اختیارات مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم

جیلانی نے 'سیرتِ سرورِ کائنات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 18, 2011

  1. جیلانی

    جیلانی محفلین

    مراسلے:
    304
    اختیارات مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم

    حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے :

    انما انا قاسم والله يعطی.

    (بخاری شريف، ج : 1، ص : 16)


    اللہ تعالیٰ مجھے دینے والا ہے اور میں تقسیم کرنے والا ہوں۔

    علماء کرام فرماتے ہیں یہ حدیث پاک مطلق تقسیم کرنے کے حوالے سے ہے۔ اس میں یہ نہیں فرمایا کہ جب تک میں حیات ظاہری کے ساتھ زندہ ہوں تو تقسیم کرنے والا ہوں بلکہ حیات برزخی یعنی روحانی طور پر تقسیم بھی میں کرتا ہوں۔ معلوم ہوا کہ والله يعطی اللہ تعالیٰ دیتا ہے کیا کیا دیتا ہے بیان نہیں کیا، چونکہ ہر چیز کا مالک اللہ تعالیٰ ہے وہ جو چیز بھی کسی کو دیتا ہے تو بدست مصطفی ٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عطا کرتا ہے۔

    جب یہ معلوم ہوا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تقسیم کرنے والے ہیں تو تقسیم کرنے والے کو مجازا عطا کرنے والا کہا جاتا ہے آپ اپنے معاشرے میں مشاہدہ کریں جب بھی کوئی چیز تقسیم کی جاتی ہے تو لوگ اس سے مانگتے ہیں کہ زیادہ دو یا مجھے بھی دو وغیرہ اگرچہ چیز کسی اور کے حکم پر دی جاتی ہے۔

    چونکہ آقا علیہ الصلوۃ والسلام تمام اکابرین امت کے نزدیک اپنی قبر مبارک میں زندہ ہیں جیسا کہ حدیث مبارک میں بیان کیا گیا ہے :

    ان الله حرم علی الارض ان تاکل اجساد الانبياء فنبی الله حی.

    (سنن ابی داؤد، ج : 1، ص : 275)


    بیشک اللہ تعالیٰ نے نبیوں کے اجسام کو زمین پر حرام کر دیا ہے پس اللہ کے نبی زندہ ہیں۔

    دوسری حدیث پاک میں ہے :

    حياتی خير لکم و مماتی خير لکم.

    (سنن نسائی، ج : 1، ص : 189)


    میری حیات بھی تمہارے لیے بہتر ہے اور میری وفات بھی تمہارے لیے بہتر ہے۔

    اسی طرح فرمایا تمہارے اعمال مجھ پر پیش کیے جاتے ہیں اگر نیک اعمال ہوں تو میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں اور اگر برے ہوں تو میں تمہارے لیے مغفرت طلب کرتا ہوں۔
    حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دائرہ ماذونیت میں مختار کل ہیں۔ دائرہ ماذونیت سے مراد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اذن اور اختیار دیا گیا ہے۔

    بعض کلمات کا اطلاق بعض مقامات میں مختلف معنی دیتا ہے۔ مثلاً لفظ کل جب اللہ تعالیٰ کے لیے استعمال ہو گا تو حقیقی معنی میں ہو گا مگر جب یہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی مقرب بندہ کے لیے استعمال ہوگا تو اضافی معنی میں ہوگا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے مختار کل کا لفظ اسی معنی میں مراد لیا جاتا ہے۔ جب یہی لفظ کل مخلوق کے لیے ہو تو اس کے اطلاقات درجہ بدرجہ بدلتے رہتے ہیں۔ مثلاً ایک چیز کسی دوسری چیز کے مقابلے میں کل ہے تو وہی چیز کسی دوسرے کے مقابلے میں جزو بھی ہوسکتی ہے۔

    انسانی علم جتنا بھی لامحدود اور وسیع ہوجائے وہ ماکان اور وما یکون کی حدود کے اندر ہی رہتا ہے، اس سے آگے اس کی حدیں ختم ہو جاتی ہے۔ یہی کل انسانی علم جب حضور تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقابلے میں رکھا جائے گا تو مخلوق کا سارا علم حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے مقابلے میں جزو ہو گا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا علم تمام مخلوق کے مقابلے میں کل ہو گا۔ مگر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کل علم معبود الٰہی کے مقابلے میں لایا جائے گا تو یہ جزو ہوگا۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے سارے اختیارات آپ علیہ السلام کے دائرہ ماذونیت میں ہیں، جس میں آپ مختار کل ہیں۔

    علامہ ابن تیمیہ لکھتے ہیں :

    وقد اقامه الله مقام نفسه فی امره ونهيه واخباره و بيانه.

