1. اردو محفل سالگرہ پانزدہم

    اردو محفل کی پندرہویں سالگرہ کے موقع پر تمام اردو طبقہ و محفلین کو دلی مبارکباد!

    اعلان ختم کریں

اردو زبان کے نفاذ اور ترویج سے متعلق خبریں اور کالمز وغیرہ

جاسمن نے 'اردو نامہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 21, 2019

  1. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    12,363
    جھنڈا:
    Pakistan
    [​IMG]
     
    • زبردست زبردست × 3
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    12,363
    جھنڈا:
    Pakistan
    [​IMG]
     
    • زبردست زبردست × 3
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. یاقوت

    یاقوت محفلین

    مراسلے:
    526
    موڈ:
    Breezy
    :rose::rose::rose::rose::rose::rose::rose::rose::rose::rose::rose::rose::rose::rose::rose::rose::rose::rose::rose::rose::rose::rose:
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. ناصر محمود 313

    ناصر محمود 313 محفلین

    مراسلے:
    212
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    اس رپورٹ میں تعلیم کے عمومی مسائل نہیں بلکہ لڑکیوں کی تعلیم کے مسائل بیان کیے گئے ہیں۔ ان کا اردو یا انگریزی سے کیا تعلق ہے؟
     
    • متفق متفق × 1
  5. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    21,551
    اردو کو ذریعۂ تعلیم بنانے کا فیصلہ: غور طلب نکات
    16/09/2019 ڈاکٹر شاہد صدیقی

    حال ہی میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ محترم عثمان بزدار صاحب نے ایک ٹویٹ کے ذریعے اعلان کیا کہ چونکہ پرائمری سطح پر ذریعۂ تعلیم انگریزی ہونے کی وجہ سے اساتذہ اور بچوں کا سارا وقت مضمون کو سمجھنے کے بجائے ترجمہ کرنے میں صرف ہو جاتا ہے اور بچے کچھ نیا نہیں سیکھ پاتے لہٰذا اگلے تعلیمی سال یعنی مارچ 2020 سے پرائمری سطح پر ذریعۂ تعلیم اردو کر دیا جائے گا۔

    یہ اعلان اتنا ہی اچانک تھا جتنا ضیاء الحق کا ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے یہ اعلان کہ سارے انگلش میڈیم سکولوں میں آئندہ سے اردو ذریعۂ تعلیم ہو گا۔ یہ ایک غیر حقیقی فیصلہ تھا جسے کچھ ماہ بعد ہی واپس لینا پڑا تھا۔ ایسا ہی ایک فیصلہ بھٹو صاحب نے کیا جب ایک روز تمام پرائیویٹ اداروں کو سرکاری تحویل میں لے لیا گیا۔ اس کے مضمرات ابھی تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔ اسی نوع کا ایک فیصلہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں کیا گیا جب انگریزی کو پہلی جماعت سے لازمی مضمون قرار دیا گیا۔

    یہ فیصلہ اس بات سے قطع نظر کیا گیا تھا کہ آیا طلب کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں انگریزی پڑھانے والے اساتذہ دستیاب ہوں گے یا نہیں۔ اٹھارہویں ترمیم تعلیم کے تالاب میں ایک اور پتھر تھا جس کے نتیجے میں نئے چیلنجز سامنے آئے۔ اس ترمیم کے ذریعے تعلیم کو ایک صوبائی معاملہ قرار دیا گیا۔ شہباز شریف کے دور میں سرکاری سکولوں میں پرائمری سطح پر انگریزی کو ذریعۂ تعلیم بنانے کے اس فیصلے میں غیر ملکی کنسلٹنٹس کی سفارشات شامل تھیں۔

    محترم عثمان بزدار کا یہ فیصلہ بھی دور رس نتائج کا حامل ہو گا اس لیے اس کے نفاذ سے پہلے چند نکات پر غور ضروری ہے۔ سب سے پہلے تو یہ جاننا اہم ہے کہ زبان کی اہمیت کیا ہے؟ زبان ایک طرف باہمی بات چیت کا ذریعہ ہے تو دوسری طرف انفرادی اور اجتماعی شناخت کی علامت بھی ہے۔ معروف فرانسیسی ماہرِ عمرانیات Bourdeau کا کہنا ہے کہ معاشرے میں طاقت کا تعین کچھ سرمایے (Capitals) کرتے ہیں۔ ان میں معاشی سرمایہ (Economic Capital) سماجی سرمایہ (Social Capital) ثقافتی سرمایہ (Cultural Capital) شامل ہیں۔

    کلچرل کیپیٹل کا ایک حصہ لسانی سرمایہ (Linguistic Capital) ہے۔ سرمایوں کی اس بحث سے واضح ہے کہ کسی بھی معاشرے میں زبان سے آگاہی وہ لسانی سرمایہ ہے جس سے طاقت کا تعین ہوتا ہے۔ یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ کوئی زبان اپنی اصل حالت میں نہ تو اچھی ہوتی ہے نہ بری اور نہ ہی طاقت ور یا کمزور۔ اس زبان کے بولنے والوں کا معاشرتی مرتبہ زبان کو کمزور یا طاقت ور بناتا ہے۔

    گلوبلائزیشن کے اس دور میں انگریزی ایک اہم زبان کے طور پر ابھری ہے جس کی بڑی وجہ اچھی ملازمتوں کے حصول میں انگریزی سے آگاہی کی شرط ہے۔ اسی طرح پاکستان میں بھی طاقت کے اہم مراکز مثلاً آرمڈ فورسز، جیوڈیشنری اور مقابلے کے امتحان میں انگریزی کا علم بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ ملازمتوں کے علاوہ اعلیٰ سطح کے تعلیم میں انگریزی کا کلیدی کردار ہے کیونکہ کتابوں اور جرائد کی بڑی تعداد انگریزی میں ہے۔

