اردو زبان کے نفاذ اور ترویج سے متعلق خبریں اور کالمز وغیرہ

جاسمن نے 'اردو نامہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 21, 2019

  1. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    11,163
    جھنڈا:
    Pakistan
    [​IMG]
     
    • زبردست زبردست × 3
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    11,163
    جھنڈا:
    Pakistan
    [​IMG]
     
    • زبردست زبردست × 3
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. یاقوت

    یاقوت محفلین

    مراسلے:
    321
    موڈ:
    Breezy
    :rose::rose::rose::rose::rose::rose::rose::rose::rose::rose::rose::rose::rose::rose::rose::rose::rose::rose::rose::rose::rose::rose:
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. ناصر محمود 313

    ناصر محمود 313 محفلین

    مراسلے:
    198
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    اس رپورٹ میں تعلیم کے عمومی مسائل نہیں بلکہ لڑکیوں کی تعلیم کے مسائل بیان کیے گئے ہیں۔ ان کا اردو یا انگریزی سے کیا تعلق ہے؟
     
    • متفق متفق × 1
  5. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    12,312
    اردو کو ذریعۂ تعلیم بنانے کا فیصلہ: غور طلب نکات
    16/09/2019 ڈاکٹر شاہد صدیقی

    حال ہی میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ محترم عثمان بزدار صاحب نے ایک ٹویٹ کے ذریعے اعلان کیا کہ چونکہ پرائمری سطح پر ذریعۂ تعلیم انگریزی ہونے کی وجہ سے اساتذہ اور بچوں کا سارا وقت مضمون کو سمجھنے کے بجائے ترجمہ کرنے میں صرف ہو جاتا ہے اور بچے کچھ نیا نہیں سیکھ پاتے لہٰذا اگلے تعلیمی سال یعنی مارچ 2020 سے پرائمری سطح پر ذریعۂ تعلیم اردو کر دیا جائے گا۔

    یہ اعلان اتنا ہی اچانک تھا جتنا ضیاء الحق کا ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے یہ اعلان کہ سارے انگلش میڈیم سکولوں میں آئندہ سے اردو ذریعۂ تعلیم ہو گا۔ یہ ایک غیر حقیقی فیصلہ تھا جسے کچھ ماہ بعد ہی واپس لینا پڑا تھا۔ ایسا ہی ایک فیصلہ بھٹو صاحب نے کیا جب ایک روز تمام پرائیویٹ اداروں کو سرکاری تحویل میں لے لیا گیا۔ اس کے مضمرات ابھی تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔ اسی نوع کا ایک فیصلہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں کیا گیا جب انگریزی کو پہلی جماعت سے لازمی مضمون قرار دیا گیا۔

    یہ فیصلہ اس بات سے قطع نظر کیا گیا تھا کہ آیا طلب کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں انگریزی پڑھانے والے اساتذہ دستیاب ہوں گے یا نہیں۔ اٹھارہویں ترمیم تعلیم کے تالاب میں ایک اور پتھر تھا جس کے نتیجے میں نئے چیلنجز سامنے آئے۔ اس ترمیم کے ذریعے تعلیم کو ایک صوبائی معاملہ قرار دیا گیا۔ شہباز شریف کے دور میں سرکاری سکولوں میں پرائمری سطح پر انگریزی کو ذریعۂ تعلیم بنانے کے اس فیصلے میں غیر ملکی کنسلٹنٹس کی سفارشات شامل تھیں۔

    محترم عثمان بزدار کا یہ فیصلہ بھی دور رس نتائج کا حامل ہو گا اس لیے اس کے نفاذ سے پہلے چند نکات پر غور ضروری ہے۔ سب سے پہلے تو یہ جاننا اہم ہے کہ زبان کی اہمیت کیا ہے؟ زبان ایک طرف باہمی بات چیت کا ذریعہ ہے تو دوسری طرف انفرادی اور اجتماعی شناخت کی علامت بھی ہے۔ معروف فرانسیسی ماہرِ عمرانیات Bourdeau کا کہنا ہے کہ معاشرے میں طاقت کا تعین کچھ سرمایے (Capitals) کرتے ہیں۔ ان میں معاشی سرمایہ (Economic Capital) سماجی سرمایہ (Social Capital) ثقافتی سرمایہ (Cultural Capital) شامل ہیں۔

