آنکھوں میں ہوں سراب توکیاکیا دکھائی دے

ایک دو غزلہ احبابِ انجمن کے حسنِ ذوق کی نذر! یہ چند ماہ پرانی غزلیں ہیں جن میں کچھ اشعار تازہ اضافہ کئے ہیں ۔ امید ہے کہ کچھ اشعار آپ کو پسند آئیں گے ۔

٭٭٭

آنکھوں میں ہوں سراب توکیاکیا دکھائی دے
پانی کے درمیان بھی صحرا دکھائی دے

بینائی رکھ کے دیکھ مری ، اپنی آنکھ میں
شاید تجھے بھی درد کی دنیا دکھائی دے

دنیا نہیں نمائشِ میکانیات ہے
ہر آدمی مشین کا پرزہ دکھائی دے

آدم غبارِ وقت میں شاید بکھر گیا
حوّا زمینِ رزق پہ تنہا دکھائی دے

۔ ق ۔

جس انقلابِ نور کا چرچا ہے شہر میں
مجھ کو تو وہ بھی رات کا حربہ دکھائی دے

نکلو تو ہرگلی میں اندھیرے کا راج ہے
دیکھو توکچھ گھروں میں اُجالا دکھائی دے

۔



شطرنج ہے سیاست ِ دوراں کا کھیل بھی
حاکم بھی اپنے تخت پہ مہرہ دکھائی دے


٭٭٭


مجھ کو درونِ ذات کا نقشہ دکھائی دے
آئینہ وہ دکھاؤ کہ چہرہ دکھائی دے

آدابِ تشنگی نے سکھائے ہیں وہ ہنر
پیاسے کو مشتِ خاک میں کوزہ دکھائی دے

ایسی رہی ہیں نسبتیں دیوارِ یار سے
کوئے ستم کی دھوپ بھی سایا دکھائی دے

ہر لب پہ حرفِ وعظ و نصیحت ہے شہر میں
ہر شخص آسمان سے اُترا دکھائی دے


افشاں کسی کسی میں ہی انوارِ فیض ہے
ویسے تو ہرچراغ ہی جلتا دکھائی دے

اُن کے ورق ورق پہ ہے نامِ خدا رقم
جن کی کتابِ زندگی سادہ دکھائی دے

تمثیل گاہ ِ وقت میں بیٹھے ہیں منتظر
پردہ اُٹھے تو کوئی تماشا دکھائی دے

دنیا فریب زارِ نظر ہے عجب ظہیرؔ
آنکھیں نہ ہوں تو خاک بھی سونا دکھائی دے


٭٭٭
ظہیر ؔاحمد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۲۰۱۹

 
آخری تدوین:
ایک دو غزلہ احبابِ انجمن کے حسنِ ذوق کی نذر! یہ چند ماہ پرانی غزلیں ہیں جن میں کچھ اشعار تازہ اضافہ کئے ہیں ۔ امید ہے کہ کچھ اشعار آپ کو پسند آئیں گے ۔