    زبان کی ایک تیسری حیثیت سماجی حیثیت سے جڑی ہوئی ہے۔ پاکستان میں انگریزی چونکہ با ثروت اور با اثر افراد کی زبان ہے لہٰذا اس کی سماجی حیثیت اردو سے برتر تسلیم کی جاتی ہے۔ یوں انگریزی زبان زور آور اور کمزور کے درمیان ایک خط تقسیم بن گئی ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آج کل ایک اچھے سکول کا معیار وہاں انگریزی زبان کی تدریس اور اس کا انگلش میڈیم ہونا ہے۔ ماضی قریب کی صورتحال ہمیں بتاتی ہے کہ پرائیویٹ سیکٹر نے بڑی تیزی سے تعلیمی میدان میں پیش رفت کی ’جس کے نتیجے میں سرکاری سکول لوگوں کی پہلی ترجیح نہیں رہے۔

    اس کا مشاہدہ ہم اپنے معاشرے میں آسانی سے کر سکتے ہیں جہاں کم آمدنی والے افراد بھی اپنے بچوں کو انگلش میڈیم سکولوں میں بھیجنا چاہتے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ والدین کا بچوں کو تعلیم دلوانا ان کی بہترین سرمایہ کاری (Investment) ہے۔ اس سرمایہ کاری میں انگریزی ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ چاہے وہ ملازمت کا مرحلہ ہو، اعلیٰ تعلیم کا یا معاشرے میں سماجی مرتبے کا‘ انگریزی سے آشنائی ضروری ہے۔ یوں انگریزی وہ طبقاتی لکیر ہے جو معاشرے کو دو حصوں میں تقسیم کرتی ہے۔ ایک حصے میں با ثروت اور با اثر لوگ آتے ہیں اور دوسرے حصے میں کم زور۔

    اردو ذریعۂ تعلیم کے حق میں سب سے بڑی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ جاپان اور چین میں بھی تو ترقی قومی زبان کے استعمال سے ہوتی ہے۔ اس بحث میں ایک اہم بات فراموش کر دی جاتی ہے کہ جاپان اور چین نے اپنی اپنی قومی زبان کو با ثروت بنانے کے لئے ترجمے کا مضبوط نظام رائج کیا گیا ہے مثلاً جاپان میں مختلف زبانوں میں چھپنے والی اہم کتابوں کا ترجمہ مختصر ترین وقت میں جاپانی زبان میں ہو جاتا ہے۔ اس میں فکشن اور نان فکشن کتابیں اور مضامین شامل ہیں۔

    یوں ان ممالک کی اپنی زبانوں میں لوگوں کو وہ معلومات میسر ہوتی ہیں جو دوسری زبانوں میں موجود ہوتی ہیں۔ یوں صرف جاپانی بولنے والے اور پڑھنے والے بھی دوسری زبانوں کے علم سے محروم نہیں ہوتے۔ کیا ہم نے سرکاری سطح پر اس کی کوشش کی۔ اگر پاکستان کی تعلیمی تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو بلند بانگ دعووں کی بہتات نظر آتی ہے۔ اردو کے حوالے سے جذباتی نعرے لگائے گئے لیکن عملی طور پر کارکردگی غیر اطمینان بخش رہی ’مثلاً 1948 کی قومی کانفرنس اور پھر 1959 کی شریف کمیشن رپورٹ میں اردو کے حوالے سے سفارشات پیش کی گئیں لیکن ان پر عمل نہ ہو سکا۔

    شریف کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا کہ پندرہ سال کے اندر اردو کو اس کا اصل مقام دلایا جائے گا۔ پھر 1973 کے آئین میں 10 سال کی مدت دی گئی‘ لیکن یہ سب زبانی وعدے تھے۔ ان کو پورا کرنے کے لیے کوئی مربوط طریقۂ کار وضع نہ ہو سکا۔ پاکستان کے تعلیمی منظر نامے میں طبقاتی فرق سب سے بڑا چیلنج ہے۔ سرکاری سکول اور انگلش میڈیم سکول اس طبقاتی فرق کی علامتیں ہیں۔ سرکاری سکولوں میں انگلش میڈیم کے فیصلے کے پیچھے شاید اس فرق کو کم کرنے کی سوچ کارفرما تھی؛ اگرچہ اس میں اساتذہ کی عدم دستیابی سب سے بڑا مسئلہ تھا ’لیکن کم از کم کتابیں انگریزی میں تھیں۔

    اہم بات یہ ہے کہ محترم عثمان بزدار صاحب کے اس فیصلے کا اطلاق صرف سرکاری سکولوں پر ہو گا اور پرائیویٹ سکول انگریزی ذریعۂ تعلیم کو جاری رکھ سکیں گے۔ یوں سرکاری اور پرائیویٹ سکولوں کے درمیان طبقاتی فرق اور زیادہ ہو جائے گا‘ جس کا نقصان سرکاری سکول کے بچوں کو ہو گا۔ اس اعلان میں ایک سروے کا ذکر بھی کیا گیا ہے جس میں 85 فیصد طلبائی، اساتذہ اور والدین نے اردو میڈیم کے حق میں فیصلہ دیا۔ کاش ایک سروے یہ بھی ہوتا کہ پالیسی ساز عہدے داروں کے اپنے بچے کن سکولوں میں پڑھ رہے ہیں۔ کیا ان سکولوں میں ذریعۂ تعلیم اردو ہے۔

    اس فیصلے کے عملی نفاذ سے پہلے چند نکات غور طلب ہیں :

    ۔ 1 اس فیصلے تک پہنچنے کے لیے مناسب ہوم ورک کیا گیا یا نہیں؟

    ۔ 2 کیا یہ فیصلہ ’جس میں سرکاری سکولوں کے بچوں کے لئے اردو اور پرائیویٹ سکول کے بچوں کے لئے انگریزی ذریعۂ تعلیم ہے‘ معاشرے میں طبقاتی فرق کو اور زیادہ گہرا نہیں کرے گا؟

