آنکھ، چشم، نین، دیدہ، نگاہ، نظر پر اشعار

زیرک

محفلین
آنکھوں کو سب کی نیند بھی دی خواب بھی دیے
ہم کو شمار کرتی رہی دشمنوں میں رات
شہریار​
 

زیرک

محفلین
سانولی چاند سے اجلی ہے اور اِس پر اُس نے
نینوں میں اجمیر کا کجلا ڈال رکھا ہے
زین شکیل​
 

زیرک

محفلین
نین تو یوں ہی تمہارے ہیں بلا کے قاتل
اس پہ تم روز سنور جاتے ہو، حد کرتے ہو​
 

زیرک

محفلین
کھولی ہیں ذوقِ دید نے آنکھیں تری اگر
ہر رہ گزر میں نقشِ کفِ پائے یار دیکھ​
 

زیرک

محفلین
برفیلی رُت کی تیز ہوا کیوں جھیل میں کنکر پھینک گئی
اِک آنکھ کی نیند حرام ہوئی، اِک چاند کا عکس خراب ہوا
محسن نقوی​
 

زیرک

محفلین
کبھی وصل میں محسن دل ٹوٹا کبھی ہجر کی رُت نے لاج رکھی
کسی جسم میں آنکھیں کھو بیٹھے، کوئی چہرہ کھلی کتاب ہوا
محسن نقوی​
 

زیرک

محفلین
بادل تو بہت ہیں، مگر اس شہر میں ہم نے
آنکھوں کے سوا کچھ بھی برستے نہیں دیکھا​
 

زیرک

محفلین
لگتا تو بے خبر سا ہوں، لیکن خبر میں ہوں
تیری نظر میں ہوں تو میں سب کی نظر میں ہوں
وسیم بریلوی​
 

رباب واسطی

محفلین
اپنی عادت ہی زمانے سے جدا رکھی ہے
دوستی ہم سے کرو ہم میں وفا رکھی ہے
اک نظر دیکھنے والا تجھے مر جاتا ہے
تو نے جلووں میں کوئی ایسی ادا رکھی ہے
 

زیرک

محفلین
جو تیرے غم میں بہتا ہے وہ آنسو رشکِ گوہر ہے
سمجھتے ہیں متاعِ دیدہ و دل، دیدہ ور تجھ کو
حبیب جالب​
 

زیرک

محفلین
کہاں کہاں ہوئے روشن ہمارے بعد چراغ
ستارے دیدۂ تر سے حساب پوچھتے ہیں
محسن نقوی​
 

زیرک

محفلین
برس پڑیں تری آنکھیں تو پھر یہ بھید کھلا
سوال خود سے بھی اپنا جواب پوچھتے ہیں
محسن نقوی​
 

زیرک

محفلین
تُو نے جھیلی ہے کبھی ایسی اذیت جس میں
لبِ خاموش ہنسے، دیدۂ پُرنم برسے
رحمان فارس​
 
Top