اردو رباعیات

کاشفی

محفلین
جن کو اس وقت میں اسلام کا دعویٰ ہے کمال
غور سے دیکھا تو اے ذوق ہے اُن کا یہ حال

جیسے محفل میں ہنسانے کو مسلمانوں پر
نقل کرتا ہو مسلماں کی کافر نقال

(ذوق)
 

کاشفی

محفلین
اے ذوق کرے گا کوئی دنیا کیا ترک
دنیا ہے بری بلا ارے کیا ترک

کیا دخل کہ ہو ترک کسی سے دنیا
جب تک نہ کرے آپ اُسے دنیا ترک

(ذوق)
 

کاشفی

محفلین
فصلِ بہار آئی پیو صوفیو، شراب
بس ہو چکی نماز، مصلاّ اُٹھائیے

تجھ سا، حسین ہو یار، تو کیوں کر نہ اُس کے پھر
نازِ بیجا و غمزہء بیجا اُٹھائیے

(آتش)
 

محمد وارث

لائبریرین
فصلِ بہار آئی پیو صوفیو، شراب
بس ہو چکی نماز، مصلاّ اُٹھائیے

تجھ سا، حسین ہو یار، تو کیوں کر نہ اُس کے پھر
نازِ بیجا و غمزہء بیجا اُٹھائیے

(آتش)

یہ رباعی نہیں ہے کاشفی صاحب، اول تو رباعی کی بحر نہیں ہے دوم رباعی کی ہیت بھی نہیں ہے کہ رباعی میں پہلے دو اور چوتھے مصرعے میں قافیہ لانا لازمی ہوتا ہے، سوم چاروں مصرعوں کا آپس میں کوئی ربط بھی نہیں ہے، پہلا شعر شراب کی تعریف میں ہے اور دوسرا محبوب کی۔

میرے خیال میں یہ انکی کسی غزل کے دو شعر ہیں جسے کسی "ستم ظریف" نے اس کتاب میں جہاں سے آپ نے لکھا ہے، رباعی کا عنوان دے کر چھاپ دیا ہے :)
 

کاشفی

محفلین
جو ہے سو پست سب سے عالی تو ہے
شایاں صفاتِ ذوالجلالی تو ہے

ناقص ہے ہر اک کمال تیرے آگے
سب کو ہے زوال یا یزالی تو ہے

(مجروح)
 

کاشفی

محفلین
یارب تو گناہوں کو چھپانا میرے
اس حالِ زبوں پہ رحم کھانا میرے

محشر میں نہ ہوگی منہ دکھانے کی جگہ
جو میں نے کیا ، نہ منہ پہ لانا میرے

(مجروح)
 

کاشفی

محفلین
اسباب ہیں ایسے کہ پراگندہ ہوں
اور شرم معاصی سے سرافگندہ ہوں

یا ارحم الراحمین کرم کی ہو نگاہ
گو غرقِ گناہ ہوں پر ترا بندہ ہوں

(مجروح)
 

کاشفی

محفلین
یوں زیست نہ اپنی ہم کو بھاری ہوتی
کلفت بھی ، خوشی بھی، باری باری ہوتی

ہوتے نہ اگر، ہم آپ اپنے دشمن
یُوں تلخ نہ زندگی، ہماری ہوتی

(رواں)
تعارف شاعر: رواں تخلص، سید جعفر علی لکھنوی شاگر د کاظم علی جواں مقیم کلکتہ
 

کاشفی

محفلین
دولت وہ ہے جو عقل و محنت سے ملے
لذت وہ ہے کہ جوش صحت سے ملے
ایمان کو ہو نور دل میں وہ راحت ہے
عزت وہ ہے جو اپنی ملت سے ملے

(اکبر الہ آبادی)
 

کاشفی

محفلین
اونچانیت کا اپنی زینہ رکھنا
احباب سے صاف اپنا سینہ رکھنا
غصہ آنا تو نیچرل ہے اکبر
لیکن ہے شدید عیب کینہ رکھنا

(اکبر الہ آبادی)
 

کاشفی

محفلین
ہو علم اگر نصیب تو تعلیم بھی کر
دولت جو ملے اُسے تقسیم بھی کر
اللہ عطا کرے جوعظمت تجھ کو
جو اہل ہیں اس کے ان کی تعظیم بھی کر

(اکبر الہ آبادی)
 
عاصی ہے بہ اعمال قلیل آیا ہے
مجرم ہے مگر بلا وکیل آیا ہے
مایوس نہ پھیر بخش دے جرم اس کے
در پہ تیرے اک عبد ذلیل آیا ہے
پیر نصیر الدین نصیر گولڑوی
 

کاشفی

محفلین
یہ رُوح نہ بندِ غم سے آزاد ہوئی
دم بھر بھی نہ طبعِ مضمحلِ شاد ہوئی

خالی نہ رہی ہمارے دل کی بستی
امید گئی تو یاس آباد ہوئی

(رواں)
 

کاشفی

محفلین
غافل یہ نشاطِ زندگانی کب تک
ہنگامہء کیفِ نوجوانی کب تک

اس شورش بیجا کی کوئی حد بھی ہے
آخر کب تک یہ لن ترانی کب تک

(عرش ملیح آبادی)
 

کاشفی

محفلین
نیرنگی قدرت کے تماشے دیکھے
کیا کیا تری صنعت کے تماشے دیکھے

اک شکل کی لاکھوں میں نہیں دو شکلیں
کثرت میں بھی دیکھے وحدت کے تماشے

(عرش ملیح آبادی)
 

کاشفی

محفلین
پیری آئی اعضا سب چور ہوئے
یارانِ شباب پاس سے دور ہوئے

رہتی ہے کفن کی یاد ہر وقت انیس
جو مشک سے بال تھے کافور ہوئے

(میر انیس)
 
پیری آئی اعضا سب چور ہوئے
یارانِ شباب پاس سے دور ہوئے

رہتی ہے کفن کی یاد ہر وقت انیس
جو مشک سے بال تھے کافور ہوئے

(میر انیس)
واہ کاشفی صاحب واہ آپ جب بھی رباعیات والے حصے میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں کستوری و عنب اشہب کی سی خوشبو پھیلا دیتے ہیں
لڑکپن کھیل میں کھویا جوانی نیند بھر سویا
بڑھاپا دیکھ کر رویا کہ اب چلنے کی باری ہے
 

کاشفی

محفلین
واہ کاشفی صاحب واہ آپ جب بھی رباعیات والے حصے میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں کستوری و عنب اشہب کی سی خوشبو پھیلا دیتے ہیں
لڑکپن کھیل میں کھویا جوانی نیند بھر سویا
بڑھاپا دیکھ کر رویا کہ اب چلنے کی باری ہے

شکریہ جناب عظیم اللہ صاحب!۔جیتے رہیں خوش رہیں دعاؤں میں یاد رکھیں روحانی بابا!۔
دعائے خیر سے روحِ حزیں کو شاد کریں
ہمارے بعد بھی احباب ہم کو یاد کریں
 

محمد وارث

لائبریرین
پیری آئی اعضا سب چور ہوئے
یارانِ شباب پاس سے دور ہوئے

رہتی ہے کفن کی یاد ہر وقت انیس
جو مشک سے بال تھے کافور ہوئے

(میر انیس)

کاشفی صاحب اس رباعی کے چوتھے مصرعے کو پھر سے دیکھیئے گا پلیز، مجھے ایک لفظ کم لگ رہا ہے، "تھے" اور "کافور" کے درمیان ہو سکتا ہے "وہ" ہو یا کچھ اور، شکریہ۔
 
Top