٭٭٭

آنکھوں میں ہوں سراب توکیاکیا دکھائی دے
پانی کے درمیان بھی صحرا دکھائی دے

بینائی رکھ کے دیکھ مری ، اپنی آنکھ میں
شاید تجھے بھی درد کی دنیا دکھائی دے

دنیا نہیں نمائشِ میکانیات ہے
ہر آدمی مشین کا پرزہ دکھائی دے

آدم غبارِ وقت میں شاید بکھر گیا
حوّا زمینِ رزق پہ تنہا دکھائی دے

۔ ق ۔

جس انقلابِ نور کا چرچا ہے شہر میں
مجھ کو تو وہ بھی رات کا حربہ دکھائی دے

نکلو تو ہرگلی میں اندھیرے کا راج ہے
دیکھو توکچھ گھروں میں اُجالا دکھائی دے

۔



شطرنج ہے سیاست ِ دوراں کا کھیل بھی
حاکم بھی اپنے تخت پہ مہرہ دکھائی دے


٭٭٭


مجھ کو درونِ ذات کا نقشہ دکھائی دے
آئینہ وہ دکھاؤ کہ چہرہ دکھائی دے

آدابِ تشنگی نے سکھائے ہیں وہ ہنر
پیاسے کو مشتِ خاک میں کوزہ دکھائی دے

ایسی رہی ہیں نسبتیں دیوارِ یار سے
کوئے ستم کی دھوپ بھی سایا دکھائی دے

ہر لب پہ حرفِ وعظ و نصیحت ہے شہر میں
ہر شخص آسمان سے اُترا دکھائی دے


افشاں کسی کسی میں ہی انوارِ فیض ہے
ویسے تو ہرچراغ ہی جلتا دکھائی دے

اُن کے ورق ورق پہ ہے نامِ خدا رقم
جن کی کتابِ زندگی سادہ دکھائی دے

تمثیل گاہ ِ وقت میں بیٹھے ہیں منتظر
پردہ اُٹھے تو کوئی تماشا دکھائی دے

دنیا فریب زارِ نظر ہے عجب ظہیرؔ
آنکھیں نہ ہوں تو خاک بھی سونا دکھائی دے


٭٭٭
ظہیر ؔاحمد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۲۰۱۹

خوبصورت خوبصورت۔ کیا بات ہے صاحب! کیا بات ہے!
 
لاجواب۔
کیا ہی اچھے اشعار ہیں۔
آنکھوں میں ہوں سراب توکیاکیا دکھائی دے
پانی کے درمیان بھی صحرا دکھائی دے

بینائی رکھ کے دیکھ مری ، اپنی آنکھ میں
شاید تجھے بھی درد کی دنیا دکھائی دے

دنیا نہیں نمائشِ میکانیات ہے
ہر آدمی مشین کا پرزہ دکھائی دے

جس انقلابِ نور کا چرچا ہے شہر میں
مجھ کو تو وہ بھی رات کا حربہ دکھائی دے

نکلو تو ہرگلی میں اندھیرے کا راج ہے
دیکھو توکچھ گھروں میں اُجالا دکھائی دے

آدابِ تشنگی نے سکھائے ہیں وہ ہنر
پیاسے کو مشتِ خاک میں کوزہ دکھائی دے

ہر لب پہ حرفِ وعظ و نصیحت ہے شہر میں
ہر شخص آسمان سے اُترا دکھائی دے

اُن کے ورق ورق پہ ہے نامِ خدا رقم
جن کی کتابِ زندگی سادہ دکھائی دے

دنیا فریب زارِ نظر ہے عجب ظہیرؔ
آنکھیں نہ ہوں تو خاک بھی سونا دکھائی دے
 
ایک دو غزلہ احبابِ انجمن کے حسنِ ذوق کی نذر! یہ چند ماہ پرانی غزلیں ہیں جن میں کچھ اشعار تازہ اضافہ کئے ہیں ۔ امید ہے کہ کچھ اشعار آپ کو پسند آئیں گے ۔

