ٹائپنگ مکمل اختر ضیائی ۔۔۔ منتخب کلام

شیزان نے 'اردو شاعری' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جون 6, 2014

  1. شیزان

    شیزان لائبریرین

    مراسلے:
    6,469
    موڈ:
    Cool

    اب کے موسم میں عجب شعبدہ پیرائی ہے
    جیسے روٹھی ہوئی ہر شاخ سے پروائی ہے

    موت کے خوف سے جیتے ہیں نہ مر سکتے ہیں
    ان کو اصرار کہ یہ دورِ مسیحائی ہے

    جب سے پھیری ہیں زمانے نے نگاہیں ہم سے
    ہم نے حالات بدلنے کی قسم کھائی ہے

    جن کی بےداد سے رسوائی ہوئی، جی سے گئے
    وہ بھی کہتے ہیں کہ نادان ہے، سودائی ہے

    خود ہی کر لیجئے اس طرزِ عمل کی تاویل
    ہم سے رغبت نہیں، غیروں سے شناسائی ہے

    نہ تبسم، نہ تکلم، نہ محبت کی نظر
    کتنا دلچسپ یہ اندازِ پذیرائی ہے

    سایۂ زلف کی امید کہاں ، دید کہاں؟
    کہ مقدر میں سیہ رات ہے، تنہائی ہے

    مستقل چیز ہے حوروں کی جوانی واعظ!
    سچ ہے کہ آپ کی ہر بات میں گہرائی ہے

    اس کی نیت پہ بھلا مجھ کو ہو کیا شک اختر
    وہ جو یوسف کا خریدار نہیں بھائی ہے!​
     
  2. شیزان

    شیزان لائبریرین

    مراسلے:
    6,469
    موڈ:
    Cool

    منزلِ شوق اب کہاں لینا
    نام کو چھوڑنا، نشاں لینا

    جس کو عشاق کی خبر بھی نہ تھی
    آ گیا اس کو امتحاں لینا!

    جب حقائق کی دھوپ ڈسنے لگے
    دو گھڑی سایۂ گماں لینا

    تیرا جانا بدن کے قالب سے
    روح کا جستِ بیکراں لینا

    تج دیا ہے زمیں کی چاہت میں
    ہم نے احسانِ آسماں لینا

    بخت اس کا، جس نے سیکھ لیا
    ہاتھ میں وقت کی عناں لینا

    اس جفا کش دور میں اختر
    ہنس کے دشنامِ دوستاں لینا!​
     
  3. شیزان

    شیزان لائبریرین

    مراسلے:
    6,469
    موڈ:
    Cool

    بےکلی میں بھی سدا روپ سلونا چاہے
    دل وہ بگڑا ہوا بالک جو کھلونا چاہے

    حسن معصوم ہے پر خواب خزانوں کے بنے
    کبھی ہیرے، کبھی موتی، کبھی سونا چاہے

    تجھ سے بچھڑا ہے تو گھائل کی عجب حالت ہے
    بیٹھے بیٹھے کبھی ہنسنا، کبھی رونا چاہے

