آج کا شعر - 4

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
ہم سے کہتے ہیں چمن والے، غریبانِ چمن
تم کوئی اچھا سا رکھ لو اپنے ویرانے کا نام

فیض اُن کو ہے تقاضائے وفا ہم سے جنھیں
آشنا کے نام سے پیارا ہے بیگانے کا نام
 

کاشفی

محفلین
محبت، عشق، یہ سب منزلیں ہیں راہِ عرفاں کی
جسے سمجھے ہو دردِ دل حلاوت ہے وہ ایماں کی

کتابِ عشق کا باب محبت جب سے کھولا ہے
کتاب عقل زینت بن گئی ہے طاقِ نسیاں کی

(تپاں)
 

کاشفی

محفلین
اے داغ کیوں نہ مجھ کو شفاعت کی ہو اُمید
میں ہوں مُحب حسین علیہ السلام کا دشمن یزید کا

(داغ رحمتہ اللہ علیہ)
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top