    (ابن تيميه، الصارم المسلول علی شاتم الرسول : 41)

    اللہ رب العزت نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو امر، نہی اور خبر دینے اور بیان کرنے میں اپنا نائب مقرر کیا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 8
  2. جیلانی

    جیلانی محفلین

    مراسلے:
    304
    محمود احمد غزنوی آپ کا شکریہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. مبشر شاہ

    مبشر شاہ محفلین

    مراسلے:
    90
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    میرے آقا ﷺزندہ ہیں
    قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيهِ قُبِضَ وَفِيهِ النَّفْخَةُ وَفِيهِ الصَّعْقَةُ فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنْ الصَّلَاةِ فِيهِ فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ قَالَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ تُعْرَضُ صَلَاتُنَا عَلَيْكَ وَقَدْ أَرِمْتَ يَقُولُونَ بَلِيتَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ
    (سنن ابی داؤد،کتاب الصلاۃ ،باب فضل یوم الجمعۃو لیلۃ الجمعۃ،رقم الحدیث ۸۸۳)
    (تفرح ابواب الجمعة،باب فضل يوم الجمعة وليلة الجمعة(باب: جمعے کے دن اور اس کی رات کی فضیلت)حدیث نمبر : 1047)
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تمہارے افضل ایام میں سے جمعے کا دن ہے۔ اس میں آدم پیدا کیے گئے، اسی میں ان کی روح قبض کی گئی، اسی میں «نفخة» دوسری دفعہ صور پھونکنا) ہے اور اسی میں «صعقة» ہے (پہلی دفعہ صور پھونکنا، جس سے تمام بنی آدم ہلاک ہو جائیں گے) سو اس دن میں مجھ پر زیادہ درود پڑھا کرو کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔“صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! ہمارا درود آپ پر کیوں کر پیش کیا جائے گا حلانکہ آپ بوسیدہ ہو چکے ہوں گے۔ (یعنی آپ کا جسم) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ عزوجل نے زمین پر انبیاء کے جسم حرام کر دیے ہیں۔“
    حدیث سے ماخوذ مسائل
    جمعہ کے دن پڑھا ہوا درود میرے آقاﷺ کی بارگاہ میں پیش کیا جاتا ہے ۔
    انبیاء قبروں میں زندہ ہیں ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • متفق متفق × 2
  4. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    200,087
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نبیوں کے اجسام کو زمین پر حرام کر دیا ہے یعنی کہ مٹی انبیاء کرام کے اجسام کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔

    لیکن اس سے یہ نتیجہ کیسے نکلتا ہے کہ اللہ کے نبی زندہ ہیں؟

    جبکہ اللہ تعالٰی کا قرآن میں فرمان ہے :

    کلُ نفس ذائقۃ الموت۔
     
    • متفق متفق × 3
  5. محمود احمد غزنوی

    محمود احمد غزنوی محفلین

    مراسلے:
    6,435
    موڈ:
    Torn
    اگر شہید (جو ایک امتی ہے) کو مردہ کہنے سے قرآن نے منع کیا ہے تو انبیاء کا کیا مقام ہوگا۔۔۔کل نفس ذائقۃ الموت والی آیت برحق ہے، اور شہید کیلئے بھی ہے، شہید بھی یہ ذائقہ چکھتا ہے، لیکن اسکے باوجود قرآن کہتا ہے کہ
    " جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے انہیں مردہ مت سمجحو ، وہ زندہ ہیں اور اپنے رب کی جانب سے انہیں رزق دیا جاتا ہے"
    اور دوسری آیت میں ہے کہ
    " جو الوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے، انہیں مردہ مت کہو، وہ زندہ ہیں لیکن تمہیں اسکا شعور نہیں ہے"
    قرآن تو یہ کہ رہا ہے کہ ان لوگوں (شہداء) کو مردہ کہنا تو درکنار انہیں مردہ سمجھنا بھی مت۔۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
    • متفق متفق × 1
  6. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    200,087
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    قرآن کا فرمان برحق ہے لیکن نبی اور شہید کا کیا مقابلہ۔