    ۔ 3 کیا پرائمری سکول تک اردو میں کتابیں پڑھنے والے بچے مڈل کلاس میں اچانک انگریزی کتابوں کو پڑھنے کے لئے تیار ہوں گے؟

    ۔ 4 کیا اردو زبان میں ترجمے کی روایت چینی یا جاپانی روایات کا مقابلہ کر سکتی ہے؟

    ۔ 5 کیا ملٹی نیشنل ملازمتوں، اور اعلیٰ سطح پر مقابلے کے امتحان کی تیاری میں انگریزی زبان کی مضبوط بنیاد ایک فیصلہ کن فیکٹر نہیں ہو گا؟

    ۔ 6 کیا اعلیٰ تعلیم کے لئے انگریزی میڈیم کی بنیاد والے بچوں کو اردو میڈیم کے بچوں پر فوقیت نہیں ہو گی؟

    ۔ 7 کیا ماضی میں عجلت میںکیے گئے فیصلے بعد میں واپس نہیں لینے پڑے؟

    ۔ 8 کیا حکام بالا اس پالیسی کے نفاذ کے بعد اپنے بچوں کو اردو میڈیم سکولوں میں بھیجیں گے؟

    یہ وہ نکات ہیں جن پر غور تعلیم میں تبدیلی کے حوالے سے ایک صائب فیصلے پر پہنچنے میں مدد دے گی۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 2
  6. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    21,551
    انگریزی زبان لازم یا پاؤں کی زنجیر؟
    مناظر علی جمعہ۔ء 20 ستمبر 2019
    [​IMG]
    انگریزی زبان کو صرف بطور مضمون پڑھایا جائے بنیادی تعلیم مادری زبان میں دی جائے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)


    بچہ پیدا ہونے کے پانچ سال بعد ایک دن اچانک ماں کو احساس ہوا کہ ’’یہ بچہ ہمارا نہیں لگتا، کیوں نہ اس کا ڈی این اے ٹیسٹ کرایا جائے‘‘۔ شام کو اُس کا شوہر تھکا ہارا ڈیوٹی سے گھر واپس آیا تو اس نے اپنے خدشے کا اظہار اُس سے بھی کیا ’’دیکھو! اِس بچے کی عادتیں بہت عجیب ہیں۔ اِس کا دیکھنا، چلنا، کھانا، پینا اور سونا وغیرہ ہم سے بہت مختلف ہے، مجھے نہیں لگتا کہ یہ ہمارا بچہ ہے، چلو اِس کا ڈی این اے ٹیسٹ کراتے ہیں‘‘۔

    شوہر: ’’بیگم! تمہیں یہ بات آج اچانک 5 سال بعد کیوں یاد آگئی؟، یہ تو تم مجھ سے 5 سال پہلے بھی پوچھ سکتی تھیں‘‘۔

    بیگم (حیران ہوتے ہوئے): ’’کیا مطلب تم کہنا کیا چاہتے ہو؟‘‘

    شوہر: ’’بیگم یاد کرو اسپتال کی وہ پہلی رات جب ہمارا بچہ پیدا ہوا تھا اور کچھ ہی دیر بعد اس نے پیمپر خراب کردیا تھا، تو تم ہی نے مجھے کہا تھا، ’اے جی سنیے! پلیز بے بی کو چینج تو کردیں‘، تب میں نے بڑی حیرانگی سے تمہاری طرف دیکھا تھا تو تم نے ہی کہا تھا ’ہمارے پیار کی خاطر۔ میں نے 9 مہینے اِسے اپنی کوکھ میں رکھا ہے، اور اب جبکہ میں ہل جل بھی نہیں سکتی تو کیا آپ یہ چھوٹا سا کام بھی نہیں کرسکتے؟‘ تب میں اپنے بچے کو اُٹھا کر دوسرے وارڈ میں گیا، وہاں اپنے گندے بچے کو ’’چینج‘‘ کرکے دوسرے صاف بچے کو اُٹھا کر تمہارے ساتھ لا کر سلادیا تھا۔‘‘

    یہ لطیفہ جب فیس بک وال پر دیکھا تو وہاں اس کا اخلاقی سبق بھی لکھا تھا کہ ’’کسی کو کام بتاتے وقت اگر اپنی مادری زبان کے بجائے دوسری زبان کا استعمال کریں گے تو ایسا ہی ’’چینج‘‘ آئے گا۔

    مجھے یہاں بہت سے ایسے گھرانوں اور والدین کا خیال آیا جنہیں خود تو انگلش زبان پر عبور حاصل نہیں، مگر وہ اپنے بچوں کو اردو اور انگریزی سکھانے کے چکر میں اپنی زبان بھی خراب کرلیتے ہیں۔ گلابی اردو اور گلابی انگریزی، بلکہ زخمی انگریزی بول بول کر خود کو مصیبت میں ڈالے رکھتے ہیں۔ سب سے زیادہ ظلم بچوں کے ساتھ ایسے لوگ کرتے ہیں۔ ایک تو ہمارا ںظام تعلیم ایسا ہے کہ پنجاب میں نرسری کا بچہ ہمہ وقت یہی سوچتا رہتا ہے کہ والد ’’بوہا‘‘ کہتے ہیں، والدہ ’’دروازہ‘‘ کہتی ہیں اور اسکول والے ’’ڈور‘‘ پڑھاتے ہیں۔ اسی الجھن میں بچے کی توجہ ایک نہیں، دو نہیں بلکہ تین زبانوں کی عجیب کھچڑی پر رہتی ہے۔ اور جن چیزوں پر اسے توجہ دینے کی ضرورت ہے، وہ وہیں کی وہیں پڑی رہتی ہیں۔ نتیجتاً پڑھتے پڑھتے فارغ التحصیل ہونے کے بعد جب ہاتھ میں ڈگری ہوتی ہے تو عملی زندگی میں کامیابی کے بجائے ناکامی زیادہ ہوتی ہے۔ ڈگریوں کے نام پر کاغذات کی ایک فائل ہاتھوں میں ہوتی ہے مگر جہاں بھی نوکری کےلیے جاؤ، زیادہ تر کو مایوسی کا سامنا ہوتا ہے۔