    اس بات ناز کو دیکھوں تو میرا ذوق نظر
    ایک اک نقش میں سو رنگ سمونا چاہے

    لاکھ بہلاؤ بھلے وقت کے گلدستوں سے
    تلخ ماضی تو سدا خار چبھونا چاہے

    کھلی آنکھوں کسی کروٹ، نہ ملے چین اکثر
    نیند آئے تو نہ پھر سیج بچھونا چاہے

    ایسا بپھرا ہے غمِ زیست کا ساگر اختر
    اس کی ہر لہر میری ناؤ ڈبونا چاہے​
     
  4. شیزان

    شیزان لائبریرین

    مراسلے:
    6,469
    موڈ:
    Cool

    جب سے مہ نوش ہو گیا ہوں میں
    غم فراموش ہو گیا ہوں میں

    تیرے جلووں میں اس طرح گم ہوں
    خود سے روپوش ہو گیا ہوں میں

    بن گئی تھی جو جان کا آزار
    دشمنِ ہوش ہو گیا ہوں میں

    ہاں کبھی میں خرد نواز بھی تھا
    اب جُنوں کوش ہو گیا ہوں میں

    چھوڑیئے میرے حال پر تشویش!
    قصۂ دوش ہو گیا ہوں میں​
     
  5. شیزان

    شیزان لائبریرین

    مراسلے:
    6,469
    موڈ:
    Cool


    مہتاب جب آئینۂ سیماب میں آئے
    سو رنگ سے پھر جلوہ گہہِ خواب میں آئے

    اب تک یونہی آباد ہیں یادوں کے جھروکے
    تصویر تری وقت کی محراب میں آئے

    اِس آس پہ زندہ ہوں کہ شائد کبھی وہ بھی
    خوشبُو کی طرح موسمِ شاداب میں آئے

    وہ حُسنِ جہاں تاب بدلتا ہے ٹھکانے
    آنکھوں میں سما کر دلِ بےتاب میں آئے

    دل نذر کریں، جان بھی مانگے تو فدا ہوں
    یہ بات بھی تو عشق کے آداب میں آئے

    ممکن ہے کہ بن جائے گھر قطرہء نیساں
    قسمت سے اگر دامنِ گرداب میں آئے

    ہر بار لئے جان و تمنا کی تب و تاب
    اختر کی غزل حلقۂ احباب میں آئے​
     
  6. شیزان

    شیزان لائبریرین

    مراسلے:
    6,469
    موڈ:
    Cool

    سرِ شاخِ بخت گلِ اُمید کِھلا نہ تھا
    رہے ڈھونڈتے جسے عمر بھر وہ مِلا نہ تھا

    ہے لہو لہو تیری بےوفائی کے وار سے
    دلِ زار کا ابھی پہلا زخم سِلا نہ تھا

    یہ غُرورِ حُسن تھا یا انا کا معاملہ
    کہ ستم گری میرے پیار کا تو صِلہ نہ تھا

    تُو بچھڑ گیا نئی منزلوں کی تلاش میں
    میرے ہمسفر! مجھے تجھ سے کوئی گِلہ نہ تھا

    مجھے یاد ہیں وہ شکستِ عہد کی ساعتیں
    رہی چشم نم، لبِ غم گسار ہلا نہ تھا​
     
  7. شیزان

    شیزان لائبریرین

    مراسلے:
    6,469
    موڈ:
    Cool

    جُنوں پسند ہوں شوریدگی سے مطلب ہے
    نہ غم سے کام، نہ مجھ کو خوشی سے مطلب ہے

    مشاہدات کی تلخی سے رو بھی دیتا ہوں
    میں گل نہیں جسے خندہ بہی سے مطلب ہے

    کچھ ایسے لوگ ہیں جن کو ہے سرخوشی کی تلاش
    ہمیں علاجِ غمِ زندگی سے مطلب ہے

    وہ اور ہوں گے جنہیں تیری ذات سے ہے غرض
    مجھے تو دوست تیری دوستی سے مطلب ہے

    بہت جُھکے ہو اطاعت میں مصلحت کیشو!
    عَلم اٹھاؤ کہ اب سرکشی سے مطلب ہے

    یہ اور بات کہ حُوروں کی ہے طلب اختر
    وگرنہ شیخ کو بس بندگی سے مطلب ہے​
     
  8. شیزان

    شیزان لائبریرین

    مراسلے:
    6,469
    موڈ:
    Cool

    بدلیں گے حالات
    بپھرے ہوئے جذبات

    آخر ڈھل جائے گی
    غم کی بوجھل رات

    ساتھی دکھ بندھن میں
    چھیڑ ملن کی بات

    من پگلا تو جانے
    پیار کو ہی سوغات

    دھن بیوپار میں سب کی
    اپنی اپنی ذات

    لمحوں میں بنتی ہے
    صدیوں کی اوقات

    مر کے یہاں ملتی ہے
    سانسوں کی خیرات

