1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $453.00
    اعلان ختم کریں

آپ کیا پڑھ رہے ہیں؟

نبیل نے 'مطالعہ کتب' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏نومبر 24, 2007

  1. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    21,675
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    :):)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. محمد خرم یاسین

    محمد خرم یاسین محفلین

    مراسلے:
    2,079
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    خطوط اکبربنام خواجہ حسن نظامی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. رانا

    رانا محفلین

    مراسلے:
    2,687
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    محفلین ذرا ایک مدد تو کریں ایک معاملے میں۔
    کچھ دنوں سے کہانیوں کا ایک مجموعہ پڑھ رہا تھا جو کسی نے دنیا کے مختلف حصوں سے مختلف افسانوں کا ترجمہ کرکے جمع کیا تھا۔ اس میں کل رات کو ایک دلچسپ کہانی شروع کی تو کہانی کے جس موڑ پر جاکر سسپنس پیدا ہوا عین اسی جگہ سے آگے کے صفحات غائب۔ اب سوچیں کیا حال ہوتا ہے ایسے موقع پر۔ ہر کہانی کے شروع میں مصنف کا نام بھی ہوتا ہے تو اس مصنف Roseled Efil کو گوگل کیا کہ شائد کہیں نیٹ پر یہ کہانی رکھی ہو تو کہیں کچھ پتہ نہ ملا ۔ یا تو نام غلط تھا یا ہمارے ڈائجسٹوں کی طرح کا کوئی غیر معروف مصنف ہوگا۔ بہرحال آپ کو کہانی کا خلاصہ سناتے ہیں، جس نے یہ کہانی پڑھی ہوئی ہے وہ ہمیں اس کے انجام سے آگاہ کردے۔:)

    ایک جاسوسی سکھانے والا استاد اسکاٹ لینڈ یارڈ میں جاسوسی کے طلبا کی کلاس لے رہا ہوتا ہے اور ایک کیس کی تفصیلات بتاتا ہے کہ یہ کیس آج تک حل نہیں ہوسکا۔ چھ سال پہلے ایک تاجر اسکی بیوی اور بیٹی اپنے چھوٹے سے بحری جہاز سمیت غائب ہوگئے۔ جہاز تو کچھ عرصے بعد درست حالت میں ایک جزیرے پر مل گیا لیکن ان تینوں کا کچھ سراغ نہ ملا۔ تمام طلبا اس جزیرے پر پہنچتے ہیں کہ اس کیس کو حل کرنے کی کوشش کریں۔ پہلے دن کچھ طلبا جہاز کو اسٹارٹ کرکے سمندر لے جاتے ہیں کہ شائد کوئی سراغ ملے۔ اگلے دن کچھ اور طلبا جہاز چلاتے ہیں۔ تیسرے دن ایک آخری طالب علم رہ جاتا ہے وہ کہتا ہے کہ آج میں جہاز لے کر جاؤں گا تم جہاز کے پیچھے بوٹ لے کر آنا کہ کوئی چیز مجھ سے نظر انداز ہوجائے تو تم نوٹ کرسکو۔ جہاز جب سمندر میں تھوڑا آگے جاتا ہے تو پیچھے بوٹ پر تعاقب کرنے والا بندہ دیکھتا ہے کہ جہاز چلانے والا اچانک کسی بات سے خوفزدہ ہوکر سمندر میں چھلانگ لگا دیتا ہے۔ وہ بوٹ کو اس کے قریب لے کر جاتا ہے کہ اسے ڈوبنے سے بچائے لیکن وہ خوفزدہ ہوکر بوٹ کے مخالف سمت تیرنا شروع کردیتا ہے اور کچھ دیر بعد ڈوب جاتا ہے۔ سب افسوس کرتے ہیں کہ یہ کیا ہوا۔ وہ سوچتے ہیں کہ اگر پتہ لگ جائے کہ وہ کس چیز سے خوفزدہ ہوا تھا تو امید ہے کہ چھ سال پہلے والا کیس بھی حل ہوجائے کہ دونوں واقعات میں مماثلت لگتی ہے۔