    کچھ عرصہ قبل پنجاب انسٹی ٹیوٹ لینگویج آرٹ اینڈ کلچر لاہور میں تقریب کے دوران ترکی کے پروفیسر حلیل طوکار صاحب کی گفتگو سنی۔ کہنے لگے کہ وہ اردو زبان سے بہت پیار کرتے ہیں۔ انہوں نے اس پر کام بھی بہت کیا ہے مگر انہیں حیرت تب ہوتی ہے جب وہ پاکستان آتے ہیں، اردو میں بات کرتے ہیں تو اگلا بندہ انگریزی میں جواب دیتا ہے۔ حالانکہ ایسا ترکی میں نہیں۔ اُن کے مطابق ترکی میں اگر کوئی ترک باشندہ آپس میں غیرزبان میں بات کرے تو اسے عجیب نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔ اب اس کا مطلب یہ نہیں کہ لوگوں کو دوسری زبانیں آتی نہیں، یا وہ کم علم ہیں۔ بات صرف اپنی مادری زبان کو ترجیح دینے کی ہے۔

    ہم نے کئی بار پنجابی اور اردو زبان کے فروغ کےلیے تقریبات ہوتی دیکھیں۔ ریلیاں نکالی جاتی ہیں، کالم لکھے جاتے ہیں۔ مگر ایسے میں حیرت تب ہوتی ہے جب زبان کی ترویج کے نعرے لگانے والے خود ہی اپنے مطالبے پر عمل نہیں کرتے۔ ایک مرتبہ لاہور میں پنجابی زبان کے فروغ کےلیے ہونے والی تقریب کے بعد ہال کے باہر کھڑے پنجابی بھائیوںکو دیکھا کہ کچھ اردو میں بات کررہے ہیں اور کچھ انگریزی میں۔ جب کہ یہیں کھڑے ایک پنجابی بھائی کو یہ فخر سے کہتے سنا گیا کہ وہ تو کافی کوشش کرتے ہیں کہ گھرمیں پنجابی زبان بولیں کہ ماں بولی زندہ رہے، مگر بیگم اردو بولتی ہیں، چلو قومی زبان ہے، پھر مجھے بھی بولنا پڑتی ہے، بچے بہرحال انگریزی بہت اچھی بولتے ہیں۔

    پنجابی، سندھی، بلوچی اور پشتو سمیت مختلف علاقوں میں بولی جانے والی زبانیں ان علاقوں کی پہچان ہیں۔ انہیں زندہ رکھنے کےلیے یہاں کے رہائشیوں نے سب سے پہلی ذمے داری ادا کرنی ہے۔ اگر وہی اپنی مادری زبانوں کو بھلا دیں گے اور ان زبانوں کو اپنی اگلی نسلوں تک نہیں پہنچائیں گے تو یہ خدشہ ہے کہ ہم رفتہ رفتہ کہیں قومی زبان اردو سے بھی ہاتھ نہ دھو بیٹھیں۔

    ضرورت اس بات کی ہے کہ بنیادی تعلیم مادری زبانوں میں دی جائے۔ پنجابی، سندھی، بلوچی اور پشتون بچوں کو قومی زبان بھی سکھائی جائے اور انگریزی زبان کو صرف بطور مضمون پڑھایا جائے، ورنہ ہمارے بچے انگریزی سیکھنے کےلیے رٹا ہی لگاتے رہیں گے اور انگریزی زبان قابلیت کی طرف بڑھنے والے ان بچوں کے قدموں کی زنجیر بنی رہے گی۔

    نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  7. عدنان عمر

    عدنان عمر محفلین

    مراسلے:
    1,303
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    ‏ہم اردو ادب کے اس دور سے گزر رہے ہیں،
    جہاں
    اردو کے کسی لفظ کا مطلب سمجھانے کے لیئے
    اس کی انگریزی بتانا پڑتی ہے۔
    (منقول)
     
    • غمناک غمناک × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  8. عدنان عمر

    عدنان عمر محفلین

    مراسلے:
    1,303
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
  9. سیما علی

    سیما علی محفلین

    مراسلے:
    687
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    :nailbiting::nailbiting::nailbiting:اردو ہے جس کا نام
    آمنہ یونس۔ ڈان
    فروری 2015 06
    زبانِ اردو کو پاکستان کی قومی زبان کا درجہ حاصل ہے، لیکن عجیب بات ہے کہ باقی دنیا کے برعکس ہماری اپنی ہی قوم اسے قبول کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔ پاکستان کی تخلیق سے لے کر آج تک اردو زبان ترقی پانے کے بجائے رو بہ زوال ہے۔ ہماری اپنی ہی قوم اردو کو وہ عزت اور وقار دینے کو تیار نہیں جس کی بحیثیت قومی زبان یہ حقدار ہے۔

    پاکستان نامی جس ملک کی یہ قومی زبان ہے، وہاں حالات یہ ہیں کہ وہ انسان زیادہ قابل اور پڑھا لکھا سمجھا جاتا ہے جسے فر فر انگریزی بولنے اور لکھنے پر عبور حاصل ہے، لیکن ایک اچھی اردو لکھنے اور بولنے والے کو قابل نہیں سمجھا جاتا۔ کسی بھی جگہ آپ کی کامیابی کی ضمانت یہ ہے کہ آپ انگریزی زبان پر کتنا عبور رکھتے ہیں۔