    سوچ میں گم ہیں اختر
    دانشور حضرات!​
     
  9. شیزان

    شیزان لائبریرین

    مراسلے:
    6,469
    موڈ:
    Cool

    مرتا ہوں کہ جینے کا سہارا سا لگے ہے
    غیروں کے بھرے شہر میں اپنا سا لگے ہے

    پہلے تو کبھی اس کو یقیناً نہیں دیکھا
    وہ شخص مجھے پھر بھی شناسا سا لگے ہے

    احباب کے جھرمٹ میں رہے خود سے مخاطب
    محفل میں بھی بیٹھا ہوا تنہا سا لگے ہے

    ہر حال میں ہے میرے مقدر کا وہ ساتھی
    غربت کی کڑی دھوپ میں سایا سا لگے ہے

    کرتا ہے کسی اور کے آنگن میں اجالا
    لیکن میری قسمت کا ستارا سا لگے ہے

    پتھر بھی ہے آئینہ صفت موم کی صورت
    مجھ کو کبھی شبنم، کبھی شعلہ سا لگے ہے

    کھل کر بھی اگر بات وہ کرتا ہے ضیائی
    کچھ اور پراسرار معمہ سا لگے ہے​
     
  10. شیزان

    شیزان لائبریرین

    مراسلے:
    6,469
    موڈ:
    Cool
    یہ صدیوں کا بھید پرانا، یہ جیون کا حاصل ہے
    جس کی بات نہ سمجھے کوئی، وہ مورکھ ہے، جاہل ہے

    محرومی کے اندھیاروں میں آشاؤں کی جوت نہیں
    سُونا دل کا کاشانہ ہے، سُونی دل کی محفل ہے

    ٹھیک طرح سے سوچ لو پہلے، پھر جی کا بیوپار کرو!
    پریت لگانا تو آساں ہے، پریت نبھانا مشکل ہے

    اپنے من میں ڈوب کے پا لے شکتی کا انمول رتن
    من ہی تیری راہ مسافر، من ہی تیری منزل ہے

    اختر اب بھنڈار دکھوں کا سکھ کی آس میں جیتا ہے
    کون کہے گا دانش مند ہے، کون کہے گا عاقل ہے؟​
     
  11. شیزان

    شیزان لائبریرین

    مراسلے:
    6,469
    موڈ:
    Cool

    ہار گئے پگ چلتے چلتے، اب آرام کروں میں
    جی کرتا ہے جیون پتھ پر ہی بسرام کروں میں

    کون کسی کے غم لیتا ہے، موہ کا جال سمیٹوں!
    زیست کی یہ بےکیف صبوحی اک دو جام کروں میں

    دل کے بدلے دل کی دولت ہاتھ آ سکتی ہے تو
    لالچ کی منڈی میں اس کو کیوں نیلام کروں میں

    توڑ کے سُندر سپنوں کے گجرے او جانے والے!
    پیار کی بےانجام کہانی کس کے نام کروں میں؟

    ان کو میری بےلوث محبت کی نہیں خاص ضرورت!
    وہ جو ہنس ہنس کر کہتے ہیں سستے دام کروں میں

    دو لمحے سو سال کا جینا، دو صدیاں بےحاصل!
    دنیا میں جو یاد رہیں، کچھ ایسے کام کروں میں

    بچھڑ گیا دلدار، ہوئیں ویران نگر کی گلیاں
    تم ہی کہو کس آس پہ اے دل، صبح کو شام کروں میں!​
     
  12. شیزان

    شیزان لائبریرین

    مراسلے:
    6,469
    موڈ:
    Cool

    درد و درمان خوبصورت ہے
    کل کا پیمان خوبصورت ہے

    جس کے ملنے کی اب نہیں اُمید
    اس کا ارمان خوبصورت ہے

    ساتھ دیتا ہے وحشتِ دل کا
    چاکِ دامان خوبصورت ہے

    حُسن کردار سے ہے ناواقف
    کتنا نادان خوبصورت ہے

    جھوٹ گو مصلحت نواز سہی
    سچ کی پہچان خوبصورت ہے

    کاش گھر بھی اسی طرح ہوتا
    جیسا مہمان خوبصورت ہے

    اک غزل اُن کے نام کرنے سے
    سارا دیوان خوبصورت ہے

    عشق کی بارگاہ میں اکثر
    دل کا فرمان خوبصورت ہے

    کھیت بھی ہیں مگر کچھ ان کے سوا
    دستِ دہقان خوبصورت ہے

    اس بھری کائنات میں اختر
    نقشِ انسان خوبصورت ہے​
     
  13. شیزان

    شیزان لائبریرین

    مراسلے:
    6,469
    موڈ:
    Cool
    تھی بےقرار بہت چشمِ منتظر خاموش
    چلے گئے وہ میرے غم سے بےخبر خاموش