    کلچرل کیپیٹل کا ایک حصہ لسانی سرمایہ (Linguistic Capital) ہے۔ سرمایوں کی اس بحث سے واضح ہے کہ کسی بھی معاشرے میں زبان سے آگاہی وہ لسانی سرمایہ ہے جس سے طاقت کا تعین ہوتا ہے۔ یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ کوئی زبان اپنی اصل حالت میں نہ تو اچھی ہوتی ہے نہ بری اور نہ ہی طاقت ور یا کمزور۔ اس زبان کے بولنے والوں کا معاشرتی مرتبہ زبان کو کمزور یا طاقت ور بناتا ہے۔

    گلوبلائزیشن کے اس دور میں انگریزی ایک اہم زبان کے طور پر ابھری ہے جس کی بڑی وجہ اچھی ملازمتوں کے حصول میں انگریزی سے آگاہی کی شرط ہے۔ اسی طرح پاکستان میں بھی طاقت کے اہم مراکز مثلاً آرمڈ فورسز، جیوڈیشنری اور مقابلے کے امتحان میں انگریزی کا علم بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ ملازمتوں کے علاوہ اعلیٰ سطح کے تعلیم میں انگریزی کا کلیدی کردار ہے کیونکہ کتابوں اور جرائد کی بڑی تعداد انگریزی میں ہے۔

    زبان کی ایک تیسری حیثیت سماجی حیثیت سے جڑی ہوئی ہے۔ پاکستان میں انگریزی چونکہ با ثروت اور با اثر افراد کی زبان ہے لہٰذا اس کی سماجی حیثیت اردو سے برتر تسلیم کی جاتی ہے۔ یوں انگریزی زبان زور آور اور کمزور کے درمیان ایک خط تقسیم بن گئی ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آج کل ایک اچھے سکول کا معیار وہاں انگریزی زبان کی تدریس اور اس کا انگلش میڈیم ہونا ہے۔ ماضی قریب کی صورتحال ہمیں بتاتی ہے کہ پرائیویٹ سیکٹر نے بڑی تیزی سے تعلیمی میدان میں پیش رفت کی ’جس کے نتیجے میں سرکاری سکول لوگوں کی پہلی ترجیح نہیں رہے۔

    اس کا مشاہدہ ہم اپنے معاشرے میں آسانی سے کر سکتے ہیں جہاں کم آمدنی والے افراد بھی اپنے بچوں کو انگلش میڈیم سکولوں میں بھیجنا چاہتے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ والدین کا بچوں کو تعلیم دلوانا ان کی بہترین سرمایہ کاری (Investment) ہے۔ اس سرمایہ کاری میں انگریزی ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ چاہے وہ ملازمت کا مرحلہ ہو، اعلیٰ تعلیم کا یا معاشرے میں سماجی مرتبے کا‘ انگریزی سے آشنائی ضروری ہے۔ یوں انگریزی وہ طبقاتی لکیر ہے جو معاشرے کو دو حصوں میں تقسیم کرتی ہے۔ ایک حصے میں با ثروت اور با اثر لوگ آتے ہیں اور دوسرے حصے میں کم زور۔

    اردو ذریعۂ تعلیم کے حق میں سب سے بڑی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ جاپان اور چین میں بھی تو ترقی قومی زبان کے استعمال سے ہوتی ہے۔ اس بحث میں ایک اہم بات فراموش کر دی جاتی ہے کہ جاپان اور چین نے اپنی اپنی قومی زبان کو با ثروت بنانے کے لئے ترجمے کا مضبوط نظام رائج کیا گیا ہے مثلاً جاپان میں مختلف زبانوں میں چھپنے والی اہم کتابوں کا ترجمہ مختصر ترین وقت میں جاپانی زبان میں ہو جاتا ہے۔ اس میں فکشن اور نان فکشن کتابیں اور مضامین شامل ہیں۔