    سرکاری ہو یا نجی، ہر شعبے کی ہر سطح پر انگریزی کے بغیر کام نہیں چلتا۔ تعلیمی اداروں میں بھی انگریزی میڈیم کا تڑکا کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔ مانا کہ انگریزی زبان کی اہمیت بین الاقوامی ہے، لیکن یہ کہاں کا انصاف ہے کہ اپنی قومی زبان کے ساتھ سوتیلوں جیسا سلوک کیا جائے؟ جب کوئی قوم خود ہی اپنی زبان کو وقعت نہیں دے گی تو اقوامِ عالم میں اس کی عزت و تکریم کیونکر ہو گی؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ :nailbiting:
    میرا سوال صرف اتنا ہے کہ ایک ایسی چیز جس کو آپ نے اپنی قومی شناخت کا درجہ دے رکھا ہے، کہ جناب اردو ہماری قومی زبان ہے، تو پھر کیوں اس کو اپنانے میں اس قدر ہچکچاہٹ کا شکار ہیں؟ دنیا کی ہر قوم اپنی شناخت برقرار رکھنے کے لیے ہزار جتن کرتی ہے۔ اپنی زبان کے فروغ اور ترویج کے لیے کام کرتی ہے۔ اپنی منفرد پہچان پر فخر کرتی ہے۔ لیکن ہمارے ہاں گنگا الٹی بہتی ہے۔ ہم ہر اس چیز کا مذاق اڑانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتے جس کے ساتھ ”قومی“ کا سابقہ لگ جائے۔ ہمارا تو وہ حال ہے کہ ”کوا چلا ہنس کی چال اور اپنی چال بھی بھول گیا۔“
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  10. سیما علی

    سیما علی محفلین

    مراسلے:
    687
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    ہماری ادبی شان : اردو زبان
    وہ کرے بات تو ہر لفظ سے خوشبو آئے
    ایسی بولی وہی بولے جسے اردو آئے
    اردو ایک ترقی یافتہ بہترین زبان ہے۔ اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ کسی بھی زبان کا فروغ دراصل تہذیب و تمدن تاریخ و روایات کا فروغ ہے۔کسی کے دل و دماغ تک رسائی حاصل کرنے کے لئے زبان ایک ذریعہ اور وسیلہ ہے ۔کسی کے دل تک رسائی کیلئے مہذب انداز ،پاکیزہ گفتگو،شیریں اور معنی خیز الفاظ ،لہجے میں نرمی اور شائستگی کے ساتھ حسن اخلاق اور دل کی صفائی کی ضرورت ہوتی ہے ۔ان اوصاف و آداب کے مجموعہ کو اردو زبان کہتے ہیں۔ اردو کی شیریں بیانی اور دل فریبی کے سبھی قائل ہیں۔اس زبان کے حسن کے لئے یہ کافی ہے کہ اس زبان نے انسانیت اور تہذیب مخالف الفاظ کو اپنے مجموعے میں جگہ نہیں دی یعنی اس میں گالی گلوج کی گنجائش نہیں ہے۔یہ اس زبان کی انفرادی حیثیت بھی ہے۔ یہ واحد زبان ہے جس نے گالی دینا نہیں سکھایا۔دوسری بڑی بات اس زبان کی یہ ہے کہ اس کی تاثیر کا حلقہ مذہب وملک کی قید سے آزاد رہا ہے۔ایک صوفی درویش کے گھر کی پروردہ اور تربیت یافتہ زبان انسان اور انسانیت سے محبت کرنے والے ہر شخص کی آواز بن گئی۔مذہب و برادری کی پرواہ کئے بغیر ہر ایک نے اس زبان کو گلے لگایا۔ وہ اردو جو آزادی کی خواہش کے اظہار کا ذریعہ بنی آج ایک مذہب خاص کے لوگوں کی زبان بتائی جا رہی ہے ۔اسی کی زبان میں کئی بار مشترکہ تباہی کے بعد غم و غصے کا اظہار بھی کیا گیاتھا۔آج جس زبان کو اردو کہتے ہیں وہ ترقی کے کئی مراحل سے ہوکر گزری ہے۔بارہویں صدی کے آغاز میں وسطی ایشیا سے آنے والے لوگ ہندوستان میں بسنے لگے تھے جو فوجی آئے تھے،وہ ساتھ لاتے تھے اپنی کھانے پینے کی عادتیں اورسنگیت۔وہ یہاں کے لوگوں سے اپنے علاقے کی زبان میں بات کرتے تھے جو یہاں کی پنجابی،ہریانوی اور کھڑی بولی سے مل جاتی تھی اور بن جاتی تھی فوجی لشکری زبان جس میںپشتو، فارسی،کھڑی بولی اور الفاظ جملوں سے ملتے جاتے تھے ۔تیرہویں صدی میں سندھی،پنجابی، فارسی، ترکی اور کھڑی بولی کے مرکب سے لشکری کی اگلی نسل وجود میں آئی اور اسے سرائے کی زبان کہا گیا۔اسی دور میں یہاں صوفی خیالات کی لہر بھی پھیل رہی تھی۔صوفیوں کے دروازوں پر بادشاہ آتے اور امراء آتے،سپہ سالار آتے اور غریب آتے اور سب اپنی اپنی زبان میں کچھ کہتے۔اس بات چیت سے جو زبان پیدا ہورہی تھی وہی جمہوری زبان آنے والی صدیوں میں اس ملک کی سب سے اہم زبان بننے والی تھی ۔اس طرح کی ثقافت کا سب سے بڑا مرکز مہرولی میں قطب صاحب کی خانقاہ تھی۔صوفیوں کی خانقاہوں میں جو موسیقی پیدا ہوئی وہ آج آٹھ سو سال(۸۰۰) بعد بھی نہ صرف زندہ ہے بلکہ عام لوگوں کی زندگی کا حصہ ہے۔
    اجمیر شریف میں چشتیہ سلسلے کے سب سے بڑے بزرگ خواجہ معین الدین چشتی اجمیری(غریب نواز) کے دربار میں امیر،غریب ،ہندو اور مسلمان سب آتے تھے اور آشرواد کی جو زبان لے کر جاتے تھے،آنے والے وقت میں اسی کا نام اردو ہونے والا تھا۔صوفی سنتوں کی خانقاہوں پر ایک نئی زبان پروان چڑھ رہی تھی۔مقامی بولیوں میں فارسی اور عربی کے لفظ مل ر ہے تھے اور ہندوستان کو ایک لڑی میں پرونے والی زبان کی بنیاد پڑ رہی تھی۔اس زبان کو اب ہندوی کہا جانے لگا تھا ۔بابا فرید گنج شکر نے اسی زبان میں اپنی بات کہی ۔بابا فرید کے کلام کو گرو گرنتھ صاحب میں بھی شامل کیا گیا ۔دہلی اور پنجاب میں تیار ہو رہی اس زبان کو جنوب میں پہنچانے کا کام خواجہ گیسو دراز نے کیا۔جب وہ گلبرگہ گئے اور وہیں ان کا آستانہ بنا اس دوران دہلی میں اردو کے سب سے بڑے شاعر حضرت امیر خسرو اپنے پیر حضرت نظام الدین اولیاء کے آستانے میں بیٹھ کر ہندوی زبان سنوار رہے تھے۔
    امیر خسرو نے لاجواب شاعری کی جو ابھی تک بہترین ادب کا حصہ ہے اور آنے والی نسلیں ان پر فخر کریںگی۔حضرت امیر خسرو سے محبوب الٰہی ،حضرت نظام الدین اولیاء نے ہی فرمایا تھا کہ ہندوی میں شاعری کرو۔اس کے بعد امیر خسرو نے ہندوی میں وہ سب لکھا جو زندگی کو چھوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ ہندوستان اس لئے مجھے عزیز از جان ہے کہ میں نے اس سر زمین پر آنکھ کھولی اور یہ ملک میرے لئے ماں کی گود کی طرح ہے‘ ۔ کلاسیکل موسیقی میں امیر خسرو کا کوئی ثانی نہیں ہے ۔انھوں نے متعدد راگ راگنیوں کی ایجاد کی ۔خسرو وہ پہلے شخص تھے جنھوں نے اپنے دور کی مروجہ عوامی زبان کو ذریعہ اظہار بنا کر ہندی اور اردو کے مستقبل کی راہ ہموار کی ۔انھیں کھڑی بولی یعنی ہندی اور اردو دونوں زبانوں کا موجد قرار دیا جاتا ہے۔حضرت نظام الدین اولیاء کی دعاؤں سے دہلی میں ہندوی عام زبان بنتی جا رہی تھی۔ اردو کی ترقی میں دہلی کے سلطانون کے سفر فتح کا بھی اہم رول ہے ۔ ۱۲۹۷؁ء میں علاؤالدین خلجی نے جب گجرات پر حملہ کیا تو لشکر کے ساتھ وہاں اس کی زبان بھی گئی۔ ۱۳۲۷؁ء میں جب تغلق نے دکن کا سفر کیا تو دہلی کی زبان ،ہندوی ان کے ساتھ گئی ۔اب اس زبان میں مراٹھی ،تلگو اور گجراتی کے لفظ مل چکے تھے ۔دکنی اور گجری کا جنم ہوچکا تھا۔