    نہ پوچھ ہائے یہ مجبوریاں محبت کی!
    میں اپنے صحن میں ، تُو اپنے بام پر خاموش

    وہ میگسار ابھی مطمئن نہیں ساقی!
    جو رہ گئے ہیں تیری سمت دیکھ کر خاموش

    وہ نرم آنچ کہ پتھر کا دل پگھل جائے
    ترے فراق میں جھیلی ہے عمر بھر خاموش

    کسی کی یاد میں دل کی عجیب حالت ہے
    مثالِ شعلہ، کبھی صورتِ شرر، خاموش

    بفیضِ تلخئ حالات ایک مدت سے
    برنگِ دشت ہے اختر ہمارا گھر خاموش​
     
  14. شیزان

    شیزان لائبریرین

    مراسلے:
    6,469
    موڈ:
    Cool

    لگتے ہیں بیگانے لوگ
    اب جانے پہچانے لوگ

    دیکھے غرض کے دھاگوں سے
    بُنتے تانے بانے لوگ

    ہم سے نہ الجھو فرزانو
    ہم ٹھہرے دیوانے لوگ

    چشمِ کرم رہنے دیجئے!
    گھڑ لیں گے افسانے لوگ

    حسن کا جادو جب جاگے
    بھولیں ٹھور ٹھکانے لوگ

    پیار میں جیون کاٹ گئے
    تھے خوش بخت پرانے لوگ

    وقت پڑا تو پل بھر میں
    توڑ گئے یارانے لوگ

    اپنے کئے پر جانے کیوں؟
    لگتے ہیں پچھتانے لوگ

    رنگ برنگی تصویریں
    یہ گلیاں، مے خانے لوگ

    اپنی کہو تو لے بیٹھیں
    اپنے روگ سنانے لوگ

    سن تو سہی اختر کیا کیا
    آئے ہیں سمجھانے لوگ!​
     
  15. شیزان

    شیزان لائبریرین

    مراسلے:
    6,469
    موڈ:
    Cool

    رکھے گئے جو اہلِ نظر کے نصاب میں
    مضمون پڑھ رہا ہوں میں دل کی کتاب میں

    اک رہزنِ ضمیر ہے، اک رہبرِ عمل!
    تفریق بس یہی ہے گناہ و ثواب میں

    تسکینِ جاں ہے ربط ہی، گو جانتا ہوں میں
    لکھیں گے آپ کیا مرے خط کے جواب میں

    مجھ پر کھلے ہیں صدق و صفا کے معاملات
    جب بھی گیا ہوں پیرِ مغاں کی جناب میں

    نفرت کا کاروبار بجا پر جنابِ شیخ
    ارشاد کچھ تو آج محبت کے باب میں!

    بہتر ہے درمیاں یہ سرا پردہء مجاز
    شائد نہ لا سکوں ترے جلوؤں کی تاب میں!