    یوں ان ممالک کی اپنی زبانوں میں لوگوں کو وہ معلومات میسر ہوتی ہیں جو دوسری زبانوں میں موجود ہوتی ہیں۔ یوں صرف جاپانی بولنے والے اور پڑھنے والے بھی دوسری زبانوں کے علم سے محروم نہیں ہوتے۔ کیا ہم نے سرکاری سطح پر اس کی کوشش کی۔ اگر پاکستان کی تعلیمی تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو بلند بانگ دعووں کی بہتات نظر آتی ہے۔ اردو کے حوالے سے جذباتی نعرے لگائے گئے لیکن عملی طور پر کارکردگی غیر اطمینان بخش رہی ’مثلاً 1948 کی قومی کانفرنس اور پھر 1959 کی شریف کمیشن رپورٹ میں اردو کے حوالے سے سفارشات پیش کی گئیں لیکن ان پر عمل نہ ہو سکا۔

    شریف کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا کہ پندرہ سال کے اندر اردو کو اس کا اصل مقام دلایا جائے گا۔ پھر 1973 کے آئین میں 10 سال کی مدت دی گئی‘ لیکن یہ سب زبانی وعدے تھے۔ ان کو پورا کرنے کے لیے کوئی مربوط طریقۂ کار وضع نہ ہو سکا۔ پاکستان کے تعلیمی منظر نامے میں طبقاتی فرق سب سے بڑا چیلنج ہے۔ سرکاری سکول اور انگلش میڈیم سکول اس طبقاتی فرق کی علامتیں ہیں۔ سرکاری سکولوں میں انگلش میڈیم کے فیصلے کے پیچھے شاید اس فرق کو کم کرنے کی سوچ کارفرما تھی؛ اگرچہ اس میں اساتذہ کی عدم دستیابی سب سے بڑا مسئلہ تھا ’لیکن کم از کم کتابیں انگریزی میں تھیں۔

    اہم بات یہ ہے کہ محترم عثمان بزدار صاحب کے اس فیصلے کا اطلاق صرف سرکاری سکولوں پر ہو گا اور پرائیویٹ سکول انگریزی ذریعۂ تعلیم کو جاری رکھ سکیں گے۔ یوں سرکاری اور پرائیویٹ سکولوں کے درمیان طبقاتی فرق اور زیادہ ہو جائے گا‘ جس کا نقصان سرکاری سکول کے بچوں کو ہو گا۔ اس اعلان میں ایک سروے کا ذکر بھی کیا گیا ہے جس میں 85 فیصد طلبائی، اساتذہ اور والدین نے اردو میڈیم کے حق میں فیصلہ دیا۔ کاش ایک سروے یہ بھی ہوتا کہ پالیسی ساز عہدے داروں کے اپنے بچے کن سکولوں میں پڑھ رہے ہیں۔ کیا ان سکولوں میں ذریعۂ تعلیم اردو ہے۔

    اس فیصلے کے عملی نفاذ سے پہلے چند نکات غور طلب ہیں :

    ۔ 1 اس فیصلے تک پہنچنے کے لیے مناسب ہوم ورک کیا گیا یا نہیں؟

    ۔ 2 کیا یہ فیصلہ ’جس میں سرکاری سکولوں کے بچوں کے لئے اردو اور پرائیویٹ سکول کے بچوں کے لئے انگریزی ذریعۂ تعلیم ہے‘ معاشرے میں طبقاتی فرق کو اور زیادہ گہرا نہیں کرے گا؟

    ۔ 3 کیا پرائمری سکول تک اردو میں کتابیں پڑھنے والے بچے مڈل کلاس میں اچانک انگریزی کتابوں کو پڑھنے کے لئے تیار ہوں گے؟

    ۔ 4 کیا اردو زبان میں ترجمے کی روایت چینی یا جاپانی روایات کا مقابلہ کر سکتی ہے؟

    ۔ 5 کیا ملٹی نیشنل ملازمتوں، اور اعلیٰ سطح پر مقابلے کے امتحان کی تیاری میں انگریزی زبان کی مضبوط بنیاد ایک فیصلہ کن فیکٹر نہیں ہو گا؟

    ۔ 6 کیا اعلیٰ تعلیم کے لئے انگریزی میڈیم کی بنیاد والے بچوں کو اردو میڈیم کے بچوں پر فوقیت نہیں ہو گی؟

    ۔ 7 کیا ماضی میں عجلت میںکیے گئے فیصلے بعد میں واپس نہیں لینے پڑے؟

    ۔ 8 کیا حکام بالا اس پالیسی کے نفاذ کے بعد اپنے بچوں کو اردو میڈیم سکولوں میں بھیجیں گے؟

