1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $420.00
    اعلان ختم کریں
  2. اردو محفل سالگرہ چہاردہم

    اردو محفل کی یوم تاسیس کی چودہویں سالگرہ کے موقع پر تمام اردو طبقہ و محفلین کو دلی مبارکباد!

    اعلان ختم کریں

اردو زبان کے نفاذ اور ترویج سے متعلق خبریں اور کالمز وغیرہ

جاسمن نے 'اردو نامہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 21, 2019

  1. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    11,672
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    میرے خیال میں اگر اردو کو مکمل رائج کیا جائے تو سائنسی مضامین اردو میں پڑھانے سے طلبہ کی کارکردگی میں فرق نہیں آئے گا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. عثمان

    عثمان محفلین

    مراسلے:
    9,653
    موڈ:
    Cheerful
    یعنی آپ بھی متفق ہیں کہ فرق نہیں آئے گا تو پھر تبدیلی کی ضرورت ہی کیسی۔ بلکہ سائنس اور ریاضی انگریزی میں پڑھنے سے فائد یہ ہے کہ انہیں آگے جا کر ایک بار پھر ترجمے کی غیر ضروری کوفت سے نہیں گذرنا پڑے گا۔ وہ یہ علوم اسی زبان میں پڑھ رہے ہیں جو میدان تحقیق کی اولین زبانوں میں سے ہے۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
    • متفق متفق × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    7,844
    اب تو بہتر صورت یہی ہے کہ بچوں کو فر فر انگریزی زبان آتی ہو تاکہ کم از کم اُن کے بنیادی کانسپٹس یا تصورات بہتر ہو جائیں اور مستقبل میں انہیں کم از کم دشواری کا سامنا کرنا پڑے۔ اُردو زبان میں سائنسی علوم کے غیر معیاری اور جناتی تراجم نے ایسی صورت حال پیدا کر دی ہے کہ ان سے بہتر ہے کہ بچوں کو اس غیر ضروری مشقت سے بچایا جائے۔ یہ مان لینے میں حرج نہ ہے کہ ہماری نااہلی، تا دیر غفلت اور دیگر وجوہات کے باعث اردو میں سائنسی علوم کی ترویج و اشاعت نہ ہو سکی اور اب شاید مزید وقت ہمارے پاس نہیں رہا ہے۔ اب جو بچے اردو زبان کی اصلاحات ازبر کریں گے، انہیں اس حوالے سے عملی طور پر کوئی معیاری مواد دستیاب نہ ہو گا جس کے باعث انہیں غیر ضروری مشقت بھی اٹھانا پڑے گی۔ یعنی کہ، اردو زبان میں نئے سرے سے ان اصطلاحات کی ترویج کرنا عصری تقاضوں سے ہٹ کر چلنے کے مترادف ہے۔ اب شاید مزید وقت نہیں رہا کہ ان چونچلوں میں پڑا جائے۔ ہماری دانست میں، اب کسی زبان کو مکمل طور پر رائج کرنے کے موقف پر بھی نظرثانی کی ضرورت ہے۔ ایک معنوں میں یہ بھی بہتر ہے کہ اردو زبان کے علاوہ انگریزی زبان کا بھی چلن ہو گیا ہے؛ یوں ہمارے بچوں کی علوم و فنون تک رسائی آسان ہو گئی ہے اور یقین جانیے کہ معیاری سائنسی لٹریچر میں انگریزی زبان میں ہی دستیاب ہے۔ ہمیں اعتراف ہے کہ ہم ایک طویل مدت تک سائنسی علوم کی اردو زبان میں منتقلی کی وکالت کرتے رہے ہیں اور اس کی اپنی وجوہات ہیں، تاہم یہ ایک سراب ہے اور شاید رہے گا۔ صاف معلوم پڑتا ہے کہ ہم کسی بھی کام میں مخلص نہیں ہیں۔ یہ بات، تاہم، طے شدہ معلوم ہوتی ہے کہ اردو زبان کی محبت میں ہم اپنے مستقبل سے غافل نہیں رہ سکتے ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 2
    • متفق متفق × 1
  4. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    11,672
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    آپ کے نکات سے متفق ہوئے بغیر چارہ نہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  5. عثمان

    عثمان محفلین

    مراسلے:
    9,653
    موڈ:
    Cheerful
    کچھ اضافہ کرنا چاہوں گا۔
    انگریزی محض انگریز کی میراث نہیں بلکہ ایک عالمگیر زبان ہے۔ برصغیر سے اس کا رشتہ صدیوں سے ہے۔ یہ خطہ دنیا کے ان چند ایک میں سے ہیں جو انگریزی سے تاریخی ، تہذیبی اور لسانی قربت رکھتا ہے۔ یہ ہماری زبان ہے۔ اسے کھل کر گلے لگائیں اور اس کے ثمرات سمیٹیں۔ معذرت خواہنا رویے اپنانے کی کوئی ضرورت نہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • متفق متفق × 1
  6. محمد عدنان اکبری نقیبی

    محمد عدنان اکبری نقیبی محفلین

    مراسلے:
    16,879
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  7. محمد عدنان اکبری نقیبی

    محمد عدنان اکبری نقیبی محفلین

    مراسلے:
    16,879
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    بھارت، کم سن لڑکا 135 کتابوں کا مصنف بن گیا

    [​IMG]
    بھارتی ریاست اتر پردیش میں 13سالہ لڑکا 135 کتابوں کا مصنف بن گیا۔
    مریجندرا راج نامی تیرہ سالہ لڑکے کا کہنا ہے کہ اُنہوں نے6 سال کی عمر سے کتابیں لکھنا شروع کی تھیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ انہوں نےاپنی پہلی کتاب میں مختلف نظموں کو ترتیب دیا۔
    قلمی نام ’آج کاابھی مانیو‘ سے متعدد کتابیں لکھنے والے مریجندرا راج کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل میں ایک بڑے مصنف بننے کاخواہاں ہیں اور ادب کی مختلف اقسام میں زیادہ سے زیادہ کتابیں لکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
    اس سے قبل مریجندرا راج چار عالمی ریکارڈز اپنے نام کر چکے ہیں۔
    مریجندرا راج کی والدہ ایک نجی ادارے میں ٹیچر ہیں جبکہ والد ایک شوگر انڈسٹری میں ملازم ہیں۔ ان کی والدہ کا کہنا ہے کہ مریجندرا راج لکھنے میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں اور وہ ان کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔
    لنک
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  8. بافقیہ

    بافقیہ محفلین

    مراسلے:
    127
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Volatile
    خوب
     
    • دوستانہ دوستانہ × 2

اس صفحے کی تشہیر