آپ کیا پڑھ رہے ہیں؟

نبیل نے 'مطالعہ کتب' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏نومبر 24, 2007

  1. محمد خرم یاسین

    محمد خرم یاسین محفلین

    مراسلے:
    2,085
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    غبارِ خاطر
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  2. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    7,834
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    اسی قبیل کی ایک کتاب ہم نے اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس سے ہی خریدیں تھی۔ اچھی کتاب ہے۔ لارنس زائر نگ کی کتاب پڑھ کر ہمیں ایسا لگتا ہے بھٹو کے خلاف لکھی گئی ہے جبکہ حامد خان صاحب کی کتاب ہمیں اچھی لگی۔

    [​IMG]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  3. محمد خرم یاسین

    محمد خرم یاسین محفلین

    مراسلے:
    2,085
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    خطوط رشید احمد صدیقی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  4. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    7,834
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    [​IMG]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
    • زبردست زبردست × 1
  5. محمد خرم یاسین

    محمد خرم یاسین محفلین

    مراسلے:
    2,085
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    خطوط حالی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  6. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    37,406
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Amused
  7. وقار علی ذگر

    وقار علی ذگر محفلین

    مراسلے:
    253
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    شہاب نامہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    21,859
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    ہم نے حال ہی میں Rich Dad Poor Dad پڑھی ہے۔

    ہمیں اچھی لگی یہ کتاب ! اور ہمارا خیال ہے کہ ہمارے جیسے شاعر قسم کے لوگوں کو اس قسم کی کتابیں ضرور پڑھنا چاہیے کیونکہ یہ لوگ اپنی مالی معاملات کی طرف سے کافی لاپرواہ رہتے ہیں اور جس کی وجہ سے کافی مسائل کا سامنا ہوتا ہے ۔ :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  9. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    7,834
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    مزیدار کتاب ہے۔
     
    • متفق متفق × 1
  10. محمد خرم یاسین

    محمد خرم یاسین محفلین

    مراسلے:
    2,085
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    آپ بیتی از عبدالماجد دریا بادی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  11. عثمان

    عثمان محفلین

    مراسلے:
    9,697
    موڈ:
    Cheerful
    کیا کتاب میں پاکستان میں رائج عام سیاسی بیانیے سے ہٹ کر کچھ نیا پہلو ہے؟
     
    • متفق متفق × 1
  12. عثمان

    عثمان محفلین

    مراسلے:
    9,697
    موڈ:
    Cheerful
    کتاب میں ان کی اپنی کوئی منفرد رائے ہے؟
     
    • زبردست زبردست × 1
    • متفق متفق × 1
  13. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,454
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    جی ہاں، عام طور پر تھوڑا بہت مختلف ہے، مثال کے طور پر قائدِاعظم کا گورنر جنرل کے عہدے پر خود فائز ہونا اور وائسریگل نظام کو جاری رکھنا۔ پاکستان مخالف مذہبی جماعتوں کا تقسیم کے بعد پاکستان کے اسلامی نظام کے علمبردار کے طور پر طلوع ہونا اور قراردادِ مقاصد کی بنا پر اقلیتوں کے تحفظات اور آئین کے وضع کرنے میں ان جماعتوں کے مطالبے ۔ بنگالیوں کی شروع ہی سے مشکلات اور ان کی تحریکیں وغیرہ۔ ایوب کی کمزوریاں اور بھٹو کی "چالاکیاں"۔

    یہ یعنی ایوب کا دور کتاب کا نصف ہے اور ابھی میں یہیں تک پڑھ پایا ہوں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 6
  14. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    7,834
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    عثمان بھائی! کچھد دن دیجیے مطالعہ مکمل کرکے جواب کے ساتھ حاضر غہیں۔
     
  15. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    24,079
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    کچھ کتب اتنی ضخیم ہوتی ہیں کہ اگر آپ یہ سوچنا شروع ہو جائیں کہ انھیں پڑھا جائے یا نہیں، تو جواب نفی میں ہی ملتا ہے۔ البتہ جو سوچے بغیر پڑھتے ہیں، وہی پڑھ سکتے ہیں۔
    آج ابو نے کرامت اللہ غوری صاحب کی سوانح عمری روزگارِ سفیر دکھائی۔ 980 صفحات پر مشتمل ہے۔
    اس سے پہلے ان کی کتاب بارِ شناسائی پڑھ چکا ہوں، اور اسی کا اثر ہے کہ ضخامت کے باوجود کتاب پڑھنے کا ارادہ کر لیا ہے۔ فی الحال ابو کے مطالعہ میں ہے۔ :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  16. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    7,834
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    اصحابِ کہف کے بارے میں مولانا کی منفرد رائے مندرجہ ذیل اقتباسات سے واضح ہوجائے گی جو ہم نے ان کے پہلے مضمون سے لیے ہیں ۔