    اردو زبان میں جذب وانجذاب کا عمل کئی صدیوں سے جاری ہے ۔بر صغیر میں پہلے مقامی بولیوں نے جنم لیا،پھر یہاں عربی زبان کی تاثیر آئی ،پھر اولیائے کرام کی روحانی تاثیر فارسی کو ساتھ لائی ،بعد ازاں مغلیہ دور ترکی بر صغیر میں علمی و ادبی زبان قرار پائی ،ان تمام زبانوں کے الفاظ کے اختلات کا عمل بھی جاری رہا۔حضرت امیر خسرو کے زمانے میں اس کے ریختہ نے بولی کی شکل اختیار کی اور ہندی کہلائی۔شاہجہاں کے دور میں شاہجہان آباد میں عہد شباب کو پہنچی اور اردو کہلائی۔اس کی تعمیر اور تخلیق کاری کا عمل مزید آگے بڑھا اور بڑھتا رہا۔اردو زبان میں انگریزی کی سمائی ہم اسی دور میں سرسید احمد خاں ،مولانا الطاف حسین حالی ،شبلی نعمانی،مولانا محمد حسین آزاد وغیرہ کے ہاں بھر پور طریقے سے دیکھ سکتے ہیں۔اکبر الہ آبادی نے تو انگریزی کے الفاط کو چٹ پٹے انداز میں اپنی شاعری میں خوب برتا اور معنی کی تہہ کو ابھارا ہے۔تقسیم ہند کے بعد ایک بار پھر زبان نے پلٹا کھایا اور اس میں تغیر و تبدل کا عمل شروع ہوا ۔مختلف تہذیبیں ،معاشرتی رویوں کے ساتھ ایک دوسرے کے سامنے آئیں۔تہزیبوں کے ملاپ سے لسانی امتزاج کے نئے پہلو ابھرے،جنھوں نے اردو میں نئے لہجوں کو جنم دیا ۔نئے روز مرہ ،نئے محاورے پیدا کئے اور زبان و بیان نئی تراکیب سامنے آئیں۔
    شاہجہاں کے دور میں مغل سلطنت کی راجدھانی دہلی آگئی۔اس دور میں ولی دکنی کی شاعری دہلی پہنچی اور دہلی کے فارسی دانوں کو پتہ چلا کہ ریختہ میں بھی بہترین شاعری ہو سکتی تھی اور اسی سوچ کی وجہ سے ایک جمہوری زبان کے طور پر اپنی شناخت بنا سکی۔دہلی میں مغل سلطنت کے کمزور ہونے کے بعد اودھ نے دہلی سے اپنا ناطہ توڑ لیالیکن زبان کی ترقی مسلسل ہوتی رہی ۔در اصل ۱۸؍ ویں صدی میر،سودا اور درد کے نام سے یاد کی جائے گی۔میر پہلے عوامی شاعر ہیں ۔بچپن غربت میں گزرا اور جب جوان ہوئے تو دہلی پر مصیبت بن کر نادر شاہ ٹوٹ پڑا۔ ان کی شاعری کی جو تلخی ہے وہ اپنے زمانے کے درد کو بیان کرتی ہے ۔بعد میں نظیر کی شاعری میں بھی ظالم حکمرانوں کا ذکر میر تقی میر کی یاد دلاتا ہے۔مغلیہ طاقت کے کمزور ہونے کے بعد ریختہ کے دیگر اہم مراکز ہیں۔
    ۱۸۲۲؁ء میں اردو صحافت کی بنیاد پڑی جب منشی سدا سکھ لال نے ’جان جہاں نما‘ اخبار نکالا۔دہلی سے ’دہلی اردو اخبار‘ اور ۱۸۵۶؁ء میںلکھنؤ سے ’طلسم لکھنؤ‘ کی اشاعت کی گئی۔لکھنؤ میں نول کشور پریس کے قیام کی اردو کی ترقی میں اہم حصہ داری ہے۔سرسید احمد خاں ،مولانا شبلی نعمانی،اکبر الہ آبادی،ڈاکٹر علامہ اقبال اردو کی ترقی کے بہت بڑے نام ہیں ۔ اقبال کی شاعری ’لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری‘ اور ’سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘ ہماری تہذیب اورتاریخ کا حصہ ہے اس کے علاوہ مولوی نذیر احمد ،پنڈت رتن ناتھ سرشاراور مرزا ہادی رسوا نے ناول لکھے۔آغاحشر کاشمیری نے ڈرامہ لکھا۔
    کانگریس کے کنونشن کی زبان بھی اردو ہی بن گئی تھی۔۱۹۱۶؁ء میں لکھنؤ کانگریس میں ’ہوم رول ‘ کی جو تجویز پاس ہوئی وہ اردو میں ہے ۔ ۱۹۱۹؁ء میں جب جلیاںوالا باغ میں انگریزوں نے نہتے ہندوستانیوں کو گولیوں سے بھون دیا تو اس غم اور غصے کا اظہار پنڈت برج نارائن چکبست اور اکبر الہ آبادی نے اردو میں ہی کیا تھا۔اس موقع پر لکھا گیا مولانا ابوالکلام آزاد کا مضمون آنے والی کئی نسلیں یاد رکھیں گی۔حسرت موہانی نے ۱۹۲۱؁ء کی تحریک میں انقلاب زندہ آباد کانعرہ دیا تھا جو آج انصاف کی لڑائی کا نشان بن گیا ہے۔
    بہرحال اردو صرف زبان ہی نہیں بلکہ حق کی آواز رہی ہے۔انگریزوں کو اس کی تاثیر کا کافی علم تھا۔دستی صحافت کی ایک ایک تحریر دل اور کلیجے پر ایسے وار کرتی تھی کہ راتوں کی نیدیں حرام ہو جاتی تھیں۔آزاد،موہانی اور مولوی باقرجیسے اردو کے مسیحاؤں نے اس کی تاثیر کو پہچانااور اس کا استعمال کیا۔انھیں اس کی قیمت چکانی پڑی۔لیکن یہ آواز کبھی دبی نہیں،کبھی بکی نہیں۔اردو کو صرف اردو ہی زندہ کرسکتی ہے ۔یعنی تہذیب ،رواداری محبت اور یکجہتی کی فضا ئیںجہاں قائم ہوگی اردو وہاں پائی جائے گی۔یہی وجہ ہے کہ صوفی سنتوں کے اخلاق و کردار کا فطری اور طبعی بیانیہ اسی زبان میں رہا۔اردو ہندوستان اور تصوف ملک کی اس وراثت کے امین ہیں جس کے لئے ملک پر ساری دنیا رشک کرتی ہوئی نظر آرہی ہے۔
    اردو ایک ایسی زبان ہے جسے ہر خاص و عام سمجھتا ہے اور بولتا بھی ہے ۔پچھلے پچاس برسوں میں اردو زبان پر کئی ردے لگ چکے ہیں۔اب اس کی نئی شکل ابھر کرسامنے آتی جا رہی ہے ،اس نئی ابھرتی ہوئی اردو زبان کی رچی ہوئی شکل بعض ناولوں ،ادبی تحریروں اور ٹی وی ڈراموں میں نظر آتی ہے ۔اس زبان میں وہی کھٹ میٹھا پن ہے ،جو پیڑ میں لٹکتی ہوئی امبیا کا ہوتا ہے۔
    تہذیب کا مر کز ہے نشان اردو
    تاثیر میں جادو ہے بیان اردو
    ہے رابطہ ہر ایک زباں سے اس کا
    رکھتی ہے عجب لوچ زبان اردو
    اسسٹنٹ پروفیسر شعبۂ اردو
    فخرالدین علی احمد گورنمنٹ پی۔جی کالج
    محمود آباد،سیتاپور(یو۔پی)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  11. سیما علی