٭٭٭

آنکھوں میں ہوں سراب توکیاکیا دکھائی دے
پانی کے درمیان بھی صحرا دکھائی دے

بینائی رکھ کے دیکھ مری ، اپنی آنکھ میں
شاید تجھے بھی درد کی دنیا دکھائی دے

دنیا نہیں نمائشِ میکانیات ہے
ہر آدمی مشین کا پرزہ دکھائی دے

آدم غبارِ وقت میں شاید بکھر گیا
حوّا زمینِ رزق پہ تنہا دکھائی دے

۔ ق ۔

جس انقلابِ نور کا چرچا ہے شہر میں
مجھ کو تو وہ بھی رات کا حربہ دکھائی دے

نکلو تو ہرگلی میں اندھیرے کا راج ہے
دیکھو توکچھ گھروں میں اُجالا دکھائی دے

۔



شطرنج ہے سیاست ِ دوراں کا کھیل بھی
حاکم بھی اپنے تخت پہ مہرہ دکھائی دے


٭٭٭


مجھ کو درونِ ذات کا نقشہ دکھائی دے
آئینہ وہ دکھاؤ کہ چہرہ دکھائی دے

آدابِ تشنگی نے سکھائے ہیں وہ ہنر
پیاسے کو مشتِ خاک میں کوزہ دکھائی دے

ایسی رہی ہیں نسبتیں دیوارِ یار سے
کوئے ستم کی دھوپ بھی سایا دکھائی دے

ہر لب پہ حرفِ وعظ و نصیحت ہے شہر میں
ہر شخص آسمان سے اُترا دکھائی دے


افشاں کسی کسی میں ہی انوارِ فیض ہے
ویسے تو ہرچراغ ہی جلتا دکھائی دے

اُن کے ورق ورق پہ ہے نامِ خدا رقم
جن کی کتابِ زندگی سادہ دکھائی دے

تمثیل گاہ ِ وقت میں بیٹھے ہیں منتظر
پردہ اُٹھے تو کوئی تماشا دکھائی دے

دنیا فریب زارِ نظر ہے عجب ظہیرؔ
آنکھیں نہ ہوں تو خاک بھی سونا دکھائی دے


٭٭٭
ظہیر ؔاحمد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۲۰۱۹

ہر شعر معنی و مفہوم کا جہانِ بیکراں لیے گردشِ دوراں اور مائل بہ۔۔۔۔ بلکہ روبہ زوال قدروں کا بہترین عکاس وترجمان و نوحہ خواں و فریاد کناں۔محترم آپ کی تخلیقات میں مجھ ایسے مبتدی کے سیکھنے کا جو بیش بہا سامان پایا جاتا ہے اُسے دیکھ کرذہن میں آتشؔ کا استفہام تازہ ہو جاتاہے : قارون نے لُٹایا رستے میں خزانہ کیا؟
فریب زارِ نظر۔۔۔میکانیات۔۔۔غبارِ وقت۔۔۔۔تمثیل گاہِ وقت ۔۔۔۔۔کوئے ستم جیسی نادرہ کارترکیبوں اور لفظیات نے تو اپنی طرف کھینچا مگر اِس شعر نے تو جیسے مجھے جکڑ ہی لیا ہے:
ایسی رہی ہیں نسبتیں دیوارِ یار سے
کوئے ستم کی دھوپ بھی سایا دکھائی دے
سختی کشانِ عشق کی پوچھے ہے کیا خبر۔۔۔۔۔وہ لوگ رفتہ رفتہ سراپا الم ہوئے(غالب) خدا آپ کے علم و فضل میں برکت فرمائے ، آمین!
 
ہر شعر معنی و مفہوم کا جہانِ بیکراں لیے گردشِ دوراں اور مائل بہ۔۔۔۔ بلکہ روبہ زوال قدروں کا بہترین عکاس وترجمان و نوحہ خواں و فریاد کناں۔محترم آپ کی تخلیقات میں مجھ ایسے مبتدی کے سیکھنے کا جو بیش بہا سامان پایا جاتا ہے اُسے دیکھ کرذہن میں آتشؔ کا استفہام تازہ ہو جاتاہے : قارون نے لُٹایا رستے میں خزانہ کیا؟
فریب زارِ نظر۔۔۔میکانیات۔۔۔غبارِ وقت۔۔۔۔تمثیل گاہِ وقت ۔۔۔۔۔کوئے ستم جیسی نادرہ کارترکیبوں اور لفظیات نے تو اپنی طرف کھینچا مگر اِس شعر نے تو جیسے مجھے جکڑ ہی لیا ہے:
ایسی رہی ہیں نسبتیں دیوارِ یار سے
کوئے ستم کی دھوپ بھی سایا دکھائی دے
سختی کشانِ عشق کی پوچھے ہے کیا خبر۔۔۔۔۔وہ لوگ رفتہ رفتہ سراپا الم ہوئے(غالب) خدا آپ کے علم و فضل میں برکت فرمائے ، آمین!
بہت شکریہ شکیل بھائی! بہت نوازش! اس قدر عزت افزائی پر بہت ممنون ہوں ۔ یہ ذرہ نوازی ہے آپ کی ورنہ من آنم کہ من دانم ۔ اللہ آپ کو خوش رکھے! فلاحِ دارین نصیب فرمائے۔ آمین ۔

ایک چھوٹی سی گزارش یہ ہے کہ اسمِ گرامی کے آگے سے 23 کا عدد ہٹوالیجئے ۔ یہ کچھ ٹھیک نہیں لگتا ۔ سخنوروں کا نام بھی شاعرانہ ہونا چاہئے ۔ اگر 23 کے اس عدد کے پیچھے کوئی خاص وجہ ہے تو اس بے طلب مشورے کے لئے پیشگی معذرت خواہ ہوں ۔
 