    "(ھ) سب سے پہلے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ جو حالت اس آیت میں بیان کی گئی ہے وہ کِس وقت کی ہے؟ اس وقت کی جب وہ نئے نئے غار میں جاکر مقیم ہوئے تھے؟ یا اس وقت کی جب انکشافِ حال کے بعد دوبارہ معتکف ہوگئے؟ مفسرین نے خیال کیا، اس کا تعلق پہلے وقت سے ہےاور یہی بنیادی غلطی ہے جس نے سارا الجھاؤ پیدا کردیا ہے۔ دراصل اس کا تعلق بعد کے حالات سے ہے۔ یعنی جب وہ ہمیشہ کے لیے غار میں گوشہ نشین ہوگئے۔ اور پھر کچھ عرصہ بعد وفات پاگئے۔ تو غار کے اندرونی منظر کی نوعیت یہ ہوگئی تھی۔"

    "پھر یہ بات سامنے لانی چاہیے کہ یہ واقعہ مسیحی دعوت کی ابتدائی صدیوں کا ہے اور جنھیں یہ واقعہ پیش آیا تھا وہ عیسائی تھے۔صرف اتنی سی بات پر غور کرنے سے سارا معاملہ حل ہوجاتا ہے۔"

    "مسیحی دعوت کے ابتدائی قرنوں میں ہی زہد و انزوا کی ایک خاص زندگی شروع ہوگئی تھی، جس نے آگے چل کر رہبانیت کی مختلف شکلیں اختیار کر لیں۔ اس زندگی کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ لوگ ترکِ علائق کے بعد کسی پہاڑ کے غار میں یا کسی غیر آباد گوشہ میں معتکف ہو جاتے تھے اور پھر ان پر استغراقِ عبادت کی ایسی حالت طاری ہو جاتی تھی کہ وضع و نشست کی جو حالت اختیار کر لیتے اسی میں پڑے رہتے، یہاں تک کہ زندگی ختم ہوجاتی۔"

    "مسیحی رہبانیت کی تاریخ کے مطالعے سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ اس کی ابتدا اضطراری حالت سے ہوئی تھی۔ آگے چل کر اس نے ایک اختیاری عمل کی نوعیت پیدا کرلی۔ یعنی ابتدا میں لوگوں نے مخالفوں کے ظلم و تشدد سے مجبور ہوکر غاروں اور جنگلوں میں گوشہ نشینی اختیار کی۔ پھر ایسے حالات پیش آئے کہ یہ اضطراری طریقہ زہد و تعبد کا ایک اختیاری اور مقبول طریقہ بن گیا۔"

    "اگر تم کسی قبرکے اندر جھانک کر دیکھو اور تمہیں مردہ نعش کی جگہ ایک آدمی نماز پڑھتا دکھائی دے تو تمہارا کیا حال ہوگا؟ یقیناً مارے دہشت کے چیخ چیخ اٹھو گے۔"


    دوسرے واقعے سے متعلق مختصراً صرف اتنا کہا ہے کہ جن صاحب کا تذکرہ ہے وہ صحیحین کی حدیث کے مطابق خضر ہیں۔ البتہ جو روایات مشہور ہیں ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ اسرائیلیات ہیں۔

    تیسرے حصے میں یہ ثابت کیا ہے کہ ذوالقرنین دراصل سکندرِ اعظم نہیں بلکہ ایران کا مشہور بادشاہ سائرس اعظم تھا۔
     
    آخری تدوین: ‏اکتوبر 17, 2019
  17. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,454
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    ڈاکٹر صفدر محمود کی کتاب:
    Pakistan: Political Roots & Development, 1947–1999

    ڈاکٹر صاحب کا طرزِ تحریر مجھے پسند نہیں ہے کیونکہ وہ بالکل ہی "خشک" قسم کے مؤرخ ہیں قدرے دائیں طرف جھکاؤ بھی رکھتے ہیں، اس کے باوجود ان کی کتب معلوماتی ہوتی ہیں۔ چونکہ آج کل پاکستانی سیاست میرے مطالعے میں ہے سو اس کتاب کو شروع کر لیا ہے۔
    [​IMG]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  18. رانا

    رانا محفلین

    مراسلے:
    2,701
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    میں بھی جب جنگ اخبار باقاعدگی سے پڑھتا تھا تو ڈاکٹر صفدر محمود صاحب کے جنگ میں چھپے کالم معلوماتی ہونے کی بنا پر ضرور پڑھا کرتا تھا۔ اچھے معلوماتی کالم ہوتے ہیں۔ البتہ اس بات کا افسوس ہے کہ بعض اوقات اپنے ذاتی رجحانات کی بنا پر تاریخی واقعات پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک مورخ کی حیثیت سے اپنے ذاتی رجحانات کا اثر تاریخ پر ڈالنے سے اجتناب کرنا چاہئے۔ ذیل میں اس کی ایک مثال موجود ہے۔
    ڈاکٹر صفدر محمود اپنے خیالات قائد اعظم سے منسوب نہ کریں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  19. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    37,406
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Amused
  20. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    37,406
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Amused
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر