اردو رباعیات

پیری آئی اعضا سب چور ہوئے
یارانِ شباب پاس سے دور ہوئے

رہتی ہے کفن کی یاد ہر وقت انیس
جو مشک سے بال تھے کافور ہوئے

(میر انیس)
شعر کا مطلب:
1۔ بوڑھاپے میں سب اعضاء شکستہ ہوگئے یعنی سریع الحرکت نہ رہے۔
2۔ جوانی کے سب دوست جدا ہوئے یعنی کچھ اللہ کو پیارے ہوگئے اور جو بقید حیات ہیں وہ بھی بوجہ بڑھاپا حرکت سے یعنی آنے جانے، ملنے ملانے سے معذور ہوئے۔
3۔ مجھے ہروقت کفن کی یاد آتی ہے۔
یہ آخری شعر جو ہے اس کے مندرجہ ذیل مطالب ہوسکتے ہیں آپ لوگ کس سے متفق ہیں
ا۔ جو بال کالے سیاہ تھے(فارسی زبان میں انتہائی کالے رنگ کو مشکی کہا جاتا ہے) وہ اب کافور کے رنگ کی طرح سفید ہوئے۔
2۔ جن بالوں سے مشک کی سی خوشبو آتی تھی اب اُن سے کافور کی بو آتی ہے۔(واضح ہو کہ جب مردے کے لیئے کفن خریدا جاتا ہے تو اس کفن کے ساتھ دھونی دینے کے لیئے عود اور کافور بھی ساتھ دیا جاتا ہے ہمارے پشاور میں تو جب بھی کفن خریدا جاتا ہے تو ساتھ اس کے ایک چھوٹی سے ڈبیا میں عود اور کافور بھی دھونی کے لیئے یا پھر ساتھ رکھنے کے لیئے دیا جاتا ہے)
 

کاشفی

محفلین
دُنیا میں نفاق کا ہے شکوہ کیسا
ہے کوشش اتفاق سعئ بیجا

شکلیں ہیں جدا رنگ طبائع بھی الگ
انساں میں ہے اختلاف ازل سے پیدا

(محشر)
 

کاشفی

محفلین
کیا پایا اگر کوئے صنم میں بیٹھے
کیا مل گیا جا کر جو حرم میں بیٹھے

دل مطمئن اُس وقت ہوا اے محشر
جس وقت کے آخرت کے غم میں بیٹھے

(محشر)
 

کاشفی

محفلین
حاکم کیسا اگر عدالت نہ ہوئی
محکوم وہ کیا اگر اطاعت نہ ہوئی

کس کام کی آنکھ اگر مروت نہ ہوئی
وہ آدمی کیا گر آدمیت نہ ہوئی

(محشر)
 

کاشفی

محفلین
ہم عمرِ عزیز اس طرح کھوتے ہیں
سب جاگتے اور ہم پڑے سوتے ہیں

تدبیرِ ترقی میں ہے عالم مصروف
بیٹھے ہوئے تقدیر کو ہم روتے ہیں

(محشر)
 

کاشفی

محفلین
دو دن کی حیات اور عشرت طلبی
درگاہ ہوس سے ہے مصیبت طلبی

غافل یہ کہے دیتے ہیں آگے تو جان
دنیا طلبی ہے عین آفت طلبی

(محشر)
 
انسان کو نوازیں تو مکرتا ہے یہ
منہ پھیر کے کترا کے گزرتا ہے یہ
تکلیف اسے ذرا سی پہنچائیں تو پھر
لمبی لمبی دعائیں کرتا ہے یہ
(نصیر الدین نصیر گولڑوی)
 

کاشفی

محفلین
لطف ساقی سے جو محروم ہیں میخانے میں
آنکھ سے اشک ٹپک پڑتے ہیں پیمانے میں

چشم ساقی کی محبت نہیں چھپتی دل میں
بادہء تند ٹھہرتی نہیں پیمانے میں

(جناب خلیل بسوانی)
 

الف عین

لائبریرین
یہ تو رباعی نہیں، قطعہ ہے۔ ذرا چیک کر لیا کریں کاشفی! ویسے محشر کا کچھ تعارف!!۔ یہ کہاں سے پوسٹ کر رہے ہیں؟ کچھ ای بک کا سکوپ ہے ان کی؟
 

کاشفی

محفلین
دل میں ہوسِ درہم و دینار نہ رکھ
خم پشت ہے عصیاں کا بہت بار نہ رکھ

پیری میں سر اِس غرض سے ہلتا ہے صفی
یعنی دنیا سے اب سروکار نہ رکھ

(مولانا صفی لکھنوی)
 

کاشفی

محفلین
بشر اور خدا
تری قدرت ، مکاں سے لامکاں تک!
مرا قابو! تمنّا سے فغاں تک!

نہیں بس میں مرے موجِ نفس بھی!
ترے قبضے میں ہے بادِ رواں تک!

(شاعر: آئی ڈونٹ نو)
 

کاشفی

محفلین
رہ جاؤ مری جاں مرے گھر رات کی رات
ہر روز کہاں آتی ہے برسات کی رات

یہ ابر بہاراں کا برسنا رم جھم،
یہ رُت ، یہ سماں، ہائے یہ برسات کی رات

(شاعر: آئی ڈونٹ نو)
 

کاشفی

محفلین
لائی ہے تمہیں گھر کے برسات کی رات
مہمان ہو تم میرے یہی رات کی رات

کھل جاؤ میری جان خدارا مجھ سے
ہر روز کہاں آتی ہے برسات کی رات

(شاعر: آئی ڈونٹ نو)
 

کاشفی

محفلین
دیکھوں گا جسے اب اُسے چاہا نہ کروں گا
میں عشق ِوفادار کو رسوا نہ کروں گا

دنیا میں کسی اور سے اظہارِ محبت
تیرے لیئے اے جانِ تمنا! نہ کروں گا

(حفیظ ہوشیارپوری)
 

محمد وارث

لائبریرین
دیکھوں گا جسے اب اُسے چاہا نہ کروں گا
میں عشق ِوفادار کو رسوا نہ کروں گا

دنیا میں کسی اور سے اظہارِ محبت
تیرے لیئے اے جانِ تمنا! نہ کروں گا

(حفیظ ہوشیارپوری)

یہ رباعی کا وزن نہیں ہے۔

ہو سکتا ہے یہ ان کی کسی غزل کے دو شعر ہوں، یا کسی غزل میں قطعہ ہو یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ الگ قطعہ ہو، لیکن یہ بہرحال رباعی نہیں ہے :)
 

کاشفی

محفلین
ملتاہوں تو سر پہلے جھکا لیتا ہوں
پھر فرشِ دل و چشم بچھا لیتا ہوں

کچھ ایسی ہے افتادِ طبیعت اپنی
دشمن کو بھی میں دوست بنا لیتا ہوں

(نجم ندوی)
 
Top