    یہاں سے آگے صفحات غائب۔ اب جس محفلین نے یہ کہانی پڑھی ہوئی ہے وہ بتائے کہ آگے کیا ہوا تھا؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. محمد خرم یاسین

    محمد خرم یاسین محفلین

    مراسلے:
    2,079
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    واہ کہانی تو عمدہ ہے لیکن افسوس اس سے متعلق معلومات نہیں ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  5. نیرنگ خیال

    نیرنگ خیال لائبریرین

    مراسلے:
    17,777
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    خود لکھ لیں رانا بھائی۔ آپ کے لیے کیا مسئلہ
     
    • پر مزاح پر مزاح × 5
  6. رانا

    رانا محفلین

    مراسلے:
    2,687
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    یار آپ تو میرے کافی مزاج شناس ہوگئے ہیں۔:) سچ میں مجھے یہی خیال آیا تھا کہ انجام تو کہانی کا پتہ لگنا مشکل ہے کیوں نہ خود مکمل کرڈالیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جہاں سے کہانی ٹوٹی ہے اور جس طرح کا سسپنس پیدا کرکے ٹوٹی ہے وہاں سے مجھے لگتا نہیں کہ بھوتوں وغیرہ کو شامل کئے بغیر کہانی سے انصاف کرسکوں گا۔ اور دوسرے کی کہانی میں اپنے بھوت گُھسانا اچھی بات ہے بھلا؟:p
     
    • پر مزاح پر مزاح × 3
  7. محمد خرم یاسین

    محمد خرم یاسین محفلین

    مراسلے:
    2,079
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    خطوط شبلی بحوالہ ندوہ العلوم
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. رانا

    رانا محفلین

    مراسلے:
    2,687
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    کچھ مداوا اس ٹوٹی ہوئی کہانی کا ڈاونچی کوڈ سے ہوگیا جو دو تین دن پہلے شروع کی تھی۔ دلچسپ اور سسپنس سے بھرپور ناول۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    37,267
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Amused
    این لیکی کا ناول Provenance پڑھنا شروع کیا ہے
     
  10. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    21,675
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    [​IMG]

    محرم کی چھٹیوں میں بشیر احمد لودھی صاحب کی معروف کتاب "توحید اور ہم" پھر سے پڑھی، اور ایمان تازہ کیا۔

    یہ کتاب اُن لوگوں کے لئے مشعل راہ ہے جو تلاشِ حق کے متلاشی ہیں اور توحید الٰہی کے حوالے سے اپنی اُلجھنیں دور کرنا چاہتے ہیں۔ اس کتاب میں باقاعدہ حوالوں اور دلائل سے بات کی گئی ہے اور زیادہ تر حوالے قران ِ مجید سے لئے گئے ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
  11. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    37,267
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Amused
    ٹھیک تھا لیکن اس طرح بہترین نہیں جیسے اسی مصنف کی Ancillary trilogy
     
    • متفق متفق × 1
  12. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    37,267
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Amused
    David Reich کی کتاب Who We are and How We Got Here: Ancient DNA and the New Science of the Human Past پڑھنا شروع کی ہے۔

    ڈیوڈ رائک کی لیب پرانے ڈی این اے سے متعلق ریسرچ میں سب سے آگے ہے اور اس بارے میں ان کے کافی پیپر پڑھ رکھے ہیں۔ اس کتاب میں اس ریسرچ کو اکٹھا کیا گیا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
  13. عثمان

    عثمان محفلین

    مراسلے:
    9,676
    موڈ:
    Cheerful
    چند ماہ قبل پڑھی تھی۔ عمدہ کتاب ہے۔
     
    • زبردست زبردست × 1
  14. محمّد

    محمّد محفلین

    مراسلے:
    146
  15. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    37,267
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Amused
    بہترین کتاب ہے۔ پرانے ڈی این اے سے انسانی آبادی کے متعلق معلومات زبردست ہیں۔ البتہ فلسفے اور ایتھکس پر خیالات کا اظہار کچھ کمزور ہے۔ یہ نہیں کہ مجھے مصنف سے اختلاف ہے لیکن دلائل قائل کرنے والے نہ تھے
     
