شکیب جلالی آگ کے درمیان سے نکلا ۔۔۔

عمر سیف

محفلین
آگ کے درمیان سے نکلا
میں بھی کس امتحان سے نکلا

پھر ہوا سے سلگ اٹھے پتے
پھر دھواں گلستان سے نکلا

جب بھی نکلا ستارہ امید
کہر کے درمیان سے نکلا

چاندنی جھانکتی ہے گلیوں میں
کوئی سایہ مکان سے نکلا

ایک شعلہ پھر ایک دھویں کی لکیر
اور کیا خاکدان سے نکلا

چاند جس آسمان میں ڈوبا
کب اسی آسمان سے نکلا ؟؟؟

شکیب جلالی​
 

فاتح

لائبریرین
شکریہ ضبط۔ آج تو آپ ہی آپ نظر آ رہے ہیں "پسندیدہ کلام" کے زمرہ میں۔ ماشاءاللہ!
اگر ہو سکے تو شکیب جلالی کا مزید کلام بھی عنایت کیجئے۔
 

الف عین

لائبریرین
فاتح۔
شکیب کی مکمل ای بک میں نے بنا رکھی ہے جس میں ’روشنی اے روشنی‘ مجموعے کے علاوہ بھی کچھ مزید کلام شامل ہے۔ لائبریری کی اردو شاعری زمرے میں دیکھیں، اس کا نام میں نے ’لہو میں تر‘ رکھا ہے۔
 

الف عین

لائبریرین
اس کے تین مزید اشعار جو لہو میں تر میں شامل ہیں، اور یہاں پوسٹ میں ایک تصحیح کے ساتھ (ستارہ امید کی املا کی درستگی، یہاں میں ہمزہ ہ تائپ نہیں کر سکتا(۔
یہ گہر جس کو آفتاب کہیں
کس اندھیرے کی کان سے نکلا
شکر ہے اس نے بے وفائی کی
میں کڑے امتحان سے نکلا
لوگ دشمن ہوئے اسی کے شکیب
کام جس مہربان سے نکلا

بریکٹ اب بھی درست کام نہیں کرتے۔ نبیل کا دعویٰ غلط ہے فائر فاکس کی حد تک۔
 

فاتح

لائبریرین
فاتح۔
شکیب کی مکمل ای بک میں نے بنا رکھی ہے جس میں ’روشنی اے روشنی‘ مجموعے کے علاوہ بھی کچھ مزید کلام شامل ہے۔ لائبریری کی اردو شاعری زمرے میں دیکھیں، اس کا نام میں نے ’لہو میں تر‘ رکھا ہے۔

بہت شکریہ اعجاز صاحب!
میرے پاس شکیب جلالی کی کوئی کتاب نہیں تھی لیکن آپ نے تو مشکل ہی آسان کر دی۔ دوبارہ شکریہ جناب!
 

طارق شاہ

محفلین
آگ کے درمیان سے نکلا
میں بھی کس امتحان سے نکلا

پھر ہوا سے سلگ اٹھے پتے
پھر دھواں گلستان سے نکلا

جب بھی نکلا ستارہ امید
کہر کے درمیان سے نکلا

چاندنی جھانکتی ہے گلیوں میں
کوئی سایہ مکان سے نکلا

ایک شعلہ پھر ایک دھویں کی لکیر
اور کیا خاکدان سے نکلا

چاند جس آسمان میں ڈوبا
کب اسی آسمان سے نکلا ؟؟؟

شکیب جلالی​


آگ کے درمیان سے نکلا
میں بھی کِس اِمتحان سے نکلا

پھر ہَوا سے سُلگ اُٹھے پتےّ
پھِر دُھواں گُلسِتان سے نکلا

جب بھی نِکلا ستارۂ اُمّید
کُہر کے درمیان سے نکلا

چاندنی جھانکتی ہے گلیوں میں
کوئی سایہ مکان سے نکلا

ایک شُعلہ ، پِھر اِک دُھویں کی لکِیر
اور کیا خاکدان سے نکلا ؟

چاند جس آسمان میں ڈُوبا
کب اُسی آسمان سے نکلا

یہ گُہر جِس کو آفتاب کہیں !
کِس اندھیرے کی کان سے نکلا

شُکر ہے اُس نے بے وفائی کی
میں کڑے اِمتحان سے نکلا

لوگ دشمن ہوئے اُسی کے، شکؔیب !
کام جِس مہربان سے نکلا

شکیبؔ جلالی
بہت خوب شراکت !
:)
 
آخری تدوین:
Top