    جب قرآن کہتا ہے کہ "۔۔۔۔۔ لیکن تمہیں اسکا شعور نہیں ہے" تو پھر آپ کو اس کا شعور کیونکر ہوا؟

    اور ان آیات سے یہ کہاں ثابت ہوتا ہے کہ انبیاء کرام زندہ ہیں؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
    • متفق متفق × 1
  7. عمرمختارعاجز

    عمرمختارعاجز لائبریرین

    مراسلے:
    83
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    محمود بھایی اور شاہ صاحب نے بالکل ٹھیک کہا ہے۔سنتا وہی ہے جو زندہ ہو ۔
    ویسے یہ بڑی لمبی بحث ہے ۔
    "تو زندہ ہے واللہ تو زندہ ہے واللہ ۔میری چشم عالم سے چھپ جانے والے"
    انبیاء کی زندگی پر قرآن وحدیث میں بہت سے دلایل موجود ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  8. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    200,087
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    قرآن میں کہاں بیان کیا گیا ہے؟ کوئی ایک آیت بتا دیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. عمرمختارعاجز

    عمرمختارعاجز لائبریرین

    مراسلے:
    83
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    شمشاد بھایی آیت تو شاہ صاحب نے لکھی ہے۔ذرا اس پر غور فرماییں اور مستند مفسرین کی تفاسیر پڑھیں آپ پر یہ بات واضح ہو جاے گا۔
    معلومات کے لیے یہ معلوماتی رسالہ پڑھ لیں ۔ڈاونلوڈ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  10. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    200,087
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    بھائی جی مجھے تو شاہ صاحب کی لکھی ہوئی کوئی آیت نظر نہیں آئی۔ آپ کون سی آیت کی بات کر رہے ہیں؟

    جو رسالہ آپ نے بتایا ہے۔ اس کے پہلے دو صفحے پڑھ لیں۔ جس میں حضرت سلیمان علیہ السلام کا ذکر ہے۔ "ترجمہ : پس جب ہم نے سلیمان پر موت کا فیصلہ نافذ کر دیا تو آپ کی موت کا پتہ ۔۔۔۔۔"

    اللہ تعالٰی موت کا فیصلہ نافذ فرما رہا ہے اور آپ ان کو زندہ ثابت کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔

    انا للہ و انا الیہ راجعون۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • نا پسندیدہ نا پسندیدہ × 1
  11. عمرمختارعاجز

    عمرمختارعاجز لائبریرین

    مراسلے:
    83
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    شمشاد بھایی غلطی سے کہہ گیا وہ حوالہ محمود بھایی نے دیا تھا صرف دو صفحے پڑھنے سے فیصلہ تو نہیں ہو جاتا پورا رسالہ پڑھیں۔
     
  12. شاکر

    شاکر محفلین

    مراسلے:
    106

    گویا اپنی موت مرنے والوں کو بھی اللہ رزق عطا فرما رہا ہے تو گویا مردہ تو کوئی ہوا ہی نہیں۔ ہر نیک بندہ ہی مرنے کے بعد زندہ ہو جاتا ہے۔
    لیکن یہ زندگی برزخی ہے، دنیاوی نہیں۔ برزخی زندگی کی کیفیت ہمیں نہیں معلوم۔
    حیات سے متعلقہ آیات و احادیث کو اگر برزخی دنیا کے مطابق مان لیا جائے اور وفات سے متعلقہ آیات و احادیث کو اگر دنیاوی زندگی کے مطابق مان لیا جائے تو کہیں کوئی اشکال نہیں رہتا۔
    اس کے بجائے، موت کو فقط ایک آن کے لئے مان کر قبر میں بھی انبیاء کے لئے دنیاوی زندگی کا اثبات کیا جائے تو کئی طرح کے ناقابل حل اشکالات اور ناقابل جواب سوالات پیدا ہو جاتے ہیں۔
    شہید بھی دنیاوی طور پر زندہ نہیں، بلکہ برزخ کے کسی بہتر مقام پر زندہ ہیں، جس کا ہمیں شعور و استدراک نہیں۔
    جبکہ خصوصاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تو قرآن کریم سے صراحتاً ثابت ہے۔ اور یاد رہے کہ موت انبیاء کے لئے ہرگز کسی قسم کی توہین بھی نہیں۔