    یہ وہ نکات ہیں جن پر غور تعلیم میں تبدیلی کے حوالے سے ایک صائب فیصلے پر پہنچنے میں مدد دے گی۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  6. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    12,312
    انگریزی زبان لازم یا پاؤں کی زنجیر؟
    مناظر علی جمعہ۔ء 20 ستمبر 2019
    [​IMG]
    انگریزی زبان کو صرف بطور مضمون پڑھایا جائے بنیادی تعلیم مادری زبان میں دی جائے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)


    بچہ پیدا ہونے کے پانچ سال بعد ایک دن اچانک ماں کو احساس ہوا کہ ’’یہ بچہ ہمارا نہیں لگتا، کیوں نہ اس کا ڈی این اے ٹیسٹ کرایا جائے‘‘۔ شام کو اُس کا شوہر تھکا ہارا ڈیوٹی سے گھر واپس آیا تو اس نے اپنے خدشے کا اظہار اُس سے بھی کیا ’’دیکھو! اِس بچے کی عادتیں بہت عجیب ہیں۔ اِس کا دیکھنا، چلنا، کھانا، پینا اور سونا وغیرہ ہم سے بہت مختلف ہے، مجھے نہیں لگتا کہ یہ ہمارا بچہ ہے، چلو اِس کا ڈی این اے ٹیسٹ کراتے ہیں‘‘۔

    شوہر: ’’بیگم! تمہیں یہ بات آج اچانک 5 سال بعد کیوں یاد آگئی؟، یہ تو تم مجھ سے 5 سال پہلے بھی پوچھ سکتی تھیں‘‘۔

    بیگم (حیران ہوتے ہوئے): ’’کیا مطلب تم کہنا کیا چاہتے ہو؟‘‘

    شوہر: ’’بیگم یاد کرو اسپتال کی وہ پہلی رات جب ہمارا بچہ پیدا ہوا تھا اور کچھ ہی دیر بعد اس نے پیمپر خراب کردیا تھا، تو تم ہی نے مجھے کہا تھا، ’اے جی سنیے! پلیز بے بی کو چینج تو کردیں‘، تب میں نے بڑی حیرانگی سے تمہاری طرف دیکھا تھا تو تم نے ہی کہا تھا ’ہمارے پیار کی خاطر۔ میں نے 9 مہینے اِسے اپنی کوکھ میں رکھا ہے، اور اب جبکہ میں ہل جل بھی نہیں سکتی تو کیا آپ یہ چھوٹا سا کام بھی نہیں کرسکتے؟‘ تب میں اپنے بچے کو اُٹھا کر دوسرے وارڈ میں گیا، وہاں اپنے گندے بچے کو ’’چینج‘‘ کرکے دوسرے صاف بچے کو اُٹھا کر تمہارے ساتھ لا کر سلادیا تھا۔‘‘

    یہ لطیفہ جب فیس بک وال پر دیکھا تو وہاں اس کا اخلاقی سبق بھی لکھا تھا کہ ’’کسی کو کام بتاتے وقت اگر اپنی مادری زبان کے بجائے دوسری زبان کا استعمال کریں گے تو ایسا ہی ’’چینج‘‘ آئے گا۔

    مجھے یہاں بہت سے ایسے گھرانوں اور والدین کا خیال آیا جنہیں خود تو انگلش زبان پر عبور حاصل نہیں، مگر وہ اپنے بچوں کو اردو اور انگریزی سکھانے کے چکر میں اپنی زبان بھی خراب کرلیتے ہیں۔ گلابی اردو اور گلابی انگریزی، بلکہ زخمی انگریزی بول بول کر خود کو مصیبت میں ڈالے رکھتے ہیں۔ سب سے زیادہ ظلم بچوں کے ساتھ ایسے لوگ کرتے ہیں۔ ایک تو ہمارا ںظام تعلیم ایسا ہے کہ پنجاب میں نرسری کا بچہ ہمہ وقت یہی سوچتا رہتا ہے کہ والد ’’بوہا‘‘ کہتے ہیں، والدہ ’’دروازہ‘‘ کہتی ہیں اور اسکول والے ’’ڈور‘‘ پڑھاتے ہیں۔ اسی الجھن میں بچے کی توجہ ایک نہیں، دو نہیں بلکہ تین زبانوں کی عجیب کھچڑی پر رہتی ہے۔ اور جن چیزوں پر اسے توجہ دینے کی ضرورت ہے، وہ وہیں کی وہیں پڑی رہتی ہیں۔ نتیجتاً پڑھتے پڑھتے فارغ التحصیل ہونے کے بعد جب ہاتھ میں ڈگری ہوتی ہے تو عملی زندگی میں کامیابی کے بجائے ناکامی زیادہ ہوتی ہے۔ ڈگریوں کے نام پر کاغذات کی ایک فائل ہاتھوں میں ہوتی ہے مگر جہاں بھی نوکری کےلیے جاؤ، زیادہ تر کو مایوسی کا سامنا ہوتا ہے۔

