہا ہے اس کو بھی دسمبر کے سر تھوپ دیا۔:nerd: حالانکہ دسمبر اک خوشیوں بھرا مہینہ ہے۔ اور خاص طور پر مغربی ممالک کے لیئے خوشیوں کا پیغام لے کر آتا ہے۔ مگر اسے شاعر کی مغرب بیزاری کہیں یا پھر دسمبر سے چڑ کے اس نے پورے دسمبر کو ہی نوحہ کناں قرار دے دیا ہے۔

جمع پونجی یہی ہے عمر بھر کی​
مری تنہائی اور میرا دسمبر​
شاعر اک فضول خرچ آدمی ہے یا پھر بے روزگار۔(n) کہ اس کے پاس تنہائی کے علاوہ کچھ اور ہے ہی نہیں۔:shock: اوپر سے اس نے اس کڑکی کے دور میں جب کچھ اور ہاتھ آتا نہ دیکھا تو دسمبر کو ہی اپنی ملکیت قرار دے دیا۔:atwitsend: دسمبر نے یقینا اس دعوے پر اچھے بھلے ناشائستہ لہجے میں اظہار خیال کیا ہوگا۔:laughing: واللہ اعلم
اک اور وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ شاعر اک بدزبان آدمی تھا:thinking: اور اسی وجہ سے کوئی بھی اس سے ملنا یا بات کرنا پسند نہ کرتا تھا۔:timeout: اب تنہائی میں بیٹھا اکیلے میں باتیں کرتے ہوئے دسمبر کو کہنے لگا کہ یار تم تو میرے ہو۔:rollingeyes: سنا ہے دسمبر نے اسکا دل رکھنے کو حامی بھر لی تھی۔:sigh: بعض لوگ کہتے ہیں کہ دسمبر نے صاف انکار کر دیا تھا۔:shameonyou: خیر ہم اندر کی تفصیلات میں نہیں جاتے۔:cowboy:


دسمبر کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ شاعر کے ساتھ ہے جس نے دسمبر کو بدنام کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ اور آخر میں اسے اک تھپکی بھی دے کہ
"تو تو یار ہے اپنا۔ فکر مت کر۔۔۔ ۔"o_O
غیر تصدیقی ذرائع سے یہ بھی سننے کو ملا ہے کہ دسمبر اس کے خلاف احتجاج کرے گا۔ اور قانونی چارہ جوئی کے لیئے بھی کوئی دعوی دائر کرے گا۔
:rollingonthefloor:
 

عرفان سرور

محفلین
میرے خیال سے یہ ایک اچھا سلسلہ نہیں ہے کیوں کہ اگر ہم خود ہی اردو ادب کا مزاق بنائیں گے تو کسی اور سے کیا اُمید کرنی تفریح کے اور بھی بہت سے موضوع ہیں اچھے شاعروں کے کلام کے ساتھھ یہ زیادتی مجھے نہیں پسند آئی نا پسند کی آپشن ہوتی تو ضرور کرتا۔۔۔۔
 

محمد بلال اعظم

لائبریرین
میرے خیال سے یہ ایک اچھا سلسلہ نہیں ہے کیوں کہ اگر ہم خود ہی اردو ادب کا مزاق بنائیں گے تو کسی اور سے کیا اُمید کرنی تفریح کے اور بھی بہت سے موضوع ہیں اچھے شاعروں کے کلام کے ساتھھ یہ زیادتی مجھے نہیں پسند آئی نا پسند کی آپشن ہوتی تو ضرور کرتا۔۔۔ ۔

ہمیں یہ سارے آپشنز دستیاب ہیں۔
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
میرے خیال سے یہ ایک اچھا سلسلہ نہیں ہے کیوں کہ اگر ہم خود ہی اردو ادب کا مزاق بنائیں گے تو کسی اور سے کیا اُمید کرنی تفریح کے اور بھی بہت سے موضوع ہیں اچھے شاعروں کے کلام کے ساتھھ یہ زیادتی مجھے نہیں پسند آئی نا پسند کی آپشن ہوتی تو ضرور کرتا۔۔۔ ۔
کوئی بات نہیں۔ آپکو پسند نہیں آیا۔ ویسے بھی یہ کوئی نیا خیال نہیں ہے۔ قبل مسیح کا کام ہے۔ :) اور خوشی اس بات کی ہے کہ آپ صرف شاعری کو اردو ادب سمجھتے ہیں۔ اور فکاہیہ طرز تحریر کو اس سے باہر۔
معلومات کے لیئے نیچے موجود تمام ریٹنگز میں سے دائیں سائیڈ سے دوسری ریٹنگ ناپسند کی ہے۔
اظہار خیال پر آپکا ممنون ہوں۔ سوچتے ہیں کہ اس کو بند کیا جائے یا چلایا جائے۔ دیگر ارکین سے بھی مشورہ لے لیں گے۔ :)
 
لیجئے صاحب! کیا سوال کر ڈالا ہے آپ نے!!؟


دراصل میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ دسمبر کے ساتھ آخر مسئلہ کیا ہے؟؟؟؟

ابھی تین دن پہلے ہی تو پوری دنیا نے ’’دسمبر‘‘ کا تماشا کیا اور ۔۔۔ کیا قیامت کا انتظار تھا!
قیامت بھی ایسی کہ دسمبر کے سارے زخم بھلا گئی۔ کسی کو سقوطِ ڈھاکہ کی یاد آئی نہ بابری مسجد کی! اور کیا قیامت ہو گی بھلا۔

وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا​
کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا​
شبِ تار بھی، مرا راہبر بھی ہے بے جہت​
کوئی لَو تو دے، ذرا جگمگا، مرے داغِ دل​
۔۔۔۔۔۔
 

عرفان سرور

محفلین
کوئی بات نہیں۔ آپکو پسند نہیں آیا۔ ویسے بھی یہ کوئی نیا خیال نہیں ہے۔ قبل مسیح کا کام ہے۔ :) اور خوشی اس بات کی ہے کہ آپ صرف شاعری کو اردو ادب سمجھتے ہیں۔ اور فکاہیہ طرز تحریر کو اس سے باہر۔
معلومات کے لیئے نیچے موجود تمام ریٹنگز میں سے دائیں سائیڈ سے دوسری ریٹنگ ناپسند کی ہے۔
اظہار خیال پر آپکا ممنون ہوں۔ سوچتے ہیں کہ اس کو بند کیا جائے یا چلایا جائے۔ دیگر ارکین سے بھی مشورہ لے لیں گے۔ :)

ادب کا مطلب ہوتا ہے لحاظ کسی کی عزت کرنا اگر کسی شاعر کے کلام یہ حال کرنے کو آپ ادب سمجھتے ہیں تو شوق سے کیجئے
کوئی بات بُری لگی ہو تو معذرت۔۔۔
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
ادب کا مطلب ہوتا ہے لحاظ کسی کی عزت کرنا اگر کسی شاعر کے کلام یہ حال کرنے کو آپ ادب سمجھتے ہیں تو شوق سے کیجئے
کوئی بات بُری لگی ہو تو معذرت۔۔۔
ارے عرفان بھائی معذرت کیسی۔ ویسے ادب کی یہ تعریف میرے لیئے نئی ہے۔ مطلب کہ تحاریر، ناول، افسانے، شاعری، فکاہیہ تحاریر یہ اردو کا لحاظ کرتے ہیں۔ میں سمجھا نہیں۔ اگر آپ ذاتی پیغام میں مجھے سمجھا سکیں۔ مقصد بحث کرنا نہیں اپنے نظریات کی تصحیح کرنا ہے۔
 
Top