    مزید معلومات کے لئے آپ بھی یہ معلوماتی رسالہ پڑھ لیجئے۔
     
    • متفق متفق × 1
  13. مبشر شاہ

    مبشر شاہ محفلین

    مراسلے:
    90
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    اس قسم کا سوال ہوا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ میرے انتقال ظاہری کے بعد بھی تمہارا پڑھا ہوا درودمجھ تک پہنچایا جائے گا اور پھر عالم الغیب نے اللہ کی عطا کردہ فراست سے جان لیا تھا کہ نسل انسانی اور بالخصوص مسلمانان پاک وہند میں سے کچھ لوگ یہ خیال رکھیں گے کہ بنی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ویسی ہی موت آئی ہے جیسی کہ عامۃ الناس کو آتی ہے سوال دوبارہ دیکھیں اور جواب بھی ملاحظہ فرمائیں
    سوال
    وَقَدْ أَرِمْتَ يَقُولُونَ بَلِيتَ
    صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! ہمارا درود آپ پر کیوں کر پیش کیا جائے گا حلانکہ آپ بوسیدہ ہو چکے ہوں گے۔
    جواب
    فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ
    تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ عزوجل نے زمین پر انبیاء کے جسم حرام کر دیے ہیں۔
     
  14. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    200,087
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    محمود بھائی نے تو شہداء کے متعلق آیت کا حوالہ دیا ہے۔ انبیاء کرام کے زندہ ہونے کا تو کوئی حوالہ نہیں دیا۔ پھر آپ کس آیت کی بات کر رہے ہیں۔

    مزید یہ کہ جب پہلے ہی صفحے پر قرآن سے فیصلہ سامنے آ گیا، پھر آگے پڑھنا چہ معنی دارد؟ کیا آپ اس آیت کو رسالے میں کہیں آگے جا کر جھٹلانا چاہتے ہیں؟
     
  15. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    200,087
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    انبیاء کرام اور شہداء کی بات تو چھوڑیں۔

    قریباً ۶ یا ۷ دہائیاں قبل کی بات ہے، نارووال میں ایک ولی اللہ چن پیر کے نام سے تھے۔ ان کی وفات کے بعد انہیں دفن کر دیا گیا۔ جہاں انہیں دفن کیا گیا تھا، کئی سال بعد وہ جگہ دریا کے کٹاؤ کی وجہ سے دریا کا پانی اس قبرستان میں آ گیا۔ ان کے بیٹے کو خواب میں انہوں نے کہا کہ مجھے یہاں سے نکالو۔

    ان کی قبر کشائی کی گئی تو ہزارہا آدمیوں نے دیکھا کہ ان کا جسم بلکل ویسے ہی تھا جیسے ابھی دفن کیا ہو۔ ان کے جسد خاکی کو وہاں سے نکال کر نارووال شہر میں دفن کیا گیا۔
    آپ کو آج بھی وہاں کئی ایک ایسے بزرگ مل جائیں گے جنہوں نے یہ اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ ان کے بیٹے بھی وفات پا چکے ہیں۔ آجکل ان کے پوتے گدی نشین ہیں۔
     
  16. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    200,087
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    شاکر بھائی نے اوپر قرآنی آیات کا حوالہ دیا ہے۔ اس کے بعد کسی رسالے یا کسی مضمون کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
     