    اختر یہ کائنات بھی ہے کارگاہ کن
    دیکھی ہر ایک چیز یہاں انقلاب میں​
     
  16. شیزان

    شیزان لائبریرین

    مراسلے:
    6,469
    موڈ:
    Cool

    لٹتی رہے گی سادگئ رنگ و بوئے گل
    گل چیں کے ہاتھ میں ہے اگر آبروئے گل

    گلشن میں دور تک ہے یوں رنگوں کا سلسلہ
    جیسے میان سبزہ جولاں ہو جوئے گل

    ہر موسمِ بہار ہے اک محشر خروش
    برپا ہے شاخ شاخ پہ پھر ہاؤ ہوئے گل

    دیکھی ہے ہم نے سرخئ رخسارِ مہوشاں
    کھینچیں گے شعر شعر میں ہم ہو بہوئے گل

    دنیائے بےثبات پر اک طنز دل نواز
    ناداں ہے جو سمجھ نہ سکے خند روئے گل

    عرض طلب پہ یوں متبسم ہے اور خموش
    پا لی ہو جیسے اس بتِ کافر نے خوئے گل

    ترسدز نوکِ خار نگاہِ غلط نگر
    اختر بچشم شوق کنم جستجوئے گل​
     
  17. شیزان

    شیزان لائبریرین

    مراسلے:
    6,469
    موڈ:
    Cool

    برق کی زد میں آشیاں ہیں
    جب سے صیاد پاسباں ہیں

    کچھ عجب ہے یہاں کا دستور
    راہزن میرِ کارواں ہیں

    ہم ہیں مہر و وفا کے بندے
    آپ بےوجہ بدگماں ہیں

    ہم ہیں دانائے رازِ ہستی
    ہم اسیرِ غمِ جہاں ہیں

    پھر نئے عزم سے مسافر
    سوئے منزل رواں دواں ہیں

    حوصلے بھی ملے ہیں ان کو
    جن کے درپیش امتحاں ہیں

    دل تو بجھ سا گیا ہے اختر
    آرزوئیں مگر جواں ہیں​
     
  18. شیزان

    شیزان لائبریرین

    مراسلے:
    6,469
    موڈ:
    Cool

    تھک کے ہونے لگے نڈھال تو پھر؟
    بڑھ گیا عشق کا وبال تو پھر!

    جسم کیا روح تک ہوئی گھائل
    ہو سکا گر نہ اندمال تو پھر؟

    جس کو رکھا ہے شوق سے مہماں
    کر گیا گھر ہی پائمال تو پھر!

    ہجر تو مستقل اذیت ہے
    اس نے جینا کیا محال تو پھر!

    بھول جانا تو کیا عجب اس کا
    روز آنے لگا خیال تو پھر!

    رازداں ہی تو ہے بھروسا کیا!
    چل گیا یہ بھی کوئی چال تو پھر؟

    کر لیا ہے دماغ کو قائل!
    دل بھی کرنے لگا سوال تو پھر

    عشق دو چار دن کی بات نہیں
    یوں ہی بیتے جو مال و سال تو پھر

    سخت نازک ہے دل کا آئینہ
    تم نہ اس کو سکے سنبھال تو پھر!

    مان جائیں گے آپ کو اختر
    بچ گئے اب کے بال بال تو پھر!​
     
  19. شیزان

    شیزان لائبریرین

    مراسلے:
    6,469
    موڈ:
    Cool

    کم نصیبوں کو ستانے کی سزا پائے گا
    ظلم پھر ظلم ہے اک روز ثمر لائے گا

    بس گیا جس کے رگ و پے میں وہ سیماب صفت
    کیا کوئی اس دلِ مجبور کو سمجھائے گا

    کشتِ جاں جس کے ترشح کو ترستی ہے ابھی
    اب وہ بادل نہ کبھی لوٹ کے پھر آئے گا

    ہم نے کچھ روز کیا آنکھ سے اوجھل جس کو
    کیا خبر تھی کہ بہت دور چلا جائے گا!

    جو کسی طرزِ وفا کا نہیں قائل اختر
    خلقتِ شہر پہ کیا کیا نہ ستم ڈھائے گا؟​
     
  20. شیزان

    شیزان لائبریرین

    مراسلے:
    6,469
    موڈ:
    Cool

    یہ دہر سجدہ طلب سومنات ہے مجھ کو
    حیات معرضِ تخفیفِ ذات ہے مجھ کو

    مچل رہا ہے نگاہوں میں رنگِ موسم ِ گل
    فضائے کنج قفس کائنات ہے مجھ کو

    کلی کے کان میں یہ کہہ کے اڑ گئی شبنم
    نمودِ صبح پہ مٹ کر ثبات ہے مجھ کو!

    نبردِ عشق میں کیسا مقام آیا ہے
    اگر میں جیت بھی جاؤں تو مات ہے مجھ کو

    ترس گیا ہوں سبوئے خلوص کو اختر
    رہا میں ساحل جہلم فرات ہے مجھ کو!​
     

اس صفحے کی تشہیر