  16. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,167
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    Pakistan in the Twentieth Century: A Political History by Lawrence Ziring

    آنجہانی مصنف پاکستانی تاریخ پر ایک مستند نام تھے۔ 1957ء میں پہلی بار پاکستان میں مطالعاتی دورے پر تشریف لائے تھے اور اس کے بعد ساری زندگی پاکستانی اور جنوبی ایشیا کی تاریخ پر مطالعے اور پڑھانے میں صرف کر دی۔ مشی گن یونیورسٹی میں پروفیسر تھے اور امیریکن انسٹیویٹ آف پاکستان اسٹڈیز کے صدر بھی۔ پاکستان پر ایک درجن کے قریب کتابوں اور سو سے زیادہ مقالوں اور آرٹیکلز کے مصنف ہیں۔ 2015ء میں 86 سال کی عمر میں دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔

    مذکورہ کتاب 1997ء میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس پاکستان کی طرف سے گولڈن جوبلی سیریز میں شائع ہوئی تھی۔ کسی ملک کی تاریخ کو ایک والیم میں بیان کر دینا کوزے کو دریا میں بند کرنے کے مترادف ہے اور اس کا احساس ڈاکٹر صاحب کو خود بھی تھا لیکن انہوں نے کمال مہارت سے ساڑھے چھ سو صفحات کی کتاب میں اس کام کو مکمل کیا ہے۔ کتاب، مسلم لیگ کی ابتدا 1906ء سے شروع ہوتی ہے اور پہلے تین باب تحریک پاکستان اور تقسیم کے لیے وقف ہیں جب کہ باقی ابواب میں 1947ء سے 1997ء تک کی پچاس سالہ اتار چڑھاؤ والی پاکستانی تاریخ ہے۔

    انتہائی عمدہ کتاب ہے، مجھے اتفاق سے فیس بک پر آن لائن پرانی کتابوں سے مل گئی، اب ان کی دوسری کتابیں بھی ڈھونڈ رہا ہوں، ایک کتاب کی پی ڈی ایف کاپی ملی ہے لیکن ہارڈ کاپی پاکستان میں شاید ہی مل سکے۔
    [​IMG]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • زبردست زبردست × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  17. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    37,267
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Amused
    بہت عرصے بعد اس سلسلے کا دوسرا ناول کرکس شروع کیا ہے
     
  18. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    7,284
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    اوکسفرڈ پاکستان نے 2003 میں اسی کتاب کا اردو ترجمہ "بیسویں صدی میں پاکستان ،ایک سیاسی جائزہ" کے نام سے شائع کیا ۔ ہمارے ذخیرے میں یہی کتاب ہے۔

    2009 میں پیراماؤنٹ بکس نے ان کی کتاب ۔دی ایوب خان ایرا: پالیٹکس ان پاکستان 1958-1969" شائع کی تھی جو ہمیں پرانی کتابوں سے مل گئی۔ یہ ابھی پڑھ نہیں پائے۔
     
    آخری تدوین: ‏ستمبر 20, 2019 12:44 شام
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  19. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    7,284
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    ایوب خان کی خود نوشت "جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی" بھی تو شاید الطاف گوہر نے ہی لکھی تھی؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  20. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,167
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    جی ہاں شنید یہی ہے کہ ایوب خان کی کتاب بھی الطاف گوہر ہی نے لکھی تھی لیکن کتاب پر نام بہرحال ایوب خان کا اپنا ہے۔ ایوب خان اپنی ایک ڈائری لکھا کرتے تھے، اسی کی مدد سے اور کچھ یادداشتیں ریکارڈ کروا کر "فرینڈز ناٹ ماسٹرز" لکھی گئی تھی جو بعد میں مذکورہ نام سے اردو میں ترجمہ ہوئی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2

اس صفحے کی تشہیر