    کچھ عرصہ قبل پنجاب انسٹی ٹیوٹ لینگویج آرٹ اینڈ کلچر لاہور میں تقریب کے دوران ترکی کے پروفیسر حلیل طوکار صاحب کی گفتگو سنی۔ کہنے لگے کہ وہ اردو زبان سے بہت پیار کرتے ہیں۔ انہوں نے اس پر کام بھی بہت کیا ہے مگر انہیں حیرت تب ہوتی ہے جب وہ پاکستان آتے ہیں، اردو میں بات کرتے ہیں تو اگلا بندہ انگریزی میں جواب دیتا ہے۔ حالانکہ ایسا ترکی میں نہیں۔ اُن کے مطابق ترکی میں اگر کوئی ترک باشندہ آپس میں غیرزبان میں بات کرے تو اسے عجیب نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔ اب اس کا مطلب یہ نہیں کہ لوگوں کو دوسری زبانیں آتی نہیں، یا وہ کم علم ہیں۔ بات صرف اپنی مادری زبان کو ترجیح دینے کی ہے۔

    ہم نے کئی بار پنجابی اور اردو زبان کے فروغ کےلیے تقریبات ہوتی دیکھیں۔ ریلیاں نکالی جاتی ہیں، کالم لکھے جاتے ہیں۔ مگر ایسے میں حیرت تب ہوتی ہے جب زبان کی ترویج کے نعرے لگانے والے خود ہی اپنے مطالبے پر عمل نہیں کرتے۔ ایک مرتبہ لاہور میں پنجابی زبان کے فروغ کےلیے ہونے والی تقریب کے بعد ہال کے باہر کھڑے پنجابی بھائیوںکو دیکھا کہ کچھ اردو میں بات کررہے ہیں اور کچھ انگریزی میں۔ جب کہ یہیں کھڑے ایک پنجابی بھائی کو یہ فخر سے کہتے سنا گیا کہ وہ تو کافی کوشش کرتے ہیں کہ گھرمیں پنجابی زبان بولیں کہ ماں بولی زندہ رہے، مگر بیگم اردو بولتی ہیں، چلو قومی زبان ہے، پھر مجھے بھی بولنا پڑتی ہے، بچے بہرحال انگریزی بہت اچھی بولتے ہیں۔

    پنجابی، سندھی، بلوچی اور پشتو سمیت مختلف علاقوں میں بولی جانے والی زبانیں ان علاقوں کی پہچان ہیں۔ انہیں زندہ رکھنے کےلیے یہاں کے رہائشیوں نے سب سے پہلی ذمے داری ادا کرنی ہے۔ اگر وہی اپنی مادری زبانوں کو بھلا دیں گے اور ان زبانوں کو اپنی اگلی نسلوں تک نہیں پہنچائیں گے تو یہ خدشہ ہے کہ ہم رفتہ رفتہ کہیں قومی زبان اردو سے بھی ہاتھ نہ دھو بیٹھیں۔

    ضرورت اس بات کی ہے کہ بنیادی تعلیم مادری زبانوں میں دی جائے۔ پنجابی، سندھی، بلوچی اور پشتون بچوں کو قومی زبان بھی سکھائی جائے اور انگریزی زبان کو صرف بطور مضمون پڑھایا جائے، ورنہ ہمارے بچے انگریزی سیکھنے کےلیے رٹا ہی لگاتے رہیں گے اور انگریزی زبان قابلیت کی طرف بڑھنے والے ان بچوں کے قدموں کی زنجیر بنی رہے گی۔

    نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
     

اس صفحے کی تشہیر