  17. آبی ٹوکول

    آبی ٹوکول محفلین

    مراسلے:
    3,499
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Drunk
    شمشاد بھائی قرآن پاک نے کیفیت حیات کے شعور کی نفی کی ہے نہ کہ خود حیات کی، بلکہ حیات پر تو قرآن و سنت دونوں واضح اور صریح ہیں کہ شہید زندہ ہوتے ہیں اور اللہ کے انبیاء بھی زندہ ہوتے ہیں۔ لہذا قرآن کی آیت کی رو سے شہدا کی زندہ ہونے کے شعور کی نفی نہیں کی جارہی بلکہ وہ(یعنی شہید ) زندہ کس طرح سے ہیں اس شعور کی نفی کی جارہی ہے۔ نیز قرآن نے اس کیفت حیات کے شعور کی مستقل نفی بھی نہیں کی بلکہ ایک جگہ فرمایا کہ وہ (شہید) زندہ ہیں اور انکو رزق بھی دیا جاتا ہے رزق دیا جانا بھی ایک کیفیت حیات ہے لہذا ہوسکتا ہے کہ اللہ کے بعض مقرب بندوں کو اس کی عطا سے اس کیفیت حیات کا بھی شعور حاصل ہوجاتا ہو باقی واللہ اعلم ورسولہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  18. صرف علی

    صرف علی محفلین

    مراسلے:
    1,101
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool

    میرے خیال سے شمشاد بھائی آپ فکر جس شہید کو زندہ صرف اس لئے بولا جا رہا ہے کے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کومانتے تھے ورنہ یہ بات ہر کسی کے لئے نہیں ہے جس کو ماننے کی وجہ سے ان کو اتنا بڑا درجہ ملا وہ کیا خود اس فرد کا درجہ ایک شہید سے کم ہوگا اعجب ۔دوسری اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کچھ نہیں سن سکتے بقول آپ کے آج بھی مسجد نبوى ميں پيغمبر اكرم (ص) كے مزار كے قريب آہستہ بولنا چاہيے كيونكہ قرآن مجيد نے حكم ديا ہے كہ '' يا ايّہا الذين آمنوا لا ترفَعُوا أصواتكم فَوقَ صوت النّبي ...'' (2) اور اس آيت كو تحرير كر كے پيغمبر اكرم (ص) كى ضريح پر نصب كيا ہوا ہے۔

    دوسری بات جب خودرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صحیح حدیث موجود ہے تو آپ کے اس صحیح حدیث کو ماننا پڑے گا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  19. محمود احمد غزنوی

    محمود احمد غزنوی محفلین

    مراسلے:
    6,435
    موڈ:
    Torn
    مجھے تو دھاگے میں کسی " شاکر بھائی صاحب" کا کوئی مراسلہ نظر نہیں آرہا۔۔آپ کس کی بات کر رہے ہیں؟ دوسری بات یہ کہ اگر کسی رسالے یا کسی مضمون کی گنجائش باقی نہیں رہتی تو یہاں اس اسلامی فورم کا کیا جواز ہے، بس قرآن پاک کا ترجمہ یہاں پوسٹ کردیجئے اور اسکے نیچے لکھ دیجئے کہ "اب کسی رسالے یا مضمون کی گنجائش باقی نہیں رہی"۔۔۔
    بات اتنی سادہ نہیں ہے جتنی آپ سمجھ رہے ہیں اور نہ ہی اتنی پیچیدہ ہے کہ آپ سمجھ نہ سکیں۔۔۔جب کسی موضوع پر محدچین اور علمائے کرام (صوفیائے کرام کی بات فی الوقت رہنے دیں) نے کتابیں لکھی ہیں، تو اس وقت آپکا یوں ارشاد فرمان بڑی بچگانہ سی بات ہے کہ
    اگر آپکے سوچنے کا یہی انداز ہے تو اس رسالے کو چھوڑیں، اور قرآن پاک کی اس مذکورہ بالا آیت( جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے انہیں مردہ مت سمجحو ، وہ زندہ ہیں اور اپنے رب کی جانب سے انہیں رزق دیا جاتا ہے) کو پڑھ کر کیا اب بھی آپ ایسا ہی کہیں گے کہ جب آیت کے پہلے حصے میں اللہ تعالیٰ فرمارہے ہیں کہ "جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے" تو پھر اس کے بعد انکو زندہ کیوں کہیں؟ کیونکہ بقول آپکے :
     
    • زبردست زبردست × 1
    • متفق متفق × 1
  20. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    200,087
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    یہاں بات شہداء کی نہیں ہو رہی۔

    اور شاکر صاحب کا مراسلہ اوپر موجود ہے۔ مراسلے کا نمبر ۱۲ ہے۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1

اس صفحے کی تشہیر