آدم غبارِ وقت میں شاید بکھر گیا
حوّا زمینِ رزق پہ تنہا دکھائی دے

تمثیل گاہ ِ وقت میں بیٹھے ہیں منتظر
پردہ اُٹھے تو کوئی تماشا دکھائی دے

دنیا فریب زارِ نظر ہے عجب ظہیرؔ
آنکھیں نہ ہوں تو خاک بھی سونا دکھائی دے
ہم تو خود کو اس قابل بھی نہیں پاتے کہ ایسے اچھے اشعار کی داد دے سکیں. دعا ہے کہ اللہ تعالی آپ کے قلم کو اسی طرح آپ کے لیے مسخر کیے رکھیں! :) :)
 
عمومی طور پر مطلوبہ یوزر نیم دستیاب نہ ہونے کے باعث ایسا کیا جاتا ہے. :) :)
میری شہزادی بہن نے بالکل دُرست کہا،محترم !
میں خود بھی اپنے نام کے ساتھ اِن اعدا د سے جُز بُزہورہتا ہوں مگر اب مریم بی بی صاحبہ اور محترم خلیل الرحمٰن صاحب ہی سے اپیل ہے، کچھ علاج اِس کا بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
آخری تدوین:
میری شہزادی بہن نے بالکل دُرست کہا،محترم !
میں خود بھی اپنے نام کے ساتھ اِن اعدا د سے جُز بُزہورہتا ہوں مگر اب مریم بی بی صاحبہ اور محترم خلیل الرحمٰن صاحب ہی سے اپیل ہے، کچھ علاج اِس کا بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مندرجہ ذیل لنک پر جاکر اپنی شکایت درج کروادیجیے تاکہ منتظمین متوجہ ہوں۔
 

سید رافع

محفلین
شطرنج ہے سیاست ِ دوراں کا کھیل بھی
حاکم بھی اپنے تخت پہ مہرہ دکھائی

جس انقلابِ نور کا چرچا ہے شہر میں
مجھ کو تو وہ بھی رات کا حربہ دکھائی دے

دنیا نہیں نمائشِ میکانیات ہے
ہر آدمی مشین کا پرزہ دکھائی دے

بینائی رکھ کے دیکھ مری ، اپنی آنکھ میں
شاید تجھے بھی درد کی دنیا دکھائی دے

بہت خوبصورت کلام ہے۔ اللہ آپکو عافیت و سلامتی سے رکھے۔اگر اجازت ہو تو کیا بطور طالب علم ایک سوال کر سکتا ہوں۔ کیا شاعری کو اخبار کی طرح ہونا چاہیے کہ جو دیکھا بیان کیا یا کسی عمدہ محقق کی مسائل حل کرتی ہوئی کتاب کی طرح؟ میں نے یہ اس لیے پوچھا کہ لوگ خبر سے زیادہ امید افزا خبر کے متلاشی ہیں اور اس سے بھی بڑھ کر مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ اگر میں سوال صحیح طریقے سے نہ پوچھ پایا ہوں تو اسے میری کم علمی پر محمول کیجیے گا۔
 
ہم تو خود کو اس قابل بھی نہیں پاتے کہ ایسے اچھے اشعار کی داد دے سکیں. دعا ہے کہ اللہ تعالی آپ کے قلم کو اسی طرح آپ کے لیے مسخر کیے رکھیں! :) :)
بہت بہت شکریہ مریم! اس قدر افزائی کے لئے بہت ممنون ہوں ۔ سخنوروں کی طرف سے کلمۂ تحسین شاعر کے لئے سرمایہ ہوتا ہے ۔ اللہ کریم آپ کو دین و دنیا کی تمام نعمتیں عطا فرمائے اور انہیں بے زوال رکھے! آمین
 
بہت خوب، اس کو تو 'سمت' کے لئے منتخب کر لیتا یوں اگلے شمارے کے لئے
بہت شکریہ! استادِ سخن طرف سے حوصلہ افزائی اور پذیرائی پر سراپا سپاس ہوں ۔
اللہ کریم آپ کا سایہ سلامت رکھے ، صحت و تندرستی قائم و دائم رکھے، آپ کے وقت اور توانائی میں برکت عطا فرمائے! آمین ۔
 
Top