طارق شاہ

محفلین
ضبط اپنا شعار تھا، نہ رہا
دل پہ کچُھ اختیار تھا، نہ رہا

دلِ مرحوم کو خُدا بخشے
ایک ہی غم گُسار تھا، نہ رہا

فانی بدایونی
 

طارق شاہ

محفلین

اُن کی بے مہریوں کو کیا معلُوم
کوئی اُمّیدوار تھا، نہ رہا

مہرباں، یہ مزارِ فانی ہے
آپ کا جاں نثار تھا، نہ رہا

فانی بدایونی
 

طارق شاہ

محفلین

مت پُوچھیے طوائفِ لوح و قلم کا حال
بازار سے اُٹھی سرِ دربار گر پڑی

دیمک نے گھر کو چاٹ کے وہ حال کر دیا
در کو سنبھالا ہم نے تو دیوار گر پڑی

بخش لائل پوری
 

طارق شاہ

محفلین

وہ وقت نہ آئے کہ دلِ زار بھی سوچے
اِس شہرمیں تنہا کوئی ہم سا ہے کہ تم ہو

اے جانِ فراز اِتنی بھی توفیق کسے تھی
ہم کو غمِ ہستی بھی گوارا ہے کہ تم ہو

احمد فراز
 

طارق شاہ

محفلین

آسمانوں کی طرف دیکھنا بنتا ہی نہیں
تُو ہے انسان تِری خاک سے تہذیب بنی

ایک دو روز کی یہ بات نہیں ہے انور
سال ہا گردشِ افلاک سے تہذیب بنی

انور جمال انور
 

طارق شاہ

محفلین
عجیب کرب میں گزُری، جہاں جہاں گزُری
اگرچہ چاہنے والوں کے درمیاں گزُری

تمام عمر جلاتے رہے چراغِ اُمید

تمام عمر اُمیدوں کے درمیاں گزُری

محسن نقوی
 

طارق شاہ

محفلین

عشق آغاز میں ہلکی سی خلش رکھتا ہے
بعد میں سینکڑوں آزار سے لگ جاتے ہیں

پہلے پہلے ہوس اِک آدھ دُکاں کھولتی ہے
پھر تو بازار کے بازار سے لگ جاتے ہیں

احمد فراز
 

طارق شاہ

محفلین

پیاس تیری بُوئے ساغر سے لذیذ
بلکہ جامِ آبِ کوثرسے لذیذ

قند سے شیریں تِری پہلی نگاہ
دوسری قندِ مکرر سے لذیذ

الطاف حسین حالی
 

طارق شاہ

محفلین
نہیں بُھولتا اس کی رُخصت کا وقت
وہ رو رو کے مِلنا بَلا ہو گیا

سماں کل کا رہ رہ کے آتا ہے یاد
ابھی کیا تھا اور کیا سے کیا ہو گیا

الطاف حسین حالی
 

طارق شاہ

محفلین

قلق اور دل کا سوا ہوگیا
دلاسا تمہارا بلا ہوگیا

ٹپکتا ہے اشعار حالی سے حال
کہیں سادہ دل مُبتلا ہو گیا

الطاف حسین حالی
 

طارق شاہ

محفلین

قیامت کے آنے میں رِندوں کو شک تھا
جو دیکھا، تو واعظ چلے آ رہے ہیں

بہاروں میں بھی مے سے پرہیز توبہ !
خمار آپ کافر ہُوئے جا رہے ہیں

خُمار بارہ بنکوی
 

طارق شاہ

محفلین



مار ہی ڈال مجھے چشمِ ادا سے پہلے
اپنی منزل کو پہنچ جاؤں قضا سے پہلے

اِک نظر دیکھ لوُں آجاؤ قضا سے پہلے
تم سے مِلنے کی تمنّا ہے خُدا سے پہلے

مومن خان مومن
 
آخری تدوین:

طارق شاہ

محفلین

مجھ کو مارا ہے ہر اِک درد و دوا سے پہلے
دی سزا عشق نے، ہر جُرم و خطا سے پہلے

ہم اُنھیں پا کے فراق اور بھی کچھ کھوئے گئے
یہ تکلّف تو نہ تھے عہدِ وفا سے پہلے

فراق گورکھپوری
 

طارق شاہ

محفلین

شاعر اُن کی دوستی کا اب بھی دم بھرتے ہیں اۤپ
ٹھوکریں کھا کر تو سُنتے ہیں سنبھل جاتے ہیں لوگ

حمایت علی شاعر
 
Top