    سیما علی محفلین

    مراسلے:
    687
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    اردو‘‘ ہماری قومی زبان، ہماری پہچان
    Jul 16, 2015
    تہمینہ شیر درانی
    نوائے وقت
    خود دار اور با وقار قومیں ہمیشہ اپنی تہذیب و ثقافت، اپنی زبان کو سینے سے لگا کر رکھتی ہیں۔ اس کی قدر کرتی ہیں اور ان پر فخر کرتی ہیں۔ نہ کہ! ان کی وجہ سے احساس کمتری میں مبتلا ہو کر خود کو کم تر یا بیرونی دنیا سے کٹ کر الگ تھلگ ہونے کا احساس انہیں اپنی ثقافت اور زبان سے بے رخی اختیار کرنے کا درس دیتا ہے۔ دنیا میں جن اقوام نے ترقی کے مدارج تیزی سے طے کئے ہیں۔ سبھی نے ہمیشہ اپنی ثقافت اور قومی زبان کو فوقیت دی ہے۔ اس امر سے انکار بھی ممکن نہیں۔ کہ انگریزی زبان اور بیرونی دنیا سے رابطے کی دیگر اہم زبانوں کی اپنی جگہ اہمیت اور افادیت اپنی جگہ قائم ہے۔ اور قائم رہنی چاہئے تاکہ! بین الاقوامی معاملات اور علوم و فنون پر دسترس حاصل کرنے میں ہم کہیں پیچھے نہ رہ جائیں۔ لیکن! ہماری قومی زبان اردو کی اپنی جگہ اہمیت اور افادیت ہے۔ جیسا کہ! دیگر ترقی یافتہ ممالک اپنی قومی زبان کو ہمیشہ ہر معاملے میں فوقیت دیتے ہیں۔ ویسے بھی آج اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کے اعدادو شمار کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ بولی اور سمجھی جانے والی زبانوں میں چینی اور انگریزی کے بعد تیسری بڑی زبان اردو ہی تو ہے۔ ہمارے لئے تو یہ بات ویسے بھی باعث فخر ہے۔ کہ اردو مسلمانوں کی زبان ہے۔ کیونکہ مسلمان تاجروں، عرب، ایران، ترکی اور دوسرے اسلامی ممالک سے تعلق رکھنے والے سپاہیوں اور اہل علم و فن کی ہندوستان آمد ہی اردو کی ابتداء کا ذریعہ بنی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے 1948ء میں جلسہ عام میں فرمایا:
    ’’میں واضح الفاظ میں بتا دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان کی سرکاری زبان اردو اور صرف اردو ہی ہوگی۔ جو شخص آپ کو اس سلسلے میں غلط راستے پر ڈالنے کی کوشش کرے۔ وہ پاکستان کا پکا دشمن ہے۔ ایک مشترکہ زبان کے بغیر کوئی قوم نہ تو پوری طرح متحد رہ سکتی ہے۔ اور نہ کوئی کام کرسکتی ہے‘‘ اردو زبان میں پوری پاکستانی قوم کی ثقافتی روح موجود ہے۔ کیونکہ یہ پاکستان کے دیہاتوں اور شہروں میں وسیع پیمانے پر بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ حتیٰ کہ دنیا کے ہر ملک میں اردو بولنے والے لوگ کثیر تعداد میں موجود ہیں۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ اردو زبان تیزی کے ساتھ بین الاقوامی زبان کا درجہ حاصل کرتی جا رہی ہے۔ اس لئے ہمیں اپنی قومی زبان پر فخر کرنا چاہئے۔ جوکہ ہماری پہچان بھی ہے۔
    گزشتہ دنوں پاکستانی قوم کو ایک بڑی خوشخبری سننے کو ملی جو کہ پوری قوم کا دیرینہ خواب بھی تھا کہ سپریم کورٹ میں قومی زبان اردو کے نفاذ اور دیگر صوبائی زبانوں کی ترویج و اشاعت کے مقدمے میں حکومت کی طرف سے عدالت کو بتایا گیا۔ کہ اب آئندہ تمام سرکاری اداروں میں اردو رائج کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اردو رائج کرنے کی منظوری کے بل پر وزیراعظم پاکستان نے ’’6‘‘ جولائی کے دن دستخط کئے۔ جسکے تحت آئندہ صدر اور وزیراعظم بیرون ممالک تقاریر قومی زبان میں کریں گے۔ انتظامی حکم نامے میں مزید کہا گیا کہ وفاق کے زیر انتظام تمام کام کرنیوالے ادارے سرکاری و نیم سرکاری آئندہ اپنی پالیسیوں اور قوانین کا تین ماہ کے اندر اندر اردو میں ترجمہ شائع کریں گے۔ اور ہر طرح کے فارم انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو میں بھی فراہم کئے جائیں گے۔ اسی طرح تمام عوامی اہمیت کی جگہوں پر راہنمائی کے لئے اردو میں بورڈ آویزاں کئے جائیں گے۔ جبکہ پاسپورٹ آفس، محکمہ انکم ٹیکس، اے جی پی آر، آڈیٹر جنرل واپڈا، سوئی گیس، الیکشن کمشن کی تمام متعلقہ دستاویزات و مراسلات کے علاوہ ڈرائیونگ لائسنس اور یوٹیلٹی بل بھی اردو زبان میں ہی پرنٹ کرائے جائیں گے۔ اسکے علاوہ پاسپورٹ کے تمام اندر جات انگریزی کے ساتھ اردو میں بھی تحریر ہونگے۔ دیگر یہ کہ ! وفاقی حکومت کے زیر انتظام تمام ادارے اپنی ویب سائٹس بھی اردو میں منتقل کرینگے۔ مندرجہ بالا اردو کے بارے میں اچھی خبر سننے پر محب وطن پاکستانی بے حد خوش ہیں۔ اور دعا کرتے ہیں کہ! یہ حکم نامہ ’’مستقل ہو اور آنے والی حکومتیں بھی جاری رکھیں اور اس پر مکمل عمل دارآمد بھی ہو۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر